Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایف آئی اے کی تحقیقات میں میڈیا سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک بے نقاب

    ایف آئی اے کی تحقیقات میں میڈیا سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک بے نقاب

    ایف آئی اے نے پاکستان کے میڈیا سیکٹر میں مبینہ منی لانڈرنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نیٹ ورک کے کمپنی سیکریٹری کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ متعدد دیگر معروف اداروں کے مالیاتی ریکارڈز بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات ابتدا میں ایک معمول کی کارروائی کے طور پر شروع ہوئیں جب ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے جے ایس بینک کی زمزمہ برانچ پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کی وجہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی ترسیل اور غیر قانونی طور پر غیر ملکی کرنسی کی فروخت کے الزامات تھے،اس کارروائی کے دوران بینک کے ایریا منیجر نعمان رؤف کو اپنے چند ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان پر تقریباً 15 ہزار امریکی ڈالر غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا الزام ہے،تفتیش کے دوران جب حکام نے نعمان رؤف کا ذاتی موبائل فون چیک کیا تو اس میں موجود ڈیٹا نے پورے کیس کا رخ بدل دیا۔ تحقیقاتی ٹیم کو ایسے شواہد ملے جن سے میڈیا انڈسٹری سے مبینہ مالی روابط اور رقوم کی ترسیل کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔

    تحقیقاتی حکام کے مطابق حوالہ سسٹم کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ متحدہ عرب امارات درہم پاکستان منتقل کیے گئے اور بعد ازاں یہ رقم جے ایس بینک کی زمزمہ برانچ سے مختلف افراد تک پہنچائی گئی۔ بعد کی کارروائیوں میں ایک اور نیٹ ورک بھی سامنے آیا جس میں حوالہ ٹرانزیکشنز اور غیر قانونی ڈالر ٹریڈنگ کا انکشاف ہوا۔ایف آئی اے کے مطابق اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے انتہائی منظم طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا۔ رقم کی نقل و حرکت میں شامل افراد ایسی سمز استعمال کرتے تھے جو سری لنکا، نیپال، دبئی اور سنگاپور میں رجسٹرڈ تھیں۔ پورے نیٹ ورک میں پاکستانی موبائل نمبرز کا استعمال نہیں کیا گیا،حکام ان نمبرز کے ذریعے متعلقہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ نام فرضی بھی ہو سکتے ہیں تاہم کال اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہے جس کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مبینہ نیٹ ورک کم از کم تین سال سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ ایف آئی اے کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات ممکنہ طور پر پورے نیٹ ورک کا صرف پانچ فیصد ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کو شبہ ہے کہ جب کمپنیوں کے مکمل مالیاتی ریکارڈ حاصل کر کے ان کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

  • وزیراعظم نے دی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری

    وزیراعظم نے دی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری

    وزیراعظم نے خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری دیدی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات اسٹاک اور کھپت پر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی،ذرائع کے مطابق کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے بارے میں سفارشات پیش کیں جسے وزیراعظم نے منظور کرلیا،ذرائع نے بتایا کہ ای سی سی پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے بارے میں سفارشات دے گی، ای سی سی سے منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی سمری کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی جب کہ تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم اورآفسز کیلئے ورک فرام ہوم کاپلان پیرکو پیش کرنےکی ہدایت کی گئی ہے،وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو صوبوں سے مشاورت کے بعد پیر کو ورک فرام ہوم کے بارے میں پروپوزل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے،ان اقدامات کے باعث ایندھن اسٹاک کا مؤثر استعمال اور طلب میں کمی ہوسکے گی۔

    دوسری جانب اجلاس کے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق وزارت پیٹرولیم نے بریفنگ میں بتایا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے،اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو پیٹرول پمپ مصنوعی قلت میں ملوث ہو، اس کو فورا بند کیا جائے، اوگرا مصنوعی قلت میں ملوث پیٹرول پمپ کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کرے جب کہ وزیر پیٹرولیم صوبوں کا دورہ کریں، وزیرپیٹرولیم صوبائی حکومتوں کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو بلاتعطل فراہمی سے متعلق لائحہ عمل تیار کریں،وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو، ڈیش بورڈ کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔

  • اوول آفس میں امریکی صدر ٹرمپ کے لیے خصوصی دعا ئیں

    اوول آفس میں امریکی صدر ٹرمپ کے لیے خصوصی دعا ئیں

    ایران جنگ کے تناظر میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا بھر سے پادریوں نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جمع ہو کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے لیے دعا کی،وائرل ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ پادری صدر کو ریزیلوٹ ڈیسک کے گرد گھیرے کھڑے ہیں اور متعدد مذہبی رہنما دعا کے دوران صدر ٹرمپ پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں،یہ دعا امریکی صدر کے لیے صحت، تحفظ اور رہنمائی کی نیت سے کی گئی، جس میں وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام اور روحانی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

    یہ تقریب ٹرمپ کی ذاتی اور سیاسی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی دعاؤں کا حصہ سمجھی جا رہی ہے اور اس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں نے صدر کے مستقبل کے فیصلوں اور قومی خدمت میں کامیابی کی دعا کی،یہ اجتماع وائٹ ہاؤس فیتھ آفس کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں ڈیوڈ بارٹون، روبرٹ جیفرس جیسے معروف پادریوں نے شرکت کی،بعد ازاں پادری رابرٹ جیفرس نے کہا کہ صدر کے لیے دعا کی قیادت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے،اوول آفس میں ہونے والا یہ دعائیہ اجتماع صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور قدامت پسند مسیحی رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات کی ایک تازہ مثال ہے، جس نے حالیہ برسوں میں واشنگٹن میں سیاسی پیغام رسانی اور پالیسی مباحث کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تباہ کن اثرات، تقریباً 200 بچے جاں بحق

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تباہ کن اثرات، تقریباً 200 بچے جاں بحق

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکتوں میں خطرناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران خطے میں تقریباً 200 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    یونیسیف کے مطابق جنگ کے سب سے زیادہ اثرات ایران میں دیکھنے میں آئے، جہاں کم از کم 181 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لبنان میں 7 بچے جاں بحق ہوئے جبکہ اسرائیل میں 3 بچوں کی موت کی اطلاع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کویت تک پہنچے جہاں ایک بچے کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی تناؤ پہلے ہی لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ فضائی حملوں، میزائل حملوں اور سکیورٹی صورتحال کی خرابی کے باعث بچوں کو نہ صرف جان کا خطرہ لاحق ہے بلکہ تعلیم، صحت اور محفوظ ماحول جیسے بنیادی حقوق بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگی کارروائیوں میں کمی لانے اور شہریوں، خصوصاً بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ یونیسیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “بچے جنگیں شروع نہیں کرتے، لیکن وہ اس کی ناقابل قبول حد تک بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔”

  • ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

    ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

    امریکی ٹی وی نے سیٹیلائیٹ تصاویر کی مدد سے ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں ہی اردن میں جدید ترین تھاڈ دفاعی نظام کا ریڈار تباہ کردیا تھا۔

    امریکی ٹی وی کے مطابق ایران نے کمیونیکیشن، ریڈار اور جاسوسی آلات سےائیر ڈیفنس کمزور کرنے کی کوشش کی،رپورٹ کے مطابق ایران نے عرب امارات میں بھی دو مقامات پر تھاڈ ریڈار پر تاک کر حملہ کیا تاہم اماراتی ریڈار عمارت کے اندر ہونے کے سبب ٹھیک نقصان کا اندازہ ممکن نہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق ایک تھاڈ ڈیفنس سسٹم کی قیمت 50 کروڑ ڈالر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے قطر کے ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کیاگیاہے۔

  • مشرق وسطیٰ جنگ،سعودی،عرب امارات،کویت،قطر کا امریکہ سے معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ

    مشرق وسطیٰ جنگ،سعودی،عرب امارات،کویت،قطر کا امریکہ سے معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر امریکہ کے ساتھ اپنے بعض معاہدوں اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر نظرثانی کا سوچ رہے ہیں۔

    بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ان ممالک کے حکام نے داخلی سطح پر ایسی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت امریکہ کے ساتھ کچھ مالی معاہدوں سے دستبرداری یا مستقبل کی سرمایہ کاری کے وعدوں کو منسوخ کیا جا سکتا ہے، تاکہ جنگ کے باعث پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے خلیجی ممالک کی معیشت پر کئی طرح کے دباؤ پیدا کر دیے ہیں۔ ایران ان ممالک میں‌امریکی اڈوں کو نشانے بنا رہا ہے،توانائی کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔خلیجی فضائی اور بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔سیاحت اور ہوا بازی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ان عوامل کے باعث کئی خلیجی حکومتیں اپنی بیرونی سرمایہ کاری اور مالی وعدوں کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں۔اگر یہ ممالک واقعی سرمایہ کاری کم کرتے ہیں تو اس سے امریکی معیشت اور عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

