لبنان کے جنوبی علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کے ایک ٹھکانے پر میزائل حملے کے نتیجے میں گھانا کے دو فوجی شدید زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔گھانا کی مسلح افواج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ جنوبی لبنان میں ان کے ہیڈکوارٹر کو جمعہ کی شام دس منٹ سے بھی کم وقت میں دو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق حملے میں دو فوجی شدید زخمی ہوئے جبکہ ایک اور اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہو گیا۔گھانا کی فوج کے مطابق حملے میں افسروں کے میس کی عمارت بھی مکمل طور پر تباہ ہو کر جل گئی۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔بیان میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل حملہ کس جانب سے کیا گیا، تاہم کہا گیا کہ یہ واقعہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں پیش آیا۔گھانا کی مسلح افواج نے اس واقعے پر نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں باضابطہ احتجاج بھی درج کرا دیا ہے۔اقوامِ متحدہ کا امن مشن یونیفل گزشتہ تقریباً 45 برس سے جنوبی لبنان میں تعینات ہے، جس میں دنیا کے 50 سے زائد ممالک کے فوجی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ 2024 میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے دوران اسرائیلی حکام نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یونیفل کے ٹھکانوں کے قریب سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج پر امن فوجیوں پر فائرنگ اور یونیفل کی تنصیبات میں داخل ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری سفارتی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری غیر قانونی حملوں کے باعث شہریوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ سب سے زیادہ متاثر غریب اور کمزور طبقات ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ لڑائی فوری طور پر بند کر کے سنجیدہ سفارتی مذاکرات کا آغاز کیا جائے، ورنہ صورتحال کسی کے کنٹرول سے باہر جا سکتی ہے۔









