Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سابق سینیٹر مشتاق احمد  کی اسرائیلی حراست سے رہائی ہو گئی،اسحاق ڈار

    سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اسرائیلی حراست سے رہائی ہو گئی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی پر انہیں دلی خوشی ہوئی ہے، جنہیں اسرائیلی قابض افواج نے دیگر انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے ہمراہ پر غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا۔

    اپنے ایک بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ الحمدللہ، مشتاق احمد خان کی رہائی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے یونانی حکام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کریٹ، یونان میں ان کی سہولت کاری کی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ترکیہ کی قیادت اور حکومت کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے مشتاق احمد خان کی استنبول منتقلی اور وہاں سے پاکستان واپسی کے انتظامات میں بھرپور تعاون کیا۔وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ اور ایتھنز میں پاکستانی سفارتخانے کی مؤثر کارروائی کو بھی سراہا، جن کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا۔اسحاق ڈار نے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور غزہ کے محصور عوام کے لیے بھیجی جانے والی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس عمل کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

    انہوں نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

  • باجوڑ،فتنۃ الخوارج کا کرکٹ گراؤنڈ پرکواڈ کاپٹر سے حملہ،تین افراد زخمی

    باجوڑ،فتنۃ الخوارج کا کرکٹ گراؤنڈ پرکواڈ کاپٹر سے حملہ،تین افراد زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں فتنۃ الخوارج کی جانب سے کرکٹ گراؤنڈ کو نشانہ بنایا گیاہے سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے علاقے ماموند میں نام نہاد فتنہ الخوارج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔

    مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ اس وقت کیا گیا جب گراؤنڈ میں کرکٹ میچ جاری تھا اور نوجوان کھیل میں مصروف تھے۔ اچانک ہونے والے اس حملے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ مہینوں کے دوران ماموند اور سلارزئی کے علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال تشویشناک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ اور اپریل کے دوران بھی ان علاقوں میں مارٹر گولے فائر کیے گئے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ماضی میں قیمتی جانی نقصان بھی ہو چکا ہے، جس میں تین خواتین اور چھ بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز شدت پسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فورسز نہ صرف حملہ آوروں بلکہ ان کے ٹھکانوں اور معاون انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔

  • کیڈٹ کالج پشین میں تقسیمِ انعامات کی تقریب، نمایاں کارکردگی پر کیڈٹس کو خراجِ تحسین

    کیڈٹ کالج پشین میں تقسیمِ انعامات کی تقریب، نمایاں کارکردگی پر کیڈٹس کو خراجِ تحسین

    کیڈٹ کالج پشین میں تقسیمِ انعامات کی ایک باوقار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیم، نظم و ضبط اور ہمہ جہت تربیت کے شاندار مظاہر دیکھنے کو ملے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاطف مجتبیٰ (آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ) تھے، جنہوں نے تقریب میں بطور خاص شرکت کی۔

    اس موقع پر کیڈٹس کے والدین، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، پشین کے ڈپٹی کمشنر، مقامی عمائدین اور سول و ملٹری افسران کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی، جس سے تقریب کی اہمیت اور وقار میں مزید اضافہ ہوا۔تقریب کا آغاز کیڈٹس کی جانب سے مہمانِ خصوصی کو شاندار گارڈ آف آنر پیش کرنے سے ہوا، جس نے حاضرین کے دل جیت لیے۔ اس کے بعد کیڈٹس نے مختلف عملی سرگرمیوں، جسمانی تربیت، پریڈ اور تعلیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے کیڈٹ کالج پشین کے اعلیٰ تعلیمی و تربیتی معیار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، قیادت اور حب الوطنی جیسے اوصاف سے آراستہ کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے اداروں کی سرپرستی جاری رکھی جائے گی تاکہ نوجوان نسل کو مثبت اور تعمیری راستہ فراہم کیا جا سکے۔

    تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں، جبکہ والدین اور دیگر شرکاء نے کیڈٹس کی محنت، خود اعتمادی اور اعلیٰ تربیتی معیار کو سراہتے ہوئے اساتذہ کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔آخر میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کیڈٹ کالج پشین جیسے تعلیمی ادارے بلوچستان کی نوجوان نسل کی کردار سازی، ذہنی و جسمانی نشوونما اور قومی جذبے کی آبیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جو مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔

  • ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پروزیراعظم نے اعلی سطح کمیٹی بنا دی

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پروزیراعظم نے اعلی سطح کمیٹی بنا دی

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر اعلی سطح کمیٹی تشکیل دے دی

    وزیرِ قانون و وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری اس کمیٹی کے ارکان ہونگے.کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کرے ایک جامع رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی. اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلا کسی تفریق کے فریقین اور متاثرین کو سنے گی. وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی. وزیرِ اعظم نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی ہدایات جاری کی ہیں.

  • مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یکم مئی کو “یومِ مزدور” بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ مگر ان سب رنگینیوں کے بیچ ایک حقیقت بڑی خاموشی سے کھڑی رہتی ہے: وہ مزدور جس کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، وہ خود اس دن بھی مزدوری کر رہا ہوتا ہے۔

    یہ کیسا تضاد ہے کہ جس کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے، وہی شخص اس آواز کو سننے سے محروم رہتا ہے۔ اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور، سڑک پر پسینہ بہاتا محنت کش، کارخانوں میں مشینوں کے ساتھ جُھلا ہوا ہاتھ ، یہ سب آج بھی اپنی روزی کی تلاش میں ہوتے ہیں، چاہے کیلنڈر پر یکم مئی ہی کیوں نہ درج ہو،ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مزدور کی اجرت کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر اس کے زخموں کا مداوا نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ مزدور کی تنخواہ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اکثر کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی مزدور آج بھی اتنی اجرت سے محروم ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پورا کر پاتے ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ مزدور ڈے بھی ایک “تقریب” بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں چند بااثر افراد تقریریں کرتے ہیں، کیمرے چلتے ہیں، تالیاں بجتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر مزدور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ نہ اس کے حالات بدلتے ہیں، نہ اس کے بچوں کی تقدیر،اصل سوال یہ ہے کہ آخر کون ان کے حق میں آواز اٹھائے گا؟ کون ان کے پسینے کا اصل معاوضہ دلائے گا؟ اور کب تک مزدور صرف نعروں اور پوسٹروں کی زینت بنا رہے گا؟یہ وقت ہے کہ ہم مزدور ڈے کو صرف منانے کے بجائے سمجھیں۔ مزدور کو ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ اسے تقریر نہیں، حق چاہیے۔ جب تک اس کے ہاتھ کی محنت کو اس کا پورا حق نہیں ملتا، تب تک ہر یومِ مزدور ایک ادھورا دن ہی رہے گا۔

    مزدور وہ خاموش طاقت ہے جس پر معیشت کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر یہ ہاتھ رک جائیں تو دنیا کا پہیہ بھی رک جائے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو صرف یاد رکھنا چاہتے ہیں یا اسے اس کا اصل مقام بھی دینا چاہتے ہیں۔

  • حکومت پنجاب کا بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان

    حکومت پنجاب کا بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان

    حکومت پنجاب نے بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان کر دیا ہے، جن پر عملدرآمد کی آخری تاریخ 30 دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات لازم قرار دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت پتنگ بازی صرف محفوظ اور مضبوط چھتوں تک محدود ہوگی، جہاں کم از کم ساڑھے تین فٹ اونچی چار دیواری ضروری ہوگی۔ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے والدین کو سخت نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ بغیر نگرانی چھت کے کناروں کے قریب جانے پر پابندی ہوگی۔ چھتوں پر بھاگنے، کودنے، خطرناک انداز اپنانے اور گنجائش سے زیادہ افراد کے اجتماع پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔مزید برآں، پتنگ بازی کے دوران شور شرابہ، ڈی جے سسٹمز اور ہمسایوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے والی سرگرمیوں کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ہر مقام پر فرسٹ ایڈ کٹ کی دستیابی لازمی ہوگی، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 سے فوری رابطے کی ہدایت کی گئی ہے۔قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں عمارت مالکان اور ایونٹ منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ضوابط پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ بسنت خوشیوں کا تہوار ضرور ہے، مگر انسانی جانوں کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ ایک محفوظ اور ذمہ دار بسنت منائی جا سکے۔

  • کراچی،ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ”کا سرغنہ گرفتار

    کراچی،ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ”کا سرغنہ گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ) نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی سے ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ” سے تعلق رکھنے والے ملزم نعمان احمد عرف پاپا (گروہ کا سرغنہ) ولد محمد ظہور احمد کو گرفتار کر لیا،گرفتار ملزم کے قبضے سے چھینے گئے 2 عدد موبائل فونز اور1 عدد موٹرسائیکل برآمد کر لی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شاہ فیصل کالونی، کورنگی، گلستان جوہر، ملیر اور ملحقہ علاقوں حتیٰ کہ پنجاب میں بھی ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم، فائرنگ، پولیس مقابلے، موٹرسائیکل اور موبائل فون چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔گرفتار ملزم تقریباً 200 سے 250 ڈکیتی کی مختلف وارداتوں، 40 سے 50 موٹرسائیکلیں، 300 سے 400 موبائل فونز اور تقریباً 50 سے 60 لاکھ روپے چھیننے میں ملوث ہے۔ گرفتار ملزم کے مطابق بھینس کالونی میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہوا اور شاہ فیصل کالونی میں پولیس مقابلے میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ گرفتار ملزم عادی مجرم ہے اور پنجاب میں بھی ڈکیتی کے الزام میں گرفتار ہو چکا ہے اس کے علاوہ گرفتار ملزم کے خلاف کراچی اور پنجاب کے کئی تھانوں میں مختلف نوعیت کی متعدد ایف آئی آرز درج ہیں۔ گرفتار ملزم کے دو ساتھی رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں جبکہ دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔گرفتار ملزم کو بمعہ برآمد شدہ سامان مزید قانونی کاروائی کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • محنت کشوں کو بااختیار بنانے کا خواب ضرور حقیقت بنے گا ،بلاول

