Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ،  اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ، اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی حکام نے وزراء اور ان کے قریبی ساتھیوں کو موبائل فون کی لوکیشن سروسز فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار اور معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق ایرانی سائبر خطرات میں نمایاں اضافے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔بدھ کے روز بھیجے گئے خصوصی پیغام میں وزراء کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ایپلی کیشن یا سروس جی پی ایس کے ذریعے ان کی موجودہ لوکیشن تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ ہدایت نامے میں خاص طور پر تصاویر، Facebook اور Google Maps سمیت دیگر ایپس کا ذکر کیا گیا۔ پیغام میں خبردار کیا گیا کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے سینئر اسرائیلی قیادت کا سراغ لگانے کے لیے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل نے کئی شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے فردِ جرم عائد کی ہے۔ گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی شہری کو سابق وزیرِ دفاع Yoav Gallant کے بارے میں حساس معلومات جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی Shin Bet نے کی تھی۔فروری میں Shin Bet اور قومی سائبر ڈائریکٹوریٹ نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے اسرائیلی حکام کے موبائل فون ہیک کرنے کی "سینکڑوں” کوششوں کو ناکام بنایا۔ بیان کے مطابق خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد ایرانی سائبر سرگرمیوں میں "نمایاں اضافہ” دیکھا گیا، جس میں نجی گوگل اکاؤنٹس، کمیونیکیشن ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ صحت نے بھی ایک بیان میں تمام طبی اداروں کو سائبر حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنی تیاریوں میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ صحت کے ادارے سائبر سیکیورٹی کے دوسرے بلند ترین درجے پر منتقل ہو جائیں تاکہ ممکنہ حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

  • امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود شہری پرسکون، پرامید ہیں،بیشتر کاروباری مراکز بند تا ہم دکانیں کھلی ہیں، عوام میں کوئی خوف نہیں،سی این این نے ایرانی شہریوں سے بات کی ہے

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔

    تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”

  • ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    وائیٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے چار بنیادی مقاصد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار واضح ہے اور انتظامیہ اپنے مؤقف پر قائم ہے، چاہے اتحادی ممالک کی جانب سے حالیہ حملوں کے حوالے سے ابہام کیوں نہ پایا جاتا ہو۔

    بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران لیویٹ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے اہداف ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنا،خطے میں ایران کی بحری موجودگی کو “نیست و نابود” کرنا،ایران سے منسلک مسلح گروہوں اور مبینہ پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا، جنہیں واشنگٹن کے مطابق امریکی اتحادی افواج پر حملوں اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے،ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کی مزید کوششوں سے روکنا ہے،
    پریس سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کی علی الصبح شروع ہونے والا آپریشن، جسے “Operation Epic Fury” کا نام دیا گیا ہے، اب تک “غیر معمولی حد تک کامیاب” رہا ہے۔لیویٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر امریکا بطور کمانڈر اِن چیف مستقبل کے ممکنہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔

    ان کے بیان سے قبل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل Dan Caine نے کہا تھا کہ امریکی افواج ایرانی سرزمین کے اندر “بتدریج مزید گہرائی تک” حملے شروع کریں گی۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”

  • افغانستان کی جانب سے شدت پسند عناصر کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں

    افغانستان کی جانب سے شدت پسند عناصر کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں

    جنگ اور امن کے معاملات میں ہر ذمہ دار ریاست کے لیے اصول و قواعد متعین ہوتے ہیں، مگر افغانستان کی جانب سے بعض شدت پسند اور دہشت گرد عناصر کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں نہ تو پشتون روایات کے مطابق ہیں اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔

    اس کے برعکس، پاکستان نے ٹی ٹی اے کے ہلاک شدہ جنگجوؤں کی لاشوں کو پوری عزت کے ساتھ افغانستان کے حوالے کیا اور زندہ گرفتار دہشت گردوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پیش آیا، جو جنگی اصولوں کی پاسداری کا واضح ثبوت ہے۔جبکہ ٹی ٹی اے کے کارندے اسلامی تعلیمات اور پشتون روایات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر انسانی اور وحشیانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس ہوا

    اجلاس کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی.اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا. شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں. ملک سے دھشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا. شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور انکا شکریہ ادا کیا.

