Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی میں ملوث نائجیرین باشندوں کے 6 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ طلبہ کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری ایک اہم کارروائی تھی جو تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو روکنے کے لئے کی گئی۔

    اے این ایف کے حکام کے مطابق، اسلام آباد میں آپریشن کے دوران پہلے ایک نائجیرین باشندے کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کا انکشاف کیا، جن میں افریقی ملک نائجیریا کے باشندے شامل تھے۔ اس معلومات کی بنیاد پر اے این ایف نے سیکٹر جی 13 میں چھاپہ مارا، جہاں ایک ہوٹل کے قریب پانچ مزید نائجیرین باشندے گرفتار کیے گئے۔حکام نے بتایا کہ ملزمان کے فلیٹ پر چھاپے کے دوران 135 گرام کوکین اور 3.2 کلو گرام آئس برآمد ہوئی۔ ملزمان نے تفتیش میں اعتراف کیا کہ وہ ہاسٹلز اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات فراہم کر رہے تھے۔

    اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث غیر ملکیوں کی بڑی تعداد افریقی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ منشیات اسمگلرز مختلف نئے اور خطرناک طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔اے این ایف نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی اسمگلنگ اور سپلائی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ اس گھناونے کاروبار کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

    یہ گرفتاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم قدم ہے، اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ تعلیمی ادارے محفوظ رہیں۔

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش گرفتار، 5 کلو 100 گرام چرس برآمد

    آسٹریلیا،ایئر لائن کا ملازم شیمپو میں منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اچھی بات ہے مذاکرات کی انہوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے لیکن نکلنا کچھ نہیں کیونکہ قبر ایک اور بندے دو ہیں اور صرف ایک نے اندر جانا ہے،اگر مذاکراتوں سے کچھ نہ نکلا تو پھر جوڈو کراٹے اور بنکاک کے شعلے ہیں، اور بغداد کی راتیں ہیں اس ملک میں،26 تاریخ ایک خوفناک،وحشت ناک اور دہشت ناک ظلم و ستم کا دن تھا، جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پہلے ہی کہا تھا 30 دسمبر تک عدم استحکام ہو گا،خونی 26 نومبر گزری ہے، سیاسی طور پر انتہائی عدم استحکام ہے، حالات بہتری کی طرف جانے چاہئے، تحریک انصاف جانے اور حکومت جانے،مذاکرات کا حامی تھا اور رہوں گا

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے آیا ہوں ہر بندہ کہتا ہے خدا پاکستان کو محفوظ رکھے،عمران خان سے لمبی ملاقات ہوئی، باہر آ کر میں نے سوچا شارٹ ہی رکھو تو بہتر ہے،عمران خان نے ملاقات میں کہا کہ میں اور آپ ایک ہیں اور ہمارا مقصد ایک اور ایک 11 ہے جو بہتری کا نمبر ہے،بہتری کے‌حالات نکلنے چاہئے. حالات سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں، میں مذاکرات کا حامی تھا اور حامی ہوں، مذاکرات بہت اچھی چیز ہے، دنیا میں جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، میرا صرف ایک آدمی سے تعلق ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی ہے باقی میں کسی کو نہیں جانتا،

  • ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو کے خلاف 2024 کی آخری مہم کے آغاز کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ملک کو اس موذی بیماری سے مکمل طور پر نجات مل سکے۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا: "ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہمارا کوئی بھی بچہ پولیو سے محفوظ نہ رہے۔ 64 پولیو کے کیسز صرف اس سال رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پولیو کے خلاف جاری اس مہم میں ہر شہری کا کردار انتہائی اہم ہے۔”آصفہ بھٹو نے مزید کہا کہ "یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچہ پانچ سال سے کم عمر کو ویکسین ملے۔ آپ کے ایک چھوٹے سے اقدام سے ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔”

    پولیو مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی، جس میں تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا مقصد ہے۔ آصفہ بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین کے بارے میں اپنے دوستوں، خاندان اور ہمسایوں میں آگاہی پیدا کریں اور اس قومی مہم میں حصہ لیں۔”ہم سب کی کوششوں سے ہی ہم پولیو کو شکست دے سکتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "یہ مہم صرف حکومت کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ پولیو کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو اور ہر بچے کو ویکسین کے قطرے پلوانے میں مدد کرے۔ اگر ہم نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، تو ہمیں اجتماعی طور پر کوشش کرنی ہوگی۔”

    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور دیگر ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔ آصفہ بھٹو نے اس مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ محفوظ ہو گا، تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا: "ہم سب مل کر اپنے بچوں کو پولیو سے بچا سکتے ہیں، اور پاکستان کو اس بیماری سے آزاد کر سکتے ہیں۔”پولیو کے قطرے نہ صرف بچوں کی زندگیوں کو بچاتے ہیں بلکہ ایک بہتر، صحت مند پاکستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ بھر میں سال کی آخری انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہو گئی ہے،محکمۂ صحت سندھ کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی،مہم کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، 80 ہزار فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے،انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے،پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے 63 کیسز میں سے 17 کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں،محکمۂ صحت سندھ نے والدین سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے بچوں میں قوت مدافعت مضبوط ہو گی،محکمۂ صحت سندھ نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے رہ جانے والے بچوں کے والدین کو ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،پاکستان اور افغانستان میں پولیو ابھی بھی موجود ہے اس لیے میڈیا، کمیونٹی رہنماؤں اور علماء سے انسدادِ پولیو مہم کی حمایت کی درخواست ہے۔

  • شہباز شریف،حمزہ کیخلاف رمضان شوگر مل کیس،سماعت  ملتوی

    شہباز شریف،حمزہ کیخلاف رمضان شوگر مل کیس،سماعت ملتوی

    لاہور: اینٹی کرپشن کورٹ نے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر مل کے مقدمے کی سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    عدالت میں اس مقدمے کی سماعت اس وقت نہیں ہو سکی جب عدالت کے جج کی عدم دستیابی کی وجہ سے کیس کی کارروائی روک دی گئی۔مقدمے میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر الزام ہے کہ انہوں نے رمضان شوگر مل کے ذریعے غیر قانونی طور پر فوائد حاصل کیے۔ تاہم، حمزہ شہباز اس سماعت میں عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جب کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی طرف سے ان کے نمائندے انوار حسین عدالت میں پیش ہوئے۔

    یاد رہے کہ لاہور کی احتساب عدالت کے جج نے رمضان شوگر مل ریفرنس کے کیس کو اینٹی کرپشن کورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس مقدمے میں دونوں رہنماؤں کے خلاف مختلف نوعیت کی کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔کیس کی آئندہ سماعت 23 دسمبر 2024 کو ہوگی۔

  • داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    ممبئی داؤد ابراہیم کے مبینہ اہم ساتھی دانش مرچنٹ، جسے دانش چکنا بھی کہا جاتا ہے، کو منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

    مرچنٹ کو اس کے ساتھی قادر غلام شیخ کے ہمراہ گرفتار کیا گیا ہے۔ مرچنٹ کو ڈونگری علاقے میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی سرگرمیوں کا انچارج سمجھا جاتا ہے اور پولیس کے مطابق وہ اس کیس میں مطلوب ملزم تھا۔ممبئی پولیس کے ذرائع کے مطابق مرچنٹ کی گرفتاری ایک طویل تفتیش کے بعد عمل میں آئی۔ یہ تفتیش گزشتہ ماہ دو ملزمان محمد عاشق الرحمن اور ریحان شکیل انصاری کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی۔این ڈی ٹی وی کے مطابق، گرفتاریوں کا یہ سلسلہ 8 نومبر کو شروع ہوا، جب مرین لائنز سٹیشن کے قریب سے 144 گرام منشیات کے ساتھ عاشق الرحمان کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران عاشق نے بتایا کہ یہ منشیات ڈونگری میں انصاری سے حاصل کی گئی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے ریحان شکیل انصاری کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے مزید 55 گرام منشیات برآمد کیں۔انصاری نے تفتیش کے دوران بتایا کہ یہ منشیات دانش مرچنٹ اور اس کے ساتھی قادر فانٹا نے فراہم کی تھیں۔ پولیس نے اس معلومات کی بنیاد پر مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش شروع کی۔

    پولیس کئی ہفتوں سے مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش کر رہی تھی۔ 13 دسمبر کو ایک مخبر کی اطلاع پر پولیس نے ڈونگری علاقے میں چھاپہ مارا اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایک محتاط آپریشن کے ذریعے ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے منشیات کے اس ریکٹ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس سے پہلے، 2019 میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے ڈونگری میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی فیکٹری کو ختم کر دیا تھا اور اس کارروائی میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی تھیں۔ اس وقت دانش مرچنٹ کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا تھا، اور وہ حالیہ رہائی تک جیل میں رہا تھا۔ پولیس کے مطابق مرچنٹ اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری داؤد ابراہیم کے منشیات کے نیٹ ورک کو مزید کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان ملزمان کی گرفتاری کے بعد یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید اہم ملزمان کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

    ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

    داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

  • عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے لمز یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلائمٹ فنانس ہی کلائمٹ جسٹس ہے موسمیاتی ایمرجنسی کا پاکستان کو سامنا ہے پاکستان دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے اثر انداز ہے عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ 90 کی دہائی میں انڈسٹریوں کو بند کرنے سے لیکر دیگر عوامل پر بات کی گئی عمل درآمد کون کرے گا اس پر بات نہیں ہوئی ، کلائمٹ فنانس پر بات ہی نہیں ہوئی نیچر فنانس کے بغیر موسمیاتی ایمرجنسی سے لڑا نہیں جاسکتا،فوڈ سیکیورٹی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، واٹر سیکورٹی سمیت دیگر عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہے،اربن پلاننگ ، ایگریکلچرل پلاننگ پر بات کرنا ہوگی گذشتہ 7 سال میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا کیسز میں عدالتوں نے ہدایات جاری کیں لیکن گراونڈ پر کچھ نہیں ہوا یہ دیکھا نہیں گیا کہ ریسورس ہے کہ نہیں، حکومت نے بھی اس کو فوکس نہیں کیا، ہمارے ہاں ایڈمنسٹریشن کے مسائل ہیں باکو میں حکومت نے اچھی کوشش کی کلائمٹ ڈپلومیسی پر جلدی کام کرنے کی ضرورت ہے حکومت کے پاس ابھی لگتا ہے اتنے پیسے نہیں ہیں 2017 میں قانون بنا لیکن ابھی تک اتھارٹی نہیں بنی ہوسکتا ہے جلد بن جائے،2017 کے ایکٹ کے مطابق فنڈ بننا تھا۔بجٹ میں بھی نہیں اس کا ذکر کیا گیا عدالتیں سمجھتی ہیں کہ کلائمٹ فنانس کو بنیادی حق سمجھنا ہوگا یہ انسان کا بنیادی حق ہے.

    سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    کراچی،نوجوان راہ چلتی خاتون کے سامنے برہنہ ہو گیا، ویڈیو وائرل

  • سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں  توسیع

    سابق ڈی جی شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو سابق ڈی جی شہزاد سلیم کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے کے حکم میں 29 جنوری تک توسیع کر دی ہے

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہزاد سلیم کی نیب انکوائری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ نیب کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی انکوائری شروع کی ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ جی انکوائری شروع کی گئی ہے۔ جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا کہ چارج شیٹ کیا ہے کہ شہزاد سلیم غلط طریقے سے نیب میں بھرتی ہوئے،اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ وہ آرمڈ فورسز میں سرونگ افسر تھے اور ڈیپوٹیشن پر نیب میں آئے، شہزاد سلیم نیب میں ڈیپوٹیشن پر آئے اور مستقل ملازمت کر لی جبکہ شہزاد سلیم کا تجربہ ناکافی تھا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ تجربے کی کمی نیب کے علم میں کب آئی؟ نیب کو اب احساس ہوا ہے کہ شہزاد سلیم کا تجربہ پورا نہیں ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سابق ڈی جی شہزاد سلیم 25 سال سے نیب میں تھے۔

  • عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی ،ہم جنس پرست اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر، رچرڈ گرینل کو "ایلچی برائے خصوصی مشنز” مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل، جو کہ ایک معروف ہم جنس پرست شخصیت ہیں، کچھ دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ 26 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا کہ "عمران خان کو رہا کیا جائے”۔ ان کے اس مطالبے پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

