Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں  تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ وی پی این (ویئرچل پرائیویٹ نیٹ ورک) کو بلاک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے ماضی میں بھی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ وی پی این کو بلاک نہیں کریں گے اور آج تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    یہ بات انہوں نے پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 کی لانچنگ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ "ہم پہلے بھی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وی پی این کو بلاک کرسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آج تک کسی وی پی این کو بلاک نہیں کیا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ دور نہیں ہے جب ہم کچھ چھپائیں تو وہ چھپ جائے گا، بلکہ اب تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب قومی سیکورٹی کے حوالے سے سوالات کیے جاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا، تو ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔” انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے کو نیشنل سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کا اختیار نہیں ہے اور یہ سوالات پالیسی سازوں سے کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیشنل سیکیورٹی کے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ پالیسی ساز اداروں کی طرف سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ پی ٹی اے کا کام صرف ٹیلی کمیونیکیشن کی نگرانی اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی تک محدود ہے۔

    پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 میں پی ٹی اے کی کارکردگی، انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی سروسز، اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ پی ٹی اے مستقبل میں انٹرنیٹ کی سیکیورٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دے گا۔

    یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں وی پی این کا استعمال بڑھ رہا ہے، اور کچھ حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو انٹرنیٹ کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے اس پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ تاہم، پی ٹی اے کا موقف واضح ہے کہ وہ صارفین کی آزادی اور انٹرنیٹ کی سہولت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

    موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    وی پی این پر پابندی،پی ٹی اے کو نوٹس جاری،جواب طلب

  • بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عام انتخابات 2025 کے آخر اور 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے کی توقع ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

    پیر 16 دسمبر کو اپنے خطاب میں محمد یونس نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کو مکمل کیے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہی انتخابات کرائے جائیں تاکہ انتخابی عمل شفاف اور منصفانہ ہو۔محمد یونس نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں درست ووٹر لسٹوں اور دیگر بنیادی اصلاحات پر متفق ہو جاتی ہیں، تو نومبر 2025 کے آخر تک انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر تمام اصلاحات پر عمل درآمد کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو انتخابات میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، انتخابی اصلاحات عبوری حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ان اصلاحات کے ذریعے انتخابی عمل کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں جولائی 2023 میں طلباء کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ ان مظاہروں کے دوران 77 سالہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 5 اگست 2023 کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا تھا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو بھارت کے شہر اگرتلہ اور پھر دہلی کے قریب غازی آباد کے ہنڈن ایئربیس منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت شیخ حسینہ بھارت میں کسی نامعلوم مقام پر مقیم ہیں۔شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے بعد محمد یونس کو 8 اگست 2023 کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھا، اور ان کی قیادت میں عبوری حکومت نے انتخابی اصلاحات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    محمد یونس کے اس اعلان کے بعد بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی اصلاحات اور ان کی ٹائم لائن پر مذاکرات کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اصلاحات کے مسودے پر کس طرح متفق ہوتی ہیں اور ان کے نفاذ میں کتنی تاخیر ہوتی ہے۔ عبوری حکومت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اصلاحات کے عمل کو کب تک مکمل کر پاتی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کیسے پیدا ہوتا ہے۔

  • سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے 16 دسمبر کے المناک دن کی مناسبت سے کہا ہے دشمن نے ہمارے درمیان تقسیم کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کیا، جس کے نتیجے میں ہمیں اپنا بازو کھونا پڑا۔ اسی طرح 16 دسمبر 2014 کو دشمن نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے ہمیں مزید دکھ پہنچایا اور ہمارے معصوم بچوں کو شہید کیا۔ ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں اتحاد، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دوبارہ ایسی تاریخ نہ دہرائی جا سکے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے آئی-8 مرکز میں ایک اہم اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے نومنتخب عہدیداران کو نوٹیفکیشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ یہ اجلاس پارٹی کے اہداف کو واضح کرنے اور موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا۔ اجلاس میں ضلعی باڈی، این اے 46، 47، 48 کے تیراہ زونل باڈیز کے ممبران نے شرکت کی۔خالد مسعود سندھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایک مستحکم اور جامع پالیسی کے تحت قومی مسائل کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کے سانحات، جیسے سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس، سے سبق لیتے ہوئے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ پارٹی قومی اتحاد، سماجی خدمت اور انصاف پر مبنی سیاست کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے ہر کارکن کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانا ہوگی تاکہ عوام کا اعتماد جیتا جا سکے۔

