Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی کو ہونے والے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان، علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی سمیت 12 ملزمان کی درخواست بریت پر فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت نے ان تمام ملزمان کی درخواست بریت کو خارج کر دیا۔

    عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، علی امین گنڈاپور، اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواستیں بریت خارج کرتے ہوئے انہیں مزید قانونی مراحل سے گزرنے کا حکم دیا۔ ان کے علاوہ، پی ٹی آئی کے دیگر رہنما جیسے شبلی فراز، شہریار آفریدی، فواد چودھری، کنول شوذب اور عمر تنویر بٹ کی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئیں۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی طرف سے بریت کی درخواستوں میں کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور ان پر الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ ظہیر شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے تاکہ ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جا سکے۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب تک فرد جرم عائد نہیں ہو جاتی، بریت کی درخواستوں کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ فرد جرم عائد ہو چکی ہے، اس لیے ان درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دیا جاتا ہے،عدالت نے 4 ملزمان کی طرف سے بیرون ملک جانے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ ان ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے دستاویزات نامکمل ہیں اور ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم، عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی نوعیت اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء فیصل چودھری اور فیصل ملک نے عدالت میں اپنے دلائل دیے اور کہا کہ ان کے موکلین کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں، اس لیے انہیں بری کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے سے پہلے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرتے ہوئے تمام ملزمان کو اپنے دفاع کے لیے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے مزید شواہد اور گواہوں کی پیشی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس،گنڈاپور،شبلی فراز سمیت 25 ملزمان کے وارنٹ

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان سمیت دیگر پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمر ایوب کی بریت کی درخواست خارج

  • سیکیورٹی فورسزکاکامیاب آپریشن، فتنہ الخوارج کاانتہائی مطلوب دہشت گردجہنم واصل

    سیکیورٹی فورسزکاکامیاب آپریشن، فتنہ الخوارج کاانتہائی مطلوب دہشت گردجہنم واصل

    سیکیورٹی فورسزکاکامیاب آپریشن، فتنہ الخوارج کاانتہائی مطلوب دہشت گردجہنم واصل کر دیا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 17 اور 18 دسمبر کی درمیانی شب ٹانک میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا گیا، آپریشن میں انتہائی مطلوب خارجی سرغنہ علی رحمان عرف مولا ناطحہ سواتی جہنم واصل ہو گیا، کامیاب آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے 7 خوارج کو جہنم واصل کیا، خارجی علی رحمان عرف مولا ناطحہ سواتی مفتی فضل اللہ کا قریبی ساتھی تھا، علی رحمان عرف مولا ناطحہ سواتی نے 2010 میں ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی، ہلاک خارجی علی رحمان عرف مولا ناطحہ سواتی خوارج کی شوری کا اہم سر غنہ تھا، علی رحمان عرف مولا ناطحہ سواتی اہم سر غنہ قاری امجد عرف مفتی مزاحم کا بھی قریبی ساتھی تھا ،

    آپریشن کے دوران ایک خارجی نے گھر میں داخل ہو کر کمرے میں 2 بچوں کو یر غمال بنایا دہشتگرد نے فرار ہونے کے لیے خاتون کالباس پہن لیا تھا، خارجی نے دونوں بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی مذموم کوشش کی ، سکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی کے باعث دونوں بچوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا، اہل علاقہ نےبچوں کی بحفاظت بازیابی پر اظہار تشکر کیا اور پا ک فوج کو خراج تحسین پیش کیام دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور بارود سے بھری گاڑی بھی برآمد ہوئی ہے،بارودی مواد کسی بڑی دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جانا تھا،

    اس سے قبل بھی فتنہ خوارج کے اہم سر غنہ کامیاب آپریشنز میں مارے جاچکے ہیں خارجیوں کی پاکستان کی سرزمین پر ہلاکت خوارج اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کو عیاں کرتی ہے پاکستان نے کئی بار مستند شواہد افغان عبوری حکومت کے حوالے کئے، کوئی کارروائی نہیں کی گئی افغان طالبان اور فتنہ خوارج کا گٹھ جوڑ عالمی اور خطے کے امن کیلئے شدید خطرہ ہے،