    محنت کشوں کو بااختیار بنانے کا خواب ضرور حقیقت بنے گا ،بلاول

    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یومِ مزدور کے موقع پر پاکستان کے محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محنت کش قوم کی اصل طاقت اور ترقی و خوشحالی کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن اُن مزدوروں کو یاد کرنے کا ہے جنہوں نے اپنے غیرمتزلزل عزم سے معاشروں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

    اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کو بااختیار بنانے کا خواب ضرور حقیقت بنے گا اور پاکستان پیپلز پارٹی کا نظریہ محنت کش طبقے کے مقاصد سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا نظریہ محنت کے وقار، معاشی انصاف اور مساوی مواقع کے اصولوں پر مبنی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہیدذوالفقار علی بھٹو نے محنت کشوں کو شناخت، تحفظ اور قومی بیانیے میں آواز دے کر مزدور حقوق کے منظرنامے کو بدل دیا۔ جبکہ بینظیر بھٹو شہید نے ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے فلاحی ریاست کے تصور کو مضبوط کیا اور معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دیا،انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے مزدور دوست پالیسیوں کے ذریعے ان کامیابیوں کو مستحکم کیا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دی، جس سے خصوصاً محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بااختیار بنایا گیا،انہوں نے سندھ حکومت کے بینظیر مزدور کارڈ اور بینظیر ہاری کارڈ جیسے اقدامات کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں کے محنت کش بھی ایسی سہولیات تک مساوی رسائی کے حقدار ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد ایک مسلسل عمل ہے، خاص طور پر بدلتے ہوئے معاشی چیلنجز کے تناظر میں، اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے جہاں ہر فرد کو عزت دی جائے اور خوشحالی مساوی طور پر تقسیم ہو۔

  • سہیل آفریدی کیخلاف مہم ناکامی سے دوچارہو گی،بیرسٹر گوہر

    سہیل آفریدی کیخلاف مہم ناکامی سے دوچارہو گی،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم ناکامی سے دوچار ہوگی۔

    میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سہیل آفریدی کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کیا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھا رہے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ سہیل آفریدی کے خلاف مہم چلانے والے عناصر کو مایوسی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے اور پی ٹی آئی میں کسی قسم کا فارورڈ بلاک موجود نہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • ایل این جی کا جہاز  پاکستان پہنچ گیا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان

    ایل این جی کا جہاز پاکستان پہنچ گیا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کے مطابق گزشتہ روز ایل این جی گیس موصول ہو چکی ہے ،گیس موصول ہوتے ہی اب بجلی کی لوڈ منیجمنٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔آج سے 13 سے 14 دن پہلے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کا کہنا تھا کہ 13 اور 14 اپریل کو پانچ پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی ،17,18,19اپریل کو کوئی لوڈمنیجمنٹ نہیں ہوئی ،19 اپریل سے 29 اپریل تک لوڈ شیڈنگ کو دو سے ڈھائی گھنٹے تک محدود کر دیا گیا،آج سے 15 دن پہلے پریس کانفرنس کر کے وزارت کا موقف سامنے رکھا تھا ،بتایا تھا کہ لوڈ شیڈنگ ہماری کسی کوتاہی یا سسٹم کے نان فنکشنل یا پیداواری صلاحیت کے نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ،نواز شریف کے سابقہ دور میں ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا ،چھ سال بعد پھر سے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ،لوڈ شیڈنگ کی وجہ گیس کی کمی تھی جو امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے نہیں موصول ہو رہی تھی ،اگر ہم ڈیزل یا فرنس ائل سے یہ بجلی پیدا کرتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کی تمام ضروریات کو ختم کرتے ہیں تو یہ بجلی بہت مہنگی پڑتی ،مہنگی بجلی کی وجہ سے صارفین پر بوجھ پڑ سکتا تھا ،ڈیمز کے پانی کو ریلیز کرنا ارسا کی ضرورت ہے اور یہ صوبوں کی ضروریات پر منحصر ہے ،الحمدللہ اب پن بجلی سے بجلی کی پیداوار چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے ،پن بجلی کی پیداوار اس سے پہلے ایک ہزار میگا واٹ تک ہوا کرتی تھی ،دعا ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز پر قسم افت اور خرابی سے محفوظ رہیں ،موقع پر ہمیں مہنگی گیس خریدنی پڑی کیونکہ قطری گیس نہیں آرہی تھی ،جس طرح پہلے لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی امید ہے اب بھی ایسا نہیں ہوگا ،بعض حلقوں کی جانب سے غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں کہ ہمارے پاس بجلی کی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگا واٹ ہے ،یہ تاثر بالکل غلط ہے بجلی کی پیداوار 46 ہزار میگا واٹ نہیں بلکہ 32 ہزار میگا واٹ ہے ،سال کے مختلف دورانیوں میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اتار چڑھاؤ اتا رہتا ہے ،الحمدللہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے میں اللہ تعالی نے ہمیں سرخرو کیا ہے ،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہمیں مجبورا فرنس اور ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کو بھی چلانا پڑا ،ہماری پوری کوشش ہوگی کہ صارفین کو مہنگی بجلی سے محفوظ رکھا جائے ،بروقت اقدامات کی وجہ سے عوام کو ائندہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا