Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کرغزستان،صدر نے وزیراعظم کو ہٹا دیا

    کرغزستان،صدر نے وزیراعظم کو ہٹا دیا

    کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف نے وزیرِ اعظم اکیل بیک جاپاروف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کرغزستان کی صدارتی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اکیل بیک جاپاروف کو دوسرے عہدے پر منتقلی کے باعث ان کی وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اکیل بیک جاپاروف 2021 سے وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز تھے، اور ان کی برطرفی سے کرغزستان کی سیاسی صورتحال میں نئی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اکیل بیک جاپاروف کی حکومت کے دوران کئی اہم اقتصادی اور سیاسی فیصلے کیے گئے تھے، جن میں کرغزستان کی داخلی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں اہم موڑ آئے۔

    صدر جاپاروف کی جانب سے جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم کے عہدے کی ذمہ داری اب نائب وزیرِ اعظم عادل بیک قاسم مالیئیف کو سونپ دی گئی ہے۔ عادل بیک قاسم مالیئیف اس سے قبل نائب وزیرِ اعظم کے عہدے پر کام کر رہے تھے، اور اب انہیں وزارتِ عظمیٰ کے فرائض سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔

    کرغزستان میں حکومت کی تبدیلیاں اکثر سیاست اور معیشت پر اہم اثرات ڈالتی ہیں، اور اکیل بیک جاپاروف کی برطرفی کے فیصلے کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کی نظریں ملک کی آئندہ حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی اقدامات پر مرکوز ہیں۔

  • انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،انٹرنیٹ اہم ضرورت ہے لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹائزیشن کی جانب گامزن ہے، کرنسی کے استحکام نے انڈسٹری کو بہت فائدہ دیا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، مسائل حل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی اسپیڈ اس طرح نہیں جس طرح ہونی چاہیے، دنیا تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف جا رہی ہے،حکومت ڈیجیٹائزیشن پر قانون سازی کے لیے کام کر رہی ہے، چیلنجز کے باوجود ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے، معیشت اب بہتر ہو رہی ہے تو اُمید کرتے ہیں باقی چیزیں بھی بہتر ہوں گی۔

    شزہ فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ امیدہے اگلے 5 سالوں میں ہم فائبرائزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے، رائٹ آف وے پر بڑی توجہ سے کام ہوا ہے،ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ نظر آئے گا جبکہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،آئی ٹی کی تربیت حاصل کرنے والےنوجوانوں کومبارکبادپیش کرتی ہوں،نوجوانوں کے بہترمستقبل کیلئے ٹیکنالوجی سے آراستہ کرناہوگا،آئی ٹی کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دے کرروزگار کے مواقع مہیا کر رہے ہیں،سائبرسکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں،حکومت آئی ٹی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا، جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، ہر پاکستانی کی ڈیجیٹل شناخت بنانے کے لیے قانون سازی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش ہو گا،بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے جسے وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ پیش کریں گی،ڈیجیٹل شناخت بنانے کے بل کا مقصد سماجی، اقتصادی اور گورننس ڈیٹا تیار کرنا ہے،ایجنڈے کے مطابق قانون سازی ’پاکستان کو ڈیجیٹل قوم میں تبدیل کرنے، ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل گورننس کو فعال کرنے کے لیے فراہم کرے گی،ذرائع کے مطابق بل کا مقصد معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا اور ای گورننس کو فروغ دینا ہے، حکومت 2 نئی باڈیز بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

    بل کے متن کے مطابق ایک باڈی نیشنل ڈیجیٹل کمیشن این ڈی سی ہو گی جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کریں گے، باڈی میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور پی ٹی اے کے سربراہان شامل ہوں گے،دوسری باڈی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ہو گی جس کی قیادت صنعت کے اعلیٰ ماہرین کریں گے، نئے نظام کے تحت ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنائی جائے گی،بل کے متن کے مطابق شناخت میں فرد کی صحت، اثاثوں اور دیگر سماجی اشاریوں کے بارے میں ڈیٹا شامل ہو گا، شناختی کارڈ، لینڈ ریکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور صحت کے ریکارڈ کا انتظام کرنے والے محکموں تک رسائی بہتر بنانا ہے، ڈیجیٹلائزیشن کی کوشش سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی بہتری لائے گی، خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہدف پر مبنی منصوبے دیے جائیں گے۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

  • تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی میں ملوث نائجیرین باشندوں کے 6 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ طلبہ کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری ایک اہم کارروائی تھی جو تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو روکنے کے لئے کی گئی۔