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    ایرانی سفیر کی وفاقی وزیر مذہبی امور کو انٹرنیشنل قرآن کانفرنس میں شرکت کی دعوت

  • ایرانی سفیر کی وفاقی وزیر مذہبی امور کو انٹرنیشنل قرآن کانفرنس میں شرکت کی دعوت

    ایرانی سفیر کی وفاقی وزیر مذہبی امور کو انٹرنیشنل قرآن کانفرنس میں شرکت کی دعوت

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سالک حسین سے ایرانی سفیر ڈاکٹر امیری مقدم نے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مذہبی عدم برداشت، دہشت گردی، فرقہ واریت کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    چوہدری سالک حسین نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مسلم ممالک کو مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور وحدت کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں قیام امن کے لیے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مفاہمت اور مکالمہ ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات میں برداشت، احترام اور محبت کی بنیادی اہمیت ہے اور ہمیں ان اصولوں کی پیروی کر کے عالمی امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    ایرانی سفیر ڈاکٹر امیری مقدم نے وفاقی وزیر کو ایران میں ہونے والی انٹرنیشنل قرآن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ایران کو دہشت گردی کے خاتمے اور انتہا پسندی کے تدارک کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی اور ان تعلقات کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا۔ ایرانی سفیر نے دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دونوں اقوام کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

    مجموعی طور پر ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مذہبی ہم آہنگی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی گئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے اپنے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

    داتا دربار کے باہر قائم پارکنگ اسٹینڈ مافیا بے لگام

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    سیاہ فام کو پرواز سے اتارنے کا مقدمہ،ایئرلائن نے تصفیہ کر لیا

  • داتا دربار کے باہر قائم پارکنگ اسٹینڈ مافیا بے لگام

    داتا دربار کے باہر قائم پارکنگ اسٹینڈ مافیا بے لگام

    صوفی بزرگ حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے باہر قائم پارکنگ اسٹینڈ پر مافیا کا زور بڑھ گیا ہے اور عوام کو غیر قانونی طریقے سے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ داتا دربار کے دروازے پر قائم موٹر سائیکل اور گاڑی کی پارکنگ کے ٹھیکیدار اور ان کے عملے نے پارکنگ فیس میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

    داتا دربار پر آنے والے زائرین اپنی گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں کو پارک کرنے کے لیے اسٹینڈ کا رخ کرتے ہیں۔ اس موقع پر پارکنگ کے ٹھیکیدار اور ان کے عملہ نے بغیر کسی قانون کے موٹر سائیکل پارک کرنے کے 50 روپے اور گاڑی پارک کرنے کے 100 روپے وصول کرنے شروع کر دیے ہیں۔ یہ تمام اضافی فیسیں غیر قانونی اور زائد ہیں، کیونکہ اکثر زائرین صرف چند منٹوں کے لیے اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل پارک کرتے ہیں اور فوری طور پر دربار پر حاضری یا نماز کے لیے داخل ہو جاتے ہیں۔

    مقامی عوام اور زائرین نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ پارکنگ فیس کا یہ اضافہ غریب عوام اور مزدور طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، جو داتا دربار کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اضافی چارجز نہ صرف ان کی جیب پر بوجھ ڈال رہے ہیں بلکہ ان کا روحانی سفر بھی متاثر ہو رہا ہے۔زائرین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ پارکنگ مافیا کے خلاف فوری کارروائی کرے اور اس غیر قانونی نظام کو ختم کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موٹر سائیکل پارکنگ فیس 10 روپے اور گاڑی کی پارکنگ فیس 20 سے 30 روپے تک محدود کی جائے، تاکہ عوام کو اضافی بوجھ سے بچایا جا سکے۔پارکنگ مافیا کی کارروائیوں نے ایک بار پھر حکومت کی غفلت کو عیاں کر دیا ہے، اور عوام نے اس معاملے پر فوری قانونی کارروائی کی توقع ظاہر کی ہے۔

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    سیاہ فام کو پرواز سے اتارنے کا مقدمہ،ایئرلائن نے تصفیہ کر لیا

