Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گورنمنٹ کالج لاہور میں تحقیقاتی صحافت پر سیمینار ،مبشر لقمان کا خصوصی خطاب

    گورنمنٹ کالج لاہور میں تحقیقاتی صحافت پر سیمینار ،مبشر لقمان کا خصوصی خطاب

    لاہور ( علی رضا)گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز نے ینگ جرنلسٹس سوسائٹی کے تعاون سے "میٹ دی میڈیا ماسٹرو سیریز” کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد طلبہ کو میڈیا انڈسٹری کے عملی تجربات سے روشناس کرانا ہے، جس کے تحت تجربہ کار میڈیا پروفیشنلز کی جانب سے تربیتی ورکشاپس اور انٹرایکٹو لیکچرز کا انعقاد کیا جائے گا۔

    سیریز کے افتتاحی سیشن میں آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ” آرٹ آف پروبنگ ٹروتھ: ماسٹر کلاس اِن انویسٹی گیٹو جرنلزم” کے عنوان سے خصوصی لیکچر دیا۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ تجربات کی روشنی میں تحقیقاتی صحافت کے اہم طریقۂ کار، اخلاقی تقاضوں اور اس شعبے میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پر شعبۂ میڈیا اسٹڈیز کے انچارج ڈاکٹر مختار احمد نے مہمانِ خصوصی کو خوش آمدید کہا اور طلبہ کو نمایاں میڈیا شخصیات کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر فوزیہ غنی نے مہمانِ مقرر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجربات اور رہنمائی نے طلبہ کو تحقیقاتی صحافت کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیا ہے۔

    سیمینار کے بعد سینیئر اینکر پرسن مبشر لقمان کو شیلڈ سے نوازا گیا ، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چودھری سے ملاقات میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور جیسی درس گاہ گی پرانی یادوں پر گفتگو ہوئی۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ کس طرح گورنمنٹ کالج اپنے نام کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

    تحقیقاتی صحافت اور سچ کی آواز کے اس سیمینار میں موجود فیکلٹی ممبران میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مختار احمد، چیئر پرسن ڈاکٹر فوزیہ غنی، ڈاکٹر منیبہ فاطمہ، ڈاکٹر علی بہادر، صحافی عثمان بھٹی اور محترمہ اقدس وحید شامل تھیں، جن کی موجودگی نے طلباء میں ایک حوصلہ شکن اقدام کا سہارا پیدا کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں سیکھنے کیلئے اساتذہ کا سہارا طالب علموں کو تقویت دیتا ہے۔ تحقیقاتی صحافت پر گفتگو کا یہ دن نوجوانوں میں صحافتی ہم آہنگی، صحافتی اصولوں، میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں اور مستقبل میں تحقیقاتی جرنلزم اور سچ کی اہمیت پر ختم ہوا۔

  • بندر عباس میں ایرانی بحری بیڑے پر   امریکی،اسرائیلی حملہ

    بندر عباس میں ایرانی بحری بیڑے پر امریکی،اسرائیلی حملہ

    جنوب مشرقی ایران میں واقع اسٹریٹجک بندرگاہی شہر بندر عباس کے قریب ایرانی بحریہ کے ایک بڑے جہاز کو مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بندرگاہ کے اطراف دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب ایرانی بحری اثاثے بندر عباس کی بندرگاہ کے قریب موجود تھے۔ ویڈیو فوٹیج میں ایک بڑے بحری جہاز کو آگ میں لپٹا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ سیاہ دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے تین ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے،اطلاعات کے مطابق حملہ خاص طور پر اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کی بحریہ کے اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کئی بحری جہازوں اور بندرگاہ کے اہم فوجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ بعض جہاز مکمل طور پر تباہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    بندر عباس ایران کی سب سے اہم فوجی اور تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کے بالکل قریب واقع ہے۔ یہ آبنائے دنیا کی توانائی کی سپلائی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ عالمی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد بندرگاہ کے علاقے میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے جس سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ بندرگاہ کے اوپر گھنے دھوئیں کے بادل چھا گئے اور ہنگامی سروسز کو فوری طور پر موقع پر طلب کیا گیا۔

  • سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو تھریٹ لیٹرپر ترجمان جے یو آئی کا ردعمل

    سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو تھریٹ لیٹرپر ترجمان جے یو آئی کا ردعمل

    سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو تھریٹ لیٹرپر ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اراکین کو تھریٹ الرٹ جاری کرکے بلوچستان حکومت نے امن وامان کے قیام میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

