Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گوجرخان،قصاب مافیا کی دھونس ،سرکاری نرخنامہ مندر کا گھنٹہ بن گیا

    گوجرخان،قصاب مافیا کی دھونس ،سرکاری نرخنامہ مندر کا گھنٹہ بن گیا

    قصابوں نے ہڑتال کے بعد من مانے نرخ نافذ کر دیے ریٹ لسٹ کو کھلے عام جوتے کی نوک پر رکھ کر پنجاب حکومت قانون کی رٹ کو کھلا چیلنج کر دیا
    شہریوں کے شدید تحفظات کا اظہار کیا بااثر قصابوں اور مقامی سیاسی شخصیات کا گٹھ جوڑ انتظامیہ کو خاموش رکھے ہوئے ہے؟
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں گوشت فروشوں نے انتظامیہ کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے کو عملاً ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ شہر بھر میں قصاب من مانے نرخوں پر گوشت فروخت کر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق گوجرخان میں تیار کیا جانے والا سرکاری نرخنامہ اب محض ایک رسمی کاغذ بن کر رہ گیا ہے جو بازاروں میں ایسے لٹکا ہوا ہے جیسے کسی مندر کا گھنٹہ، جس کا دل چاہے بجا دے۔ چند روز قبل گوشت کی قیمتوں کے معاملے پر قصابوں نے ہڑتال کر دی تھی جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ گوشت صرف سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق فروخت کیا جائے گا۔

    تاہم چند دن دکانیں بند رکھنے کے بعد جب قصابوں نے کاروبار دوبارہ شروع کیا تو صورتحال مزید خراب ہو گئی اور قیمتیں پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دی گئیں۔ اس وقت گوجرخان میں گائے اور بچھڑے کا گوشت تقریباً 1300 سے 1400 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل یہ 1200 روپے میں دستیاب تھا، حالانکہ سرکاری نرخنامے میں اس کی قیمت 900 روپے فی کلو مقرر ہے۔ اسی طرح بکرے کا گوشت 2400 سے 2500 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ میں اس کی قیمت 1800 روپے فی کلو درج ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعد قصاب طبقہ مزید منہ زور ہو گیا ہے اور اب کھلے عام سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہنگے داموں گوشت فروخت کر رہا ہے۔ بازاروں میں سرکاری ریٹ لسٹ تو آویزاں ہے مگر اس پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آ رہا۔ شہر کے رہائشیوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے اور اب گوشت بھی متوسط اور دیہاڑی دار طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ کچھ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ شہر کے قصاب بااثر ہیں اور ان کا مضبوط ووٹ بینک ہے جبکہ مقامی سیاسی شخصیات کے ساتھ مبینہ روابط کے باعث انتظامیہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے گریزاں ہے، جس کے نتیجے میں قصاب طبقہ مزید دلیر ہو کر قانون کو چیلنج کر رہا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ کون سی پوشیدہ قوتیں ہیں جن کے سامنے گوجرخان انتظامیہ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے اور سرکاری نرخنامہ محض نمائشی کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور راولپنڈی ڈویژن کی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور مہنگائی کے خلاف جاری حکومتی مہم کا عملی نفاذ یقینی بنایا جائے اور گوجرخان میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کرایا جائے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

  • درندگی کی انتہا، مسلح اوباش کا گھر میں گھس کر خاتون کی عصمت دری

    درندگی کی انتہا، مسلح اوباش کا گھر میں گھس کر خاتون کی عصمت دری

    حوا کی بیٹی کی تذلیل پر زمین لرز اٹھی جبر میں پستول کی نوک پر عصمت دری، سفاک ملزم نے بلیک میلنگ کو ہتھیار بنا لیا
    مقدمہ درج، متاثرہ خاتون کا میڈیکل پراسس مکمل، خواتین اور بچوں کیساتھ زیادتی جیسے واقعات ناقابل قبول ہیں اے ایس پی سید دانیال حسن
    گوجرخان (قمرشہزاد) جنسی درندگی کے سفاکانہ واقعے نے گوجرخان میں انسانی جان اور عزت کی حفاظت کے تصور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جبر کی رہائشی خاتون نے پولیس چوکی قاضیاں میں درخواست میں موقف اختیار کیا کہ وہ والد کے گھر سے شوہر کے گھر واپس آئی تو احتشام طارق نامی ملزم نے اس کے گھر زبردستی داخل ہو کر پسٹل تان کر اسے اور اس کی بچیوں کو قتل کی دھمکیاں دیکر ہوس کا نشانہ بنایا۔ خاتون کے مطابق ملزم نقاب پوش اور کالے دستانوں میں تھا اور اس نے نہ صرف زنا بالجبر کیا بلکہ اس کے انکار پر ننگی تصاویر کو انٹرنیٹ پر وائرل کرنے اور بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

    متاثرہ خاتون نے بتایا کہ یہ پہلی بار نہیں بلکہ پہلے بھی ملزم اس پر بلیک میلنگ کر چکا ہے اور ننگی تصاویر کی دھمکیاں دے کر جنسی زیادتی کرتا رہا ہے۔ پولیس تھانہ گوجرخان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 199/26 بجرم 376i ت پ درج کرکے متاثرہ خاتون کا میڈیکل کروا لیا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی جلد گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے تاکہ متاثرہ خاتون جلد انصاف کی فراہمی سمیت ملزم کو ٹھوس شواہد کیساتھ چالان عدالت کرکے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعہ نے نہ صرف علاقے میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے بلکہ خواتین کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان بھی اٹھا دیا ہے۔

  • ڈی جی خان  دہشت گردی کی بڑی کاروائی  سے بچ گیا

    ڈی جی خان دہشت گردی کی بڑی کاروائی سے بچ گیا

    پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب نے ڈی جی خان کے سرحدی گاؤں جوتر کے قریب کاروائی کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ جو تر گاؤں کے قریب فتنہ الخوارج کے 15 کے قریب دہشت گرد موجود ہیں جو پولیس اور دیگر اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی مکمل کر چکے ہیں

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ اس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کردی، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 4 دہشت مارے گئے، جب کہ 11 دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    سی ٹی ڈی نے عسکریت پسندوں کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد.رائفلیں ۔گولیاں اور دیگر اشیاء بھی برآمد کیا، دہشت گرد پولیس اور دیگر اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی مکمل کر چکے تھے انہوں نے کہا کہ ان کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب تندہی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق کسی بھی قسم کی اطلاع کی صورت میں شہری کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ہیلپ لائن 0800-11111 پر اطلاع دیں۔

  • تہران پر میزائل حملہ، ایرانی فضائی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی، ویڈیوز منظر عام پر

    تہران پر میزائل حملہ، ایرانی فضائی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی، ویڈیوز منظر عام پر

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران تہران پر ہونے والے میزائل حملوں کی نئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو حملہ آور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی نے ان حملوں سے متعلق چند خصوصی ویڈیوز حاصل کی ہیں، جن میں رات کے وقت آسمان میں دھماکوں اور روشنی کی چمک کے ساتھ دفاعی میزائلوں کو فضا میں داغتے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیوز کے مطابق ایرانی دفاعی نظام نے شہر کی جانب آنے والے متعدد میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی اور کئی اہداف کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

    و یڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی یونٹس حملہ آور میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہیں، ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں تمام میزائلوں کو روکنا ممکن نہیں ہوتا اور بعض حملے دفاعی نظام سے گزر بھی سکتے ہیں۔

  • اسرائیل،امریکہ ،ایران جنگ،پچھلے آٹھ گھنٹوں میں کیا کچھ ہوا،صورتحال مزیدسنگین

    اسرائیل،امریکہ ،ایران جنگ،پچھلے آٹھ گھنٹوں میں کیا کچھ ہوا،صورتحال مزیدسنگین

    ایران کے صدر نے کہا ہے کہ“ہم ہمسایہ ممالک پر حملہ نہیں کریں گے۔” مگر صرف 5 گھنٹے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسے “غلطی” قرار دیا اور حملے جاری رکھے۔

    ایک ایرانی ڈرون نے دبئی مرینا میں ایک رہائشی ٹاور کو نشانہ بنایا ، جو مکمل طور پر شہری عمارت تھی۔

    اسرائیلی فوج نے ایران کی پارچین اور شاہرود میزائل فیکٹریوں کو تباہ کر دیا ، مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کو مستقبل میں دوبارہ میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے۔

    ایک بیلسٹک میزائل سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب گرا ، جہاں امریکی F-15 طیارے، THAAD اور پیٹریاٹ دفاعی نظام موجود ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران کو براہِ راست پیغام دیا “جارحیت فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔”اور ایران کے میزائل پروگرام کو مکمل ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    امریکہ نے قشم جزیرے پر واقع ایک میٹھا پانی بنانے والے (ڈیسالینیشن) پلانٹ کو بمباری میں نشانہ بنایا،جس کے بعد 30 دیہات پانی کی فراہمی سے محروم ہو گئے۔

    اسرائیل نے لبنان کی بقاع وادی پر حملہ کیا ، ایک ہی حملے میں 41 افراد ہلاک جبکہ مجموعی طور پر 339 لبنانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

    ایران نے عبرانی زبان میں براہِ راست اسرائیلی شہریوں کو پیغام جاری کیا جس میں اسرائیل پر انسانی ڈھال استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔

    اٹلی نے قبرص کی جانب ایک جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا: “ہم اس جنگ کا حصہ نہیں ہیں۔” لیکن اس کے باوجود فوجی وسائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔

    عمان کے وزیر خارجہ نے کہا“اس جنگ کو روکنا تمام عرب ممالک کے لیے اعلیٰ ترین قومی مفاد ہے۔”