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

  • انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ پاکستان کے لئے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ہے، وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے متعلقہ اداروں کو آپس کے رابطے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے انسانی اسمگلروں کی سہولت کاری میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کی نشاندہی اور ان کو خلاف کے سخت کاروائی کی ہدایت کی،اور کہا کہ 2023 کے کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کاروائی میں انتہائی سست روی سے کام لیا گیا ذمہ دار افسروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی ،وزیراعظم نےانسانی اسمگلنگ کے متعلق جاری تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے ٹھوس سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی

    اجلاس کو یونان کشتی حادثے کےاور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہ یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے پانچ پاکستانیوں کی شناخت کر لی گئی، دیگر کہ شناخت کا عمل جاری ہے ،ایتھنز میں موجود پاکستانی سفارت خانہ کشتی حادثے کے حوالے سے یونانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے ، کشتی حادثے کے حوالے سے معلومات اور مدد کے لئے ایتھنز میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے ہیلپ لائین helpline +30-6943850188 اور وزارت خارجہ کے کرائسز مینجمینٹ یونٹ کے نمبر 0519207887 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے،گوجرانوالا، گجرات، سیالکوٹ اور منڈی بہاؤ الدین کے اضلاع سے سب سے زیادہ افراد انسانی اسمگلروں کا شکار ہوتے ہیں،انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی مزید بہتر بنائی جا رہی ہے

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔ یونان میں تعینات پاکستان کے سفیر نے اجلاس میں بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی-

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی سخت کاروائی کی ہدایت،رپورٹ طلب

    معروف کبڈی پلئیرسمیت چارنوجوان انسانی سمگلرزکے ہتھے چڑھ گئے

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

  • سیاہ فام کو پرواز سے اتارنے کا مقدمہ،ایئرلائن نے تصفیہ کر لیا

    ا مریکی ایئر لائنز نے تین سیاہ فام مردوں کی طرف سے دائر کردہ نسلی امتیاز کے مقدمے میں تصفیہ کر لیا ہے، جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں جنوری میں ایک جسم کی بد بو کے الزام کی بنیاد پر ایک پرواز سے اُتار دیا گیا تھا۔

    تصفیہ کی شرائط کو منظر عام پر نہیں لایا گیا، تاہم اس میں فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں واقع ایئر لائن کی جانب سے مستقبل میں امتیاز کی روک تھام کرنے کا عہد شامل ہے۔یہ تین مرد 5 جنوری کو فلاٹ پر ہارٹ فورڈ سے نیو یارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ جانے والی پرواز پر سوار تھے، جب انہیں ایک فلائٹ اٹینڈنٹ کی جانب سے جسم کی بدبو کے بارے میں شکایت کے بعد اُتارنے کی درخواست کی گئی۔ اصل شکایت میں کہا گیا کہ یہ شکایت "کوئی معقول وجہ نہ ہونے کے باوجود اور صرف ان کے نسلی پس منظر کی بنا پر” کی گئی تھی۔

    مردوں نے 29 مئی کو نیو یارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں کہا گیا کہ فلائٹ اٹینڈنٹ نے جسم کی بدبوکے بارے میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے شکایت کی، اور اس کے نتیجے میں پانچ دیگر سیاہ فام مردوں کو بھی پرواز سے اُتار دیا گیا تھا۔امریکی ایئر لائنز کے ترجمان نے اس تصفیے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "یہ معاہدہ تمام فریقوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔” انھوں نے مزید کہا، "ہم تمام گاہکوں کو خوش آمدید کہنے والے اور شمولیتی ماحول فراہم کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ اگرچہ ہم تصفیے کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کر سکتے، لیکن ہم نے اس مقدمے کے بارے میں ایک دوستانہ حل تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔”

    امریکی ایئر لائنز نے بعد ازاں وہ فلائٹ اٹینڈنٹس فارغ کر دیے تھے جو مسافروں کو اُتارنے کے ذمہ دار تھے، جیسا کہ ان مردوں کی جانب سے نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے بتایا۔

    مقدمے میں شامل مرد، ایلوِن جیکسن، امانوئیل جین جوزف، اور زیویر ویال نے ایک مشترکہ بیان میں کہا: "ہم بہت خوش ہیں کہ امریکی ایئر لائنز نے ہماری شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور ہمیں امید ہے کہ ایسا دوبارہ کسی سیاہ فام مسافر یا کسی بھی رنگ و نسل کے فرد کے ساتھ نہیں ہوگا۔ ہمارا مقصد ہمیشہ تبدیلی لانا تھا، اور ہم فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی آواز اٹھا کر سیاہ فام امریکیوں کی زندگیوں میں فرق ڈالا۔”

