Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جنگ بندی معاہدہ برقرار،حماس کا  یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان

    جنگ بندی معاہدہ برقرار،حماس کا یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان

    غزہ میں حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے فیصلے پر عمل درآمد کا اعلان کیا ہے۔ حماس کے مطابق، ان کے نمائندوں نے قاہرہ میں مصری اور قطری ثالث کاروں سے جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی ہے۔ اس بات چیت کے دوران فلسطینیوں کے لیے ضروری سامان جیسے رہائش، خیمے، طبی امداد، ایندھن اور دیگر ضروریات کی فراہمی پر بھی گفتگو کی گئی۔

    حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ مصری اور قطری ثالث کاروں کے ساتھ بات چیت مثبت رہی اور ثالث کاروں نے اس معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس طے شدہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے اور دیگر شرائط پر عمل درآمد کرے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزیوں پر حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ہفتے تک یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہوئی تو جنگ بندی معاہدہ ختم کردیا جائے گا۔

    حماس کے اس حالیہ اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر تنازعہ میں کمی آ سکتی ہے۔

  • ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    کوئٹہ: ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کے سائبر کرائم سرکل نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ہنی ٹریپ کے ذریعے شہری کو بلیک میل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق ملزم کی شناخت محمد بلال کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم نے خود کو خاتون ظاہر کر کے متاثرہ شہری کو اپنے جال میں پھنسایا۔ ملزم نے فیس بک کے ذریعے متاثرہ شخص سے رابطہ کیا اور خاتون بن کر ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ بعدازاں، ملزم نے متاثرہ شخص کو اپنے گھر بلا کر زبردستی نازیبا ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ملزم ان ویڈیوز کے حوالے سے متاثرہ شخص کو بلیک میل کر رہا تھا اور اس نے دھمکی دی کہ اگر رقم نہ دی گئی تو وہ ویڈیوز کو وائرل کر دے گا۔ ملزم نے 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ ملزم کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ملزم کے زیرِ استعمال ڈیجیٹل ڈیوائسز بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ ان ڈیوائسز سے قابلِ اعتراض مواد اور بلیک میلنگ کے شواہد بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ملزم سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور اس سے نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد اور ممکنہ متاثرین کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ایف آئی اے نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اس قسم کی سائبر کرائمز کے حوالے سے آگاہ رہیں اور اس طرح کے جرائم کی اطلاع فوراً دیں۔

  • غیر قانونی  کار واش اور سروس اسٹیشنوں کی فوری بندش کا حکم

    غیر قانونی کار واش اور سروس اسٹیشنوں کی فوری بندش کا حکم

    پنجاب میں حالیہ بارشوں کی کمی کے سبب پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر محکمہ ماحولیات پنجاب نے اہم احکامات جاری کیے ہیں تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے اور بچت کی جائے۔

    محکمہ ماحولیات کی جانب سے غیر قانونی اور غیر منظور شدہ کار واش اور سروس اسٹیشنوں کی فوری بندش کا حکم دیا گیا ہے تاکہ پانی کے غیر ضروری استعمال کو روکا جا سکے۔ تمام کار واش اسٹیشنز کو 28 فروری 2025 تک واٹر ری سائیکلنگ سسٹم اور یو چینلز کی تنصیب کرنا لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس احکام کی خلاف ورزی کرنے پر 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور کار واش ایریا سیل کردیا جائے گا۔گھروں میں کار دھونے اور ہوز پائپ کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔لان، باغات، گالف کورسز اور گرین بیلٹس میں اضافی پانی کے بہاؤ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔تعمیراتی کاموں میں زیر زمین پانی کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صرف سطحی یا ری سائیکل شدہ پانی ہی استعمال کیا جا سکے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کے تحریری فیصلے میں پنجاب حکومت کی جانب سے پانی کی بچت، باکفایت استعمال اور ماحولیاتی بہتری کے اقدامات کی تعریف کی گئی۔ ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA) کو پانی کے ضیاع کو روکنے اور اس کے باکفایت استعمال کے لیے نگرانی کی تمام ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ جو افراد گھروں میں گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کریں گے، انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پانی ضائع کرنے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ بغیر ری سائیکلنگ پلانٹ والے پٹرول پمپوں کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

    عدالت نے مزید حکم دیا کہ پنجاب میں پانی کی بچت اور باکفایت استعمال کے لیے قانون منظور کیا جا چکا ہے، جس کے تحت وزیراعلی پنجاب کی سربراہی میں ایک اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اس اتھارٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کو ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ علاوہ ازیں، یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں گھروں اور تجارتی مراکز کی تعمیر کے دوران ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کو لازمی قرار دیا جائے گا۔