    اے این ایف کے حکام کے مطابق، اسلام آباد میں آپریشن کے دوران پہلے ایک نائجیرین باشندے کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کا انکشاف کیا، جن میں افریقی ملک نائجیریا کے باشندے شامل تھے۔ اس معلومات کی بنیاد پر اے این ایف نے سیکٹر جی 13 میں چھاپہ مارا، جہاں ایک ہوٹل کے قریب پانچ مزید نائجیرین باشندے گرفتار کیے گئے۔حکام نے بتایا کہ ملزمان کے فلیٹ پر چھاپے کے دوران 135 گرام کوکین اور 3.2 کلو گرام آئس برآمد ہوئی۔ ملزمان نے تفتیش میں اعتراف کیا کہ وہ ہاسٹلز اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات فراہم کر رہے تھے۔

    اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث غیر ملکیوں کی بڑی تعداد افریقی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ منشیات اسمگلرز مختلف نئے اور خطرناک طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔اے این ایف نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی اسمگلنگ اور سپلائی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ اس گھناونے کاروبار کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

    یہ گرفتاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم قدم ہے، اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ تعلیمی ادارے محفوظ رہیں۔

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش گرفتار، 5 کلو 100 گرام چرس برآمد

    آسٹریلیا،ایئر لائن کا ملازم شیمپو میں منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اچھی بات ہے مذاکرات کی انہوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے لیکن نکلنا کچھ نہیں کیونکہ قبر ایک اور بندے دو ہیں اور صرف ایک نے اندر جانا ہے،اگر مذاکراتوں سے کچھ نہ نکلا تو پھر جوڈو کراٹے اور بنکاک کے شعلے ہیں، اور بغداد کی راتیں ہیں اس ملک میں،26 تاریخ ایک خوفناک،وحشت ناک اور دہشت ناک ظلم و ستم کا دن تھا، جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پہلے ہی کہا تھا 30 دسمبر تک عدم استحکام ہو گا،خونی 26 نومبر گزری ہے، سیاسی طور پر انتہائی عدم استحکام ہے، حالات بہتری کی طرف جانے چاہئے، تحریک انصاف جانے اور حکومت جانے،مذاکرات کا حامی تھا اور رہوں گا

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے آیا ہوں ہر بندہ کہتا ہے خدا پاکستان کو محفوظ رکھے،عمران خان سے لمبی ملاقات ہوئی، باہر آ کر میں نے سوچا شارٹ ہی رکھو تو بہتر ہے،عمران خان نے ملاقات میں کہا کہ میں اور آپ ایک ہیں اور ہمارا مقصد ایک اور ایک 11 ہے جو بہتری کا نمبر ہے،بہتری کے‌حالات نکلنے چاہئے. حالات سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں، میں مذاکرات کا حامی تھا اور حامی ہوں، مذاکرات بہت اچھی چیز ہے، دنیا میں جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، میرا صرف ایک آدمی سے تعلق ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی ہے باقی میں کسی کو نہیں جانتا،

  • ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو کے خلاف 2024 کی آخری مہم کے آغاز کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ملک کو اس موذی بیماری سے مکمل طور پر نجات مل سکے۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا: "ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہمارا کوئی بھی بچہ پولیو سے محفوظ نہ رہے۔ 64 پولیو کے کیسز صرف اس سال رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پولیو کے خلاف جاری اس مہم میں ہر شہری کا کردار انتہائی اہم ہے۔”آصفہ بھٹو نے مزید کہا کہ "یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچہ پانچ سال سے کم عمر کو ویکسین ملے۔ آپ کے ایک چھوٹے سے اقدام سے ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔”

    پولیو مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی، جس میں تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا مقصد ہے۔ آصفہ بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین کے بارے میں اپنے دوستوں، خاندان اور ہمسایوں میں آگاہی پیدا کریں اور اس قومی مہم میں حصہ لیں۔”ہم سب کی کوششوں سے ہی ہم پولیو کو شکست دے سکتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "یہ مہم صرف حکومت کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ پولیو کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو اور ہر بچے کو ویکسین کے قطرے پلوانے میں مدد کرے۔ اگر ہم نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، تو ہمیں اجتماعی طور پر کوشش کرنی ہوگی۔”

    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور دیگر ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔ آصفہ بھٹو نے اس مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ محفوظ ہو گا، تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا: "ہم سب مل کر اپنے بچوں کو پولیو سے بچا سکتے ہیں، اور پاکستان کو اس بیماری سے آزاد کر سکتے ہیں۔”پولیو کے قطرے نہ صرف بچوں کی زندگیوں کو بچاتے ہیں بلکہ ایک بہتر، صحت مند پاکستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ بھر میں سال کی آخری انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہو گئی ہے،محکمۂ صحت سندھ کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی،مہم کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، 80 ہزار فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے،انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے،پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے 63 کیسز میں سے 17 کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں،محکمۂ صحت سندھ نے والدین سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے بچوں میں قوت مدافعت مضبوط ہو گی،محکمۂ صحت سندھ نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے رہ جانے والے بچوں کے والدین کو ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،پاکستان اور افغانستان میں پولیو ابھی بھی موجود ہے اس لیے میڈیا، کمیونٹی رہنماؤں اور علماء سے انسدادِ پولیو مہم کی حمایت کی درخواست ہے۔