    وہ باتیں جو سب سے زیادہ تشویشناک ہیں

    ایران کے میزائل حملوں میں 90٪ کمی آئی ہے ، ماہرین کے مطابق یہ کمزوری نہیں بلکہ حکمتِ عملی میں تبدیلی ہے۔یعنی ایران طویل جنگ کے لیے گولہ بارود محفوظ کر رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کھلے عام دنیا سے کہا کہ اپنے ہی صدر کی بات کو نظر انداز کریں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر شدید تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔ خلیجی ممالک پر حملے اب اسرائیل سے زیادہ بار ہونے لگے ہیں۔ اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے تو امریکہ کے پاس متبادل منصوبہ نہیں ہے۔ امریکہ کے پانی کے پلانٹ پر حملے کے بعد ایران اب تمام شہری انفراسٹرکچر کو جائز ہدف سمجھ سکتا ہے۔ یہ صورتحال کم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہو رہی ہے،صرف 8 گھنٹوں میں 8 ممالک اس بحران کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اور ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔صورتحال انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

  • اسرائیل کا تہران میں آئل  انفراسٹرکچر پر فضائی حملہ

    اسرائیل کا تہران میں آئل انفراسٹرکچر پر فضائی حملہ

    تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے دارالحکومت تہران کے قریب آئل انفراسٹرکچر کو مبینہ طور پر فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی میں اہم توانائی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا،اطلاعات کے مطابق صوبہ البرز کے شہر کراچ میں واقع سہاران آئل ڈپو اور مشرقی تہران ریفائنری پر حملے کیے گئے۔ حملوں کے بعد متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دینے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بعض علاقوں سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی توانائی اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے قریب واقع فیول ڈپو اور ریفائنریوں پر حملے مقامی ایندھن کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر آگ لگنے اور فیول سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے حملوں کے نقصانات یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم سکیورٹی اور ہنگامی اداروں کو متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

  • ایران حملہ،ٹرمپ کے مؤاخذے کے امکانات بڑھ گئے

    ایران حملہ،ٹرمپ کے مؤاخذے کے امکانات بڑھ گئے

    ایران پر حملے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے امکانات بڑھ کر 67 فیصد ہوگئے ہیں ۔

    یہ بات امریکی میڈیا نے سٹہ بازار کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہی ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹہ بازار سیاسی ماحول کی عکاسی تو کرتا ہے لیکن اُسے حتمی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا ۔،سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال ٹرمپ کے مواخذے کا امکان کم ہے کیونکہ ری پبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت رکھتی ہے اور پارٹی کے ارکان کی بڑی تعداد صدر کی حمایت کر رہی ہے ،تاہم اگر اس سال نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صورتِ حال بدل سکتی ہے.

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان سے خطے کی سیکورٹی صورت حال کے تناظر میں ایک انتہائی اہم ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران ایران کی طرف سے سعودی سرزمین پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں پر نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا گیا بلکہ اس بلا اشتعال کاروائی کے خلاف پاک-سعودی دفاعی معاہدے (SMDA) کے فریم ورک کے تحت سعودی سرزمین کے عملی دفاع کا اعادہ بھی کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے برادر اسلامی ملک ایران کو خطے کی سلامتی کیلئے ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو دوست ممالک کی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع کے ساتھ اس اہم ملاقات کے فوری بعد ایران کی طرف سے پڑوسی اسلامی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کا بیان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے انتہائی مثبت تصور کی جارہا ہے۔ بین الاقوامی اُمور کے ماہرین کے مطابق خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

    اس تمام تنازعے کے دوران پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی کے ذریعے تمام شِراکت داروں سے روابط جاری رکھے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایرانی صدر کے حالیہ بیان کے پس منظر میں پاکستان کی تسلسل سے جاری سفارتی کوششوں کا وسیع عمل دخل موجود ہے۔

  • ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتہ کی صبح عرب خلیجی ممالک سے غیرمعمولی خطاب میں معافی مانگتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اب اپنے پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کرے گا، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا “میں ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہوں جن پر ایران کی جانب سے حملے ہوئے۔ ہمارا ارادہ اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کا نہیں ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وہ ہمارے بھائی ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ ایران میں عارضی طور پر حکمرانی کرنے والی تین رکنی قیادت کونسل نے مسلح افواج کو واضح ہدایات دی ہیں کہ آئندہ کسی بھی پڑوسی ملک پر حملہ نہ کیا جائے، جب تک کہ وہاں سے ایران کے خلاف حملے نہ کیے جائیں۔“ہمیں اس مسئلے کو لڑائی کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات سے بچنا چاہیے۔”

    انہوں نے خلیجی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ “سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا” نہ بنیں اور اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر کے اعلان پر فوری طور پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں۔ خطاب کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار رہی، اور متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیں۔

  • کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)  کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا

    کمانڈر 12 کور نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا،کور کمانڈر 12 کور نے ژوب سمبازہ ایریا میں بارڈر سکیورٹی اور اہم مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا،کور کمانڈر کی افغان بارڈر پر موجود جوانوں سے ملاقات، ٹی ٹی اے کے خلاف ان کے جرآت مندانہ اقدام کی تعریف کی،دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ژوب اور سمبازہ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی مؤثر موجودگی برقرار رہے گی