    یہ اقدامات پنجاب میں پانی کی کمی کو روکنے، ماحول کو بہتر بنانے اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ان احکامات کے ذریعے یہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی کا ضیاع کم ہوگا اور اس کے استعمال میں اضافہ کے بجائے بچت کی جائے گی، جو کہ قحط سالی اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

  • پیکا ایکٹ کیخلاف صحافیوں کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں ترجمان مرکزی مسلم لیگ کی شرکت

    پیکا ایکٹ کیخلاف صحافیوں کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں ترجمان مرکزی مسلم لیگ کی شرکت

    پاکستان میں متنازع پیکا ترمیمی بل کے خلاف صحافیوں کے ملک گیر احتجاج،بھوک ہڑتالی کیمپ میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے شرکت کی اور صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے صحافیوں کی تحریک کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم لاہور پریس کلب پہنچے تو صدر ارشد انصاری سمیت دیگر صحافیوں نے استقبال کیا،اس موقع پر تابش قیوم نے پیکا ایکٹ کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب صحافی متحد ہوتے ہیں تو پوری قوم ان کے پیچھے متحد ہوتی ہیں. آج پاکستان میں صحافت قید ہو چکی ہے .ڈس انفارمیشن کا مقابلہ قومیں مل کر کرتی ہیں. 15 برس ہمارے پڑوسی ملک نے ڈس انفارمیشن پھیلائی اس وقت کسی کو خیال نہ آیا کہ ملک کے صحافیوں کو مضبوط کریں، فیکٹ چیکنگ کے لئے سہولیات فراہم کریں تا کہ ڈس انفارمیشن کا مقابلہ کیا جا سکے.حکومت کو جہاں کردار ادا کرنا چاہئے وہاں کام نہیں کیا جاتا.

    تابش قیوم کامزید کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی اور صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی، آج آزادی صحافت کے لئے صحافی متحد ہیں،پیکا ایکٹ واپس ہو گا.

  • سیکٹر ایف ایٹ،ایف نائین انٹرچینج  ترکیہ کے صدر   کے نام سے منسوب

    سیکٹر ایف ایٹ،ایف نائین انٹرچینج ترکیہ کے صدر کے نام سے منسوب

    پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد میں واقع سیکٹر ایف ایٹ-ایف نائین انٹرچینج کو ترکیہ کے صدر عزت مآب رجب طیب ایردوان کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس حوالے سے ایک سادہ اور پروقار تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد کی گئی، جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے شرکت کی۔ اس تقریب میں رجب طیب ایردوان انٹرچینج کی تختی کی نقاب کشائی کی گئی۔یہ انٹرچینج جناح ایونیو اور آغا شاہی ایونیو کے سنگم پر واقع ہے اور حالیہ برسوں میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا۔ اس انٹرچینج کا مقصد شہر کی ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور دونوں اہم ایونیو کی رابطے کو مزید موثر بنانا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے اسلام آباد میں ٹریفک کے نظام میں بہتری متوقع ہے اور شہریوں کو آسانی ہوگی۔

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اور علامت کے طور پر یہ انٹرچینج ترکیہ کے صدر کے نام پر منسوب کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین مضبوط دوطرفہ تعلقات کا عکاس ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس موقع پر ترکیہ کے صدر کو شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے روابط مزید مستحکم ہوں گے۔رجب طیب ایردوان نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک نئی علامت قرار دیا اور کہا کہ ترکیہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    پاکستان اور ترکی کا مستقبل روشن اور کامیاب ہو گا۔آصفہ بھٹو

  • کراچی میں حادثات،شرجیل میمن کا ایکشن،سڑکوں پر گاڑیوں کیلئے پالیسی آ گئی

    کراچی میں حادثات،شرجیل میمن کا ایکشن،سڑکوں پر گاڑیوں کیلئے پالیسی آ گئی

    سندھ حکومت نے بغیر رجسٹریشن کے گاڑیوں کو سڑکوں پر لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے سینئر صوبائی وزیر، شرجیل میمن نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات فراہم کیں۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ لوگوں کی شکایات تھیں کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے نمبر پلیٹس جاری نہیں کی جا رہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے پاس 80 ہزار نمبر پلیٹس موجود ہیں، لیکن لوگوں نے انہیں اٹھایا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان نمبر پلیٹس کی تقسیم کو ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔سندھ حکومت کی جانب سے ایک اور اہم اعلان کیا گیا، جس کے مطابق واٹر بورڈ نے واٹر ٹینکرز کے لیے بار کوڈز جاری کر دیے ہیں۔ ان بار کوڈز کی مدد سے گاڑی کی فٹنس چیک کی جا سکے گی۔ ایسے ٹینکرز جو رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اور جن پر بار کوڈ نہیں ہوگا، انہیں سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ ہیوی ٹریفک کے لیے بھی سندھ حکومت نے فٹنس سرٹیفکیٹ کا اجرا لازمی قرار دیا ہے۔ اس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ہیوی ٹریفک کو وقت دیا جائے گا، اور جو ٹریفک دوسرے صوبوں سے آتی ہے، ان کے لیے بھی سندھ میں فٹنس سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہوگا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون کے مطابق کوئی بھی گاڑی جب تک رجسٹر نہیں ہوگی، وہ شو روم سے باہر نہیں آ سکتی۔ پیر تک، اگر کوئی غیر رجسٹرڈ گاڑی شو روم سے باہر نکلی تو اس شوروم کو سیل کر دیا جائے گا اور گاڑی ضبط کر لی جائے گی۔ اسی طرح، دوسرے صوبوں سے آنے والی امپورٹڈ گاڑیاں بھی کیریئر میں ہی منتقل کی جائیں گی۔

    شرجیل میمن نے یہ بھی اعلان کیا کہ شہر میں ڈمپرز کے لیے مخصوص وقت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اب ڈمپرز رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک سڑکوں پر چلیں گے، جو پہلے رات 11 بجے سے شام 6 بجے تک تھے۔ یہ فیصلہ عوامی سہولت اور ٹرانسپورٹرز کی آسانی کے لیے کیا گیا ہے۔

    یہ اقدامات کراچی میں حالیہ ہفتوں میں ٹریفک حادثات میں اضافے اور خاص طور پر ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز کے حادثات میں شہریوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔ ان حادثات کے پیش نظر حکومت نے سڑکوں پر امن و سکون کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • جناح ہاؤس حملہ کیس،ملزمان پر 6 مارچ کو فردجرم عائد ہو گی

    جناح ہاؤس حملہ کیس،ملزمان پر 6 مارچ کو فردجرم عائد ہو گی

    لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت لاہور میں جناح ہاؤس حملہ کیس کا جیل ٹرائل شروع ہو گیا ہے۔ عدالت نے ملزموں کو فرد جرم عائد کرنے کے لئے 6 مارچ کو دوبارہ طلب کر لیا ہے۔

    جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران زیر حراست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید جیل میں حاضری مکمل کرانے کے لئے پیش ہوئے۔اس کے علاوہ ضمانت پر رہائی پانے والی ملزمائیں عالیہ حمزہ، خدیجہ شاہ، صنم جاوید اور روبینہ جمیل بھی جیل میں پیش ہوئیں۔عدالت نے تمام ملزموں کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ آئندہ سماعت پر کوئی بھی ملزم غیر حاضری نہ کرے۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو بغاوت اور فسادات پر اکسانے کی کوشش کی۔ اس مقدمے میں ملزموں کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ملزموں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے جناح ہاؤس پر حملہ کیا اور ملک کی سالمیت کے خلاف اقدامات کیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی۔

  • پاکستان اور ترکی کا مستقبل روشن اور کامیاب ہو گا۔آصفہ بھٹو

    پاکستان اور ترکی کا مستقبل روشن اور کامیاب ہو گا۔آصفہ بھٹو

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،خاتون اول، رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو نے پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم موقع پر خوشی کا اظہار کیا۔

    ترک صدر اپنی اہلیہ کے ہمراہ پاکستان پہنچے تو صدر مملکت آصف زرداری کے ہمراہ آصفہ نے بھی مہمانوں کا استقبال کیا، بعد ازاں ایکس پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں ترک صدر رجب طیب اردگان اور پہلی خاتون ایمین اردگان کا دل سے استقبال کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان گہری اور قدیمی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کا ایک سنگ میل ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف تاریخی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے مشترکہ نظریات اور مستقبل کی روشن تر ترقی کے لیے ایک نیا دروازہ کھولنے کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نئے مواقع اور چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    آصفہ بھٹو نے اس موقع پر دونوں ممالک کی مشترکہ ترقی کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ترکی کا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر روشن اور کامیاب ہو گا۔

    آصفہ بھٹو نے دونوں رہنماؤں کی پاکستان آمد کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور تعاون کے مزید استحکام کے لیے اہم قدم قرار دیا۔ انھوں نے اس تاریخی دورے کے ذریعے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات کی یقین دہانی کی کہ دونوں ممالک کی دوستی ہمیشہ قائم رہے گی۔آصفہ بھٹو نے اس موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کو عالمی سطح پر مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • ججز کی سنیارٹی پر تنازعہ،اٹارنی جنرل کا مؤقف بھی آ گیا