    ترجمان جےیوآئی کا کہناتھا کہ پورے بلوچستان میں صرف جےیوآئی اراکین کی جان کو خطرہ ہے۔بلوچستان کے نااہل اور جعلی وزیر اعلی سے صوبے کو خطرہ ہے ۔اس لیٹر نے 2024 کے جعلی انتخابات کے زخم کو تازہ کر دیا ہے۔ایسے لیٹر حکومت کے منہ پر طمانچہ ہیں ۔یہ لیٹر خضدار اور قلات کے ضمنی الیکشن سے جے یوآئی کو دور رکھنے کا بہانہ ہے۔جعلی حکومت اور اسکا وزیر اعلی قوم کے سامنے عیاں ہو گیا ہے ۔اس لیٹر کو قبل از انتخابات دھاندلی تصور کرتے ہیں ۔اراکین اسمبلی اور قومی قیادت محفوظ نہیں تو عوام کا کیا حال ہوگا ۔خضدار اور قلات ضمنی انتخاب میں بھی پرانے طریقے سے دھاندلی کا منصوبہ نظر آ رہا ہے ۔ایسے حربوں کا مقابلہ کیا ہے اور کریں گے ۔قیادت کا تحفظ کرنا جانتے ہیں ۔

  • ہلمند،القاعدہ سے منسلک غیر ملکی جنگجوؤں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ

    ہلمند،القاعدہ سے منسلک غیر ملکی جنگجوؤں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ

    ہلمند، افغانستان کے ضلع نوزاد میں القاعدہ سے منسلک غیر ملکی جنگجوؤں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    فائرنگ کے اس تبادلے کے دوران کم از کم تین جنگجو ہلاک جبکہ تقریباً دو درجن افراد زخمی ہوئے، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق ان جنگجوؤں کو صرف دو دن قبل افغان طالبان کی جانب سے آبادی والے علاقے میں منتقل کیا گیا تھا، جس کے باعث کشیدگی پیدا ہوئی۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان جنگجوؤں کی موجودگی علاقے کے امن و امان کو خراب کر سکتی ہے کیونکہ پاکستانی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں میں ایسے عناصر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔بعد ازاں طالبان حکام نے اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے دو مقامی گروہوں کے درمیان جھگڑا قرار دیا تاکہ اصل خبر کو چھپایا جا سکے

  • پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔عطا تارڑ

    پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے غیر ملکی جریدوں کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں کارروائیاں کررہا ہے، افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور معاون نظام کو ہدف بنارہا ہے، افغان طالبان حکومت کے خیالی اعداد و شمار کسی سنجیدہ تبصرے کے قابل نہیں، افغان وزارت دفاع کا پاکستان کیخلاف میدان جنگ میں کامیابی کا دعویٰ پروپیگنڈا ہے۔

    عطاء تارڑ نے افغانستان کی جانب سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کی بھی تردید کردی، انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کے تمام حملوں کا فوری اور مؤثر جواب دیا گیا، پاکستان نے دہشتگردوں، افغان طالبان کے فوجی اڈوں کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد مل کر حملے کرتے ہیں، افغان طالبان حکومت اور متعدد دہشتگرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔

  • آپریشن غضب للحق،جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی پوسٹ تباہ

    آپریشن غضب للحق،جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی پوسٹ تباہ

    جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال میں آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شوال، جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی ایک پوسٹ کو نشانہ بنایا،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے عناصر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی اس پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا،سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

  • دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر افغانستان میں افغان طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا سامنا

    دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر افغانستان میں افغان طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا سامنا

    افغان طالبان کی دہشت گردوں کی پشت پناہی اور وار اکانومی کے خلاف افغان رہنما کھل کر سامنے آ گئے

    افغان سیاستدان احمد مسعود نے افغان طالبان کی زیرسرپرستی دہشت گردوں کے اڈوں کو بے نقاب کر دیا ، افغان سیاستدان اور نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ کے رہنما احمد مسعود نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آج جو حالات ہیں یہ براہ راست افغان طالبان رجیم کے برے اعمال کا نتیجہ ہے،آج افغانستان اپنے لوگوں کے لئے جہنم جبکہ دہشت گرد گروہوں کے لئے جنت بنا ہوا ہے، جس طرح القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو پناہ دی، آج وہی دوبارہ ہورہا ہے ،افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج) ہی نہیں بلکہ 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں ،افغانستان پر مسلط افغان طالبان رجیم کے خلاف ہماری شدید نفرت کبھی کم نہیں ہو سکتی ،

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو دہشتگروں کو بطور لانچنگ پیڈ کے استعمال کیخلاف افغان عوام میں طالبان رجیم کیخلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے،افغان عوام افغان طالبان کی آمریت اور دہشتگردی پر چلنے والی اس رجیم سے تنگ آچکے ہیں، یہ بات اب قطعی طور پر ڈھکی چھپی نہیں کہ افغانستان دہشتگرد عناصر کیلئے جنت بن چکا ہے

  • آئی ٹی  کی تربیت دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے،ملک وقاص سعید

    آئی ٹی کی تربیت دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے،ملک وقاص سعید