    رچرڈ گرینل ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں خواتین کے حوالے سے بے ہودہ ٹوئٹس، ان کی ہم جنس پرستی اور بعض سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے شامل ہیں۔ ان کا سیاسی سفر خاصا متنازعہ رہا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران جرمنی میں امریکا کے سفیر رہے، اور اس دوران ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق، رچرڈ گرینل وزیر خارجہ بننے کی امید رکھتے تھے اور انہیں ٹرمپ کی طرف سے وزارت خارجہ میں بڑی پوزیشن دینے کی توقع تھی۔ وہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جہاں ان کے بیانات اور ٹوئٹس نے انہیں متعدد بار تنازعات میں گھیر لیا۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ رچرڈ گرینل وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے عالمی سطح پر اہم مقامات پر کام کریں گے۔ گرینل نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکا کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور انہیں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گرینل کو وینزویلا کے لیے بطور ایلچی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، خاص طور پر 2023 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں، جنہیں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا گیا تھا۔

    رچرڈ گرینل کے حوالے سے کئی تنازعات نے سر اٹھایا ہے، جن میں ان کی خواتین کے بارے میں کی جانے والی بے ہودہ ٹوئٹس شامل ہیں۔ 2012 میں جب وہ خارجہ پالیسی کے مشیر بنے، تو ان کی ٹوئٹس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ٹوئٹس میں خواتین خصوصاً ڈیموکریٹس اور لبرلز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ان کو بعد میں یہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنا پڑے۔ان کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قدامت پسند حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا، اور ان کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تاہم، گرینل نے ہمیشہ اپنی جنسیت کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل کی نئی ذمہ داریوں پر امریکی سیاست میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازعہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کو سراہ رہے ہیں۔ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی لیڈر سوزن ای رائس نے گرینل کو سب سے زیادہ "خراب بے ایمان” افراد میں سے ایک قرار دیا ہے، جو کہ ان کے سیاسی مخالفین کی نظر میں گرینل کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

  • کراچی،نوجوان راہ چلتی خاتون کے سامنے برہنہ ہو گیا، ویڈیو وائرل

    کراچی،نوجوان راہ چلتی خاتون کے سامنے برہنہ ہو گیا، ویڈیو وائرل

    کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے ایک اور پریشان کن واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک اوباش نوجوان نے راہ چلتی خاتون کو ہراساں کرنے کے لیے مکمل برہنہ گیا

    واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں نوجوان کی غیر اخلاقی حرکت اور اُس کے دوستوں کی جانب سے اُسے دوبارہ ایسا کرنے کی ترغیب دینے کی ویڈیو واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک خاتون جب اس سڑک سے گزر رہی ہوتی ہے تو اوباش نوجوان برہنہ ہو جاتا ہے، اور اس دوران وہاں دیگر افراد بھی آ جا رہے تھے، مگر ان میں سے کسی نے بھی نوجوان کی حرکت کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ نوجوان کے دوستوں نے اُسے مزید ایسی حرکت کرنے کے لیے کہا، جس کے بعد وہ دوبارہ برہنہ ہو جاتا ہے۔

    ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعہ کی تفصیلات میں کہا کہ متاثرہ خاتون یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نے ابھی تک کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کرائی۔ تاہم، پولیس کی جانب سے اوباش نوجوان کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے

    اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد شہریوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اوباش افراد کے خلاف سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد خواتین کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری طور پر پولیس کی موجودگی میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو تحفظ محسوس ہو اور ایسے اوباش افراد کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے سرگرم تنظیموں نے بھی اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔

    ایسی صورتحال میں جب خواتین سڑکوں پر چلتے ہوئے بھی محفوظ نہیں ہیں، شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید طاقتور بنایا جائے تاکہ ایسے اوباش افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔کیا ہم اپنے معاشرتی ذمہ داریوں کو پورا کر رہے ہیں؟ اس واقعے نے ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ جہاں ایک طرف قانون کی گرفت اہم ہے، وہیں ہمیں اپنے معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ خواتین کو عزت اور تحفظ مل سکے۔

    خاتون کے سامنے برہنہ ہونے والا نوجوان گرفتار،معافی مانگ لی
    کراچی کے علاقے سرجانی میں یوسف گوٹھ کے مقام پر خاتون کے سامنے نازیبا حرکات کرنے والے نوجوان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے ملزم کی شناخت کی اور اسے گرفتار کرلیا۔پولیس نے ویڈیو کی مدد سے نوجوان کی شناخت کی اور اسے گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق کراچی سے ہے، اور اس کی گرفتاری کے بعد مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ملزم کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی اور اسے قانون کے مطابق سخت سزا دلوانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسی حرکات کی جرات نہ ہو۔