    ججز کی سنیارٹی پر تنازعہ،اٹارنی جنرل کا مؤقف بھی آ گیا

    قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار سرفراز ڈوگر کی سنیارٹی کے معاملے پر ‏اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان کا مؤقف چیف جسٹس پاکستان سے برعکس ،حقائق سامنے آ گئے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ‏اٹارنی جنرل کا تحریری طور پر جوڈیشل کمیشن میں اپنایا گیا موقف سامنے آگیا، ‏ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے صحافیوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کی سنیارٹی لسٹ میں جسٹس سرفراز ڈوگر کا نام نہیں ہونا چاہیے تھا، ‏ چیف جسٹس نے صحافیوں سے ملاقات میں کہا تھا اٹارنی جنرل نے میرے موقف کی تائید کی تھی۔

    ‏اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اور بات کہی تھی اور تحریری طور پر بھی مؤقف جمع کرایا اور اس کے منٹس بھی جاری کیے جائیں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‏چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے تحفظات سے متفق نہیں، ‏ہائی کورٹ سے جج کا ٹرانسفر عارضی نہیں ہوتا۔ جج کا ٹرانسفر پبلک انٹرسٹ کے تحت کیا گیا، جس کیلئے صدر مملکت،متعلقہ چیف جسٹسز ہائی کورٹ سے مشاورت کی گئی،‏ جسٹس سرفراز ڈوگر سے کہا گیا وہ مفاد عامہ کے تحت اپنی رضا مندی کا اظہار کریں، ‏ٹرانسفر ہونے والے جج نے مفاد عامہ کے تحت ہی تبادلے کیلئے رضامندی ظاہر کی نہ ہی ذاتی مفاد کیلئے، ‏جسٹس سرفراز ڈوگر کی سینارٹی سب سے نیچے نہیں کی جاسکتی، نہ ہی جج سول سرونٹ ہوتا ہے ،سنیارٹی سے متعلق سول سرونٹ ملازمین کے رولز کا اطلاق اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر نہیں ہو سکتا، نہ ہی اعلیٰ عدلیہ کے ججز سرول سرونٹ ہوتے ہیں، ‏آئین پاکستان نے ججز کیلئے الگ سے جج کی سروس پر شرائط و ضوابط طے کر رکھے ہیں، ‏کسی جج کی سینارٹی کا معاملہ جوڈیشل کمیشن میں نہیں اٹھایا جاسکتا، ‏سینارٹی کا معاملہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست دائر کرکے ہی عدالتی سائیڈ پر طے ہو سکتا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‏جب ایک جج ایک ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر دوسری ہائیکورٹ میں آتا ہے اسے نئے حلف لینے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، ‏آئین میں بھی کہیں نہیں لکھا کہ ایک جج ٹرانسفر ہوکر دوبارہ حلف لے گا، ‏ایک جج کی نئی تقرری اور تبادلے میں فرق ہے، ‏آرٹیکل 202 کے تحت جب ایک جج کا تقرر ہوتا ہے تو اسے تبادلے پر نئے حلف کی ضرورت نہیں ہے

  • ہوٹلز کی آڑ میں "فحاشی کا اڈہ”11 خواتین سمیت 23 ملزمان گرفتار

    ہوٹلز کی آڑ میں "فحاشی کا اڈہ”11 خواتین سمیت 23 ملزمان گرفتار

    لاہور میں غالب مارکیٹ اور فیصل ٹاؤن پولیس نے خفیہ اطلاع پر بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 11 خواتین سمیت 23 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملزمان قحبہ خانوں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے اور ہوٹلز کی آڑ میں یہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ پولیس کی یہ کارروائی شہر میں جرائم کی روک تھام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ غالب مارکیٹ اور فیصل ٹاؤن کے مختلف ہوٹلز میں قحبہ خانوں کا دھندہ چل رہا ہے۔ اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے چھاپے مارے اور متعدد ہوٹلوں سے ملزمان کو حراست میں لیا۔ گرفتار ہونے والے افراد میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی شامل ہیں جن کی تعداد 11 ہے۔گرفتار ہونے والے ملزمان میں حسن، آصف، عثمان، حمزہ صائم، بلال، علی رضا، فیاض، شہباز، زاہد، اربش، صبحات اور دعا شامل ہیں۔ خواتین میں ماہی، ثمرہ، زہرا عدنان، عمر، شکیل، ارشد، آصف، عمران اور نوید بھی شامل ہیں۔

    پولیس نے گرفتاری کے بعد ملزمان کو تحقیقات کے لیے انویسٹیگیشن کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کارروائی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف شہر میں قحبہ خانوں کی روک تھام ہو گی، بلکہ جرائم کی دیگر سرگرمیوں پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔پولیس کے مطابق ان ہوٹلوں میں منظم انداز میں غیر قانونی سرگرمیاں چل رہی تھیں، جن میں خاص طور پر خواتین کا استحصال کیا جا رہا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد اب پولیس ان کے نیٹ ورک کی مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔

    یہ کارروائی شہر کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے اہم قدم ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی تاکہ معاشرتی بگاڑ کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم کے خاتمے کے لیے عوامی آگاہی اور تعاون بھی بہت ضروری ہے۔