    مرکزی مسلم لیگ کے آئی ٹی ہیڈ ،ڈائریکٹر اپنا کماؤ ملک وقاص سعید نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت دے کر ہنرمند بنایا جا سکتا ہے،نوجوان مضبوط ہو گا تو ملک ترقی کرے گا،مرکزی مسلم لیگ عید کے بعد مفت آئی ٹی کے تربیتی کورس لانچ کر رہی ہے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں آئی ٹی کمیونٹی کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے صدر انعام الرحمان نے بھی خطاب کیا جبکہ سی ای او بلٹ ان سافٹ رضوان مجید، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اسلام آباد سردار سلیم الیاس اور ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آصف عزیز سمیت آئی ٹی ماہرین، فری لانسرز اور ڈیجیٹل ایجنسی مالکان نے بھرپور شرکت کی۔ ملک وقاص سعید نے ’اپنا کماؤ‘ مشن کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہمارا مقصد نوجوانوں کو صرف روایتی تعلیم تک محدود رکھنا نہیں بلکہ انہیں براہِ راست ان جدید مہارتوں سے لیس کرنا ہے جو عالمی منڈیوں میں ان کی شناخت بن سکیں، نوجوانوں کے لیے مستقبل قریب میں ایسے بڑے پیمانے کے تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا جا رہا ہے جو انہیں مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کریں گے۔ ان دور رس اقدامات کے ذریعے یوتھ کو نہ صرف تکنیکی طور پر مضبوط کیا جائے گا بلکہ انہیں بیروزگاری کے خاتمے اور خود مختار روزگار کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون بھی میسر ہوگا۔انعام الرحمن کمبوہ کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کی معاشی بحالی اب ایک قومی ضرورت بن چکی ہے جس کے لیے مرکزی مسلم لیگ اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ رضوان مجید نے اس بات پر زور دیا کہ انڈسٹری اور اکیڈمیہ کے درمیان پائیدار اشتراک ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو محفوظ اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔

  • گوجرخان،قصاب مافیا کی دھونس ،سرکاری نرخنامہ مندر کا گھنٹہ بن گیا

    گوجرخان،قصاب مافیا کی دھونس ،سرکاری نرخنامہ مندر کا گھنٹہ بن گیا

    قصابوں نے ہڑتال کے بعد من مانے نرخ نافذ کر دیے ریٹ لسٹ کو کھلے عام جوتے کی نوک پر رکھ کر پنجاب حکومت قانون کی رٹ کو کھلا چیلنج کر دیا
    شہریوں کے شدید تحفظات کا اظہار کیا بااثر قصابوں اور مقامی سیاسی شخصیات کا گٹھ جوڑ انتظامیہ کو خاموش رکھے ہوئے ہے؟
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں گوشت فروشوں نے انتظامیہ کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے کو عملاً ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ شہر بھر میں قصاب من مانے نرخوں پر گوشت فروخت کر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق گوجرخان میں تیار کیا جانے والا سرکاری نرخنامہ اب محض ایک رسمی کاغذ بن کر رہ گیا ہے جو بازاروں میں ایسے لٹکا ہوا ہے جیسے کسی مندر کا گھنٹہ، جس کا دل چاہے بجا دے۔ چند روز قبل گوشت کی قیمتوں کے معاملے پر قصابوں نے ہڑتال کر دی تھی جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ گوشت صرف سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق فروخت کیا جائے گا۔

    تاہم چند دن دکانیں بند رکھنے کے بعد جب قصابوں نے کاروبار دوبارہ شروع کیا تو صورتحال مزید خراب ہو گئی اور قیمتیں پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دی گئیں۔ اس وقت گوجرخان میں گائے اور بچھڑے کا گوشت تقریباً 1300 سے 1400 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل یہ 1200 روپے میں دستیاب تھا، حالانکہ سرکاری نرخنامے میں اس کی قیمت 900 روپے فی کلو مقرر ہے۔ اسی طرح بکرے کا گوشت 2400 سے 2500 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ میں اس کی قیمت 1800 روپے فی کلو درج ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعد قصاب طبقہ مزید منہ زور ہو گیا ہے اور اب کھلے عام سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہنگے داموں گوشت فروخت کر رہا ہے۔ بازاروں میں سرکاری ریٹ لسٹ تو آویزاں ہے مگر اس پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آ رہا۔ شہر کے رہائشیوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے اور اب گوشت بھی متوسط اور دیہاڑی دار طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ کچھ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ شہر کے قصاب بااثر ہیں اور ان کا مضبوط ووٹ بینک ہے جبکہ مقامی سیاسی شخصیات کے ساتھ مبینہ روابط کے باعث انتظامیہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے گریزاں ہے، جس کے نتیجے میں قصاب طبقہ مزید دلیر ہو کر قانون کو چیلنج کر رہا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ کون سی پوشیدہ قوتیں ہیں جن کے سامنے گوجرخان انتظامیہ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے اور سرکاری نرخنامہ محض نمائشی کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور راولپنڈی ڈویژن کی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور مہنگائی کے خلاف جاری حکومتی مہم کا عملی نفاذ یقینی بنایا جائے اور گوجرخان میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کرایا جائے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