    پولیس کی حراست میں ملزم نے اپنا بیان دیا جس میں اس نے اس نازیبا حرکت کا اعتراف کیا۔ نوجوان نے کہا کہ "میرے دوستوں نے مجھے اس حرکت پر اکسایا تھا اور وہ میری قمیض چھین کر پھاڑ گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔” ملزم نے اپنی حرکت کو اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ سب میں نے شیطانی حرکت کے تحت کیا، اور میری قمیض پھٹنے کی وجہ سے ویڈیو بھی بنائی گئی۔”نوجوان نے مزید کہا کہ "اب میں اپنی تمام ماؤں، بہنوں اور اہل خانہ سے اس غلطی پر معذرت خواہ ہوں اور آئندہ اس طرح کی کوئی حرکت نہیں کروں گا۔” اس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی حرکت پر نادم ہے اور اسے گہری شرمندگی ہے۔

    اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بہت سے افراد نے ملزم کی نازیبا حرکت کی شدید مذمت کی اور پولیس کی فوری کارروائی کو سراہا۔ بعض افراد نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ نوجوان کو ایسی حرکات کی اجازت دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے تاکہ اس قسم کے واقعات کا خاتمہ ہو سکے۔

    اس واقعے کے بعد خاتون نے بھی پولیس سے شکایت درج کرائی تھی اور اس بات کی درخواست کی تھی کہ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی خاتون کو اس طرح کی ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خاتون نے کہا کہ "میں چاہتی ہوں کہ اس واقعے کی پوری تحقیقات کی جائیں اور اس ملزم کو اس کے عمل کی سزا دی جائے۔”پولیس نے اس واقعے کی تفتیش کے بعد کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملزم کو قانون کے مطابق سزا ملے اور اس کے خلاف تمام قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ خواتین کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    آج، 16 دسمبر 2024ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس بیت گئے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب 1971ء میں مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش الگ ہو گیا تھا۔ اس سانحے کو تاریخ میں "سقوط ڈھاکا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے 24 سال بعد، پاکستان کے مشرقی بازو کا علیحدہ ہونا ایک دردناک اور اہم واقعہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ کو بدل دیا۔

    سقوط ڈھاکا ایک سنگین سانحہ تھا جس میں لاکھوں افراد کی جانیں گئیں، لاکھوں خاندان برباد ہوئے اور پاکستان کا جغرافیائی وجود متاثر ہوا۔ اس دن کا دلی غم آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں تازہ ہے، اور یہ دن ہمیں اپنے ماضی کے جمہوری، سیاسی اور سماجی تنازعات سے سبق سکھاتا ہے۔سقوط ڈھاکا کے موقع پر بھارتی فوج نے بنگلہ دیش کی آزادی کی حمایت میں بھرپور مداخلت کی تھی۔ بھارتی فوج نے اس دوران نہ صرف بنگلادیش کی آزادی کے لیے لڑائی کی بلکہ ڈھاکا ٹیلی ویژن کی عمارت سے جدید مشینری بھی چرا کر اپنے ساتھ لے گئی تھی،

    اگرچہ بنگلہ دیش آج ایک آزاد ملک کے طور پر موجود ہے، لیکن 1971ء کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور تقسیم کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی، وہ وقت کے ساتھ بتدریج کم ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، تاہم سقوط ڈھاکا کی تلخ یادیں اور وہ دور کی سیاسی حقیقتیں دونوں قوموں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

    آج جب ہم 1971ء کی اس قومی سانحے کو یاد کرتے ہیں تو یہ وقت ہمیں اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور ایسی خامیوں کو دور کریں جو ملک کی یکجہتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنی تقدیر کے فیصلے میں ذمہ داری اور ہوشیاری کا سبق دیتا ہے۔سقوط ڈھاکا ایک ایسا دردناک واقعہ تھا جس نے پاکستانی قوم کو گہرے سیاسی اور سماجی زخم دیے، مگر اس دن کی یادیں ہمیں ایک مضبوط اور یکجا پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