  • پاکستان کے ہاتھوں بدترین ہزیمت،افغان طالبان رجیم کی میڈیا پر سچ کو چھپانے کی کوشش

    پاکستان کے ہاتھوں بدترین ہزیمت،افغان طالبان رجیم کی میڈیا پر سچ کو چھپانے کی کوشش

    افغان طالبان رجیم نے آپریشن غضب للحق میں پاکستان کے ہاتھوں رسوائی کو چھپانے کیلئے میڈیا پر دباو اور پابندیاں بڑھا دیں

    افغان میڈیا آمو ٹی وی کے مطابق افغان طالبان کیخلاف پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے بعد طالبان نے مقامی میڈیا پر دباو اور سنسرشپ مزید بڑھا دی ہے،افغان طالبان نے صحافیوں کو خبردار کیا کہ وہ حملوں کی رپورٹنگ نہ کریں خصوصاوہ جو انکے فوجی مراکز پر ہوئے ہیں،افغان طالبان نے میڈیا کو پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے مقامات یاتعداد سے متعلق رپورٹنگ سے بھی روک دیا ہے ،افغان میڈیا کوانتباہ جاری کیا گیاہےکہ طالبان کی فوجی تنصیبات پر حملوں سے متعلق کوئی خبر شائع یا نشر نہ کی جائے ،

    ماہرین کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں تباہ شدہ ٹھکانوں سے متعلق رپورٹنگ پر پابندی نے افغان طالبان رجیم کی منافقت اور ناکامی بے نقاب کر دی ہے،میڈیا پر پابندی اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہیں ،ماہرین

  • کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ

    کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان بارڈر پرکرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ کردیں،پاک فوج نے بھاری آرٹلری فائر سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا، آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا،

  • ایران کا خیبرشکن میزائلوں سے تل ابیب پر حملہ، ابراہام لنکن پر بھی میزائل برسا دیئے

    ایران کا خیبرشکن میزائلوں سے تل ابیب پر حملہ، ابراہام لنکن پر بھی میزائل برسا دیئے

    ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائلوں سے تل ابیب پر حملہ کردیاہے،

    روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک ساتھ درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان حملوں میں کتنا جانی یا مالی نقصان ہوا ہے،روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو عین اس وقت نیچے کرکے سڑک کی جانب کردیا گیا تاکہ فضاؤں میں ایرانی میزائل داخل ہوتے نہ دیکھے جاسکے ۔ حملے کےوقت تل ابیب میں سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔

    ادھر ایرانی ڈرونز نے خلیج عمان میں امریکی طیارہ بردارجہاز ابراہام لنکن پر بھی حملہ کردیا۔ روسی میڈیا کےمطابق ایرانی حملےکے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز خلیج سے دور چلا گیا، بحرین کے دارالحکومت منامہ کے2 ہوٹل اوررہائشی عمارت بھی ڈرون کا نشانہ بنے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • طالبان کی جنگ بندی کی سفارتی کوششیں ناکام، متعدد ممالک کا ثالثی سے انکار

    طالبان کی جنگ بندی کی سفارتی کوششیں ناکام، متعدد ممالک کا ثالثی سے انکار

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق اب تک ان کوششوں کو زیادہ تر ممالک کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان قیادت نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک سے رابطے کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔ اطلاعات کے مطابق طالبان حکام نے 15 سے زائد ممالک سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات شروع کرانے میں کردار ادا کریں۔تاہم ذرائع کے مطابق بیشتر ممالک نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا کہ افغانستان کو سب سے پہلے پاکستان کے تحفظات اور شرائط پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض ممالک نے طالبان قیادت کو یہ بھی بتایا کہ کشیدگی میں کمی کا راستہ پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرنے اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے ثالثی کے لیے روس سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اب تک ماسکو کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے حالیہ رابطہ ملائیشیا کے ساتھ کیا گیا، لیکن مجموعی طور پر جنگ بندی کی اس سفارتی کوشش کو مختلف ممالک کی جانب سے پذیرائی نہیں مل سکی۔