Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شاہراہِ دستور پر قائم  کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاورخالی کرانے کے احکامات

    شاہراہِ دستور پر قائم کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاورخالی کرانے کے احکامات

    اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر واقع کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاور (ٹوئن ٹاورز) کو خالی کرانے کے لیے رات گئے اچانک کارروائی شروع کر دی گئی، جہاں رہائش پذیر افراد کو رات دو بجے نیند سے جگا کر عمارت صبح نو بجے تک خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی بھاری نفری عمارت میں پہنچی اور اہلکاروں نے ہر اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر مکینوں کو فوری انخلا کا حکم دیا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں انتہائی کم وقت دیا گیا، جس کے باعث شدید بے چینی اور اضطراب کی فضا پیدا ہو گئی۔

    یہ ٹاور طویل عرصے سے ایک متنازعہ منصوبہ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 2005 میں شاہراہِ دستور کی قیمتی 13 ایکڑ زمین ایک نجی کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی تھی، جس کا مقصد ایک لگژری ہوٹل کی تعمیر تھا۔ تاہم کمپنی نے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس تعمیر کر کے فروخت کر دیے۔ماضی میں اس منصوبے کو قانونی حیثیت بھی دی گئی تھی جب سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے اسے جائز قرار دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت کئی بااثر اور مالدار افراد کے فلیٹس بھی موجود ہیں۔
    تاہم حالیہ پیش رفت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس ٹاور کی لیز منسوخ کر دی ہے، جس کے بعد اس منصوبے کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا راستہ کھل گیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو خالی کرانے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ لیز منسوخی کے خلاف درخواست خارج کر دی جبکہ اپارٹمنٹ مالکان کی درخواستیں نمٹا دی گئیں۔ بی این پی کمپنی کی جانب سے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست کا مختصر فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سی ڈی اے نے ساڑھے 13 ایکڑ کا پلاٹ ہوٹل کیلئے نیلام کیا، بی این پی نامی کمپنی نے کچھ رقم دے کر قبضہ لیا اور ہوٹل کی جگہ لگژری فلیٹ بنا کر لوگوں کو بیچ دئیے سی ڈی اے نے لیز کی پوری رقم نہ ملنے پر پلاٹ کی لیز منسوخ کر دی، معاملہ سپریم کورٹ تک گیا اور مشروط طور پر لیز بحال ہو گئی۔ بعد میں بی این پی کمپنی نے سی ڈی اے کو پیسوں کے عوض کمرشل پلاٹ کی پیشکش کی، سی ڈی اے نے یہ پیشکش ٹھکرا کر لیز دوبارہ کینسل کر دی جس پر کمپنی نے پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔ سی ڈی اے کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے

  • یوم مزدور کے روز مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی،مزدور بدستورمسائل کا شکار

    یوم مزدور کے روز مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی،مزدور بدستورمسائل کا شکار

    اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یکم مئی کو یومِ مزدور بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے،ملک بھر میں مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی ہے، مزدور آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اور کم اجرت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔

    ملک کے مختلف شہروں میں مزدور تنظیموں کی جانب سے ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں مزدوروں کے حقوق، بہتر اجرت اور محفوظ کام کے ماحول کے مطالبات دہرائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں مزدور آج بھی اپنے عالمی دن پر چھٹی کے بغیر روزگار کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
    موجودہ معاشی حالات میں مہنگائی نے مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے،بجلی،گیس کے بلوں میں اضافے، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے مزدوروں کو مزید پریشان کر دیا ہے.

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ مزدور کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں محنت کشوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں اور ہنرمند افراد کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، بہتر اجرت اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ہر مزدور کو اس کا جائز حق مل سکے.