    مقدمے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکی ایئر لائنز کے ایک نمائندے نے پرواز کے آغاز سے پہلے ان تین مردوں اور دیگر پانچ سیاہ فام مردوں سے ملاقات کی اور انہیں پرواز سے اُتارنے کا حکم دیا تھا۔ ایئر لائن کے نمائندوں نے ان مردوں کو بتایا کہ بدن کی بو کی شکایت کی وجہ سے ان کو اُتار دیا گیا، حالانکہ کسی بھی مدعی کو ذاتی طور پر بدن کی بو کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، اور حقیقت میں کسی کے جسم سے بُو نہیں آ رہی تھی۔

    امریکی ایئر لائنز پر حالیہ برسوں میں جہازوں پر نسلی امتیاز کی شکایات کا سامنا رہا ہے۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل نے 2017 میں امریکی ایئر لائنز کے خلاف ایک سفری انتباہ جاری کیا تھا، جب ایئر لائن کی پروازوں پر سیاہ فام مسافروں کے ساتھ بدسلوکی کی رپورٹیں سامنے آئیں۔ یہ انتباہ نو ماہ بعد اس وقت ہٹایا گیا جب ایئر لائن نے اس تنظیم کی تشویشات کے حل کی کوشش کی۔جون میں، ایک بار پھر امریکی ایئر لائنز سے تبدیلی لانے کی اپیل کی، جس کے بعد ایئر لائن نے نئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا، جن میں ایک مشاورتی گروپ کا قیام شامل ہے۔

    مدعیوں کے وکلا نے اس تصفیے کی ستائش کی۔ سوزن ہیوٹا، آؤٹن اینڈ گولڈن کی پارٹنر نے کہا: "امریکی ایئر لائنز کا امتیاز کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کا عہد عوامی کمپنیوں کے لیے نسلی امتیاز کے مقدمات میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ ہم خوش ہیں کہ اس تصفیے کے ذریعے ان بہادر مردوں کو عزت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔”مائیکل کرک پیٹرک، پبلک سٹیزن لٹگیشن گروپ کے وکیل، جنہوں نے بھی مدعیوں کی نمائندگی کی، نے کہا: "کارپوریشنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے گاہکوں کے ساتھ نسل یا رنگ کی بنیاد پر بدسلوکی نہ ہو۔ ہم سراہتے ہیں کہ امریکی ایئر لائنز نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا اور اپنی سمت درست کرنے کا فیصلہ کیا۔”

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

  • 13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    احمد مرجان 13 سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنی والدہ کو گلے لگانے کے لئے بے چین تھا، لیکن جب وہ اپنے بچپن کے گھر کے دروازے تک پہنچا تو اس نے اپنی والدہ کو فرش پر سجدے میں پایا۔ مرجان فوراً اپنے گھٹنوں کے بل گر گیا اور "یا اللہ!” کہتے ہوئے شکر گزار ہو گیا، کیونکہ وہ ایسا لمحہ محسوس کر رہا تھا جو شاید کبھی نہ آتا۔

    یہ جذباتی لمحہ، جو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، شام کی حالیہ آزادی کے بعد کی کئی گھر واپسیوں میں سے ایک ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد، لاکھوں افراد، جو جنگ کی وجہ سے ملک سے فرار ہو گئے تھے، واپس اپنے وطن لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔شام کی 13 سالہ خانہ جنگی نے 6 ملین افراد کو پناہ گزین بنا دیا اور 7 ملین افراد کو ملک کے اندر بے گھر کر دیا، جیسا کہ اقوام متحدہ کے مطابق ہے۔ ان میں سے ایک ملین افراد 2025 کے پہلے چھ ماہ میں واپس آنے کی توقع رکھتے ہیں، اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے ان کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عطیات کی اپیل کی ہے۔

