Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر میزائل حملہ، گھانا کے دو فوجی شدید زخمی

    لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر میزائل حملہ، گھانا کے دو فوجی شدید زخمی

    لبنان کے جنوبی علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کے ایک ٹھکانے پر میزائل حملے کے نتیجے میں گھانا کے دو فوجی شدید زخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔گھانا کی مسلح افواج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ جنوبی لبنان میں ان کے ہیڈکوارٹر کو جمعہ کی شام دس منٹ سے بھی کم وقت میں دو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق حملے میں دو فوجی شدید زخمی ہوئے جبکہ ایک اور اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہو گیا۔گھانا کی فوج کے مطابق حملے میں افسروں کے میس کی عمارت بھی مکمل طور پر تباہ ہو کر جل گئی۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔بیان میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل حملہ کس جانب سے کیا گیا، تاہم کہا گیا کہ یہ واقعہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں پیش آیا۔گھانا کی مسلح افواج نے اس واقعے پر نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں باضابطہ احتجاج بھی درج کرا دیا ہے۔اقوامِ متحدہ کا امن مشن یونیفل گزشتہ تقریباً 45 برس سے جنوبی لبنان میں تعینات ہے، جس میں دنیا کے 50 سے زائد ممالک کے فوجی شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ 2024 میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے دوران اسرائیلی حکام نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یونیفل کے ٹھکانوں کے قریب سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج پر امن فوجیوں پر فائرنگ اور یونیفل کی تنصیبات میں داخل ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری سفارتی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری غیر قانونی حملوں کے باعث شہریوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ سب سے زیادہ متاثر غریب اور کمزور طبقات ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ لڑائی فوری طور پر بند کر کے سنجیدہ سفارتی مذاکرات کا آغاز کیا جائے، ورنہ صورتحال کسی کے کنٹرول سے باہر جا سکتی ہے۔

  • بلوچستان کی محرومیوں کا خاتمہ ہو گا تو دشمن کی سازشیں دم توڑ جائیں گی،خالد مسعود سندھو

    بلوچستان کی محرومیوں کا خاتمہ ہو گا تو دشمن کی سازشیں دم توڑ جائیں گی،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقی، خوشحالی اور امن ہر پاکستانی کی دیرینہ خواہش ہے۔ دشمن کی سازشوں کا مقابلہ اتحاد ، محبت اور خدمت سے کریں گے،بلوچستان محب وطن،صحت، تعیم، روزگار ہر بلوچ نوجوان کا حق ہے،مرکزی مسلم لیگ خدمت بلوچستان پروجیکٹ شروع کرے گی،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، حافظ ادریس صدر مرکزی مسلم لیگ کوئٹہ ڈویژن حافظ ادریس، ترجمان بلوچستان حنظلہ عماد و دیگر نے بھی خطاب کیا،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے وقت بلوچ قوم نے قربانیاں دی تھیں،بلوچستان کے باسی ہمیشہ محب وطن رہے ہیں، پاکستان کا ازلی دشمن بھارت بلوچ عوام کا نام استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا،
    بلوچستان میں قیام امن کے لیے سیکورٹی اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کو قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،بلوچستان کی محرومیوں کی ازالہ ہو گا تو بھارتی سازشیں دم توڑ جائیں گی،کشمیر سے کابل ، خیبر سے بلوچستان اور پورے برصغیر میں پھیلا ہوا فتنۃ الہندوستان پاکستانی قوم کے عزم اور استقامت کے آگے نہیں ٹھہرسکے گا،مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت دے دی،صحت،صاف پانی اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے ایثار ومحبت کی مثال قائم کریں گے،

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ صیہونیت اور ھندوتوا دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں،ایران کے خلاف جارحیت کی مزمت کرتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عرب ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کیا جائے اس ضمن میں میں پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کو کردار ادا کرنے کے لئے آگے بڑھنا ہو گا،

  • شازیہ مری  کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار

    شازیہ مری کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مسترد کردیا، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ عوام پر بڑا معاشی بوجھ ہے، رمضان المبارک میں دوسری بار قیمتوں میں اضافہ انتہائی افسوسناک ہے، اس اضافے سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور عوام کی مشکلات بڑھیں گی، حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں، موجودہ حالات میں عوام پہلے ہی شدید مہنگائی کا شکار ہیں،حکومت فوری طور پر قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معیشت اور عوام دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا،عوام دوست پالیسیوں کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے،

  • ایران کے میزائل حملے، بیروت پر اسرائیلی فضائی کارروائی، عالمی منڈیوں میں ہلچل

    ایران کے میزائل حملے، بیروت پر اسرائیلی فضائی کارروائی، عالمی منڈیوں میں ہلچل

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی ہے جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے باعث خطے کی صورتحال نہایت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

    مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں کے باعث کئی ممالک براہ راست اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ویب سائٹ ے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنا ہے۔ اس بیان کو سفارتی سطح پر ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی اخبار کے مطابق جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے متعدد اہلکار شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔اسی دوران اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر ایک اور فضائی حملہ کیا ہے۔ بیروت کے جنوبی علاقے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی اسرائیل یہاں متعدد فضائی کارروائیاں کر چکا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی ایک نئی لہر بھی شروع ہو چکی ہے۔ اس بار اسرائیل میں حملوں سے قبل صرف چار منٹ کی پیشگی وارننگ دی گئی جبکہ اس سے پہلے عموماً سات سے آٹھ منٹ کا وقت ملتا تھا۔ تل ابیب میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم فوری طور پر کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ایران کے مرکزی فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ دشمن کے ریڈار نظام تباہ ہونے کے بعد ایرانی مسلح افواج کو کارروائیوں میں زیادہ آزادی حاصل ہو گئی ہے اور حملوں کی کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

    سعودی عرب میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
    رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی بیلسٹک میزائل پرنس سلطان ایئربیس (سعودی عرب) پر جا گرا جس کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس اڈے پر امریکی فضائیہ کے متعدد ری فیولنگ طیاروں کی موجودگی بھی دیکھی گئی ہے۔مزید برآں سیٹلائٹ اور ڈرون تصاویر میں ایئر بیس کے قریب ایک ریڈار سائٹ سے دھواں اٹھتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں امریکی دفاعی اڈے پر حملہ
    امریکی صحافی ریان گِرم کی جانب سے حاصل کی گئی تصاویر میں متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی THAAD میزائل دفاعی نظام کے ایک اڈے پر ایرانی حملوں کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ تاہم اس حملے کے نقصانات کے بارے میں مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

    ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایسے علیحدگی پسند گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے جسے ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔ حکام کے مطابق یہ گروپ کئی ماہ سے ایران کے مغربی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں جنگ سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر جاری کرنے پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور ایسی معلومات پھیلانے والوں کو قید کی سزاؤں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس وجہ سے جنگ سے متعلق زیادہ تر ویڈیوز لبنان اور ایران سے سامنے آ رہی ہیں۔

    جنگی صورتحال کے باعث عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو 2023 کے بعد بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ جنگ اور جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے درمیان ایک بڑا فرق یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے اندر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نیٹ ورک کی سرگرمیاں اس بار نہایت محدود نظر آ رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق گزشتہ مہینوں میں موساد کے متعدد خفیہ سیلز کو نقصان پہنچا ہے۔

  • ایران نے امریکی ڈرون گرا کر تصاویر جاری کر دی

    ایران نے امریکی ڈرون گرا کر تصاویر جاری کر دی

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کے مختلف علاقوں میں امریکی اور اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا ہے،

    ایرانی حکام کے مطابق صوبہ لورستان میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو تباہ کیا گیا، جبکہ دارالحکومت تہران کے نواحی علاقے میں ایک اسرائیلی ہرمس ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کے ساتھ تباہ کیے گئے ڈرونز کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ایرانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے اب تک ایرانی فضائی دفاع نے 75 سے زائد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں تعینات فضائی دفاعی نظام امریکی اور اسرائیلی طیاروں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی جوابی فوجی کارروائیاں آئندہ دنوں میں مزید تیز اور وسیع ہوں گی۔ ایرانی قیادت کے مطابق اگر حملے جاری رہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر شیراز میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد شہید ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق حملہ ایک رہائشی علاقے پر کیا گیا جس کے باعث شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران ایران کے 6 بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا، جبکہ حالیہ حملوں میں ایران کے 3 جدید فضائی دفاعی نظام بھی نشانہ بنائے گئے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری جھڑپیں پورے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،  140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    پاکستان میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے تھانہ بکا خیل اور تھانہ ککی کی حدود میں کامیاب کارروائیاں کیں، جس کے دوران بڑی مقدار میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ بکا خیل کی حدود میں کارروائی کے دوران 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد پر مشتمل دو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) کو بروقت ناکارہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد حساس مقامات پر نصب کیا گیا تھا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا تھا۔دوسری کارروائی تھانہ ککی کی حدود میں کی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے 8 کلوگرام بارودی مواد سے تیار کی گئی ایک خود ساختہ آئی ای ڈی کو بھی ناکارہ بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ بم رابطہ پُل اور مقامی بازار کے قریب نصب کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچایا جا سکے۔ماہرین بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تمام بارودی مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا، جس کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت انٹیلیجنس معلومات اور فورسز کی فوری کارروائی کے باعث ایک بڑا دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ علاقے میں مزید سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور دہشتگردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • فتنہ الخوارج کی سفاکیت اور بربریت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی

    فتنہ الخوارج کی سفاکیت اور بربریت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتنہ الخوارج کی معصوم لڑکی کو بہیمانہ تشدد کانشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرگردش کررہی ہے

    لڑکی نے فتنہ الخوارج کی خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے پیش نظر والدین کی مدد کےلیےروزگار کی جگہ پرمردانہ لباس پہن رکھا تھا . فتنہ الخوارج کے کارندے لڑکی کو اغوا کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور واقعے کی ویڈیو بھی بنائی،لڑکی پر تشدد کی اس ویڈیو کے بعد عوامی حلقوں میں فتنہ الخوارج کیخلاف شدیدغم و غصہ پایا جارہا ہے،ماہرین کے مطابق یہ دردناک واقعہ فتنہ الخوارج کی جانب سے ناقابل تلافی جرم ہے،یہ واقعہ فتنہ الخوارج کی انتہا پسندسوچ کی عکاسی ہے جس میں مذہب کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ معاشرے میں خوف اور دہشت پیدا ہو،

    علما کرام نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتنہ الخوارج کا گروہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح کے منافی ہے،معصوم لڑکی پر ایسے تشدد اور توہین آمیز رویے کو فتنہ الخوارج کامسخ شدہ چہرہ کہنا درست ہوگا

  • یو اے ای کا کوریائی فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ

    یو اے ای کا کوریائی فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے جنوبی کوریا سے جدید فضائی دفاعی نظام Cheongung-II surface-to-air missile system کی جلد از جلد فراہمی کی درخواست کر دی ہے۔

    حکام کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے خطے میں مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے جنوبی کوریا سے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے Cheongung-II میزائل بیٹریوں کی ترسیل کے شیڈول کو تیز کیا جائے تاکہ ملک کو ممکنہ حملوں سے بہتر طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ نظام پہلے ہی یو اے ای کے جامع فضائی دفاعی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ اور دفاعی حکام کے مطابق یو اے ای میں نصب Cheongung-II نظام نے حالیہ حملوں کے دوران تقریباً 96 فیصد کامیابی کے ساتھ میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے رکن Yu Yong-weon نے اس کارکردگی کو نظام کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی دفاعی منڈی میں اس سسٹم کی مانگ مزید بڑھ سکتی ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کی،ان حملوں میں بعض شہری تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں،یو اے ای نے 2022 میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت جنوبی کوریا کی دفاعی کمپنیوں سے Cheongung-II نظام کی 10 بیٹریاں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جن میں سے اب تک دو بیٹریاں نصب کی جا چکی ہیں،بعد ازاں سعودی عرب اور عراق نے بھی اس دفاعی نظام کی خریداری کے لیے بالترتیب 3.2 ارب ڈالر اور 2.8 ارب ڈالر کے معاہدے کیے۔

    جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دفاعی معاہدوں اور پیداوار کے شیڈول کے باعث بیٹریوں کی ترسیل کو تیز کرنا آسان نہیں۔ تاہم یو اے ای نے متبادل طور پر یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر مکمل بیٹریاں فوری فراہم نہیں کی جا سکتیں تو کم از کم انٹرسیپٹر میزائل پہلے فراہم کیے جائیں تاکہ دفاعی صلاحیت کو فوری طور پر مضبوط کیا جا سکے۔

    Cheongung-II ایک درمیانی فاصلے کا زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل نظام ہے جو بیلسٹک میزائلوں اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بیٹری میں چار لانچر، جدید ریڈار اور فائر کنٹرول سینٹر شامل ہوتا ہے۔اس کا انٹرسیپٹر میزائل تقریباً 400 کلوگرام وزن رکھتا ہے اور Hit-to-Kill ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدف کو براہِ راست ٹکر مار کر تباہ کرتا ہے۔ یہ نظام 15 کلومیٹر سے زیادہ بلندی اور تقریباً 20 کلومیٹر فاصلے تک بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ طیاروں کے خلاف اس کی رینج 50 کلومیٹر تک ہے۔دفاعی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور اس کے مخالف ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو فضائی دفاعی نظاموں کی عالمی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں Cheongung-II کی کامیاب کارکردگی اسے عالمی دفاعی منڈی میں ایک مضبوط امیدوار بنا سکتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

    قطر کے وزیر توانائی سعد بن شریده الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

    قطر کے وزیرِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ خطے میں جاری تنازع، خاص طور پر ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو آنے والے چند ہفتوں میں خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے اور یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

    قطری وزیرِ توانائی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا میں توانائی کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے اور اگر جنگ کے باعث خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی برآمدات متاثر ہوتی ہیں تو عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے، ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی یا جنگ میں شدت آئی تو عالمی مالیاتی منڈیاں، تجارتی سرگرمیاں اور ترقی پذیر معیشتیں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں

  • آپریشن غضب للحق،ژوب ، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ

    آپریشن غضب للحق،ژوب ، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج نے “آپریشن غضب للحق” کے تحت مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری ہیں.

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مرکز بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب سیکٹر اور قلعہ سیف اللہ سیکٹر ہیں جہاں سے دہشتگرد سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق پاک فوج نے بروقت اور منظم حکمت عملی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار موجود دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ذرائع کے مطابق پاک فوج کی مؤثر اور بھرپور کارروائی کے باعث افغان طالبان کے جنگجو اپنی متعدد سرحدی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشتگرد عناصر اور فتہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، پاک فوج کی حکمت عملی کے نتیجے میں دشمن عناصر کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کے دفاع اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا،سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت یا دہشتگردی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