  • 66 سالہ بزرگ کی 35 سالہ خاتون سے شادی

    66 سالہ بزرگ کی 35 سالہ خاتون سے شادی

    بھارت کی ریاست ہماچل پردیش میں ایک منفرد شادی نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی، جہاں 66 سالہ شخص نے 35 سالہ خاتون سے شادی کر لی۔ عمر کے نمایاں فرق کے باوجود اس شادی کو لے کر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کلو ضلع کے بنجار علاقے کے تھرمبلا گاؤں میں رہنے والے 66 سالہ سوم دیو نے تقریباً ایک ماہ قبل 35 سالہ خاتون سے شادی کی، تاہم اب اس شادی کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ موضوع بحث بن گیا ہے۔وائرل ویڈیوز میں سوم دیو خود اس بات کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں کہ خاتون ان کی اہلیہ ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک خاتون ان سے ان کے رشتے کے بارے میں پوچھتی ہے جس پر وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ میاں بیوی ہیں۔ اس دوران دلہن بھی گفتگو میں شریک ہوتی ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ خوش رہنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق دلہن سینج کے علاقے ترمیڑا سے تعلق رکھتی ہیں۔ شادی کے بعد گاؤں میں ایک تقریب (دھام) کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں دلہا اور دلہن نے روایتی انداز میں رقص کیا اور خوشی کا اظہار کیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سوم دیو اکیلے رہتے تھے جبکہ ان کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کا ایک بھائی ہے جو الگ رہائش اختیار کیے ہوئے ہے۔یہ انوکھی شادی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جہاں صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ لوگ اس رشتے کو محبت اور تقدیر کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر صارفین عمر کے فرق پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

    ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ "رشتے عمر نہیں بلکہ باہمی محبت اور احترام پر قائم ہوتے ہیں”، جبکہ کچھ افراد نے اسے ان لوگوں کے لیے دلچسپ خبر قرار دیا جو شادی کے منتظر ہیں۔

  • عشق،شادی،بالی ووڈ کی حسیناؤں کی ذاتی زندگیاں فلموں سے زیادہ خبروں میں

    عشق،شادی،بالی ووڈ کی حسیناؤں کی ذاتی زندگیاں فلموں سے زیادہ خبروں میں

    بالی ووڈ کی چمکتی دمکتی دنیا جہاں پردۂ سیمیں پر محبت کی خوبصورت کہانیاں دکھائی جاتی ہیں، وہیں حقیقی زندگی میں انہی ستاروں کی ذاتی کہانیاں اکثر فلمی اسکرپٹ سے کہیں زیادہ پیچیدہ، جذباتی اور تنازعات سے بھرپور نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر جب بات شادی، دوسری شادی یا رشتوں کے الجھاؤ کی ہو، تو کئی اداکاراؤں کی نجی زندگی میڈیا اور عوامی بحث کا مرکز بن جاتی ہے۔

    فلمی دنیا میں کئی معروف اداکارائیں ایسی رہی ہیں جنہوں نے ایسے مردوں سے شادی کی جو پہلے سے شادی شدہ یا طلاق یافتہ تھے۔ تاہم حیران کن طور پر کچھ کو معاشرے اور فلمی دنیا نے کھلے دل سے قبول کیا، جبکہ کچھ کو شدید تنقید اور “گھر توڑنے والی” جیسے القابات کا سامنا کرنا پڑا۔