    اجلاس میں چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل، وفاقی وزراء، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ)، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک ہیں.

  • ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز IRIS Dena بھارت میں منعقدہ فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد جب بھارتی سمندری حدود میں سفر کر رہا تھا تو اسے ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد اہلکار لاپتہ ہو گئے۔

    ایرانی بحری جہاز IRIS Dena نے حالیہ دنوں میں بھارتی ساحل پر منعقدہ بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں شرکت کی تھی، جس کی میزبانی بھارتی بحریہ نے کی۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا تھا اور اسے خطے میں بحری تعاون کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ جہاز کو بھارتی پانیوں میں ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا۔ بھارتی بحریہ نے تلاش و بچاؤ (Search & Rescue) آپریشن نہیں کیا بلکہ سری لنکن نے 78 ایرانی ملاحوں کو بچایا۔

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مرمت و دیکھ بھال معاہدہ موجود ہے جس کے تحت امریکی بحری جہاز بھارتی شپ یارڈز میں لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی امریکی جہاز نے بھارتی بندرگاہ یا پانیوں کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا؟امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ چند برسوں میں مضبوط ہوا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف براہ راست عسکری کارروائی کے لیے دوسرے ملک کی سرزمین یا پانیوں کے استعمال کا معاملہ انتہائی حساس اور بین الاقوامی قوانین کے تابع ہوتا ہے۔

    سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب امریکی حملے سے ایرانی جہاز ڈوبنے سے متعلق سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سمندر سے متعدد افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں،ترجمان سری لنکا بحریہ کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے ملنے والی لاشیں جہاز کے عملے کی ہیں، تصدیق کا عمل جاری ہے، واقعہ سری لنکا کی سمندری حدود سے باہر پیش آیا، سری لنکا مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، متاثرہ جہاز ایرانی بحریہ کا ہے،سری لنکن بحریہ کا کہنا ہے کہ دیگر تفصیلات اور وجوہات سے متعلق تحقیقات بعد میں جاری کی جائیں گی، اس مرحلے پر ہلاک افراد کی درست تعداد نہیں بتائی جا سکتی، جہاز ڈوبنے کی وجوہات سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہیں، امدادی کارروائی کے دوران متاثرہ علاقے میں کسی اور جہاز کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا،خبر ایجنسی نے بتایا کہ سری لنکن وزارت دفاع اور بحریہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی جہاز آئرس ڈینا آبدوز کے حملے کا نشانہ بنا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک سری لنکن اپوزیشن رہنما نے سوال پوچھا کہ آیا جہاز کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے حصے کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا؟ تاہم حکومت نے اس سلسلے میں اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔

  • ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران نے ایک وسیع و عریض زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں قطار در قطار میزائل اور ڈرونز دکھائے گئے ہیں۔ یہ مناظر سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے نشر کیے، جسے ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    ویڈیو میں طویل سرنگوں کے اندر شاہد سیریز کے ڈرونز اور مختلف بیلسٹک میزائل نمایاں ہیں، جبکہ پس منظر میں ڈرامائی انداز اپنایا گیا ہے۔ ایک منظر میں مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی دیوارگیر تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ سرنگوں کی چھتوں سے ایرانی پرچم آویزاں ہیں اور کچھ مناظر میں ٹرکوں پر نصب شاہد ڈرون لانچرز بھی دکھائے گئے، جن میں ہر ایک پر چار ڈرون نصب تھے۔رپورٹس کے مطابق شاہد ڈرونز کی تیاری پر دسیوں ہزار ڈالر لاگت آتی ہے اور انہیں نسبتاً کم وقت میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل کی قیمت 40 سے 50 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ تھاڈ (THAAD) بیٹری کی لاگت تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر فی یونٹ ہو سکتی ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کے Stimson Center سے وابستہ سکیورٹی ماہر کرسٹی گریئکو کے تجزیے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے داغے گئے 541 ڈرونز میں سے 92 فیصد مار گرائے۔ اندازوں کے مطابق ایران نے ان ڈرونز پر 1 کروڑ 10 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جبکہ دفاعی اخراجات 25 کروڑ 30 لاکھ سے 75 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں ، یعنی دفاع پر حملے سے کئی گنا زیادہ لاگت آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار سے فضائی دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ انٹرسیپٹرز غیر معمولی تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے۔ یہ وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ ایران اب بھی میزائل داغنے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیل نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ یروشلم کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2 ہزار ڈرون داغ چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج تقریباً 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں اور ایران کے سینکڑوں میزائل، لانچرز اور ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک 11 سالہ بچی شیل کے ٹکڑے لگنے سے ہلاک ہوئی۔ امریکی سفارت خانوں اور فوجی اڈوں کے قریب بھی حملوں کی خبریں ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگے اور پیچیدہ دفاعی نظام برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ ایران نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے طویل المدتی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سکیورٹی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

