Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ایس ایل کا شیڈول جاری

    پی ایس ایل کا شیڈول جاری

    پی ایس ایل کا شیڈول جاری کر دیا گیا،ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 کا آغاز 11 اپریل کو ہوگا۔ پشاور 8 اپریل کو نمائشی میچ کی میزبانی کرے گا۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 کا آغاز 11 اپریل کو ہوگا۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے درمیان افتتاحی میچ سمیت 11 میچوں کی میزبانی کرے گا۔ قذافی اسٹیڈیم 18 مئی کو فائنل سمیت 13 میچوں کی میزبانی کرے گا۔ کراچی اور ملتان پانچ پانچ میچوں کی میزبانی کریں گے۔

    نوٹ، اس خبر کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی نجکاری کی فہرست میں شامل کیا جائے، سحر کامران

    پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی نجکاری کی فہرست میں شامل کیا جائے، سحر کامران

    چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری میں بھی سنائی دی

    پیپلزپارٹی کی رہنما، رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں قومی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل میں ہار اور جیت کا ایک حصہ ہوتا ہے، لیکن اگر ہمارے کھلاڑی اچھا کھیل کے باوجود ہارے ہوتے، تو شاید اتنا افسوس نہ ہوتا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھلاڑیوں کی محنت اور عزم کے باوجود مایوسی کی یہ صورت حال ان کے لئے خاص طور پر پریشان کن رہی۔

    اس دوران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں ایک اور تجویز سامنے آئی، جس میں سحر کامران نے سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی نجکاری کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی تنظیمی بہتری کے لئے نجکاری ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

    چیرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے سحر کامران اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجکاری سے کرکٹ بورڈ کی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے تو اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے، تاکہ یہ کھیل قومی سطح پر مزید کامیاب اور ترقی یافتہ ہو سکے۔

    اس تجویز پر قائمہ کمیٹی کے ارکان نے بھی اپنی رائے دی اور کہا کہ یہ ایک اہم قدم ہوگا، جس سے کرکٹ بورڈ کی کارکردگی میں ممکنہ بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تاہم، کچھ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کرکٹ بورڈ کی نجکاری سے کھلاڑیوں کی ترقی اور کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے پر منفی اثرات نہ پڑیں۔

  • سپریم کورٹ،نومئی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلیے درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،نومئی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلیے درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ نے نو مئی پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے پی ٹی آئی کی درخواست غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    ایڈووکیٹ حامد خان نے دلائل دیئے اور کہا کہ 9 مئی کے واقعہ کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔9 مئی کے ملزمان کو کس انداز سے پراسیکیوٹ کیا جا رہا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کس قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنائے۔آپ نے درخواست میں لکھا ہے 9 مئی کو درجنوں لوگ مارے گئے۔کسی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ درخواست کیساتھ نہیں لگایا گیا۔حامد خان نے کہا کہ انکوائری جوڈیشل کمیشن کرے گا تو اموات کا پتہ چلے گا۔جسٹس حسن اظہر رضوری نے کہا کہ ایک سرٹیفکیٹ یا ایف آئی آر کا کاپی تو لگا سکتے تھے۔

    سپریم کورٹ، نومئی ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    سپریم کورٹ ،نو اور دس مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،عالیہ حمزہ اور شہریار آفریدی و دیگر کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی،پنجاب حکومت نے رپورٹ جمع کروانے کیلئے عدالت سے وقت مانگ لیا،عدالت نے کیس سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی

    8 فروری انتخابات دھاندلی کیس، درخواستوں کو نمبر لگانے کی استدعا مسترد
    علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اور شیر افضل مروت کی 8 فروری انتخابات دھاندلی کیس درخواستوں کو نمبر لگانے کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے کیس کے میرٹ پر وکلاء کو بھی تیاری کرنے کی مہلت دیدی،وکیل حامد خان اور ریاض حنیف راہی نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرکے درخواست کو نمبر لگا دیں۔ہماری آج صرف چمبر اپیل سماعت کیلئے مقرر ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ کیس پر میرٹ پر دلائل دیں سن لیتے ہیں۔ریاض حنیف راہی نے کہا کہ کیس کو نمبر لگائیں اور میرٹ پر تیاری کا وقت دیدیں۔عدالت نے اعتراضات ختم کرکے نمبر لگانے کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی،جسٹس امین الدین خان سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی

  • سینئر کھلاڑیوں کی نیوزی لینڈ سیریز میں بریک لینے کے لیے مشاورت

    سینئر کھلاڑیوں کی نیوزی لینڈ سیریز میں بریک لینے کے لیے مشاورت

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں نے چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی کے بعد اگلی سیریز میں بریک لینے کے لیے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اعلیٰ عہدیدار قومی کرکٹرز کی حالیہ کارکردگی سے سخت ناخوش ہیں اور اس وجہ سے بعض کھلاڑیوں کو اگلے میچز میں جگہ سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی اگلی اسائنمنٹ نیوزی لینڈ میں 16 مارچ سے 5 اپریل تک کھیلی جانے والی وائٹ بال سیریز ہے، جس میں پانچ ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے میچز شامل ہیں۔ یہ سیریز پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، لیکن اس دوران کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے سخت ناراضگی کا سامنا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض سینئر کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی کی بنا پر سیریز سے دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ انہیں ڈراپ ہونے کے لیبل سے بچایا جا سکے۔ بعض کھلاڑیوں کے بارے میں یہ چہ میگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ نیوزی لینڈ کے دورے سے خود کو باہر کر سکتے ہیں تاکہ ان کی کارکردگی پر مزید سوالات نہ اٹھیں۔خاص طور پر شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، نسیم شاہ اور بابر اعظم کے نام ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہیں ڈراپ کیے جانے کی بازگشت سنی جا رہی ہے۔ ان کھلاڑیوں کی چیمپئنز ٹرافی میں کارکردگی خاصی مایوس کن رہی تھی، اور اسی وجہ سے ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 60 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ دوسرے میچ میں بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔ تیسرا میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس دوران پاکستان کی ٹیم نے ان دونوں میچز میں اپنی ناقص کارکردگی کے باعث شائقین کرکٹ کو مایوس کیا ہے۔اب تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ کون سے کھلاڑی اگلے دورے کے لیے دستیاب ہوں گے، لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت اور بورڈ میں اس حوالے سے سخت فیصلے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

  • ملازمین کی چھانٹیاں،ٹرمپ کے احکامات غیر قانونی قرار

    ملازمین کی چھانٹیاں،ٹرمپ کے احکامات غیر قانونی قرار

    امریکا کی کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے دوران وزارت دفاع اور دیگر سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں ٹرمپ انتظامیہ کو ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے سے روک دیا۔ عدالت کے جج نے پرسنل مینجمنٹ سے متعلق دفتر کو حکم دیا ہے کہ وہ پروبیشنری سرکاری ملازمین کی چھانٹیوں کے حوالے سے 20 سے زائد سرکاری اداروں کو جاری کیے گئے احکامات کو منسوخ کرے۔جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کانگریس نے مختلف اداروں، بشمول وزارت دفاع، کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ اپنے ملازمین کو بھرتی کریں یا برطرف کریں، مگر پرسنل مینجمنٹ کے دفتر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی دوسرے ادارے کے ملازمین کو نوکری سے نکالے یا بھرتی کرے۔عدالت کے فیصلے کے مطابق، مختلف اداروں میں پروبیشنری ملازمین کی برطرفیاں ممکنہ طور پر غیر قانونی ہیں۔

    اس فیصلے کے بعد امریکا میں کام کرنے والے تقریباً دو لاکھ پروبیشنری ملازمین پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق، مختلف محکموں سے ہزاروں پروبیشنری ملازمین کو پہلے ہی نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے، اور یہ تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔امریکی لیبر یونین نے سان فرانسسکو کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ان ملازمین کے خلاف یہ اقدام ممکنہ طور پر غیر قانونی ہے۔ یونین کا کہنا تھا کہ ایسے ملازمین کو بھی نوکری سے نکال دیا گیا ہے جنہیں ان کے سینیئرز نے بہترین ملازم قرار دیا تھا۔یہ فیصلہ امریکی سرکاری ملازمین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے لیے ایک اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔ یہ کیس امریکا میں ملازمین کے حقوق کے حوالے سے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بات سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد کی ہو۔