    بالی ووڈ میں کچھ رشتے ایسے بھی رہے جنہیں بغیر کسی تنازع کے قبول کیا گیا۔لارا دتہ نے ٹینس اسٹار مہیش بھوپتی سے شادی کی، جو ان کی دوسری بیوی ہیں، لیکن اس رشتے پر کبھی کوئی بڑا تنازع سامنے نہیں آیا۔اسی طرح ودیا بالن نے پروڈیوسر سدھارتھ رائے کپور سے شادی کی، جو پہلے سے طلاق یافتہ تھے۔رانی مکھرجی نے 2014 میں فلم ساز آدتیہ چوپڑا سے شادی کی، جبکہ کرینہ کپور نے سیف علی خان سے 2012 میں شادی کی، جو پہلے ہی امریتا سنگھ سے طلاق لے چکے تھے۔اسی فہرست میں شبانہ اعظمی اور جاوید اختر کی شادی کو بھی ایک کامیاب اور باوقار رشتہ سمجھا جاتا ہے، جو آج بھی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    دوسری جانب کچھ اداکاراؤں کو اپنی محبت اور شادی کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس فہرست میں پہلا نام ہیما مالنی کا ہے، جنہوں نے 1980 میں دھرمیندر سے شادی کی۔ اس وقت دھرمیندر اپنی پہلی بیوی پرکاش کور سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے۔ اس شادی نے پورے ملک میں بحث چھیڑ دی اور ہیما مالنی کو برسوں تک تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح جیا پردا نے پروڈیوسر شری کانت نہاٹا سے شادی کی، جو پہلے سے شادی شدہ تھے۔ اس فیصلے پر انہیں شدید تنقید اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کا اثر ان کے کیریئر پر بھی پڑا۔80 اور 90 کی دہائی کی سپر اسٹار سری دیوی کی شادی بھی تنازعات سے خالی نہ رہی۔ انہوں نے پروڈیوسر بونی کپور سے شادی کی، جو پہلے سے شادی شدہ تھے۔ اس رشتے نے میڈیا میں طوفان برپا کیا اور انہیں “ہوم بریکر” جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ بعد میں ان کی ازدواجی زندگی مستحکم رہی۔اسی طرح شلپا شیٹی نے بزنس مین راج کندرا سے شادی کی، جن کی پہلی بیوی نے ان پر شادی ٹوٹنے کا الزام لگایا۔ اس تنازع نے شلپا کو طویل عرصے تک میڈیا ٹرائل اور سوشل میڈیا تنقید کا نشانہ بنائے رکھا۔

    ان تمام کہانیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بالی ووڈ میں رشتوں کو لے کر معاشرتی رویہ ہمیشہ یکساں نہیں رہا۔ کچھ اداکاراؤں کی محبت کو سچے جذبے کے طور پر سراہا گیا، جبکہ کچھ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان تمام تنازعات کے باوجود ان اداکاراؤں نے اپنے کیریئر میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں اور یہ ثابت کیا کہ ذاتی زندگی کے نشیب و فراز ان کے فن اور اسٹارڈم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

  • شادی کا جھانسہ دے کر اداکارہ نے دکھائی اداکاری،کروڑوں ہڑپ گئی

    شادی کا جھانسہ دے کر اداکارہ نے دکھائی اداکاری،کروڑوں ہڑپ گئی

    حیدرآباد: تیلگو فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ آشو ریڈی ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل میں گھرتی نظر آ رہی ہیں، جہاں ایک غیر مقیم بھارتی (این آر آئی) شخص نے ان پر تقریباً 9.35 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کے مطابق کیس درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    متاثرہ شخص، جو لندن میں مقیم اور طلاق یافتہ ہے، کا کہنا ہے کہ اداکارہ نے اسے شادی کا جھانسہ دے کر برسوں تک مالی طور پر استحصال کیا۔ شکایت کے مطابق یہ سلسلہ 2018 میں شروع ہوا جب وہ شخص حیدرآباد آیا اور ایک مشترکہ دوست کے ذریعے اداکارہ سے اس کی ملاقات ہوئی۔ابتدائی دوستی جلد ہی قریبی تعلق میں بدل گئی، اور اداکارہ نے مبینہ طور پر اپنی تعلیم، ویزا مسائل اور فلمی کیریئر کے نام پر مالی مدد طلب کرنا شروع کر دی۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ شخص نے اداکارہ کا ایجوکیشن لون ادا کیا،ایک فلیٹ (گھر) خریدا،کار اور سونا بھی فراہم کیا،یہ تمام اخراجات اس امید پر کیے گئے کہ اداکارہ اس سے شادی کریں گی۔متاثرہ شخص کے مطابق جب بھی وہ شادی کی تاریخ طے کرنے کی بات کرتا، اداکارہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر معاملہ ٹال دیتیں،آخرکار جولائی 2020 میں اداکارہ نے شادی سے صاف انکار کر دیا، جس کے بعد متاثرہ شخص نے اپنی رقم واپس مانگی۔