    اس موقع پر اسلام آباد کے صدر انعام الرحمن کمبوہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی اسلام آباد میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس کے اختتام پر نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی گئی اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی۔

    جمعیت کے وفد کی مرکزی مسلم لیگ کے دفتر آمد، فیصل ندیم سے ملاقات

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پریس کلب پریحییٰ السنوار کی غائبانہ نمازجنازہ ادا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ شاہکوٹ کی یکجہتی فلسطین کانفرنس

    مرکزی مسلم لیگ کا ارشدندیم ، والدین کیلئے عمرے ،گاؤں میں آئی ٹی انسٹیٹیوٹ بنانے کا اعلان

  • عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی،گنڈاپور واپس روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اڈیالہ جیل کے باہر سے واپس روانہ ہو گئے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عمران خان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل پہنچے تھےتاہم علی امین گنڈا پور کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا.گنڈا پور کے پروٹوکول افسر کو آگاہ کیا گیا کہ جیل جانے کی اجازت نہیں،جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل سے عمران خان کو ملے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ہے، ان کا جو بھی فیصلہ ہو گا اس پر من و عن عمل کریں گے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا وفاق میں ہماری حکومت نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں مسائل کا سامنا ہے، وفاق سے خیبر پختونخوا کے پیسے لینے میں مشکلات ہیں لیکن ہم لیکر رہیں گے۔

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    جیسن گلیسپی نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کی وجوہات بتا دیں

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

  • پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب بزنس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے مہمان نوازی کی بے حد مشکورہوں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے دہائیوں پرانے مضبوط اور برادرانہ تعلقات ہیں۔چین کی ترقی کرتی ہوئی معیشت ہمارے لئے قابل تقلیدہے۔چینی حکومت کی سیاسی بصیرت اور ترقی سب کے لیے مشعل راہ ہے۔صدرشی جن پنگ کی مدبرانہ اور باصلاحیت قیادت کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔چین کی لیڈرشپ اور مختلف کمپنیوں سے سیرحاصل گفتگوہوئی۔آئی ٹی ،زراعت،مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری پر گفتگوہوئی۔چینی تاجروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کےلیے سہولت فراہم کریں گے۔پنجاب بزنس کونسل دونوں ملکوں کےد رمیان اہم کرداراداکرے گی۔چینی سرمایہ کار اور تاجرپنجاب میں سرمایہ کاری کریں ۔پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے۔چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط شراکت داری کے خواہاں ہیں۔موسمیاتی تغیرسےنمٹنے کیلئے چین کی پالیسیاں بہت اہم ہیں۔ماحولیات کی بہتری کےلئے تربیتی پروگرام کے بارےمیں گفتگو ہوئی،

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف دورہ چین مکمل کرکے لاہور پہنچ گئیں،سینیٹر پرویز رشید، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری ،وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان ،وزیر زراعت عاشق کرمانی بھی وطن واپس پہنچ گئے ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے چین میں آٹھ روزرہیں اور اہم ملاقاتیں کیں

    جیسن گلیسپی نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کی وجوہات بتا دیں

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

  • مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے  دشمن

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی عوام و ترقی کےدشمن ہیں

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی تاریخ میں ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے ،مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے یہ دہشتگرد پاکستان کی عوام کے کھلے دشمن ہیں ،مساجد، امام بارگاہوں، اقلیتوں،کھیل، سکول،کاروباری و سیاحتی مقامات اور پاکستان کے دفاعی ادارےفتنتہ الخوارج کی دہشتگردی کا نشانہ رہے ہیں ،فتنتہ الخوراج کے قیام کیساتھ ہی اس نے معصوم پاکستانی عوام کیخلاف طبل جنگ بجا دیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستانی قبائلی کم عمر نوجوانوں کوہتھیار کے طور پر خودکش حملوں میں استعمال کیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستان کی معصوم عوام کا خون بہایا ،فتنتہ الخوراج نےخواتین کی تعلیم کیخلاف گرلز سکولوں پر حملے شروع کر دئیے

    سکولوں کی بندش اور خواتین کی تعلیم خلاف پر تشدد حملوں نے صرف وادی سوات میں 8000 خواتین اساتذہ کو ملازمتوں سے محروم کر دیا ، 2011 میں کے پی اور سابقہ فاٹا میں 1600 سکولوں کو منہدم یا نقصان پہنچایا گیا جس سے 7لاکھ 21 ہزار طلباء جن میں 3 لاکھ 71 ہزار 604 لڑکیاں متاثر ہوئیں،لڑکیوں کی سکول تک رسائی غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی اور لڑکیوں کے زیادہ تر سکول فتنتہ الخوارج کے حملوں سے تباہ ہو گئے ،”فتنتہ الخوارج نے 2009 سے 2013 تک قبائلی علاقوں میں 838 حملوں میں 500 سے زائد سکولوں کو مسمار کیا”.2009 میں اسلام آباد میں قائم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں خود کش حملےمیں 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے

    فتنتہ الخوراج نے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 149 افراد جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، کو شہید کر دیا

    2005 سے 2018 تک فتنتہ الخوارج نے صرف خیبر پختونخواہ میں 227 خودکش حملوں میں 3009 پاکستانیوں کو شہید جبکہ 5374 کو زخمی کیا ،2013 میں پشاور کینٹ میں مسجد پر فتنتہ الخوراج کےخودکش حملے میں 18 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ،مارچ 2015 میں فتنتہ الخوارج نے بنوں کی مسجد میں خودکش دھماکے میں 15 افراد کو شہید جبکہ 20 کو زخمی کر دیا ،2016 میں کوئٹہ میں کرکٹ گراؤنڈ پر خودکش حملے میں 6 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے .2018 میں کوئٹہ میں سپورٹس گراونڈ میں فٹبال میچ کے دوران وحشیانہ حملے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے.جولائی 2018 میں بنوں اور مستونگ میں سیاسی ریلیوں پر حملوں میں 133 افراد شہید کر دئیے گئے.30 جنوری2023کو، فتنتہ الخوارج نے پشاور پولیس لائنز مسجد پر حملے میں 80 سے زائد افراد کوشہید کردیا .17 فروری2023 کو ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے کراچی پولیس آفس پر حملہ کیا، جس میں 4 افراد شہید اور 19 زخمی ہوئے.افغانستان میں طالبان کے قبضے سے پہلے 2020 میں پاکستان میں 3 حملوں میں 25 افراد شہید، 2021 میں 4 حملوں میں 21 افراد شہید ہوئے،افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد2022 میں 13حملوں میں 96افراد شہید ہوئے،سال 2023 میں پاکستان میں 30 خودکش حملوں میں 238 افراد شہید ہوئے،

    2021 میں افغان طالبان کے اقتدارپر قبضےکےبعدفتنتہ الخوارج کو افغانستان میں جدید ترین ہتھیاروں اورجنگجوؤں تک آسان رسائی حاصل ہوگئی،فتنتہ الخوارج کا مذہب سے دور دور تک تعلق نہیں بلکہ یہ مکروہ عناصر پاکستان دشمن قوتوں کے ایما پر پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں

    سعودی عرب کی اسرائیل کی گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    جی ایچ کیو حملہ کیس،شاہ محمود قریشی سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،  مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید9 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیریں مزاری، راشد حفیظ، طاہر صادق سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے،بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل کی عدالت میں پیش کیا گیا مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھی عدالت پیش کیا،اب تک 98 ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔ عمران خان پر 5 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی ،غیر حاضر ملزموں کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 98 ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی۔جی ایچ کیو حملہ کیس میں کل ملزمان کی تعداد 119 ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی کی جانب سے 265 ڈی کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کی 265 ڈی کی درخواست آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دی جس کی وجہ سے ان پر آج فردِ جرم عائد نہ ہو سکی،سی آر پی سی 265 ڈی کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کا کہا جاتا ہے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک کے 112ویں سالانہ نیو یارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلکس بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے اچانک گر پڑے۔ بروسوِٹز 27 سالہ سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ہیں، جو ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