  • جھگڑے کے دوران شہری پر تشدد کرنے والے دو نجی گارڈز  گرفتار،شاہ زین مری فرار

    جھگڑے کے دوران شہری پر تشدد کرنے والے دو نجی گارڈز گرفتار،شاہ زین مری فرار

    کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں ایک شہری پر تشدد کرنے والے دو نجی سکیورٹی گارڈز کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، تاہم مرکزی ملزم شاہ زین مری بلوچستان فرار ہو گیا ہے۔

    گزشتہ روز کراچی کے بوٹ بیسن علاقے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تھی جس میں شاہ زین مری اور ان کے سکیورٹی گارڈز کو ایک شہری پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ شاہ زین مری اپنے سکیورٹی گارڈز کے ہمراہ شہری کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد پولیس فوراً حرکت میں آئی اور تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس نے رات گئے دو مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے دو سکیورٹی گارڈز کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان گارڈز کے نام غوث بخش اور جلاد خان ہیں، جو شاہ زین مری کے ذاتی گارڈز تھے۔ دونوں سے چار جدید ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ "گرفتار گارڈز شاہ زین مری کے ذاتی محافظ ہیں اور یہ دونوں شہری پر تشدد کے واقعے میں ملوث ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی ملزم شاہ زین مری نے اپنے گارڈز کے ساتھ مل کر شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اس کے بعد وہ بلوچستان فرار ہو گیا۔ڈی آئی جی اسد رضا نے یہ بھی بتایا کہ "شاہ زین مری کی گرفتاری کے لیے بلوچستان حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے اور بہت جلد دیگر ملوث افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔”

    یہ واقعہ کراچی میں سکیورٹی گارڈز کے ناجائز تشدد اور قانون کی خلاف ورزی کی ایک اور مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس پر شہریوں کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کی مکمل تحقیقات کریں گے اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • قومی اسمبلی کے گزشتہ سال کے کارکردگی ،وزیراعظم کی حاضری کتنی رہی

    قومی اسمبلی کے گزشتہ سال کے کارکردگی ،وزیراعظم کی حاضری کتنی رہی

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے 16 ویں قومی اسمبلی کی سالانہ جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں قومی اسمبلی کے گزشتہ سال کے کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔

    پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایک سال میں قومی اسمبلی کی قانون سازی میں زبردست تیز رفتاری دیکھنے کو ملی ہے، لیکن اس تیز تر عمل کے باعث قانون سازی میں ضروری ترامیم اور جانچ پڑتال کی کمی محسوس ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال کے دوران قومی اسمبلی میں بحث کا وقت کم رہا، جبکہ قانون سازی کی رفتار تیز تھی۔رپورٹ کے مطابق، قومی اسمبلی کی قانون سازی میں 370 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور متعدد قوانین بغیر کسی تفصیلی بحث کے منظور کرلیے گئے ہیں۔ تاہم، ایک اہم پہلو یہ ہے کہ حاضری میں کمی آئی ہے، اور اس میں 66 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم کی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کا ریکارڈ بہت کم رہا، اور ان کی حاضری صرف 18 فیصد تھی۔ اسی طرح، قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے 62 اجلاسوں میں شرکت کی۔ایک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر ہوئی، اور کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے 3 اپریل کی آخری تاریخ گزرنے کے باوجود یہ کمیٹیاں تشکیل نہیں دی جا سکیں۔

    مالی پہلو پر نظر ڈالیں تو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی ممبر قومی اسمبلی پر سالانہ 37.9 ملین روپے کا خرچہ آیا، یعنی قومی اسمبلی کے اجلاسوں پر ٹیکس دہندگان کے لیے فی ممبر 37.9 ملین روپے لاگت آئی۔رپورٹ کے مطابق، قومی اسمبلی نے اپنے ایجنڈا آئٹمز میں سے 49 فیصد آئٹمز کو مکمل نہیں کیا، جو کہ اسمبلی کی کارکردگی میں ایک اہم کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

  • نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کی اہمیت اور اثرات معاشرتی ترقی میں بے شمار ہیں۔ یہ پیشہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں صرف سچائی، ایمانداری، اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافت کے میدان میں قدم رکھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا اور اپنے لیے ایک معتبر مقام پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ایسی ہی ایک جرات مندانہ مثال نمرہ ملک کی ہے، جو تلہ گنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمرہ ملک نے نہ صرف صحافت کے میدان میں قدم رکھا بلکہ اس میدان میں اپنی محنت، لگن اور قابل رشک کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنا نام بنایا بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا صحافت سے تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بہت محنت سے ہوا۔ انہوں نے کئی اہم اخبارات اور میڈیا اداروں سے وابستہ رہ کر صحافت کے اصولوں کو سیکھا اور اپنے کام میں بہترین مہارت حاصل کی۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کو معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے دلوں تک پہنچ کر انہیں متحرک بھی کرتی ہیں۔
    nimra malik talagang
    نمرہ ملک نہ صرف صحافت کی دنیا میں بلکہ ادب کی دنیا میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر ایک منفرد زاویہ اور گہرا پیغام رکھتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کو ایک نیا نقطہ نظر بھی فراہم کرتی ہیں۔نمرہ ملک نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے صحافت میں بے شمار ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے نام نو سو سے زائد ایوارڈز ہیں، جو ان کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا غماز ہیں۔ یہ اعزازات ان کی جدو جہد اور کمیونٹی میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا واضح اظہار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی "مرد صحافی” کو اتنی عزت نہیں ملی جو نمرہ ملک نے حاصل کی ہے۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کی کامیابی صرف ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی مستقل مزاجی، لگن، اور جرات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھتے وقت جہاں ایک طرف خواتین کے لیے اس میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر انسان میں عزم و ہمت ہو تو کوئی بھی مشکل راستہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔نمرہ ملک کی کہانی ایک ایسی کامیاب خاتون کی کہانی ہے جس نے نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کیا بلکہ صحافت کے میدان میں عورتوں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ کسی بھی شعبے میں قدم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔نمرہ ملک کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدو جہد کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد راستہ نہیں ہوتا، اور محنت اور عزم کے ساتھ اپنی راہ بنانے کا جذبہ کبھی ناکام نہیں جاتا۔
    نمرہ ملک کے لیے ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔
    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا مختصر تعارف،نمرہ ہی کی زبانی
    پروفیسر نمرہ ملک پرائڈ آف پرفارمنس مصنفہ ادیبہ
    ماسٹرز ان اردو،ماس کمیونکیشنز۔بی ایڈ ،میڈیکل
    مختلف زبانوں میں انٹرپریٹر ہوں۔
    مبصرہ ناولسٹ
    افسانہ نگار
    کالم نگار(میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔)
    کمپیئر
    اینکر پرسن
    سفر نامہ نگار
    صحافی
    چیئرپرسن ضلع پریس کلب تلہ گنگ
    ضلع چکوال کی پہلی ورکنگ جرنلسٹ۔۔۔۔نیشنل جرنلسٹ
    مختلف قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے
    قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ
    حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب "کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔
    "شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020 کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
    پنجابی مجموعہ "مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔
    پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
    میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب آچکی ہیں
    پندرہ زبانوں میں شاعری کا اعزاز حاصل ہے
    انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
    ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے
    کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔
    میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ

    ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔پانچ مختلف زبانوں میں لکھتی ہوں۔پندرہ مختلف زبانوں کواپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ادب اطفال کی جانب سے متعدد بار ایوارڈز مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے "پھول” میں پہلی کہانی شائع ہوئی تھی۔
    nimra malik talagang
    میری کتابوں کی تفصیل ۔
    مہنڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
    شاہ سائیں(ناول)
    دریچہ (کالمز)
    کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
    بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
    مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
    کتاب زیست(ناول)
    عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
    آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
    ah my dreams!!(انگلش )
    مائے نی (پنجابی ماہیا،)
    6.(افسانے)
    مرشد خانہ (سفر نامہ)
    میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
    پیمانہ بدہ(فارسی کلام)