    رپورٹس کے مطابق ایک تیلگو اداکار کی مداخلت پر اداکارہ نے 70 لاکھ روپے واپس کرنے کا وعدہ کیا اور چیک بھی دیے، لیکن وہ چیک بھی کیش نہ ہو سکے۔شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ بعد میں اداکارہ کے خاندان نے دعویٰ کیا کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہیں اور دوبارہ رشتہ بحال کرنا چاہتی ہیں۔ متاثرہ شخص ایک بار پھر راضی ہو گیا اور 2023 میں اداکارہ کے والد سے ملاقات بھی کی۔تاہم، 2025 میں ایک بار پھر شادی سے انکار کر دیا گیا اور بعد ازاں اداکارہ نے مکمل طور پر رابطہ ختم کر لیا۔متاثرہ شخص نے الزام لگایا ہے کہ اداکارہ پہلے سے کسی اور کے ساتھ تعلق میں تھیں اور یہ پورا معاملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی، جس کا مقصد صرف مالی فائدہ اٹھانا تھا۔

    حیدرآباد پولیس نے اداکارہ اور ان کے خاندان کے چند افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • طالب علم سے جنسی تعلقات رکھنے پر خاتون استاد کو سزا

    طالب علم سے جنسی تعلقات رکھنے پر خاتون استاد کو سزا

    امریکی ریاست مشی گن کے شہر پونٹیاک سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ ٹیچرجوسلین سانرومن کو کم عمر طالب علم کے ساتھ غیر قانونی جنسی تعلقات قائم کرنے اور اس عمل کی ویڈیو بنانے کے جرم میں عدالت نے 4 سے 15 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق، یہ واقعہ 2023 میں پیش آیا جب ملزمہ اکیڈمی میں تدریسی فرائض انجام دے رہی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق، ملزمہ نے ایک طالب علم کو ٹیوشن کے بہانے اپنے گھر بلایا جہاں اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور اس غیر اخلاقی عمل کی ویڈیو بھی بنائی۔یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ملزمہ نے خود ایک ساتھی ٹیچر کو اس واقعے کے بارے میں بتایا، جس کے بعد اس ساتھی نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کارروائی کے نتیجے میں ملزمہ کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔کیس کی سماعت کرنے والی جج نے فیصلے کے دوران شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک استاد کا اپنے اختیار کا اس طرح غلط استعمال کرنا انتہائی سنگین جرم ہے۔جج نے ریمارکس دیے "یہ نہایت خطرناک اور ناقابلِ قبول رویہ ہے۔ ایک کم عمر طالب علم کا استحصال اور اس عمل کی ویڈیو بنانا انتہائی شرمناک ہے۔”

    جب جج نے ملزمہ سے اس عمل کی وجہ پوچھی تو اس نے مختصر جواب دیا "یہ میری بہترین سوچ نہیں تھی۔”

    ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مؤکلہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار رہی ہیں، جن کا مناسب علاج نہیں ہوا، اور یہی عوامل ان کے غلط فیصلوں کا سبب بنے۔ وکیل کے مطابق، ملزمہ اپنے عمل پر نادم ہے اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اوکلینڈ کاؤنٹی کی پراسیکیوٹر ے اس کیس کو "اعتماد کی بدترین خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک استاد کی جانب سے طالب علم کا استحصال ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے اس ساتھی ٹیچر کی تعریف بھی کی جس نے بروقت پولیس کو اطلاع دے کر دیگر طلبہ کو ممکنہ نقصان سے بچایا۔سماعت کے دوران متاثرہ طالب علم کی والدہ کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں کہا گیا کہ اس واقعے کے بعد ان کا بیٹا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، لوگوں سے کتراتا ہے اور سماجی میل جول سے گریز کرتا ہے۔

