Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سعودی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے اعلان پر ایران مشکور

    سعودی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے اعلان پر ایران مشکور

    ایران نے سعودی عرب کی جانب سے اس کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے کے اعلان پر سعودی عرب سے اظہار تشکر کیا۔

    سعودی عرب میں ایران کے سفیر علیرضا عنایتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب کے اس اعلان کو سراہتا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندری حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے بارہا یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مملکت کی فضائی، سمندری یا زمینی حدود اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی، جس پر ایران ان کا شکر گزار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل بھی سعودی عرب نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کی تھی اور واضح کیا تھا کہ ایران پر کسی حملے کیلئے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین  مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں امن اور استحکام کے لیے متعدد مواقع پر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنے سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دے،صرف اس صورت میں جب طالبان کے فنانسرز ان کی مالی امداد بند کر سکیں اور افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکیں، اگر طالبان کو مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کو نہ روکا گیا تو دہشت گردی کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، دہشت گردی کی نہ کوئی جغرافیائی سرحد ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا کسی مذہب سے تعلق ہے۔ اگر اسے بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں،

  • بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک جدید لڑاکا طیارہ Sukhoi Su‑30MKI گر کر تباہ ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    حادثہ ریاست کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پیش آیا جہاں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ پائلٹ کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کا یہ قیمتی لڑاکا طیارہ آسام کے پہاڑی علاقے میں پرواز کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاہم پائلٹ کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران Su-30MKI طیاروں کے حادثات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ایک بھارتی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا “آسام کی فضاؤں میں ایک اور دل دہلا دینے والا نقصان… Su-30MKI کاربی آنگلونگ کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا ہے، پائلٹ لاپتہ ہے۔ ہمارے قیمتی سخوئی طیاروں کے مسلسل حادثات انتہائی تشویشناک ہیں۔ آخر اس کی ذمہ داری کون لے گا؟”اسی پوسٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی سوال کیا گیا کہ شمال مشرقی بھارت میں تعینات افواج کو بہتر تحفظ اور جدید سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں۔

    اس واقعے پرسینئر صحافی و اینکر ٔپرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھارتی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں زخموں پر نمک پاشی نہیں کرنا چاہتا،لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستانی پائلٹس بھارتی پائلٹس کو تربیت دے سکتے ہیں ،بھارتی جنگ میں تو ہمارا مقابلہ نہیں کر سکیں گے لیکن کم از کم اپنے جدید طیارے بلا وجہ گرنے سے بچا سکیں گے۔

  • آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر جاری آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

    یہ آپریشن 26 فروری 2026 کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے جواب میں جاری ہے اور سرحدی علاقوں میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب بلوچستان کے سرحدی علاقوں قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، نوشکی اور چلتن سیکٹرز میں پاکستان کی فورسز نے بھرپور جوابی فائرنگ کی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف کیلیبر کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سرحد پار موجود ٹی ٹی اے کے ٹھکانوں اور عسکری پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔کارروائیوں کے دوران 3 فزیکل چھاپے مارے گئے،36 فائر ریڈز کی گئیں،ان حملوں کا مقصد دشمن کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

    خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں خیبر، کرم اور ملحقہ سیکٹرز میں بھی براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔سکیورٹی فورسز نے طورخم کے قریب دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی اور سرحد کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ژوب سیکٹر میں واقع تقریباً 32 مربع کلومیٹر کے گدوَانہ انکلیو پر پاکستان فورسز کا مضبوط کنٹرول برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق قریبی دشمن چوکیوں کو خالی کر دیا گیا ہے جبکہ پسپا ہونے والے عناصر کی جانب سے سفید جھنڈے بھی لہرائے گئے۔

    آپریشن کے تازہ مرحلے میں افغانستان کے اندر 35 سے زائد دشمن ٹھکانوں کو مربوط زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ٹی ٹی اے کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ہے۔تصدیق شدہ نقصانات کے مطابق 502 افغان اہلکار ہلاک،710 سے زائد زخمی ہوئے،234 چیک پوسٹیں تباہ،38 پوسٹیں قبضہ میں لی گئی،206 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ ہوئے،56 مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل شکست کے باوجود ٹی ٹی اے کے پروپیگنڈا چینلز پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور زیادہ جانی نقصان کے جھوٹے دعوے پھیلا رہے ہیں۔ تاہم زمینی صورتحال پاکستان کے حق میں ہے اور دشمن کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پر موجود دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔

  • پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کی بہتری اور اس کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہوگا ،ہم لسانی اختلافات ختم کرکے خود کو پاکستانی سمجھیں، ہماری شناخت صرف پاکستانی ہے، 1947میں پاکستان بنتے ہی مسئلہ کشمیر کھڑاکردیا گیا تاکہ خطے میں امن نہ ہو اور ٹھیک ایک سال بعد صہیونی ریاست اسرائیل قائم کردی گئی ، اس وقت سے آج تک اس خطے میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان کی عبوری حکومت نےدہشتگردوں کا ساتھ دے کر خود تباہی کا راستہ اختیار کیا،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سینئر صحافیوں کے اعزازمیں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان اور ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست اسرائیل نے خطہ عرب میں جنگ و جدل کا نظام برپا کیا ہوا، دوسری جانب ہمارا خطہ افغانستان، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش ،یہاں بھی منصوبہ بندی کے تحت امن دور کیا گیا،اگر سب کا جائزہ لیا جائے تو صیہونیت، ہندوتوا کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے، ایک طرف پاکستان دشمنوں کو کھٹکتا ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ، دفاعی طور پر بہترین پوزیشن میں ہے،پاکستان کا اپنامیزائل ، دفاعی سسٹم ہے، دوسری طرف اسلامی ممالک بھی یہ امید رکھتے ہیں پاکستان واحد ایسا ملک ہےجودفاعی اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا،دنیا کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے،اسی لیے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے دشمن کے پاس تقسیم، دہشتگردی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،کبھی فرقہ واریت، کبھی لسانیت، کبھی علاقائیت،اس طرح ملک کو تقسیم کر کے، بدامنی پھیلا کر دہشتگردی کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،تاہم ہماری ذمہ داری ہے ملک کو مضبوط بنانے کے لئے کام کریں، ایک قوم بن جائیں اور تمام اختلافات بھلا کر اپنے آپ کو پاکستانی سمجھیں،ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے،اس ملک کی ترقی کے لئے بہتری کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا، مرکزی مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ ملک کی خدمت کریں،خدمت کی سیاست ہم کر رہے ہیں

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا پر معاشرہ یقین کرتا ہے، میڈیا قوم کی آواز بنتا ہے اور میڈیا کی آواز سے بیانیہ بنتا ہے، قوم، معاشرے کی تعمیر نو میں میڈیا کا اہم کردار ہے، دنیا میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے حقوق، آزادی کا خیال کریں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان پاکستان کی جنگ بھی سب کے سامنے ہے، پاکستان نے چالیس سال افغانوں کی خدمت کی،مہمان نوازی کی اور اس کا صلہ آج دہشتگردی کی صورت میں مل رہا ہے،امام بارگاہوں، مساجد میں دھماکے، پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جوان ، افسر،عام شہری شہید ہو رہے ہیں، ایک سازش کے تحت شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مار دی جاتی ہے، پاکستان کی سیکورٹی فورسز نےافغانستان کے حملے کا بھر پور جواب دیا اور بتایا کہ مذاکرات کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم جب جواب دینے پر آتے ہیں تو بھر پور طریقے سے دیتے ہیں، ہم نے ایک قوم بن کر اپنے دفاع، اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تا کہ مشکل وقت سے ملک کو نکالا جائے، ملک خوشحال ہو اور ترقی کرے،

  • تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک ہوٹل کے نزدیک میزائل کے ملبے کے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل کو تباہ کرنے کے بعد اس کا کچھ ملبہ یاس مرینا کے قریب ایک ہوٹل کے نزدیک زمین پر گرتا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر سیکیورٹی ٹیمیں اور ہنگامی امدادی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق دبئی میں بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایئر ریڈ سائرن بجنے کی آوازیں سنی گئیں،متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع اور مقامی حکام نے عوام کو پرامن رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

  • ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    بحرین کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل ملک کی ایک اہم آئل ریفائنری سے ٹکرا گیا۔

    حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور ریفائنری معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔بحرینی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملے کے بعد BAPCO Energies کی ریفائنری کے ایک یونٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل قابو پا لیا۔بیان کے مطابق،“آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ ریفائنری کی آپریشنل سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس واقعے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”

    ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر میزائل کے ریفائنری کے قریب گرنے کا لمحہ اور اس کے بعد بھڑکنے والی آگ دیکھی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات پر اس نوعیت کے حملے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنری کے بنیادی نظام محفوظ ہیں اور تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر نہیں ہوئی۔

  • خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں “شامل ہونا چاہیے”، جبکہ انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کے بیٹے کو ایران کی قیادت کے لیے زیر غور لانا “وقت کا ضیاع” ہے اور وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے کہا “خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم ایران میں ایسا رہنما چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔”ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ وینزویلا کی سیاست سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے امریکہ نے Delcy Rodríguez کے اقتدار میں آنے کے معاملے میں کردار ادا کیا، ویسا ہی کردار ایران کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں ایسا رہنما منتخب کیا گیا جو سابق پالیسیوں کو جاری رکھے تو امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال “پانچ سال کے اندر ایک اور جنگ” کا باعث بن سکتی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ ریمارکس سے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی آئندہ قیادت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی قیادت کی جانب سے ابھی تک نئے سپریم لیڈر کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں مختلف نام زیر غور بتائے جا رہے ہیں۔

  • ایران میں کرد کون ہیں؟

    ایران میں کرد کون ہیں؟

    مشرقِ وسطیٰ میں کرد عوام ایک ایسی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس آج تک کوئی آزاد اور خودمختار ریاست موجود نہیں۔ دنیا بھر میں کردوں کی مجموعی آبادی کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آتے ہیں جو تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 4 کروڑ 50 لاکھ کے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اس پہاڑی خطے میں آباد ہے جو ایران، عراق، ترکی، شام اور آرمینیا کے مختلف حصوں پر پھیلا ہوا ہے۔

    ماہرین کے مطابق کردوں کی سب سے بڑی آبادی ترکی میں رہتی ہے، جہاں یہ ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ خطے کے کئی ممالک اپنی مردم شماری میں نسلی شناخت کو باقاعدہ طور پر درج نہیں کرتے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو اتحادی طاقتوں نے موجودہ مشرقی ترکی کے علاقے میں ایک آزاد کرد ریاست بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم نئی ترک حکومت نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا جس کے بعد یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس کے بعد سے کرد عوام مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر رہنے پر مجبور ہیں۔

    کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم کرد معاشرہ مذہبی اور ثقافتی طور پر انتہائی متنوع ہے۔ ان میں مختلف مذہبی روایات، سماجی ڈھانچے اور سیاسی نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کرد زبان بھی کئی مختلف بولیوں پر مشتمل ہے جو مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔برطانوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران میں کرد آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد سے 17 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ایران کے مغربی علاقوں میں آباد کرد برادری طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری، سیاسی حقوق اور ثقافتی آزادیوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں، خصوصاًایمنسٹی انٹرنیشنل، نے ایران میں کردوں کے خلاف متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرد زبان کی تعلیم پر کئی جگہ پابندیاں عائد ہیں،بعض کرد نام سرکاری طور پر رجسٹر نہیں کیے جا سکتے،کرد کارکنوں کو اکثر من مانی گرفتاریوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایران کے کرد علاقوں میں کئی مسلح گروہ دہائیوں سے حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ گروہ زیادہ تر ایران۔عراق سرحد کے قریب اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں جہاں سے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان گروہوں کے پاس ہزاروں مسلح افراد موجود ہیں۔حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کے اندر عوامی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔اس منصوبے سے واقف متعدد افراد نے بتایا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد کئی ایرانی کرد تنظیموں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی اہلکاروں سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید آگے بڑھتی ہے تو ایران کے مغربی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    متحدہ عرب امارات میں ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

    اماراتی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق “فضاؤں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔” وزارت نے یہ بیان سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے عوام کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

    دارالحکومت ابوظہبی میں موجود غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے بھی متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق یہ خطرہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ حکام نے فوری طور پر کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