Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

    دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

    ایرانی ڈرون نے دبئی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ ویڈیو میں ایک دھماکے اور ڈرون حملے کے مناظر دکھائے جا رہے ہیں،دبئی ایر پورٹ کے قریب ہفتہ کی صبح زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد فضاء میں دھویں کا بادل بلند ہوتا دیکھا گیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکے کی آواز براہِ راست ایئرپورٹ کے اوپر سنی گئی اور چند لمحوں بعد ایئرپورٹ کے قریب دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر ایک ڈرون یا اس کے ملبے کے گرنے کے بعد دھماکے کا منظر دکھایا گیا، جس کے بارے میں بعض صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ایرانی ساختہ Shahed-136 ڈرون ہو سکتا ہے۔فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے مطابق واقعے کے فوراً بعد متعدد طیارے فضا میں چکر لگاتے یا ہولڈنگ پیٹرن میں نظر آئے جبکہ حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ دیر کے لیے پروازوں کی آمد و رفت محدود کر دی گئی۔

    بعد ازاں دبئی میڈیا آفس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کو “معمولی نوعیت کا حادثہ” قرار دیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ کسی میزائل یا ڈرون کو فضا میں روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی وجہ سے ہوا اور ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔بیان میں کہا گیا کہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لے لیا گیا اور اس مخصوص واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایئرپورٹ ٹرمینلز یا دیگر اہم تنصیبات کو بھی کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔

  • پاکستان کی ایران سے خلیجی ممالک پر حملوں سے گریز کی اپیل

    پاکستان کی ایران سے خلیجی ممالک پر حملوں سے گریز کی اپیل

    اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے ایران سمیت مختلف علاقائی ممالک سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور فریقین پر تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے سے گریز کرے کیونکہ ایسے اقدامات پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں اور پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کے اس ماحول میں رابطے اور مکالمے کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔پاکستانی حکام نے ایرانی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ خلیجی ریاستوں پر کسی بھی قسم کے حملے نہ صرف تنازع کو وسیع کر سکتے ہیں بلکہ پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور آذربائیجان کے علاقے نخچیوان پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان آذربائیجان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو ماہرین ایک محتاط توازن کی پالیسی قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت اسلام آباد خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اس بحران کو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام آباد ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے مضبوط سفارتی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کیلئے سفارتی سطح پر متحرک نظر آ رہا ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیردفاع سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیردفاع سے ملاقات

    فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزاد خالد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، ملاقات میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں کا حملوں کوروکنے کے لیے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات پر تبادلہ خیال کیا،ملاقات میں زور دیا گیا کہ بلاوجہ جارحیت خطےکی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، بلاوجہ حملے امن کے لیے مذاکرات کے امکانات کو محدود کرتے ہیں اور بحران کو بڑھاتے ہیں، دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ ایران سمجھداری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرےگا، ایران کی محتاط حکمت عملی سے دوست ممالک کو بحران کے پرامن حل کی کوششوں میں مددملےگی، ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی اوردوستی کےفروغ کےلیےتعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق ہوا، دونوں ملکوں نے باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانےکا عزم ظاہرکیا۔

  • آپریشن غضب للحق ،بلوچستان کےغیور عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ

    آپریشن غضب للحق ،بلوچستان کےغیور عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ

    بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی کے لئے سینکڑوں عوام سڑکوں پر نکل آئے

    جھل مگسی ،قمردین کاریز، کوہلو اور چمن میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں،ریلی کے شرکا نے افغان طالبان کی جارحیت کی شدید مذمت کی اور ملکی سلامتی کیلئے پاک فوج کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا،چمن اور کوہلو پاک فوج زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعروں سے گونجتے رہے ،ریلیوں کے شرکا کاکہنا تھا کہ افغان طالبان کی جارحیت کا افواج پاکستان نے منہ توڑ اور بھرپور انداز میں جواب دیا،افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پوری قوم افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے ساتھ ہیں، ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،پاک فوج نے قوم کی حمایت سے دشمن کا غرور خاک میں ملا کر اپنی طاقت کا لوہا منوالیا،پاک فوج سرحدوں کا دفاع کررہی ہے اور قوم اس کی پشت پر کھڑی ہے ،ریلی کے شرکا نے عسکری قیادت قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے بھی لگائے،بلوچستان میں اظہار یکجہتی کی ریلیاں بلوچ عوام کی طرف سے پاک فوج کی مکمل حمایت کا واضح ثبوت ہیں

  • اسرائیل،امریکا جارحیت نہ رکی،ایران کے بھی جوابی وار جاری

    اسرائیل،امریکا جارحیت نہ رکی،ایران کے بھی جوابی وار جاری

    اسرائیل اور امریکا کی جارحیت تھم نہ سکی، رات بھر ایران پر خوفناک حملے، تہران دھماکوں سے گونجتا رہا۔

    ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور صدر ٹرمپ کسی ایک ایرانی رہنماء کو بھی زندہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔جنگ کے آٹھویں روز بھی ایران ڈٹ کر کھڑا ہے اور دشمن پر جوابی وار کررہا ہے۔تازہ حملہ عراق کے شہر بصرہ میں کیا گیا جہاں امریکی آئل کمپلیکس پر ڈرون حملے کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔عرب اور خلیجی ملکوں میں امریکی اہداف مسلسل ایران کے نشانے پر ہیں جبکہ اسرائیل پر بھی میزائلوں کی برسات کی جارہی ہے۔وہیں اسرائیل و امریکا کے بھی حملے جاری ہیں،تہران شہر کے جنوب، شمالی اور مغربی علاقوں میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، مہرآباد ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا، مزید 80 افراد شہید ہوگئے، تعداد 1332 ہوگئی، 200 بچے بھی شامل ہیں۔امریکا نے ایران کے 43 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کردیا، امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں 3 ہزار مقامات کو نشانہ بناچکے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکی صدر کو چیلنج دیا ہے کہ ہمت ہے تو آبنائے ہرمز سے گزر کر دکھاؤ،ایران نے واضح کیا ہے کہ صرف امریکا اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں، باقی سب کیلئے روٹ کھلا ہے، جہاں سے دُنیا بھر میں تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔

  • اسرائیل میں تباہی،ایرانی حملوں کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی فیل ہے،بھارتی صحافی

    اسرائیل میں تباہی،ایرانی حملوں کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی فیل ہے،بھارتی صحافی

    اسرائیل میں تباہی کی صورتحال پر بھارتی صحافی نے کہا ہے کہ تل ابیب میں تباہی کے مناظر ہیں، 100 میٹر نیچے سرنگیں بھی میزائلوں سے لرز رہی ہیں۔

    بھارتی صحافی نے انکشاف کیا کہ جب بم پھٹتا ہے تو وہ دیکھتا نہیں ہے کہ یہ بھارتی ہے یا اسرائیلی ہے، ایرانی حملوں کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی فیل ہے،سخت سنسر شپ ہے، لاشوں اور اسپتالوں کی وڈیوز بنانے کی اجازت نہیں،100فٹ نیچے زمین میں چھپے اسرائیلی بھی حملوں میں مارے گئے، اسرائیل میں لاشوں اور زخمیوں کی تصویر لینے کی بھی اجازت نہیں ہے، اسپتال جانے کی اجازت نہیں، تباہ عمارت کی تصویر یا وڈیو بنانے پر بھی پابندی ہے، اسرائیلی ٹیکنالوجی کا چرچا سنا تھا مگر یہ ٹیکنالوجی ناکام ہوتے دیکھ لی، بھارتی صحافی نے بتایا کہ میزائل الرٹ کا کبھی کبھی میسج بھی نہیں آتا اور حملہ ہوجاتا ہے،حکومت بھی وہاں کچھ نہیں بتاتی،الارم نہیں بجا اور دھماکہ ہو گیا، ٹیکنالوجی فیل ہو چکی ،

  • بلوچستان، سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں 15 خوارج جہنم واصل

    بلوچستان، سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں 15 خوارج جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دو الگ الگ کارروائیوں میں بھارتی پراکسی یافتہ 15 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پرانٹیلی جنس آپریشن کیا گیا، خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران 12خوارج ہلاک کر دیے گئے، سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو گھیر کر بھرپور کارروائی کی، ضلع بسیما میں بھی آپریشن کے دوران بھارتی سرپرست یافتہ 3 دہشتگرد ہلاک ہوئے، فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کا سراغ لگا کرمؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی، ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث اور سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھے، سکیورٹی فورسز ملک سے بیرونی سرپرست یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔

  • 9 مئی،جی ایچ کیو حملہ کیس،47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 برس قید کی سزا

    9 مئی،جی ایچ کیو حملہ کیس،47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 برس قید کی سزا

    انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 برس قید کی سزا سنا دی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 9 مئی جی ایچ کیو کیس کا فیصلہ جاری کیا،عدالت نے اشتہاری ملزمان کو قید کے ساتھ 5،5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دے دیا،عدالت سے سزا پانے والوں میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب اور راشد شفیق شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ بھی ملزمان میں شامل ہیں،انسداد دہشت گردی عدالت نے شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی کو بھی قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سزا پانے والے ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ اور آرمی میوزیم پرحملوں میں ملوث پائے گئے، جے آئی ٹی رپورٹ نے ملزمان کو پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں ملوث مرکزی ملزم قرار دیا،فیصلے کے مطابق ملزمان پر 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پرحملوں اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، مقدمےمیں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سمیت 118 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی، 118 ملزمان پر دسمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی،انسداد دہشتگردی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ مقدمے میں اب تک استغاثا کے کل 44 گواہان کے بیانات رکارڈ ہوچکے ہیں، 118ملزمان میں 18 ملزمان دوران ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر پائے گئے، 29ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے،عدالت نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کےتحت47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا، پراسیکیوشن نے رواں سال 6 جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائرکی، عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر انکوائری تشکیل دی، رواں سال 8 جنوری کو 47 مفرور ملزمان کا اشتہار جاری کیا گیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اشتہاری ملزمان کو 7دن کےاندر عدالت کےسامنےسرنڈر کرنے کاموقع دیا، عدالتی احکامات اور اشتہار جاری ہونےکے باوجود کوئی ملزم عدالت پیش نہیں ہوا۔

  • تہران جنگ کے سائے میں،سنسان سڑکیں، بمباری کا خوف،ایرانی عوام کے متضاد جذبات

    تہران جنگ کے سائے میں،سنسان سڑکیں، بمباری کا خوف،ایرانی عوام کے متضاد جذبات

    ایران کا دارالحکومت ان دنوں ایک غیر معمولی اور خوفناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ شہر کی سڑکیں سنسان پڑی ہیں اور معمولات زندگی تقریباً مفلوج ہو چکے ہیں۔ شہریوں کے مطابق شہر اس وقت کسی “بھوتوں کے شہر” کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں خاموشی صرف اس وقت ٹوٹتی ہے جب آسمان سے بموں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔

    ایک 30 سالہ تہران کے رہائشی نے عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ“یہ شہر اب کسی ویران بستی جیسا لگتا ہے۔ لوگ گھروں سے نہیں نکل رہے۔ اگر کبھی کوئی سڑک پر نظر آ جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی فلم کا منظر ہو۔”انہوں نے بتایا کہ شدید فضائی حملوں کے چھٹے دن بھی شہر میں خوف اور غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔“ابتدا میں لوگ شدید خوف میں تھے، لیکن کچھ لوگ اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے جنگی طیاروں کو دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔”

    امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سے ایران کے مختلف اہداف پر مشترکہ فضائی حملے شروع کیے، جس کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں کی گئیں اور یوں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔اس جنگ نے ایرانی معاشرے کے اندر پہلے سے موجود سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ایک طرف وہ ایرانی ہیں جو طویل عرصے سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سخت گیر نظام کے خاتمے کی خواہش رکھتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے موجودہ حالات امید کی کرن بھی بن گئے ہیں۔دوسری طرف حکومت کے حامی ہیں جو خامنہ ای کی وفات کے بعد سوگ کی فضا میں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ملک کے سیاسی مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    بہت سے ایرانی شہری اس جنگ کے بارے میں شدید مخمصے کا شکار ہیں۔ وہ حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ضرور تھے، لیکن یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ تبدیلی بیرونی فوجی مداخلت کے ذریعے آئے۔ایک شہری نے بتایا “ہم پر دشمن حملہ کر رہا ہے، بمباری ہو رہی ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم مکمل غصے میں بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ جو صورتحال پہلے تھی وہ ذہنی طور پر اس سے بھی زیادہ مشکل تھی۔”انہوں نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان احتجاجوں کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہفتے سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔جنوبی ایرانی شہر میناب میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 168 بچے اور 14 اساتذہ ہلاک ہو گئے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس واقعے کی فوری، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ“اندھا دھند حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”

    تہران میں گیشا اسٹریٹ پر واقع ایک بدنام زمانہ حراستی مرکز، جہاں اخلاقی پولیس کا دفتر بھی تھا، حالیہ فضائی حملے میں تباہ ہو گیا۔ایک سابق ایرانی طالب علم، جو اس مرکز میں قید رہ چکا تھا، نے کہا “اس عمارت میں ہزاروں لوگوں کو گرفتار اور ذلیل کیا گیا۔ مجھے امید ہے کہ بمباری میں کوئی بے گناہ شخص زخمی نہیں ہوا ہوگا، لیکن مجھے خوشی بھی ہے کہ وہ عمارت اب موجود نہیں۔”ایک موسیقار، جو وہاں قید رہ چکا تھا، نے کہا کہ اس عمارت کے تباہ ہونے پر اس کے جذبات متضاد ہیں۔

    ایران میں حکومت نے 28 فروری سے انٹرنیٹ کو تقریباً مکمل طور پر محدود کر دیا ہے۔ نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک معمول کے صرف ایک فیصد تک رہ گئی ہے جس کے باعث تقریباً 9 کروڑ افراد عالمی خبروں اور سوشل میڈیا سے کٹ چکے ہیں۔شہر شیراز کے ایک رہائشی نے بتایا “ہمارے پاس کوئی خبر نہیں ہوتی۔ فون بھی مشکل سے ملتا ہے۔ کوئی سائرن نہیں ہوتا جو حملے سے پہلے خبردار کرے۔ ہمیں بس آسمان میں کچھ آتا دکھائی دیتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ ہمارا ہے یا دشمن کا۔”

    تہران میں ایک خاتون نے بتایا کہ شہر کی دکانوں اور بازاروں میں عجیب صورتحال ہے جہاں خوف کے باوجود زندگی کسی حد تک جاری ہے۔انہوں نے کہا “پہلے دن اشیائے خورونوش بہت مہنگی تھیں اور لوگ ذخیرہ نہیں کر سکتے تھے، لیکن اگلے دن بازار دوبارہ بھر گئے، بیکریاں کھلی رہیں اور روٹی بن رہی تھی۔”جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات، مسلسل بمباری، مواصلاتی بندش اور غیر یقینی حالات کے درمیان ایرانی عوام ایک نئی حقیقت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ایک تہران کے شہری سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو اس نے مختصر جواب دیا “میں ابھی زندہ ہوں۔”

  • امریکی دفاعی کمپنیوں کا ٹرمپ انتظامیہ سے ملاقات میں اسلحہ کی پیداوار چار گنا بڑھانے پر اتفاق

    امریکی دفاعی کمپنیوں کا ٹرمپ انتظامیہ سے ملاقات میں اسلحہ کی پیداوار چار گنا بڑھانے پر اتفاق

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ سے ملاقات کرنے والی بڑی دفاعی کمپنیوں نے جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ صدر کے مطابق یہ کمپنیاں بعض جدید ترین ہتھیاروں کی پیداوار کو چار گنا تک بڑھائیں گی۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران دفاعی صنعت کے بڑے اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’’ایکسکوئزٹ کلاس‘‘ کے جدید ہتھیاروں کی تیاری کو تیزی سے بڑھایا جائے تاکہ کم سے کم وقت میں بڑی مقدار میں اسلحہ تیار کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی پیداوار میں توسیع کا عمل دراصل اس ملاقات سے تین ماہ پہلے ہی شروع کر دیا گیا تھا اور کئی نئے پلانٹس اور پروڈکشن لائنز پہلے ہی کام شروع کر چکی ہیں۔ صدر کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی فوجی صلاحیت کو جلد از جلد بلند ترین سطح تک پہنچانا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ان کمپنیوں میں BAE Systems، Boeing، Honeywell Aerospace، L3Harris Technologies، Lockheed Martin، Northrop Grumman اور Raytheon Technologies شامل تھیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ دفاعی کمپنیوں کے ساتھ اگلی اہم ملاقات دو ماہ بعد دوبارہ کی جائے گی، جس میں پیداوار میں اضافے اور دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