  • کرینہ کپور کا بہن کے بچوں کے حق میں فیصلہ آنے پر ردِعمل

    کرینہ کپور کا بہن کے بچوں کے حق میں فیصلہ آنے پر ردِعمل

    بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ کرینہ کپور نے اپنی بہن کرشمہ کپور کے بچوں کو مرحوم تاجر سنجے کپور کی وراثت سے متعلق جاری تنازع میں عبوری ریلیف ملنے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد، کرینہ کپور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا “اور روشنی آگئی۔ انصاف اور سچائی ہمیشہ غالب رہتی ہے… چڑھدی کلا۔”

    اگرچہ اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں براہِ راست کیس یا عدالتی فیصلے کا ذکر نہیں کیا، تاہم مبصرین کے مطابق یہ پیغام واضح طور پر ان کی بھانجی اور بھانجے کی حمایت میں دیا گیا ہے، جو اس وقت وراثتی تنازع میں فریق ہیں۔
    یاد رہے کہ سنجے کپور کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد سے متعلق خاندانی تنازع شدت اختیار کر گیا تھا، جس میں مختلف فریقین کی جانب سے قانونی دعوے دائر کیے گئے۔ عدالت کی جانب سے حالیہ عبوری حکم کو اس کیس میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔شوبز حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کرینہ کپور کے اس بیان کو خاندان کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • دہلی ہائی کورٹ کا سنجے کپور کے اثاثوں کو محفوظ کرنے کا حکم

    دہلی ہائی کورٹ کا سنجے کپور کے اثاثوں کو محفوظ کرنے کا حکم

    دہلی ہائیکورٹ نے معروف تاجرسنجے کپور کی تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام اثاثوں کو محفوظ رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

    یہ حکم سنجے کپور کی تیسری اہلیہ پریا سچدیوا کپور اور انکی دوسری شادی سے ہونے والے بچوں کیان اور سمیرا کپور اور کے درمیان شدید خاندانی تنازع کے پس منظر میں جاری کیا گیا ہے۔بچوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پریا کپور نے سنجے کپور کی وصیت میں جعلسازی کی اور عدالت میں جمع کروائی گئی اثاثوں کی فہرست نامکمل ہے۔ الزام ہے کہ اس فہرست میں مہنگے پولو گھوڑے، قیمتی گھڑیاں (جیسے رولیکس) اور دیگر بیش قیمت اشیاء شامل نہیں کی گئیں۔مزید برآں، بچوں کا کہنا ہے کہ کئی غیر منقولہ جائیدادیں اور قیمتی فن پارے بھی چھپائے گئے ہیں، جو دراصل کپور خاندان کے بڑے اثاثوں کا حصہ ہیں۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سنجے کپور کے اثاثے “محفوظ رکھنا ضروری ہے اور انہیں فروخت یا ضائع نہیں کیا جا سکتا”۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پریا کپور کو اثاثے فروخت کرنے سے روک دیا اور ان کے بینک اکاؤنٹس کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی۔عدالت نے مزید کہا کہ وصیت سے متعلق شکوک و شبہات دور کرنے کی ذمہ داری پریا کپور پر عائد ہوتی ہے۔ اگر بعد میں وصیت جعلی ثابت ہوئی تو کارروائی نہ کرنا “ناانصافی” ہوگا۔

    یہ معاملہ صرف بیوی اور بچوں تک محدود نہیں بلکہ سنجے کپور کی والدہ رانی کپور اور بہن بھی اس تنازع کا حصہ ہیں، جس کے دوران سخت بیانات اور الزامات سامنے آ چکے ہیں۔گزشتہ سال نومبر میں بچوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “امیر اولیور ٹوئسٹ” قرار دیا گیا تھا، جو مزید دولت چاہتے ہیں۔

    53 سالہ سنجے کپور گزشتہ سال 12 جون کو لندن میں پولو کھیلتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔ ابتدائی طور پر موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی، تاہم بعد میں برطانوی طبی حکام نے تصدیق کی کہ ان کی موت قدرتی وجوہات دل کی بیماری کے باعث ہوئی۔یہ کیس اب ایک بڑے قانونی اور خاندانی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس پر آئندہ سماعتوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔

  • خاتون بینکر کی مرد ملازم کے ساتھ زیادتی،اپنی قمیض خود اتاری اور پھر…مقدمہ درج

    خاتون بینکر کی مرد ملازم کے ساتھ زیادتی،اپنی قمیض خود اتاری اور پھر…مقدمہ درج

    جے پی مورگن چیز کی لیوریجڈ فنانس ڈویژن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لورنا ہجدینی کے خلاف ایک جونیئر مرد ملازم نے جنسی استحصال، نسلی ہراسانی اور پیشہ ورانہ دباؤ کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔ یہ مقدمہ 27 اپریل کو دائر کیا گیا۔

    مقدمے میں متاثرہ شخص، جسے “جان ڈو” کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ واقعات 2024 کے موسمِ بہار میں اس وقت شروع ہوئے جب وہ اور ملزمہ ایک ساتھ کام کرنے لگے۔ شکایت کے مطابق خاتون عہدیدار نے نہ صرف نامناسب جسمانی حرکات کیں بلکہ نسلی جملے بھی کہے اور مبینہ طور پر کیریئر تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔مقدمے کے مطابق، شادی شدہ بینکر کو "براؤن بوائے انڈین” کہہ کر پکارا جاتا تھا، اور ہجدینی پر الزام ہے کہ انہوں نے اسے نشہ آور دوا دی اور جب اس نے "بغیر رضامندی اور تضحیک آمیز جنسی اعمال” سے انکار کیا تو اس کے کیریئر کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔

    مقدمے میں متاثرہ شخص نے بیان دیا کہ یہ بدسلوکی 2024 کے موسمِ بہار میں شروع ہوئی جب دونوں نے ایک ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ ایک واقعے میں، جیسا کہ ڈیلی میل نے رپورٹ کیا، ہجدینی نے اپنا قلم جان بوجھ کر فرش پر گرا دیا جو ڈو کی میز کے قریب تھا۔ جب وہ اسے اٹھانے کے لیے جھکیں تو انہوں نے متاثرہ شخص کی ٹانگ کو چھوا اور پنڈلی کو دبایا، اور کہا "اوہ، تم نے کالج میں باسکٹ بال کھیلی ہے؟ مجھے باسکٹ بال کھلاڑی بہت پسند ہیں۔”اس کے بعد معاملات مزید سنگین ہو گئے۔ ہجدینی نے ڈو کو مشروبات کے لیے مدعو کیا اور انکار پر مبینہ طور پر دھمکی دی "اگر تم نے جلد میرے ساتھ تعلق قائم نہ کیا تو میں تمہیں برباد کر دوں گی، یاد رکھو، تم میرے کنٹرول میں ہو۔”

    مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ستمبر 2024 میں بھی ہجدینی نے ڈو کو جنسی تعلق قائم نہ کرنے پر دھمکیاں دیں اور اس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے مبینہ طور پر کہا "میں تمہیں قیمت چکانے پر مجبور کر دوں گی۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم میرے ساتھ نہیں ہوگے تو تمہاری پوزیشن محفوظ رہے گی؟ کیا تمہیں لگتا ہے کہ انتظامیہ کسی براؤن بوائے انڈین کو لیڈرشپ میں دیکھنا چاہتی ہے؟ اگر تم نے آج رات میری بات نہ مانی تو میں تمہاری ترقی روک دوں گی۔”مقدمے کے مطابق، خوف کے باعث ڈو نے بالآخر ہجدینی کے دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، تاہم اس کے ابتدائی احتجاج کو ساتھ والے کمرے میں موجود ایک گواہ نے سن لیا تھا۔