    اتوار کی شام نیو یارک سٹی میں ہونے والی اس تقریب میں بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کر رہے تھے، اور ان کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیم کے دیگر اہم ارکان جیسے اسٹیو بینن اور ڈین اسکیوینو بھی موجود تھے۔ جب بروسوِٹز خطاب کر رہے تھے، تو اچانک ان کی آواز لڑکھڑانے لگی اور وہ واضح طور پر بے چینی کا شکار نظر آئے۔ انہوں نے کہا، "میرے الفاظ یاد نہیں آ رہے”، جس کے بعد وہ اسٹیج پر گر گئے۔ ان کی حالت بگڑتے ہوئے دیکھ کر حاضرین میں ہلچل مچ گئی، اور فوراً لوگوں نے ان کی مدد کے لیے دوڑ لگا دی۔واقعے کے فوراً بعد بروسوِٹز کو اسٹیج سے ہٹا کر بیک اسٹیج منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس دوران، کنزرویٹو انفلوانسر جیک پوزوبیک نے ٹویٹ کیا کہ اس نے بروسوِٹز سے بیک اسٹیج بات کی تھی اور اس نے بتایا کہ یہ ایک "غشی کا حملہ” تھا۔ تاہم، ابھی تک بروسوِٹز کی حالت اور اس کے باعث ہونے والے طبی مسئلے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔

    ایلکس بروسوِٹز، جو "ایکس اسٹریٹیجیز” کے سی ای او ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ ٹرمپ کے نوجوانوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے اور ان کے پیغامات کو بہتر طریقے سے پہنچانے میں مصروف تھے۔ بروسوِٹز کی حکمتِ عملی نے ٹرمپ کو نوجوان ووٹرز کے درمیان ایک نئی مقبولیت دلائی، اور انہوں نے ٹرمپ کو "کول” بنانے کی کوشش کی، خاص طور پر اس نئے میڈیا پلیٹ فارم کی مدد سے جو نوجوانوں میں مقبول تھا۔
    alex

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کی مہم کے دوران "نئے میڈیا” کو اپنا ہتھیار بنایا، جس میں پوڈکاسٹروں اور انٹرٹینرز کے ساتھ کام کرنے کی حکمتِ عملی شامل تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو ان غیر روایتی میڈیا پلیٹ فارمز پر لانے کی کوشش کی جہاں نوجوان نسل کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بروسوِٹز نے بارون ٹرمپ، ٹرمپ کے 18 سالہ بیٹے، کے ساتھ مل کر مختلف انٹرویوز کے منصوبے تیار کیے اور اس کے ذریعے ٹرمپ کو ایک "عام انسان” کے طور پر پیش کیا جو عوام کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتا ہے اور زندگی اور سیاست پر کھل کر بات کرتا ہے۔

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کے پیغام کو نوجوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ "امریکہ فرسٹ” تحریک کے ایک سرگرم حمایتی رہے ہیں۔ اپنے پروفائل میں بروسوِٹز نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ امریکی شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے حامیوں کی مدد سے مخالف ریپبلکن سیاستدانوں کو شکست دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کی حکمتِ عملی میں یہ بات شامل تھی کہ انہیں سیاسی پوڈکاسٹروں اور کامیڈینوں کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا تاکہ وہ اپنی سیاسی پیغامات کو مؤثر طریقے سے پھیلانے میں کامیاب ہو سکیں۔

    اس وقت تک بروسوِٹز کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ان کی طبی امداد کے حوالے سے روزنامہ "ڈیلی میل” نے ٹرمپ اور "ایکس اسٹریٹیجیز” سے رابطہ کیا ہے، لیکن کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بروسوِٹز کی صحت کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور ان کے حامی اور سوشل میڈیا پر موجود افراد ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

  • ڈاکیارڈ حملہ کیس، سابق افسران کی سزائے موت  فیصلے پر عملدرآمد روکنے کا حکم امتناع ختم

    ڈاکیارڈ حملہ کیس، سابق افسران کی سزائے موت فیصلے پر عملدرآمد روکنے کا حکم امتناع ختم

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق نیوی افسران کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل سے سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا حکم امتناع ختم کر دیا۔ عدالت نے ڈاکیارڈ حملہ کیس میں سزائے موت پانے والے نیوی کے پانچ سابق افسران کی دستاویزات کے حصول کے حوالے سے دائر درخواست بھی نمٹا دی۔

    اس مقدمے کی سماعت جسٹس بابر ستار کی سربراہی میں ہوئی، جہاں عدالت نے درخواست گزار کے وکلاء کے بیان کے بعد فیصلہ سنایا۔ درخواست نیوی کے سابق افسران ارسلان نذیر ستی، محمد حماد، محمد طاہر رشید، حماد احمد اور عرفان اللہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

