Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب نے فیفا ورلڈ کپ کے لیے ہم جنس پرستوں کو بھی سعودی عرب آنے کی اجازت دے دی ہے

    انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے 2034 کے ورلڈ کپ کے دوران ہم جنس پرست مداحوں کی حفاظت اور ان کے خیرمقدم کے حوالے سے ضمانتیں دی ہیں۔ایف اے کی چیئرپرسن، ڈیببی ہیوِٹ، نے کہا کہ سعودی عرب کی بولی کی حمایت کرنے کا فیصلہ "مشکل نہیں تھا”، اور منتظمین کی طرف سے کئی اہم وعدوں کا حوالہ دیا۔بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں ہیوِٹ نے وضاحت کی کہ ایف اے نے بولی کی حمایت سے قبل "کئی سوالات” کیے تھے۔ انہوں نے کہا، "یہ فیصلہ مشکل نہیں تھا – یہ ایک جامع عمل تھا۔””ہم نے تفصیل سے سوالات کیے، اور سعودی عرب نے کافی وقت اور وعدے فراہم کیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اگلے دس سالوں تک ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ وعدے دونوں فریقوں کی طرف سے پورے کیے جائیں”،

    پچھلے ماہ، ایف اے نے سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن (ایس اے ایف ایف) کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی تاکہ بولی کی تفصیلات پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے سعودی عرب کی فٹ بال فیڈریشن کی اس عزم پر اعتماد ظاہر کیا کہ وہ تمام مداحوں کے لیے، بشمول ہم جنس پرست کمیونٹی کے، ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گی۔ہیوِٹ نے کہا، "ہمیں جو جوابات ملے ان سے ہم پُرعزم ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ شراکت داری قائم کرنے کا معاملہ ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف اے منتظمین کو صحیح گروپوں کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ مشاورت کی جا سکے۔

    گزشتہ ہفتے فیفا نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب 2034 میں مردوں کا فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا۔ سعودی عرب کی بولی کو کسی بھی حریف کی جانب سے مخالفت کا سامنا نہیں ہوا، اور فیفا کے کانگریس نے اسے ایک ورچوئل اجلاس میں منظور کیا۔

    سعودی عرب میں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قوانین ہیں اور اس ملک میں ہم جنس تعلقات کی سزا سزائے موت ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت تقریباً دو درجن انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی دینے سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا، "یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ فیفا نے سعودی عرب میں جاری نسل پرستی، مزدوروں کے استحصال، اور شہریوں کو جبراً بے دخل کرنے جیسے مسائل کو نظر انداز کیا۔”

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اسٹیو کاک برن نے کہا، "فیفا کا سعودی عرب کی بڈ کی اس طرح سے حمایت کرنا اس ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو سفید بنانے کے مترادف ہے۔ فیفا کے اس فیصلے سے سعودی عرب میں محنت کشوں کا استحصال، شہریوں کی جبری بے دخلی اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے سلسلے میں مزید شدت آئے گی۔” سعودی عرب میں ہم جنس پرستوں کے لیے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ایک سعودی خاتون کارکن نے کہا، "ہم سعودی عرب کو ‘معتدل خطرہ’ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ ملک ایک خالص پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی معمول بن چکی ہے۔”

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    بھارتی میڈ یا کا نیا شوشہ، اداکارہ ریکھا کو ہم جنس پرست قرار دیدیا

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

  • پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت کردار، عالمی میڈیا معترف

    پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت کردار، عالمی میڈیا معترف

    امریکی اخبار شکاگو ٹریبیون میں معروف امریکی ملٹری ایڈوائزر جان روزن برگ نے اپنے آرٹیکل میں پاکستان کے عالمی سطح پر مثبت کردار کو سراہا ہے،