    بعد ازاں ہجدینی نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے ڈو کو Rohypnol (جسے عام طور پر "روفیز” کہا جاتا ہے) اور ایک ایسی دوا دی جو جسمانی کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاکہ وہ زبردستی کیے گئے جنسی عمل میں شریک ہو سکے۔ایک اور واقعے میں، ہجدینی مبینہ طور پر متاثرہ شخص کے اپارٹمنٹ پہنچیں اور نامناسب حرکات شروع کر دیں۔ انہوں نے اپنی قمیص اتاری، خود کو چھونا شروع کیا اور ڈو کی بیوی کے بارے میں نسلی توہین آمیز جملے کہے۔کہا کہ میں شرط لگاتی ہوں کہ تمہاری چھوٹی ایشیائی، مچھلی کا سر، بیوی کے پاس یہ توپیں نہیں ہیں۔”اس نے زبردستی ڈو کی پتلون اتار دی اور اس کی مرضی کے خلاف اس پر جنسی عمل کیا،متاثرہ شخص رونے لگا، لیکن ہجدینی نے اسے ڈانٹا۔

    مئی 2025 میں، ڈو نے باضابطہ شکایت درج کروائی جس میں نسلی و صنفی امتیاز، ہراسانی اور شدید جنسی استحصال کا ذکر کیا گیا۔ تاہم بینک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں ان دعوؤں کی تائید کے لیے کوئی ثبوت نہیں ملا۔بینک کے ترجمان کے مطابق "تحقیقات کے بعد ہمیں ان الزامات میں کوئی حقیقت نظر نہیں آئی۔ متعدد ملازمین نے تعاون کیا، لیکن شکایت کنندہ نے خود تحقیقات میں حصہ لینے سے انکار کیا اور ایسے شواہد فراہم نہیں کیے جو اس کے دعووں کی بنیاد بن سکیں۔”ڈو کے وکیل، ڈینیئل جے کائزر نے کہا کہ ان کے مؤکل کو ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ انصاف کے حصول کے لیے قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب، لورنا ہجدینی تاحال اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ کیس کی مزید سماعت عدالت میں جاری ہے۔ لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق، لورنا ہاجدینی گزشتہ تقریباً 15 برس سے جے پی مورگن چیز سے وابستہ ہیں اور انہوں نے فنانس اور شماریات میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

  • لندن میں حملے کے بعد یہودی کمیونٹی میں غم و غصہ

    لندن میں حملے کے بعد یہودی کمیونٹی میں غم و غصہ

    لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں حالیہ چاقو حملے کے بعد برطانیہ میں یہودی کمیونٹی نے غیرمعمولی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ شدید غم و غصہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیونٹی کے بعض افراد نے حکومت، خصوصاً وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر پر سخت تنقید کی ہے۔

    حکام نے ملک میں دہشتگردی کے خطرے کی سطح کو “سبسٹینشل” سے بڑھا کر “سیویئر” کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آئندہ مہینوں میں حملے کا امکان زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ صرف ایک واقعے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے مجموعی خطرات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔انسداد دہشتگردی پولیس کے سربراہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرات شدت پسند گروہوں اور انفرادی عناصر کی جانب سے بڑھ رہے ہیں، جن میں دائیں بازو اور اسلامسٹ دونوں شامل ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق یہودی کمیونٹی نے ایک طرف غیرمعمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا، جبکہ دوسری جانب حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صرف بیانات دیے جا رہے ہیں، عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ایک متاثرہ شخص نے اسپتال سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہ کریں اور فوری عملی اقدامات کریں۔واقعے کے بعد لندن میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر مظاہرین نے حکومت سے یہود دشمنی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب گولڈرز گرین میں 100 سے زائد مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین نے یکجہتی واک میں شرکت کی، جس کا مقصد یہودی کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی تھا۔

    اسی دوران شمالی لندن کے علاقے اسٹیمفورڈ ہل میں ایک مکان میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا، تاہم فائر بریگیڈ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ مشکوک نہیں لگتا۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

    برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ یہود دشمنی کے خلاف واضح اور فوری اقدامات کرے۔ مختلف تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب محض بیانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