    درخواست گزار کے وکیل کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم نے عدالت میں کہا کہ حکومت کے حکم پر، سرکاری وکیل کی موجودگی میں انکوائری رپورٹ اور فیصلے تک رسائی دی گئی تھی، مگر انکوائری رپورٹ اور ججمنٹ کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ اور ججمنٹ دکھا دی گئی تھی اور نوٹس بھی بنا لیے گئے تھے۔نیوی حکام نے اپنی پوزیشن میں کہا کہ بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ ایک قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس کی کاپی مجرمان کو فراہم کرنا ممکن نہیں۔ تاہم، عدالت نے اس موقف کو نظر انداز کرتے ہوئے سزائے موت پانے والے مجرمان کو ان سے متعلق ریکارڈ کی حد تک رسائی دینے کا حکم دیا تھا۔

    یاد رہے کہ نیوی کے پانچ اہلکاروں کو ڈاکیارڈ حملہ کیس میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا تھا، جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ عدالت کی طرف سے ایک اہم قانونی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ کی نظر میں مجرمان کو ان کے مقدمے کی تمام دستاویزات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی صفائی میں بہتر طور پر دلائل پیش کر سکیں۔

  • خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    بنوں کے علاقے کالا خیل مستی خان میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم پر مامور ایک پولیو ورکر کو قتل کر دیا۔کرک میں پولیو ٹیم پر حملے میں پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیو ورکر اپنی معمول کی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے پولیو ورکر کو اس کے راستے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا اور اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔پولیس کے مطابق مقتول پولیو ورکر کا نام گلزار خان تھا اور وہ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری پر مامور تھا۔ گلزار خان اپنی ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا جب اسے ملزمان نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد ملزمان فوراً فرار ہو گئے اور وہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ واقعے کی حقیقی وجہ سامنے آ سکے۔پولیس نے بتایا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں اور یہ حملہ اسی قسم کی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب بنوں تھانہ صدر کی حدود میں پولیو ورکر پر فائرنگ ہوئی ہے، فائرنگ سے پولیو ورکر حیات اللہ خان زخمی ہوگیا ، زخمی ورکر کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ، واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ہے ، جس میں ایک کانسٹیبل شہید ہوگیا،کرک میں ٹیری کے علاقے شیخان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کانسٹیبل شہید ہوگیا، جبکہ پولیو ورکر زخمی ہوا۔

    یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک بھر میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت، تمام صوبوں میں پولیو ورکرز گھروں، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے دیں گے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران پولیو ورکرز کو مختلف علاقوں میں دہشت گردوں، مسلح گروپوں اور مخالفین کی طرف سے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اس نوعیت کے حملے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔پولیو ورکرز اور مہم میں شریک دیگر افراد کی حفاظت ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ورکرز کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بنوں کے شہریوں اور پولیو ورکرز کے نمائندوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کو علاقے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے اور حکومت سے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف بنوں بلکہ پورے ملک میں پولیو مہم پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس قسم کے حملے ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششیں ہیں۔ اس وقت حکومت اور مقامی اداروں کے لیے سب سے بڑی چیلنج پولیو ورکرز کی حفاظت اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو ورکرز پر حملے، صدر مملکت،وزیراعظم کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں پولیو ورکرز پر حملے کی مذمت کی ہے،صدر مملکت نے حملے میں سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ دہشت گرد ملک و قوم کے مستقبل کے دشمن ہیں ، دہشت گرد پاکستان کے عوام کو صحت مند اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے ، پاکستان کی عوام بڑھ چڑھ کر پولیو مہم میں حصہ لے، عوام سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، صدر مملکت نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

    پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے، اور اس میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے ہماری سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. قوم کو پولیو کے مرض سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہےاس قسم کی کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے اور پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی.

    گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پولیو ٹیم پر حملے کی رپورٹ طلب کر لی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،حملے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر دلی افسوس ہوا، زخمی پولیو ورکر کو ہر ممکن علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان اور انسانیت دشمن قوتوں کی سازش ہے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کیلیےڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہوں ،پولیو ٹیم پر حملے میں شہید پولیس اہلکار کی شہادت افسوسناک ہے ، پولیو ٹیمیں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں ،اس نیک مقصد کے دوران ان پولیو ٹیموں پر حملہ انہتائی شرمناک ہے ،کے پی حکومت حملے میں زخمی ہو نے والے پولیو ورکرز کو علاج کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے، حملے میں شہید کانسٹیبل کے لیے بلندی درجات اور اہلخانہ کے لیے صبرو جمیل کی دعا کرتی ہوں،