    شکاگو ٹریبیون میں کہا گیا ہے کہ خطے میں تنازعات کے حل اور تعمیر و ترقی کے عالمی معاہدوں میں پاکستان کا ہمیشہ اہم و مثبت کردار رہا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں – محفوظ عالمی بحری تجارت میں بھی پاکستان کا اہم کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – عالمی و خطے کے امن کے لیے پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں کسی سے بھی بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔عالمی امن کی خاطر پاکستان اب تک 153 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے، دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستان کا کردار دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تین لاکھ سے زائد فوج تعیینات کرنے والا پہلا ملک ہے۔ پاکستان انتہائی مشکل معاشی حالات کے باوجود سالانہ دو ارب ڈالر انسداد دہشت گردی آپریشنز پر خرچ کر رہا ہے۔یہ انسداد دہشت گردی آپریشن نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہیں -پاکستان کے بہادر سپاہیوں نے 541 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ حالیہ آپریشنز میں پاکستان کی بہادر افواج نے 153 فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دی ہیں،افغان نیشنل آرمی کے سابق ملٹری ایڈوائزر نے آرٹیکل میں پاکستان کے سیاسی حالات کا بھی احاطہ کیا،

    شکاگو ٹریبیون میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ایک پھلتی پھولتی جمہوریت ہے۔ پاکستان میں باقاعدگی سے انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھی پاکستان کا کردار دیگر ممالک سے کہیں بڑھ کر ہے۔پاکستانی قوم کو ہمیشہ غلط سمجھا گیا، جو حقیقت میں استقامت اور جمہوری ترقی کی عکاس ہے،پاکستان کو منفی نظر سے دیکھنا اس کی عالمی امن کے لیے خدمات کو فراموش کرنے کے مترادف ہےوقت آ گیا ہے عالمی برادری پاکستان کو متوازن نظر سے دیکھے۔

    کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ،شرجیل میمن کا اظہار تشویش

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگل میں کھڑی کار سے 52 کلو سونا،15 کروڑ نقدی برآمد

  • کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ،شرجیل میمن کا اظہار تشویش

    کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ،شرجیل میمن کا اظہار تشویش

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے گیس لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی فراہمی میں خلل کے باعث نہ صرف عوامی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ صنعتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کراچی سمیت سندھ میں گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور صوبہ اس صورتحال کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گیس کی قلت نے عوام میں بے یقینی اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور کاروباری حلقوں کا اعتماد کم ہو رہا ہے اور صنعتی پیداوار میں کمی آ رہی ہے جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ سردیوں کے مہینوں میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سردیوں میں گیس کی فراہمی میں مزید خلل پڑا تو اس سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں معاشی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ وفاقی حکومت فوری طور پر گیس کی قلت کے مسئلے کو حل کرے تاکہ عوام اور صنعتی شعبے کو اس بحران سے نجات مل سکے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور یہاں گیس کی کمی کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ اگر گیس کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو صنعتی یونٹس کی پیداوار میں مزید کمی آ سکتی ہے جس سے روزگار کے مواقع میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ سندھ کے عوام اور کاروباری حلقے اس وقت بے چین ہیں اور وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کی توقع رکھتے ہیں تاکہ گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خاتمہ ہو سکے اور عام آدمی کو سکون کی زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔

    خیبر پختونخوا حکومت اداروں سے لڑنے کی بجائے دہشتگردوں سے لڑے،شرجیل میمن

    سندھ سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا، شرجیل میمن

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

  • جنگل میں کھڑی کار سے 52 کلو سونا،15 کروڑ نقدی برآمد

    جنگل میں کھڑی کار سے 52 کلو سونا،15 کروڑ نقدی برآمد

    بھوپال، مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران 52 کلوگرام سونا اور 15 کروڑ روپے نقدی برآمد کیے ہیں۔ یہ انکشاف آئی ٹی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں ہوا، جس میں 100 سے زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

    ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی بھوپال کے قریب واقع مینڈوری کے جنگلاتی علاقے میں کی گئی، جہاں جنگل میں کھڑی ایک کار سے بڑی مقدار میں سونا اور نقدی برآمد ہوئی۔ اس کارروائی نے انکم ٹیکس کے افسران کو حیرت میں ڈال دیا، اور تمام سونا اور نقدی کو فوری طور پر ضبط کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ، مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس بڑی مقدار میں دولت کے ماخذ کا پتا چلایا جا سکے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ چھاپہ بھوپال اور اندور کی ایک معروف تعمیراتی کمپنی پر ٹیکس چوری اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ کے تحت مارا گیا تھا۔ اس سے قبل محکمہ انکم ٹیکس نے اس کمپنی کے 51 مختلف ٹھکانوں پر بھی چھاپے مارے تھے، جہاں سے اہم دستاویزات اور ثبوت بھی برآمد ہوئے تھے۔

    محکمہ انکم ٹیکس کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگل سے برآمد ہونے والی نقدی اور سونا ایک بڑی مالی سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ افسران اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ دولت کہاں سے آئی اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ آئی ٹی حکام اس معاملے کی مزید گہرائی سے جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے پیچھے چھپے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔یہ انکشاف مدھیہ پردیش میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچانے کا باعث بن چکا ہے۔ مقامی شہریوں اور میڈیا میں اس واقعے کی گونج ہے اور مختلف نظریات سامنے آ رہے ہیں کہ آیا یہ صرف ٹیکس چوری کا معاملہ ہے یا اس میں کوئی اور گہری سازش چھپی ہوئی ہے۔

    آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس قسم کے آپریشن کے ذریعے ان غیر قانونی سرگرمیوں کو قابو پانے میں مدد ملے گی، جو ریاست میں کرپشن اور ٹیکس چوری کی شکل میں نظر آ رہی ہیں۔محکمہ انکم ٹیکس نے اس معاملے کی تحقیقات تیز کر دی ہیں اور مزید افراد کے ان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ معاملہ ریاست کے اعلیٰ حکام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس کی مزید تفصیلات منظرِ عام پر آ سکتی ہیں۔

    2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

  • 2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم اسحاق کی ضمانت قبل از گرفتاری درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ملزم کو گرفتار کر کے جیل حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے، دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 سے یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہے، تمام ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ریاست کی کیا بات کریں؟، 3 وزرائے اعظم مارے گئے، تینوں وزرائے اعظم کے کیسز کا کیا بنا، بلوچستان میں ایک سینئر ترین جج بھی مارے گئے، کچھ معلوم نہیں ہوا، اصل بات کچھ کرنے کی خواہش نہ ہونا ہے، دیگر 2 صوبوں کی نسبت سندھ اور پنجاب میں پولیس کی تفتیش انتہائی ناقص ہے، جب تک ریاستی ادارے سیاسی انجینئرنگ میں مصروف ہوں گے تو ایسا ہی حال رہے گا،

    وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں، لوگ چاہتے ہیں تمام کام سپریم کورٹ کرے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ ادارہ بھی اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ، 40 سال بعد منتخب وزیر اعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،

    وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں،جسٹس شہزاد ملک
    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ جس ملک میں وزیراعظم کا ایسا حال ہو تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا، وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کس نے کتنے دن وزیراعظم رہنا ہے۔

    اٹک: مویشی پال حضرات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈز کی تقسیم

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک خط لکھا گیا ہے۔

    یہ خط شریعت اپیلیٹ بینچ کے جج، قبلہ ایاز کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے، جس میں یونیورسٹی کے قائم مقام ریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کی کارکردگی اور بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے دوران ان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے قائم مقام ریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم ان کا بورڈ آف گورننگ کے اجلاس میں رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے معاملات مزید پیچیدہ اور خراب ہوگئے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے میٹنگ مینٹس تیار نہیں کیے گئے، جس سے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور غفلت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف ٹرسٹی کا آئندہ اجلاس جدہ میں رکھا گیا ہے، جہاں یونیورسٹی کے نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔ تاہم، اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس نئے صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

    قبلہ ایاز نے خط میں یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور ممبر بورڈ آف ٹرسٹی یونیورسٹی کے معاملات کی رپورٹ طلب کرنی چاہیے تاکہ اس اہم مسئلے پر فوری کارروائی کی جا سکے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔یہ خط اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی بحران اور اس کے اثرات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ایک سنگین مداخلت کی علامت ہے، جو ادارے کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ
    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • پشاور: اپیکس کمیٹی  اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں تمام بنکرز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ پشاور میں ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکریٹری کے پی، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کرم میں قیامِ امن کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو کرم میں امن و امان کی صورت حال اور وہاں کی تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں گرینڈ جرگے کی جانب سے کرم میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا گیا، جس نے علاقے میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    اجلاس میں کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اس حکمتِ عملی میں علاقے میں اسلحے کے خاتمے اور اسلحہ کی غیر قانونی موجودگی کے معاملے پر خاص توجہ دی گئی۔ مزید برآں، کرم میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی، تاکہ علاقے میں عوامی مشکلات کم کی جا سکیں۔کرم میں بنکرز کے خاتمے کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ یہ بنکرز غیر قانونی طور پر استعمال ہو رہے تھے اور علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے تھے۔ اس فیصلے کے تحت تمام بنکرز کو بند کیا جائے گا تاکہ علاقے میں مزید امن قائم کیا جا سکے اور لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ علاقے میں اسلحہ کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تاکہ کرم کے عوام کو ایک پرامن اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا اور غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔پشاور کے اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے کرم میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے علاقے میں طویل عرصے تک پائیدار امن قائم رہے گا۔

    دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ، این اے 48، الیکشن ٹریبونل کارروائی روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، این اے 48، الیکشن ٹریبونل کارروائی روکنے کا حکم

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے این اے 47 کے بعد اب این اے 48 کے الیکشن ٹریبونل کی کارروائی بھی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی کے امیدوار علی بخاری کی درخواست پر سماعت کی، جس کے دوران علی بخاری اور ان کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے پی ٹی آئی امیدوار علی بخاری کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل کو این اے 48 کے حوالے سے انتخابی عذرداری پر کارروائی روکنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا اور آئندہ سماعت کے لیے رجسٹرار آفس کو مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی الیکشن ٹریبونل کو این اے 47 سے متعلق کارروائی روکنے کا حکم دے چکی ہے، جس کے بعد الیکشن ٹریبونل کو صرف این اے 46 تک محدود کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    این اے 48 سے متعلق تفصیلات کے مطابق، اس حلقے سے راجہ خرم شہزاد نواز رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، تاہم پی ٹی آئی کے علی بخاری نے ان کی کامیابی کو چیلنج کیا ہے اور ان کی انتخابی کامیابی کے خلاف دائر کردہ عذرداری پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔الیکشن ٹریبونل اسلام آباد کے سربراہ جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے متعلق کیس کی سماعت 24 دسمبر کو مقرر کی ہے۔

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    گوادر میں پی ایس ایل 10 کے پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کا اعلان

  • دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    پنجاب کے شہر ملتان میں دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر سفاک شوہر نے بیوی کی جان لے لی

    واقعہ بلال کالونی میں پیش آیا،اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس کے مطابق پروفیسر فیروزہ جمیل کو ان کے شوہر نے قتل کروایا ،پولیس نے ملزم شوہر اور کرائے کے قاتل سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کا شوہر حسیب احمد دوسری شادی کرنا چاہتا تھا،پہلی بیوی نے اجازت نہیں دی جس پر شوہر سیخ پا ہو گیا اور اسے شوٹر کے ذریعے قتل کروا دیا.

    ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، ملزم حسیب احمد نے ابتدائی بیان میں کہا کہ بیوی کو قتل کروانے کے لیے شوٹر سے 15 لاکھ روپے میں معاملات طے پائے تھے، 2 لاکھ ایڈوانس دیے باقی 13 لاکھ کام ہونے کے بعد دیے جانے تھے۔

    پولیس حکام کے مطابق سات روز قبل میاں بیوی اکلوتے بچے کے ساتھ کار میں گھر سے نکلے، گھر سے نکلتے ہی شوٹر نے گاڑی روک کر پروفیسر فیروزہ جمیل کو قتل کر دیا،ملزم مقتولہ کے شوہر نے واردات کو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا تا ہم پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا تو شوہر ہی بیوی کا قاتل نکلا،

    گوادر میں پی ایس ایل 10 کے پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کا اعلان

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

  • پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، تاہم اسے کسی بھی بیرونی جارحیت سے اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھارت کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نظرانداز کرتا ہے اور اس کی دوہری پالیسی کو سامنے لایا۔ "پاکستان کبھی بھی دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا، لیکن امریکہ کیوں پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے خوفزدہ ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت سزائیں کیوں عائد کرتا ہے جبکہ کوئی بھی ملک پاکستان سے کبھی کسی خطرے کا شکار نہیں ہوا۔سعد رفیق نے کہا کہ "پاکستان کا جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام صرف اپنے دفاع کے لیے ہے، اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے دفاعی توازن کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی حکام کو خطے میں طاقت کے توازن اور اسٹریٹجک استحکام کو خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔”

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی کوشش کی ہے اور وہ اپنے دفاعی وسائل کو بڑھانے کا حق رکھتا ہے تاکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی دوہری پالیسیوں سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے دفاعی پروگرام پر ناپسندیدہ دباؤ ڈالنے کی بجائے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