    احمد مرجان کی داستان
    جب 2011 میں بشار الاسد کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوا، احمد مرجان، جو اس وقت 18 سال کا ایک طالب علم تھا، نے کیمرہ اٹھایا اور اپنے شہر حلب میں ہونے والے بڑے احتجاجات کی ویڈیوز بنانی شروع کیں۔ وہ جلد ہی حکومتی سکیورٹی فورسز اور شہر کی خفیہ ایجنسیوں کی نظر میں آ گیا، جس کی وجہ سے اسے چھپنا پڑا۔ 2012 میں حلب کا شہر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا.ایک حصہ باغیوں کے قبضے میں آ گیا، جبکہ دوسرا حصہ، جس میں مرجان کا محلہ بھی شامل تھا، حکومت کے کنٹرول میں رہا۔مرجان، جو حکومت کی طرف سے مطلوب تھا، نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگ کے محاذ کو عبور کرے گا اور باغی علاقے میں پناہ لے گا، اور اپنی فیملی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ ایک میڈیا نیٹ ورک میں سرگرم ہو گیا، جہاں وہ شامی فوج کے محاصرے کے دوران کام کرتا رہا۔ ان علاقوں میں زندگی انتہائی مشکلات کا شکار تھی، جہاں عوام کو کھانے، پانی اور دوائی کی شدید کمی کا سامنا تھا۔

    2016 میں حلب کے محاصرے کے بعد، جب باغی فورسز اور شہریوں نے شہر سے انخلاء کیا، مرجان نے ایک ویڈیو بنائی اور انٹرنیٹ پر شیئر کی جس میں کہا: "ہم اپنی عزت کے ساتھ جا رہے ہیں، ہم سر اونچا کرکے جا رہے ہیں، اور ایک دن واپس آئیں گے۔”مرجان نے ترکی میں پناہ لی، جہاں اس نے ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھی۔ تاہم، شام ہمیشہ اس کے ذہن میں تھا۔ جب اس نے سنا کہ باغیوں نے حلب کو دوبارہ آزاد کر لیا ہے، تو اس نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا اور وعدہ کیا کہ وہ واپس آئے گا۔

    "13 سال کے جلاوطنی کے بعد اپنے گھر واپس آ کر میں اس احساس کو بیان نہیں کر سکتا،” مرجان نے کہا۔ "جب میں دروازے تک پہنچا، میرے پاؤں نہیں چل سکے۔ ہم اتنے خوش تھے اور جذباتی تھے کہ میری والدہ اور میں دونوں سجدے میں گر گئے۔ یہ خالص خوشی تھی۔”لیکن اس خوشی کے باوجود، مرجان کا کہنا ہے کہ واپس آنا خطرات سے خالی نہیں تھا۔ شہر کی گلیوں میں سابقہ حکومتی فوجی اور خفیہ افسران موجود تھے، جن کی موجودگی نے اس کے ذہن میں خوف پیدا کیا۔ اس نے ایک رات اپنے عزیزوں کے ساتھ وقت گزارا اور پھر اگلی صبح واپس ترکی واپس لوٹ آیا۔اب وہ دوبارہ حلب واپس جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا وطن اب بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، جہاں 90 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، مگر اس کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ایک نئی شام کی تعمیر کے لیے ہے۔

    دوسری جانب ایک اور شامی نوجوان حسین کاساس نے اپنے اسمگلروں سے درخواست کی تھی کہ اسے صحرا میں مرنے دیا جائے۔ یہ 2016 کی بات ہے جب وہ شام سے اردن کی سرحد تک 13 گھنٹوں کی مسافت طے کر رہا تھا، لیکن اس کے جسم نے مزید چلنے کی طاقت نہ دی۔ دو ماہ پہلے ایک بیرل بم کے حملے میں اس کے گھٹنے میں شریشوں کی جراحی ہوئی تھی۔”میں نے ان سے کہا، ‘مجھے چھوڑ دو، میں اور نہیں چل سکتا، مجھے حکومتی فورسز کے ہاتھوں مارا جائے۔’” حسین نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا۔ لیکن آخرکار وہ اردن پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور وہاں پناہ حاصل کی۔ اس کا سفر بھی وہ تھا جو ہزاروں شامیوں کا مقدر بنا۔

    شام کی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کچھ اپنی جڑوں کی طرف واپس لوٹنے کی امید رکھتے ہیں، جبکہ کچھ ابھی بھی اس خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ ان کا ماضی ان کا پیچھا کرے گا۔ ان دونوں کہانیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کے لوگ نہ صرف اپنی مادری سرزمین کے لیے، بلکہ ایک بہتر مستقبل کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔

    ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

    وزیراعظم کی کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

  • ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

    ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

    امریکہ کے صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کے درمیان تنازع نے ایک دن میں امریکی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر دیا، اور حکومت کے شٹ ڈاؤن کی طرف بڑھنے کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایلون مسک، جنہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، نے جانسن کے حکومت کی فنڈنگ کے لیے پیش کردہ مختصر مدت کے معاہدے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے بعد ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کی مخالفت کی اور ایک نیا بحران پیدا کر دیا۔

    ایلون مسک کی مداخلت اور ٹرمپ کی حمایت
    ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ ٹرمپ نے انتخابی رات جانسن کو اپنے ساتھ رکھا، اور گزشتہ ہفتے آرمی اینیوی فٹ بال گیم میں بھی جانسن کو مدعو کیا۔ اس کے باوجود جب ایلون مسک نے ٹرمپ کی رضامندی سے سوشل میڈیا پر جانسن کے مختصر مدتی حکومت فنڈنگ معاہدے کو "غیر قانونی” قرار دیا تو یہ سب کو حیران کن لگا۔ مسک کی اس مداخلت کے بعد، ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کے خلاف آواز اٹھائی اور دھمکی دی کہ وہ 2026 میں ان ریپبلکن ارکان کے خلاف انتخابی مہم چلائیں گے جو اس معاہدے کی حمایت کریں گے۔

    ٹرمپ کے مطالبات اور حکومت کی بندش کا خطرہ
    ٹرمپ نے مزید مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عہدہ سنبھالنے سے قبل قرض کی حد کو ختم کروا دیں یا کم از کم اسے معطل کیا جائے۔ یہ مطالبات ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کے درمیان ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کا باعث بنے، اور نتیجے کے طور پر حکومت کا شٹ ڈاؤن قریب آ گیا۔یہ غیر متوقع سیاسی تبدیلی اور تنازعہ اس بات کا غماز ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کتنے گہرے ہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما کی خواہشات ایوان کے اسپیکر کے ساتھ ٹکرا رہی ہوں۔

    کئی ریپبلکن قانون سازوں نے اس پر حیرانی کا اظہار کیا۔ ایک قانون ساز نے سی این این کو بتایا، "یہ سب بہت عجیب ہے، یہ صورتحال مکمل طور پر قابلِ اجتناب تھی۔” تاہم، جمعرات کی شام تک، ٹرمپ نے دوبارہ جانسن کی حمایت کی جب جانسن نے ایک نیا منصوبہ پیش کیا جو ٹرمپ کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی فنڈنگ کی مدت بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔جانسن اور دیگر قانون سازوں نے تین ماہ کے لیے حکومت کی فنڈنگ بڑھانے کی کوشش کی، جس میں قرض کی حد کو 2027 تک بڑھایا جانا، زرعی بل میں توسیع اور قدرتی آفات کے لیے 110 بلین ڈالر کی امداد شامل تھی۔ تاہم، اس منصوبے کی مخالفت میں 38 ریپبلکن ارکان نے ووٹ دیا اور یہ بل ناکام ہوگیا۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ اور جانسن کے تعلقات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے آرمی اینیوی فٹ بال گیم میں جانسن کے ساتھ گہرے گفتگو کی تھی اور اس موقع پر جانسن نے ٹرمپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ مختصر مدت کی فنڈنگ سے زیادہ وقت درکار ہے۔ تاہم، جب بل کا متن سامنے آیا، تو ٹرمپ نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان تعلقات بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسک کی حمایت نے ٹرمپ کے موقف کو مزید تقویت دی، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بل میں بہت زیادہ رعایتیں دی جا رہی ہیں اور اس میں زیادہ خرچ کی پیشکش کی گئی ہے جو کہ ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

    اس تمام پیچیدہ صورتحال نے ایوان نمائندگان کی قیادت کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کیسے کام کرے گی، خاص طور پر جب اس میں مختلف دھڑے موجود ہیں،ڈیموکریٹس، جنہوں نے گزشتہ موسم بہار میں جانسن کی حمایت کی تھی، اب کہتے ہیں کہ وہ مزید اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ جانسن کو اپنے پارٹی کے اندرونی تنازعات سے نمٹنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    وزیراعظم کی کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