    من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
    جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
    (نمرہ ملک)

  • نواز شریف سیاسی میدان میں دوبارہ سرگرم،عید کے بعد جلسوں کا فیصلہ

    نواز شریف سیاسی میدان میں دوبارہ سرگرم،عید کے بعد جلسوں کا فیصلہ

    مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے سیاسی میدان میں اپنی دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور پارٹی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پارٹی کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل اور صوبائی سطح پر مسلم لیگ ن کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔

    میاں نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی، جن میں سیکریٹری جنرل احسن اقبال، انجئینئر امیر مقام، انوشہ رحمٰن اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر شامل تھے۔ اس ملاقات میں مسلم لیگ ن کے داخلی امور، آئندہ انتخابات کی حکمت عملی اور عوامی رابطہ مہم پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف نے نارووال میں حالیہ کامیاب جلسے کی تعریف کی اور پارٹی کو مزید فعال کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران احسن اقبال نے میاں نواز شریف کو پارٹی کے اہم امور پر بریفنگ دی اور عید کے بعد مختلف شہروں میں مزید جلسوں کے انعقاد پر مشاورت کی گئی۔

    ملاقاتوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما پارٹی کو عوام تک پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کریں اور پارٹی کی ساکھ کو مزید مستحکم کریں۔ عید کے بعد مختلف شہروں میں جلسوں کے انعقاد کی تجویز پر بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی تاکہ پارٹی کا پیغام زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچایا جا سکے اور آئندہ سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔میاں نواز شریف کی اس سیاسی سرگرمی نے نہ صرف مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو ایک نئی امید دی ہے بلکہ پارٹی کے حامیوں کے درمیان بھی جوش و جذبہ پیدا کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ ن کی قیادت کی کوشش ہے کہ وہ اپنے آپ کو ملک کی سیاست میں مزید مستحکم کرے اور عوامی حمایت حاصل کرے۔

    تصاویر،ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالدبن محمد بن زیدالنہیان کا دورہ پاکستان

    ایک ماہ میں امریکی فوج سے ٹرانسجینڈر فارغ کرنیکا حکم

    6 ملکوں سے مزید 67 پاکستانی ڈی پورٹ، 5 گرفتار

  • تصاویر،ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالدبن محمد بن زیدالنہیان کا دورہ پاکستان

    تصاویر،ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالدبن محمد بن زیدالنہیان کا دورہ پاکستان

    ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان اسلام آباد پہنچے، جہاں وزیرِ اعظم ہاؤس میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ اس دوران اسلام آباد میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری رہا، لیکن وزیرِاعظم شہباز شریف نے خود چھتری تھام کر ابوظہبی کے ولی عہد کو بھیگنے سے بچایا، جو اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستی اور احترام کا رشتہ گہرا ہے۔

    ابوظہبی کے ولی عہد، شہزادہ شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کو پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز "نشان پاکستان” سے نوازا گیا۔ اس اہم موقع پر پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا استقبال کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کی تقریب میں شرکت کے دوران وہ کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کریں۔ولی عہد کا دورہ پاکستان کے سرکاری دورے کے تحت ہوا، جس کے دوران پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزراء نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ ان شعبوں میں بینکنگ، کان کنی، ریلویز اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس حوالے سے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات اور یواے ای کے وفد کے ارکان موجود تھے۔

    اس موقع پر، متحدہ عرب امارات کے سید بصار شعیب اور پاکستان کے سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بینکنگ کے شعبے میں معاہدے کے مسودوں کا تبادلہ کیا۔ اسی طرح، علی الراشدی، سعید احمد اور فہیم حیدر نے کان کنی کے شعبے میں معاہدے کے مسودوں کا تبادلہ کیا، جب کہ شادی ملک اور عامر علی بلوچ نے ریلویز کے شعبے میں مفاہمت کی دستاویزات پر دستخط کیے۔کچھ دیگر اہم معاہدوں میں کیپٹن جمال شمسی اور ندیم احمد چوہدری نے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کے ایم او یو کے مسودوں کا تبادلہ کیا۔

    یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ ترقی کے نئے دروازے کھولیں گے۔پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کا یہ نیا باب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