  • ایران میں درجنوں لانچنگ سائٹس نشانہ ، 300 میزائل لانچرز کو ناکارہ بنا دیا ،اسرائیلی فضائیہ

    ایران میں درجنوں لانچنگ سائٹس نشانہ ، 300 میزائل لانچرز کو ناکارہ بنا دیا ،اسرائیلی فضائیہ

    اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ فضائیہ نے ایران میں درجنوں لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا اور تقریباً 300 میزائل لانچرز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ فوج کے مطابق موجودہ کارروائی کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فضائیہ ایران بھر میں 4,000 سے زائد ہتھیار گرا چکی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سینکڑوں جنگی طیارے اور دیگر فضائی جہاز بیک وقت ایران اور لبنان میں سینکڑوں اہداف پر حملے کر رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق جارحانہ حکمت عملی کے تحت فضائیہ ایرانی حکومت کے بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی دفاعی نظام کے خلاف مسلسل اور مرحلہ وار حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن "شیر کی دھاڑ” کے آغاز سے اب تک فضائیہ تقریباً 300 میزائل لانچرز کو مکمل طور پر ناکارہ بنا چکی ہے۔ یہ نتیجہ 1,600 سے زائد حملہ آور پروازوں اور چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی منظم کارروائیوں کا حاصل ہے، جن کا مقصد میزائل لانچرز اور میزائل ذخائر کو تباہ کر کے اسرائیل کے اندرونی علاقوں پر ہونے والی فائرنگ کو کم سے کم کرنا ہے۔

  • اسرائیل کا  تہران پر حملے میں لبنان کے لیے ایران کے اعلیٰ کمانڈر کو مارنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا تہران پر حملے میں لبنان کے لیے ایران کے اعلیٰ کمانڈر کو مارنے کا دعویٰ

    اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں ایک فضائی حملے کے دوران ایران کی قدس فورس کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو شہید کر دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایران کے دارالحکومت تہران میں کی گئی، جس میں پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک آپریشنز کی ذمہ دار شاخ قدس فورس کے عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والے کمانڈر کی شناخت داؤد علی زادہ کے نام سے ہوئی ہے، جو قدس فورس کے لبنان کور کے "عارضی کمانڈر” تھے اور لبنان میں ایرانی سرگرمیوں کے سب سے سینئر ذمہ دار افسر سمجھے جاتے تھے۔فوجی بیان کے مطابق علی زادہ اپنے پیشرو کی جگہ تعینات کیے گئے تھے، جو اس سے قبل اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔

    تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کہا ہے کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ ایران کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علی زادہ جس ڈویژن کی قیادت کر رہے تھے وہ لبنان میں حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتی تھی اور پاسدارانِ انقلاب اور حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ تھی۔

    اسرائیل کے مطابق لبنان کور دراصل پاسدارانِ انقلاب اور لبنان کی ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اسرائیل گزشتہ چند روز سے لبنان میں حزب اللہ سے منسلک اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز،ترک صدر کا  خطے میں امن کیلیے  مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

    وزیراعظم شہباز،ترک صدر کا خطے میں امن کیلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر جناب رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔

    وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