  • شہباز شریف،حمزہ کیخلاف رمضان شوگر مل کیس،سماعت  ملتوی

    شہباز شریف،حمزہ کیخلاف رمضان شوگر مل کیس،سماعت ملتوی

    لاہور: اینٹی کرپشن کورٹ نے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر مل کے مقدمے کی سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    عدالت میں اس مقدمے کی سماعت اس وقت نہیں ہو سکی جب عدالت کے جج کی عدم دستیابی کی وجہ سے کیس کی کارروائی روک دی گئی۔مقدمے میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر الزام ہے کہ انہوں نے رمضان شوگر مل کے ذریعے غیر قانونی طور پر فوائد حاصل کیے۔ تاہم، حمزہ شہباز اس سماعت میں عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جب کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی طرف سے ان کے نمائندے انوار حسین عدالت میں پیش ہوئے۔

    یاد رہے کہ لاہور کی احتساب عدالت کے جج نے رمضان شوگر مل ریفرنس کے کیس کو اینٹی کرپشن کورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس مقدمے میں دونوں رہنماؤں کے خلاف مختلف نوعیت کی کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔کیس کی آئندہ سماعت 23 دسمبر 2024 کو ہوگی۔

  • داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    ممبئی داؤد ابراہیم کے مبینہ اہم ساتھی دانش مرچنٹ، جسے دانش چکنا بھی کہا جاتا ہے، کو منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

    مرچنٹ کو اس کے ساتھی قادر غلام شیخ کے ہمراہ گرفتار کیا گیا ہے۔ مرچنٹ کو ڈونگری علاقے میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی سرگرمیوں کا انچارج سمجھا جاتا ہے اور پولیس کے مطابق وہ اس کیس میں مطلوب ملزم تھا۔ممبئی پولیس کے ذرائع کے مطابق مرچنٹ کی گرفتاری ایک طویل تفتیش کے بعد عمل میں آئی۔ یہ تفتیش گزشتہ ماہ دو ملزمان محمد عاشق الرحمن اور ریحان شکیل انصاری کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی۔این ڈی ٹی وی کے مطابق، گرفتاریوں کا یہ سلسلہ 8 نومبر کو شروع ہوا، جب مرین لائنز سٹیشن کے قریب سے 144 گرام منشیات کے ساتھ عاشق الرحمان کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران عاشق نے بتایا کہ یہ منشیات ڈونگری میں انصاری سے حاصل کی گئی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے ریحان شکیل انصاری کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے مزید 55 گرام منشیات برآمد کیں۔انصاری نے تفتیش کے دوران بتایا کہ یہ منشیات دانش مرچنٹ اور اس کے ساتھی قادر فانٹا نے فراہم کی تھیں۔ پولیس نے اس معلومات کی بنیاد پر مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش شروع کی۔

    پولیس کئی ہفتوں سے مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش کر رہی تھی۔ 13 دسمبر کو ایک مخبر کی اطلاع پر پولیس نے ڈونگری علاقے میں چھاپہ مارا اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایک محتاط آپریشن کے ذریعے ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے منشیات کے اس ریکٹ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس سے پہلے، 2019 میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے ڈونگری میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی فیکٹری کو ختم کر دیا تھا اور اس کارروائی میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی تھیں۔ اس وقت دانش مرچنٹ کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا تھا، اور وہ حالیہ رہائی تک جیل میں رہا تھا۔ پولیس کے مطابق مرچنٹ اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری داؤد ابراہیم کے منشیات کے نیٹ ورک کو مزید کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان ملزمان کی گرفتاری کے بعد یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید اہم ملزمان کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

    ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

    داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

  • عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے لمز یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلائمٹ فنانس ہی کلائمٹ جسٹس ہے موسمیاتی ایمرجنسی کا پاکستان کو سامنا ہے پاکستان دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے اثر انداز ہے عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ 90 کی دہائی میں انڈسٹریوں کو بند کرنے سے لیکر دیگر عوامل پر بات کی گئی عمل درآمد کون کرے گا اس پر بات نہیں ہوئی ، کلائمٹ فنانس پر بات ہی نہیں ہوئی نیچر فنانس کے بغیر موسمیاتی ایمرجنسی سے لڑا نہیں جاسکتا،فوڈ سیکیورٹی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، واٹر سیکورٹی سمیت دیگر عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہے،اربن پلاننگ ، ایگریکلچرل پلاننگ پر بات کرنا ہوگی گذشتہ 7 سال میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا کیسز میں عدالتوں نے ہدایات جاری کیں لیکن گراونڈ پر کچھ نہیں ہوا یہ دیکھا نہیں گیا کہ ریسورس ہے کہ نہیں، حکومت نے بھی اس کو فوکس نہیں کیا، ہمارے ہاں ایڈمنسٹریشن کے مسائل ہیں باکو میں حکومت نے اچھی کوشش کی کلائمٹ ڈپلومیسی پر جلدی کام کرنے کی ضرورت ہے حکومت کے پاس ابھی لگتا ہے اتنے پیسے نہیں ہیں 2017 میں قانون بنا لیکن ابھی تک اتھارٹی نہیں بنی ہوسکتا ہے جلد بن جائے،2017 کے ایکٹ کے مطابق فنڈ بننا تھا۔بجٹ میں بھی نہیں اس کا ذکر کیا گیا عدالتیں سمجھتی ہیں کہ کلائمٹ فنانس کو بنیادی حق سمجھنا ہوگا یہ انسان کا بنیادی حق ہے.

    سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    کراچی،نوجوان راہ چلتی خاتون کے سامنے برہنہ ہو گیا، ویڈیو وائرل

  • سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں  توسیع

    سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو سابق ڈی جی شہزاد سلیم کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں 29 جنوری تک توسیع کر دی ہے

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہزاد سلیم کی نیب انکوائری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ نیب کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی انکوائری شروع کی ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ جی انکوائری شروع کی گئی ہے۔ جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا کہ چارج شیٹ کیا ہے کہ شہزاد سلیم غلط طریقے سے نیب میں بھرتی ہوئے،اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ وہ آرمڈ فورسز میں سرونگ افسر تھے اور ڈیپوٹیشن پر نیب میں آئے، شہزاد سلیم نیب میں ڈیپوٹیشن پر آئے اور مستقل ملازمت کر لی جبکہ شہزاد سلیم کا تجربہ ناکافی تھا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ تجربے کی کمی نیب کے علم میں کب آئی؟ نیب کو اب احساس ہوا ہے کہ شہزاد سلیم کا تجربہ پورا نہیں ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سابق ڈی جی شہزاد سلیم 25 سال سے نیب میں تھے۔

  • عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی ،ہم جنس پرست اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر، رچرڈ گرینل کو "ایلچی برائے خصوصی مشنز” مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل، جو کہ ایک معروف ہم جنس پرست شخصیت ہیں، کچھ دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ 26 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا کہ "عمران خان کو رہا کیا جائے”۔ ان کے اس مطالبے پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

    رچرڈ گرینل ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں خواتین کے حوالے سے بے ہودہ ٹوئٹس، ان کی ہم جنس پرستی اور بعض سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے شامل ہیں۔ ان کا سیاسی سفر خاصا متنازعہ رہا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران جرمنی میں امریکا کے سفیر رہے، اور اس دوران ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق، رچرڈ گرینل وزیر خارجہ بننے کی امید رکھتے تھے اور انہیں ٹرمپ کی طرف سے وزارت خارجہ میں بڑی پوزیشن دینے کی توقع تھی۔ وہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جہاں ان کے بیانات اور ٹوئٹس نے انہیں متعدد بار تنازعات میں گھیر لیا۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ رچرڈ گرینل وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے عالمی سطح پر اہم مقامات پر کام کریں گے۔ گرینل نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکا کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور انہیں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گرینل کو وینزویلا کے لیے بطور ایلچی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، خاص طور پر 2023 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں، جنہیں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا گیا تھا۔

    رچرڈ گرینل کے حوالے سے کئی تنازعات نے سر اٹھایا ہے، جن میں ان کی خواتین کے بارے میں کی جانے والی بے ہودہ ٹوئٹس شامل ہیں۔ 2012 میں جب وہ خارجہ پالیسی کے مشیر بنے، تو ان کی ٹوئٹس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ٹوئٹس میں خواتین خصوصاً ڈیموکریٹس اور لبرلز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ان کو بعد میں یہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنا پڑے۔ان کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قدامت پسند حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا، اور ان کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تاہم، گرینل نے ہمیشہ اپنی جنسیت کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل کی نئی ذمہ داریوں پر امریکی سیاست میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازعہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کو سراہ رہے ہیں۔ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی لیڈر سوزن ای رائس نے گرینل کو سب سے زیادہ "خراب بے ایمان” افراد میں سے ایک قرار دیا ہے، جو کہ ان کے سیاسی مخالفین کی نظر میں گرینل کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