  • وزیراعظم کی  کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تحت جاری منصوبوں اور مختلف اقدامات کی پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ملک میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات پر کام تیز کیا جائے.بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ بی ٹو بی معاہدوں کی تکمیل اور دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مؤثر اور جامع روڈ میپ تشکیل دیا جائے. سرمایہ کاری کے لیے اس نوعیت کے اہداف مقرر کیے جائیں جن کا حصول جلد از جلد ممکن ہو.پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کی مؤثر مارکیٹنگ بیرونی سرمایہ کاروں کو مائل کرنے کے لیے ناگزیر ہے.بزنس فیسیلیٹیشن سینٹرز کی تعمیر، روڈ شوز کا انعقاد اور ان جیسے دیگر اقدامات ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے انتہائی اہم ہیں،

    دوران اجلاس وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں 35 خصوصی اقتصادی زونز کا جیوگرافکل انفارمیشن سسٹم (GIS) کے ذریعے سروے کیا جا چکا ہے.خصوصی اقتصادی زونز میں جاری منصوبوں کی پیشرفت میں تیزی لانے کے لیے وسیع ڈیٹا موجود ہے.خصوصی اقتصادی زونز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 18 نکاتی پلان تشکیل دیا جا چکا ہے.متعدد چینی کمپنیوں کے ساتھ 200 سے زائد بی 2 بی معاہدے طے پا چکے ہیں اور 70 ملین ڈالر کی مالیت کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں .اجلاس میں آسان کاروبار ایکٹ 2024 کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں .آسان کاروبار ایکٹ 2024 کے تحت بورڈ آف انویسٹمنٹ ملک میں کاروبار کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دے سکے گا.اجلاس میں وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

  • کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    کراچی:شہر قائد کراچی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، کراچی کے علاقے کورنگی میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم پر حملہ کیا گیا ہے جس میں پولیو ورکرز اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق، آج کورنگی میں انسداد پولیو مہم جاری تھی۔ اس دوران پولیو ورکرز ایک فیملی کے پاس بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے پہنچے۔ تاہم، فیملی نے بچوں کو پولیو کے قطرے دینے سے انکار کیا اور اس کے بعد پولیو ٹیم پر حملہ کردیا۔ حملہ آور افراد نے پولیو ٹیم کو بیلچوں سے مارا اور ان سے موبائل فونز چھین لیے۔پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھا ڑ دیئے گئے،پولیس نے مزید بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر نفری بھیج دی گئی اور حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، حملہ کرنے والے چھ افراد میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ گرفتار افراد کی شناخت سمینہ، ماہ جبین، آمنہ، اقرا، عمران اور سفیان کے ناموں سے کی گئی ہے۔پولیس نے کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والے پولیو ورکرز اور پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

    واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں اور پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو مہم جاری ہے، لیکن بعض مقامات پر اس مہم کے خلاف مزاحمت اور تشویشناک واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔دوروز قبل بھی کراچی میں خاتون پولیو ورکر کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، پولیو ٹیم سے بدسلوکی پر 2 افراد گرفتار کر لئے گئے تھے،ناظم آباد نمبر 3 میں خواتین نے پولیو ٹیم سے عدم تعاون پر زیرحراست شخص کی رہائی کیلئے خاتون پولیو ورکر کو یرغمال بنالیا۔پولیس کی بھاری نفری نے گھر میں گھس کر لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بازیاب کروالیا، سربراہ گرفتارکر لیا گیا،

    شہرِ کراچی کے دیگر اضلاع کی طرح ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بھی پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے،ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کی جانب سے پولیو ٹیمز کی سیکیورٹی کے فل پروف انتظامات کیئے گئے ہیں۔ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس سمیت ایڈشنل یونٹس کے 1000 سے زائد افسران، جوان اور لیڈیز اسٹاف کو تعینات کیا گیا ہے۔ تمام تر سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی خود کررہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس پولیو جیسی مہلک بیماری کے خاتمے کے لئے متعلقہ اداروں کے ہمراہ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا پولیو ٹیموں کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم

    ڈور ٹو ڈور پولیو مہم، وزیراعلیٰ سندھ نے دروازے کھٹکھٹا دیئے

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو