Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سانحہ اے پی ایس،  دس برس بیت گئے،زخم آج بھی تازہ

    سانحہ اے پی ایس، دس برس بیت گئے،زخم آج بھی تازہ

    سانحہ آرمی پبلک سکول کی دسویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

    16 دسمبر سال 2014 کو امن اور تعلیم کے دشمنوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا، دہشت گرد سکول کے عقبی راستے سے صبح 10 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئے، اس وقت آٹھویں ،نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم آڈیٹوریم میں تربیت میں مشغول تھے،دہشت گردوں نے ہال میں داخل ہوتے ہی ہر طرف اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور اے پی ایس کی دیواروں کو خون سے رنگ دیا، دہشتگردوں کی فائرنگ سے پرنسپل ،اساتذہ ،طلبہ اور دیگر عملے سمیت 140 سے زائد افراد شہید ہوئے۔

    سکیورٹی فورسز کےجوانوں نے بھرپورکارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا، سانحہ اے پی ایس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئی روح پھونکی، نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا اور قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوا،بعدازاں اے پی ایس حملے میں ملوث 6 دہشتگردوں کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا جنہیں ملٹری کورٹس نے موت کی سزائیں بھی سنائی تھیں،سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اور قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے نتیجے میں جہاں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوا وہیں علم دشمن عناصر کے ناپاک ارادے بھی خاک میں مل گئے،سانحہ آرمی پبلک سکول کو تو دس سال بیت گئے لیکن اس افسوسناک واقعہ کی یادیں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگرسیاسی شخصیات نے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کو 10ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے ہمارے بچوں اور قوم کے مستقبل پر حملہ کیا، دہشت گردوں نے معصوم بچوں سمیت شہریوں کو سفاکیت سے قتل کیا۔آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اساتذہ اور بچوں کو نشانہ بنا کر عوام دشمنی کا ثبوت دیا، معصوم بچوں پر حملہ گھناؤنا اور انسانیت سوز جرم ہے، دہشت گردوں کا ایجنڈا ملک میں فساد اور انتشار پھیلانا ہے، پاکستانی قوم دہشت گردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ اے پی ایس کی برسی پر پیغام میں کہا کہ ہم بھولیں گے نہ معاف کریں گے، دل آج بھی خون کے آنسو رورہا ہے، پوری قوم ان بزدلوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سمیت پوری قوم بچوں و اساتذہ کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے، آیئے ہم ایک پرامن اور محفوظ پاکستان کی تعمیر کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

    سانحہ اے پی ایس کی 10ویں برسی پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو دس سال گزر چکے لیکن زخم آج بھی تازہ ہیں ،16 دسمبر 2014 کی سیاہ صبح ہر پاکستانی کے دل پر نقش ہے، دہشت گردوں نے 147 معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کو سفاکیت کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ننھے طلبہ جو علم کی روشنی سے اس ملک کے مستقبل کو روشن کرنا چاہتے تھے،درندگی کی نذر ہوگئے، سانحہ 16دسمبر صرف سکول پر ہی نہیں بلکہ انسانیت، تعلیم اور پاکستان کے روشن مستقبل پر حملہ تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اے پی ایس شہداء ہماری قوم کے ہیرو ہیں، شہداء کے والدین اور اہلخانہ کا حوصلہ اور صبر قابل تحسین ہے، سانحہ اے پی ایس کے 147 شہداء کا خواب بہتر پاکستان تھا، ہماری ذمہ داری ہے اسے حقیقت میں بدلیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر کے ہی دم لیں گے.

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نےآرمی پبلک اسکول پشاور حملے کی 10ویں برسی پر پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ 16 دسمبر 2014 کا دن قومی تاریخ کا المناک اور سیاہ ترین دن ہے،یہ دن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے،سانحہ اے پی ایس نے قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد کر دیا،ہم شہداء کے خاندانوں کے غم میں شریک ہیں اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سانحہ اے پی ایس کو دس برس بیت گئے لیکن آج بھی ہمارے زخم تازہ ہیں ، 16 دسمبر کا دن ہمیں اُس سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے، جب معصوم جانوں کی شہادت نے پوری قوم کو غم میں مبتلا کیا، اس دن سفاک دُشمن نےہمارے دلوں پر کاری ضرب لگائی،علم دشمن دہشت گردوں نےسفاکی سے علم کی شمعوں کو بجھایا، بزدل شرپسند عناصر نے قوم کے مستقبل، نہتے کم سن بچوں پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا، پرنسپل شہید طاہرہ قاضی اور نہتے اساتذہ طالب علموں کو بچانے کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے، قوم کی ہمدردیاں ان والدین کے ساتھ ہیں جن کے بچوں نے اس سانحے میں عظیم قربانی دی، دہشتگردوں اور پاکستان کے امن کے دشمنوں کو میرا واضح پیغام ہے وطن عزیز کی حفاظت کیلیے ہم ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہیں، ہم نہ تو شہدا کو بھولیں گے اور نہ ہی اس سانحہ کو، ہم دہشتگردی کے متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، آج کے دن پوری قوم شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور کے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہے،

  • مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری لوئر ٹوپہ کے مقام پر متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام عوامی گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا،

    جرگے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اراکین اسمبلی، مرکزی انجمن تاجران، پیپلزپارٹی ،جے یو آئی ف اور دیگر سیاسی رہنما، اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔لوئر ٹوپہ میں منعقدہ عوامی گرینڈ جرگے میں شرکاء نے مال روڈ سے سیکشن فور کے خاتمے اور جھیکا گلی بازار سمیت ایکسپریس وے پر جاری آپریشن کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ تاجروں پر دہشت گردی کے مقدمات کو خارج کرنے اور مری کی تعمیر و ترقی کے لیے دی جانے والی رقم کو تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر خرچ کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ جرگے کے دوران مرکزی انجمن تاجران کی کال پر علامتی شٹر ڈاؤن بھی کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز دفعہ 144 نافذکیا گیا تھا جس کے باوجود جرگے کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات رہی شرکاء کا تھا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    حکومت پنجاب کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کے خلاف مری لوئر ٹوپہ میں ہونے والے احتجاج میں سیاستدانوں، تاجروں اور عوام نے یک آواز ہو کر اس منصوبے کی شدید مخالفت کی۔ احتجاج میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، صداقت عباسی، پی ٹی آئی، پی پی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس احتجاج میں مری کے عوام، تاجر اور سیاسی رہنما حکومت کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی کیونکہ مری میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت عوام کو کسی بھی قسم کے غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات میں خاص طور پر جھیکا گلی بازار کی ری ماڈلنگ اور مال روڈ پر سیکشن فور کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پنجاب کو اربوں روپے کا فنڈ صرف 3 کلو میٹر پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری اور کوٹلی ستیاں کے علاقے اب بھی پسماندگی کا شکار ہیں اور ان علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری فنڈز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے اور مری و کوٹلی ستیاں کے عوام کی بہتری کے لیے وسائل مختص کرے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کا یہ منصوبہ عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کا حامل ہے اور اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مری کے عوام ترقی کے حق میں ہیں، مگر ان کی ترقی کے لیے حکومت کو عوام کی آواز سننی ہوگی اور انہیں ترجیح دینی ہوگی۔مری گرینڈ جرگے میں حکومت کے سوا تمام جماعتیں موجود ہیں، یہاں کے عوام اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ آپ کس قانون کے تحت لوگوں کی عمارتیں گرا رہے ہیں، کیا آپ نے جنگل کا قانون نافذ کر دیا ہے، میری سیاسی تاریخ میں کبھی مری میں دفعہ 144 نافذ نہیں کیا گیا، عوام کے نمائندے عوام میں ہوتے ہیں، آپ عوام کی بات سننے کو تیار نہیں،ہ مری کی انتظامیہ سے سوال کریں تو کہتے ہیں ہمیں اوپر سے آرڈر ہے جبکہ ہم نے کبھی 37 سالوں میں اوپر والوں کا حکم نہیں مانا،حکومت اپنا پلان ہماری عمارتیں گرا کر حاصل نہیں کرسکتی، ہمارے حقوق کا تخفظ نہیں ہوگا تو پھر حق لینا بھی جانتے ہیں، ہماری بدقسمتی ہے یہ حکومت آئینی ترمیم بھی رات کے اندھیروں میں کر رہی ہے۔

    مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کو مری اور کوٹلی ستیاں کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس احتجاج نے علاقے میں ایک نئی سیاسی گرمجوشی پیدا کر دی ہے، اور حکومت کو سخت پیغام دیا ہے کہ عوامی مفاد کو نظر انداز کر کے کسی بھی منصوبے کو منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ضلع لاہورکی باڈی کا اعلان

    عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

  • پاکستان ملی لیبر فیڈریشن  ضلع لاہورکی باڈی کا اعلان

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ضلع لاہورکی باڈی کا اعلان

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے صدر میاں غلام مصطفی نے ضلع لاہور کے لیے باڈی کا اعلان کر دیا ہے۔

    میاں ریاض احمد کو چیئرمین، چوہدری ابوہریرہ کو صدر، حاجی محبوب عالم سندھو کو جنرل سیکرٹری، عبدالوہاب کو فنانس سیکرٹری، طاہر ربانی کو سیکرٹری نشرو اشاعت مقرر کیا گیا ہے۔ سینئر نائب صدور کے لیے ملک خالد پرویز ، میاں علی عباس، خلیل الرحمن، اصغر گجر اور اخلاق احمد بٹ کے نام فائنل کیے گئے ہیں۔ عمران علی مغل، یونس خان، نصیر احمدکھوکھر، ملک عمران اور فیاض مغل کو نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔اسلم خان چیف کوآرڈینیٹر ، فیاض مغل میڈیا ایڈوائزر ہوں گے۔ محمد بابر اور چوہدری سلطان گجر ڈپٹی جنرل سیکرٹری جبکہ سیدعرفان علی شاہ کو ایڈیشنل جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے۔

    باڈی کا اعلان ایک اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت میاں غلام مصطفی نے کی۔ اجلاس سے میاں غلام مصطفی، چوہدری ابوہریرہ، حاجی محبوب عالم سندھو، اسلم خان، محمد عمران اور دیگر نے خطاب کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں غلام مصطفی نے کہا کہ پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ملازمین کے لیے فلاح وبہبود کے کام کے لیے بنائی گئی ہے۔ جب کوئی دوسروں کے کام کرنے کے لیے وقت نکالتا ہے تو اللہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے ۔موجودہ حکومت سرکاری ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے۔ اسمبلیوں سے ملازمین مخالف قوانین پاس کروائے جا رہے ہیں۔ 2دسمبر کا پنشن نوٹیفیکیشن، 17Aوالا نوٹیفیکیشن اور دیگر تمام ملازمین مخالف نوٹیفیکیشنز کو واپس ہونا چاہیے۔ دیگر مقررین نے کہا کہ حکومت ملازمین کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہی ہے۔ اگر حکومتی رویہ یہی رہا تو آئندہ کوئی بھی شخص سرکاری ملازمت نہیں کر ے گا۔ جب ہم اپنا کام ایمانداری اور غریب کے ساتھ ہمدردی کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت میں عروج دے گا۔

    عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

  • عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    لاہور:ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی زیر صدارت انویسٹی گیشن ہیڈکوارٹرز میں اہم کرائم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ٹاؤن شپ اور چوہنگ سرکل کے ڈی ایس پیز کے علاوہ انچارج انویسٹی گیشنز نے شرکت کی۔ میٹنگ میں مختلف مقدمات کی تفتیش کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے پینڈنگ اور زیر التواء مقدمات کی پراگریس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے انچارج افسران کو ہدایت دی کہ وہ زیر تفتیش مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کریں تاکہ مقدمات میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افسران سنگین نوعیت کے واقعات پر فوراً موقع پر پہنچ کر اپنی نگرانی میں شواہد اکٹھے کریں تاکہ ملزمان کے خلاف مضبوط چالان تیار کیا جا سکے۔ناقص کارکردگی پر متعدد انچارج افسران کو وارننگ دی گئی اور ان کی سرزنش بھی کی گئی۔ ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ "خواتین کے ساتھ زیادتی، ظلم و تشدد اور ہراسگی کے مقدمات کی تفتیش میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسے مقدمات میں مضبوط چالان مرتب کر کے ملزمان کو قانون کے تحت سخت سزا دلوانا ضروری ہے تاکہ مجرموں کو عبرت کا نشانہ بنایا جا سکے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے فنانشل کرائمز کے مقدمات کی تفتیش کو بھی اہمیت دی اور افسران کو ہدایت کی کہ وہ ان مقدمات کے چالان جلد از جلد عدالتوں میں جمع کروائیں تاکہ انصاف کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ایس ایس پی محمد نوید نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "میرٹ پر سمجھوتا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محنتی اور ایماندار افسران کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی اور ان کو انعامات دے کر ان کی کاوشوں کا اعتراف کیا جائے گا۔آخر میں، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے افسران کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ترغیب دی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں پیش پیش رہیں۔ "ہمیں عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے سخت محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنا ہو گا، تاکہ ہر شہری کو انصاف مل سکے۔”

    شہری کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے والا اشتہاری ملزم منصور گرفتار
    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کی ہدایت پر اشتہاری ملزمان کےخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،انچارج انویسٹی گیشن تھانہ باٹا پور صداقت علی نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کی،1سال قبل شہری کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے والا اشتہاری ملزم منصور گرفتارکرلیا،ملزم سے آلہ اقدام قتل پسٹل برآمد کر لیا گیا،ملزم منصور نے 1سال قبل بچوں کے لڑائی جھگڑے کی بناء نوید کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا اور موقع سے فرار ہو گیا تھا،
    ملزم کو جدید ٹیکنالوجی سمیت ہیومین انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم اب پولیس کی گرفت میں ہے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائےگی،اشتہاری ملزمان کے خلاف انویسٹی گیشن پولیس کی کارروائیاں جاری رہیں گی

    علاوہ ازیں اقبال ٹاؤن پولیس کا احسن اقدام سامنے آیا ہے،اقبال ٹاؤن پولیس نے گمشدہ 10 سالہ علی حسن اور 9 سالہ زنیرہ کو والدین سے ملوا دیا،دونوں بچوں کو سیف سٹی اور لوکل کیمرہ جات کی مدد سے تلاش کیا گیا،بچوں میں اپنے بچھڑے والدین سے مل کر خوشی کی لہڑ دوڑ آئی والدین نے پولیس کو دعائیں دیں،

    جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ریکارڈ یافتہ ہوٹل کی چھت سے گر کر ہلاک
    التاج ہوٹل مزنگ کے باہر ڈیڈ باڈی ملنے کا معاملہ ،پولیس حکام کے مطابق مزنگ پولیس بسلسلہ گشت التاج ہوٹل کے باہر سے گزر رہی تھی جنہیں اچانک بلڈنگ کی چھت سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی ،پولیس فوری موقع پر پہنچی تو انہیں وہاں ایک شخص کی باڈی ملی جس کی سانسیں چیک کرنے پر ہلاک پایا گیا ،ڈیڈ باڈی کی شناخت عون حیدر کے نام سے ہوئی جو جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ریکارڈ یافتہ تھا اور متعدد بار جیل جا چکا تھا،مزنگ پولیس نے فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوئے شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیے ،عون حیدر ہوٹل کی پانچویں منزل پر کھڑکی سے ٹیک لگائے گھڑا تھا جسکا اچانک پاؤں پھسلا اور کھڑکی سے نیچے آ گرا،پولیس نے فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوئے ایمبولینس بلائی اور باڈی کو مردہ خانہ منتقل کر دیا ،

    زہریلی شراب فروخت کرنے والے 222 ملزمان گرفتار
    صوبائی دارالحکومت میں پولیس نے زہریلی شراب فروخت کرنے والے 222 ملزمان کو گرفتار کر کے ہزاروں لٹر شراب برآمد کرلی۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا ہے کہ پولیس نے مشتبہ علاقوں میں چھاپے مار کر شراب بنانے والی متعدد بھٹیاں تباہ کردیں اور بڑی مقدار میں زہریلی شراب ضبط کرلی۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک 66 ہزار 505 لیٹر شراب برآمد کی جا چکی ہے، ملزمان کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں 3 ہزار 864 مقدمات درج کئے گئے، غیرقانونی شراب کے مکروہ دھندے میں ملوث 3 ہزار 966 افراد کو جیل بھجوایا گیا۔فیصل کامران نے بتایا کہ کچی شراب میں استعمال ہونے والے زہریلے کیمیکلز اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں، کرسمس اور سال نو پر غیر قانونی اور زہریلی شراب کی ترسیل میں اضافہ ہوتا ہے، غیر قانونی شراب کی ترسیل روکنے کے لیے اضافی ناکے اور چیک پوائنٹس لگائے گئے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز نے عوام سے اپیل کی کہ مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دے کر ہماری مدد کریں، عوام کا تعاون ہی معاشرتی برائیوں کے خاتمے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

  • جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے عدلیہ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے رولز بنانے اور سخت میکنزم کے لیے لکھے گئے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ آپ کی تجاویز کو پہلے بھی consider کیا کل کے خط والی بھی دیکھیں گے آئندہ بھی آپ اپنی تجاویز رولز کمیٹی کو دے سکتے ہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں بھی آپ نے بات کی لیکن میں اس کا جواب اس لیے نہیں دوں گا کیوں کہ اس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں آپ نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے کو نام تجاویز کئے وہ رولز کے مکمل ہونے کے بعد دے سکتے ہیں میری بھی یہی رائے ہے کہ آئین کی منشا یہی ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے عدلیہ کے ممبران قابل اور دیانتدار ہونے چاہییں اسی مقصد کے لئے رولز بنا رہے ہیں ”

    پاکستان کی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج، جسٹس سید منصور علی شاہ کو جسٹس جمال خان مندوخیل نے جوابی خط لکھا جس میں نئے قواعد کی تیاری کے عمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دوبارہ قیام عمل میں آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔خط میں بتایا گیا کہ جے سی پی نے 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175اے کی شق 4 کے تحت ججوں کی تقرری کے معیار اور طریقہ کار کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ججز منتخب ہوں، وہ قابل، ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔کمیٹی کے اجلاس میں 2010 کے جے سی پی کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد کی تیاری پر غور کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ کے جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سینیٹر فاروق حمید نائیک اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کی آزادی اور عدلیہ کی غیر جانبداری آئین کے بنیادی اصول ہیں، اور ان کے مطابق ہی نئے قواعد کو مرتب کیا جائے گا۔

    خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی ترقی کے لیے اپنے امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے، جنہیں نئے قواعد کی منظوری کے بعد پیش کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 16 دسمبر 2024 کو ہونے والی ہے جس میں مزید تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ خط میں یہ بات بھی کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں اٹھائے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تاہم، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو مقدم رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ عدلیہ پاکستان کے عوام کا ادارہ ہے اور جے سی پی کے تمام ارکان کو نئے قواعد کی تیاری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ قواعد کو جے سی پی کی اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

  • دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    بھارتی دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے والدین کو ایک مشکل فیصلہ درپیش ہے: یہاں رہنا یا کہیں اور جانا ہے

    45 سالہ امریتہ روشہ ان والدین میں شامل ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ دہلی چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ان کے دونوں بچے — 4 سالہ ونا یا اور 9 سالہ ابھیراج — سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں اور انہیں دوا کی ضرورت ہے۔”ہمارے پاس دہلی چھوڑنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا،” امریتہ نے سی این این کو بتایا، جب وہ دہلی کے جنوبی علاقے میں اپنے گھر میں آخری لمحوں کی پیکنگ کر رہی تھیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ عمان جا رہی ہیں، جہاں انکے شوہر شوہر ملازمت کی وجہ سےمقیم ہیں۔

    ہر سال، دہلی میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ایک دھند یا اسموگ کا غبار شہر کو گھیر لیتا ہے، جو دن کو رات میں تبدیل کر دیتا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس آلودہ ہوا سے بچے، خاص طور پر وہ جو کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہیں، سانس کی مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

    امریتہ اپنے بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرتی ہیں، وہ دہلی سے باہر جا کر آلودہ ہوا سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    دہلی کے ایک غریب علاقے میں، مسکان اپنے بچوں کے نیبلائزر کے لئے دوائی کے آخری قطرے دیکھ کر پریشان ہیں۔ نیبلائزر ایک ایسا آلہ ہے جو مائع دوا کو دھواں کی صورت میں تبدیل کر کے ماسک یا ماؤتھ پیس کے ذریعے سانس میں لیا جاتا ہے۔مسکان کا کہنا ہے، "ہم اپنے بچوں کو دوا کا نصف حصہ دیتے ہیں کیونکہ ہمیں اور دوائی خریدنے کا پیسہ نہیں ہے۔” ان کے دونوں بچے، چاہت (3 سال) اور دیا (1 سال) بچپن سے ہی نیبلائزر پر ہیں، کیونکہ دونوں کی سانس لینے میں مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔مسکان نے یہ نیبلائزر 9 ڈالر میں خریدا تھا، جو اس نے سڑکوں پر کچرا اکٹھا کرنے اور محنت کر کے کمائے تھے۔ ان کے شوہر ایک دن کے مزدور ہیں۔”جب وہ کھانستے ہیں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ میرے بچے مر نہ جائیں۔ میں پریشان رہتی ہوں اور ہر وقت فکر میں ڈوبی رہتی ہوں کہ کہیں کچھ برا نہ ہو جائے،” مسکان نے کہا۔

    دہلی کے بچوں کی تکالیف سال بہ سال بڑھتی جا رہی ہیں۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ آتِشی نے کہا، "بچوں کو سانس لینے کے لئے سٹیرائڈز اور انہیلرز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے… پورا شمالی بھارت ایک طبی ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔”بھارتی سپریم کورٹ نے آلودگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کی نگرانی شروع کر دی ہے، جو عموماً گاڑیوں کے دھویں، فصلوں کی جلاوٹ اور تعمیراتی کام کی وجہ سے ہوتی ہے، ساتھ ہی موسم اور موسمی حالات بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ان اقدامات میں گاڑیوں پر پابندی، تعمیراتی کام پر روک، اور سڑکوں پر پانی چھڑکنا شامل ہیں۔ حکام نے عوامی نقل و حمل میں اضافہ کیا ہے اور فصلوں کی جلاوٹ پر سخت کارروائی کی ہے۔

    رینبو چلڈرن ہسپتال میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ کے ڈاکٹر منجندر سنگھ رندھاؤا نے کہا کہ اس سال وہ پہلی بار بچوں میں آسمہ کی بیماری کی علامات شدید حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، طویل مدت میں آلودگی سانس، مدافعتی نظام اور قلبی نظام پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔سی این این نے بھارتی حکومت سے اس پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔

    پچھلے ماہ دہلی کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی سطح 1,750 تک پہنچ گئی تھی، جو عالمی سطح پر صحت کے لئے انتہائی خطرناک مانی جاتی ہے۔ انڈیکس پر 300 سے زیادہ کی کوئی بھی سطح صحت کے لئے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔اس دوران، PM 2.5 ذرات، جو ہوا میں انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں، کی سطح عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حدوں سے 70 گنا تک تجاوز کر گئی تھی۔ ان ذرات کا سانس میں آنا بچوں میں دماغی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

    کچھ والدین، جیسے دیپتی رامداس، اپنے بچوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے دہلی چھوڑ چکے ہیں۔ جب ان کے بیٹے رودرا کی پیدائش ہوئی، تو انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ دہلی چھوڑنا پڑے گا۔ لیکن جب رودرا کو جنوری 2022 میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ میں داخل کرایا گیا، تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے پھیپھڑے بہتر طور پر ترقی کریں تو دہلی چھوڑنا ضروری ہے۔دیپتی نے اپنے خاندان کے ساتھ جنوبی بھارت کے ریاست کیرالہ کا رخ کیا۔ "یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ مجھے اپنی پسندیدہ نوکری چھوڑنی پڑی اور میرا شوہر دہلی میں کام کے لئے رہ گیا، جس کی وجہ سے ہمارا رشتہ طویل فاصلے کا بن گیا۔”لیکن دیپتی کو سکون اس بات کا ہے کہ کیرالہ میں رودرا کو کبھی سانس لینے میں تکلیف نہیں ہوئی۔ وہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی اپنے والد سے ملنے آئی تھیں، لیکن چند دنوں میں ہی رودرا کی حالت پھر خراب ہو گئی اور اسے نیبلائزر کی ضرورت پیش آئی۔”اسے اس حالت میں دیکھنا دل پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے،” دیپتی نے کہا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ سال بہ سال سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، اور اس کا اثر بچوں کی صحت پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امیر خاندان دہلی چھوڑنے کا آپشن رکھتے ہیں، وہیں غریب لوگ اس مسئلے کا سامنا کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی صحت کے بارے میں مسلسل فکر مند رہتے ہیں۔

  • اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے چند گھنٹے بعد ہی شام کے تمام فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آغاز کر دیا تھا، تاکہ وہ ان اثاثوں کو باغیوں کے ہاتھوں میں آنے سے بچا سکے۔

    اسرائیل کی فوج نے شام میں تقریباً 500 مقامات پر بمباری کی، شام کی بحریہ کو تباہ کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کی معروف سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلوں کا 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا سب سے اہم اور دیرپا اقدام شام کے بلند ترین پہاڑ، جبل حرمون کی چوٹی پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اس کا قبضہ عارضی ہے۔ اسرائیلی دفاعی ماہر ایفرایم انبار، جو یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسٹرٹیجی اینڈ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ جبل حرمون علاقے کا سب سے بلند مقام ہے، جو لبنان، شام اور اسرائیل پر نظر رکھتا ہے۔ انبار نے کہا، "یہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے۔ پہاڑوں کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔”

    جبل حرمون کی چوٹی شام میں واقع ہے اور یہ ایک بفر زون میں آتا تھا، جو اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان 50 سال تک تقسیم کا باعث رہا۔ تاہم، پچھلے اتوار تک یہ بفر زون غیر فوجی تھا اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جو دنیا کی سب سے بلند مستقل نگرانی کے مقام پر تعینات تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل نے جمعہ کے روز فوج کو حکم دیا کہ وہ موسم سرما کی سختیوں کے لیے تیاری کریں۔ انہوں نے کہا، "شام کی صورت حال کے پیش نظر جبل حرمون کی چوٹی پر ہمارے کنٹرول کو برقرار رکھنا ہماری سیکیورٹی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔” اسرائیلی فوج جبل حرمون کی چوٹی سے آگے بھی پیش قدمی کر چکی ہے اور بقااسم تک پہنچ چکی ہے، جو دمشق سے تقریباً 25 کلومیٹر (15.5 میل) دور ہے، تاہم یہ دعویٰ وائس آف دی کیپیٹل، ایک شامی کارکن گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ سی این این نے اس دعویٰ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس ہفتے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی افواج "دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔”

    اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا، جو جبل حرمون کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور تب سے اس پر قابض ہے۔ شام نے 1973 کی جنگ میں اس علاقے کو واپس لینے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اسرائیل نے 1981 میں گولان کو اپنی سرزمین میں ضم کر لیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکہ نے گولان پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا۔

    اسرائیل نے دہائیوں تک جبل حرمون کے نچلے ڈھلوانوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہے اور یہاں ایک اسکی ریزورٹ بھی قائم کیا ہے، تاہم چوٹی ہمیشہ شام کے اختیار میں رہی تھی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔”

    جبل حرمون کی چوٹی اسرائیل کے لیے ایک زبردست اثاثہ ہے۔ یہ 2814 میٹر (9232 فٹ) بلند ہے اور یہ نہ صرف اسرائیل یا شام کا سب سے بلند مقام ہے بلکہ لبنان کے ایک پہاڑ سے بھی اونچا ہے۔

    ایفرایم انبار نے 2011 میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں جبل حرمون کی کئی اہمیتوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پہاڑ اسرائیل کو شام کی گہرائیوں میں الیکٹرانک نگرانی کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اسرائیل کو بروقت خبردار کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی والے متبادل جیسے فضائی نگرانی کے آلات، پہاڑ پر نصب تنصیبات کی مانند مؤثر نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں بڑے اینٹینا نصب نہیں کیے جا سکتے اور یہ دشمن کی زمین سے مار کرنے والی میزائلوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف اور شام کی مستقبل کی صورتحال

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے نئے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے "ہاتھ بڑھا رہا ہے”۔ لیکن 7 اکتوبر کے بعد کے عالمی منظر نامے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اسرائیل زیو نے کہا، "یہ زیادہ تر ہمارے لیے تسلی کی بات ہے۔ ہم نے دیگر ممالک میں دیکھا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیمیں فوجی سازوسامان پر قابض ہو جاتی ہیں تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔”نیتن یاہو نے کہا کہ جبل حرمون پر اسرائیل کا قبضہ عارضی ہے اور اسرائیل کبھی بھی جہادی گروپوں کو اس خلا کو پُر کرنے اور گولان کی بلندیوں پر اسرائیلی کمیونٹیز کو 7 اکتوبر جیسے حملوں کا سامنا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایسا کوئی فوجی دستہ قائم ہونا ضروری ہے جو 1974 کے معاہدے پر عمل پیرا ہو اور جو سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔اب یہ سوال باقی ہے کہ اسرائیل کب اس علاقے سے پیچھے ہٹے گا۔ ایفرایم انبار کے مطابق، "یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ فوج وہاں رہنا پسند کرے گی۔”

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

  • سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ 14 دسمبر سے شروع کرنے والی سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کر دیں۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور ان مذاکرات سے مسائل کا حل نکالنا ملک کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر بات چیت سے مسائل کا حل نکلتا ہے تو یہ سب سے بہترین حل ہوگا، لیکن اگر مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑے گی۔

    اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی تنقید
    ذرائع کے مطابق، محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے محض احتجاج کرنا یا کسی تحریک کا آغاز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں کوئی خاص منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر احتجاج کرنا زیادہ موثر اور دانشمندانہ عمل ہو گا، کیونکہ اس طرح عوام میں زیادہ بیداری پھیلائی جا سکتی ہے۔محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے نرم رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے فیصلوں میں ابہام اور اختلافات نے پی ٹی آئی کے موقف کو کمزور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات اور حکمت عملی کی کمی سے پارٹی کے حامیوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بانی کی رہائی کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی، جس کی وجہ سے ان کی حمایت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت سے صرف وقتی فائدہ ہوگا، لیکن اگر حکومت اپنی پوزیشن پر قائم رہتی ہے تو پھر تحریک کا آغاز ضروری ہو گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اگر مذاکرات میں کامیابی نہیں ملتی تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ایک ناگزیر عمل بن جائے گا، اور اس تحریک کے ذریعے عوامی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

    محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر چار ماہ کے اندر انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے کہ حکومت کب اپنی مدت مکمل کرے گی اور نئے انتخابات کا انعقاد کب ہوگا۔ اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنے کی صورت میں ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور اس کے نتیجے میں عوام کو فائدہ ہوگا۔

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    آج اردو ادب کے معروف شاعر، فلسفی، اور سوانح نگار جون ایلیاء کے مداح ان کی 93 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    جون ایلیاء کا اصل نام سید جون اصغر تھا، اور وہ 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا، جہاں ادب و ثقافت کی عظیم روایات کا آغاز ہوا۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیاء، ایک بلند پایہ عالم تھے، جنہوں نے اردو، فارسی، عربی، اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی، سید محمد تقی اور رئیس امروہوی بھی اردو ادب کی دنیا کے جانے پہچانے نام تھے۔

    جون ایلیاء نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچپن میں کیا، اور صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاعری میں گہرائی اور لطافت کی نئی راہیں کھولتے گئے اور اپنی زندگی بھر کی تخلیقی سفر میں وہ اردو ادب کے منفرد شاعر بن گئے۔جون ایلیاء کی شاعری میں ایک خاص نوعیت کی بے باکی اور انفرادیت تھی، جس کی بدولت وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر بنے۔ ان کی تحریروں میں فلسفے، تاریخ، منطق، اور یورپی ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کا اندازِ تحریر اتنا نرالا اور جاندار تھا کہ وہ اردو کے روایتی اشعار سے ہٹ کر ایک نئی شعری فضا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، تنہائی، اور دنیا کی حقیقتوں کا گہرا عکس تھا۔

    شاعری کے مجموعے اور ادبی خدمات
    جون ایلیاء کے مشہور شعری مجموعوں میں "شاید”، "یعنی”، "لیکن”، "گمان” اور "گویا” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک طرف جہاں حقیقتوں اور تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے، وہیں دوسری طرف ان کے اشعار میں فلسفہ اور گہری سوچ بھی چھپی ہوئی ہوتی تھی۔جون ایلیاء نے نہ صرف شاعری میں بلکہ سوانح نگاری، فلسفے اور ادبی تنقید میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی گہری بصیرت اور وسیع علم نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معروف کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا۔

    اعزازات اور یادگار خدمات
    جون ایلیاء کی ادبی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2000ء میں انہیں "صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی” عطا کیا۔ ان کے کلام کی بازگشت آج بھی اردو ادب کے محافل میں سنائی دیتی ہے۔جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج ان کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور اردو ادب کے شائقین ان کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں، اور ان کی شاعری کو پڑھ کر اور سراہ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جون ایلیاء کا کلام آج بھی ادب کی دنیا میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور اردو شاعری کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت گوانگ ژو میں انوسٹمینٹ کانفرنس کا انعقاد ہوا

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ورکنگ گروپ قائم کرنے , فوکل پرسن مقرر اورہیلپ ڈیسک قائم کرنے کا اعلان کیا،گول میز کانفرنس میں چین اور ہانگ کانگ کی 60سے زائد نمایاں کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی،ہیلتھ،آرٹی فیشل انٹیلی جنس،زراعت،انفارمیشن ٹیکنالوجی،ویسٹ مینجمنٹ، سولرانرجی اور دیگر سیکٹرز کے نمائندگان شریک ہوئے،چین کی نمایاں کمپنیوں کے نمائندوں نے اپنے اداروں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی،پاک چائنا کی فری ٹریڈ کے بارے میں تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا، وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت دی،چینی ٹیکنالوجی کمپنیز نے پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے اظہار دلچسپی کیا،چینی کمپنیوں کو پنجاب میں ون ونڈو آپریشن سے سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا

    وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کو چینی کمپنیوں کے لئے”لینڈ آف اپرچونیٹی“ قرار دیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انوسٹمیںٹ کانفرنس میں شرکت کے شرکاء کاشکریہ ادا کیا،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب کے معاشی،جغرافیائی اور کاروباری اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی،چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کے ویژن کو سراہا،چینی کمپنیوں نے پنجاب میں نو پلاسٹک کے مہم کے آغاز کو سراہا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے ”نو ٹو پلاسٹک“مہم شروع ہوچکی ہے۔ ماحول کو متاثر کرنے والے پلاسٹک کی خرید و فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کررہے ہیں۔چھٹی کے باوجود چینی کمپنیوں کے حکام کی آمد ہمارے لیے بے حد حوصلہ افزاء امر ہے۔ستھراپنجاب کے تحت زیرویسٹ مشن شروع ہوچکا ہے،چینی کمپنیوں کی معاونت اور اشتراک کار کا خیر مقدم کریں گے۔ویسٹ کو قابل تجدید انرجی میں تبدیل کرنے کے پراجیکٹ شروع کررہے ہیں۔زراعت کوجدت کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے میکانائزیشن کی جارہی ہے۔سستی بجلی کے حصول کیلئے ونڈ مل،سولر انرجی اور قابل تجدید انرجی کے ذرائع پر توجہ دی جارہی ہے۔ ایکو سسٹم میں بہتری کیلئے انڈسٹری میں اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہے۔پنجاب میں سولر انرجی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پنجاب میں سولرائزیشن کے لئے میگا پراجیکٹ کا آغاز ہوچکا ہے۔سولرائزیشن پراجیکٹ میں چینی کمپنیوں کے اشتراک کار کا خیر مقدم کریں گے۔ زراعت کے سب سیکٹر میشن مینوفیکچرنگ، فوڈ پراسیسنگ اور ہائیبرڈ بیج ڈویلپمنٹ کو اشتراک کار سے ممکن بنائیں گے۔ پنجاب میں ینگ انڈسٹریل ہیومن ریسورس کے قابل قدر اثاثے کو استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔بائیو اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کے استعمال سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے میں جدت لانا وقت کی ضرورت ہے۔پنجاب میں ای کامرس،انکیوبیٹر سنٹر،ای لرننگ میں سرمایہ کاری کو ویلکم کریں گے،نوازشریف آئی ٹی سٹی کو سٹیٹ آف دا آرٹ بنانا چاہتے ہیں،چینی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں،پاک چائنا تعلقات کے فروغ کیلئے چینی سرمایہ کاروں کا رد عمل حوصلہ افزاء ہے۔پاکستان وسطی ایشیا، مڈل ایسٹ اور دیگر ممالک کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان گلوبل ٹریڈ روٹ کا قابل قدر حصہ ہے۔ٹیلی میڈیسن ٹیکنیک کیلئے چین کے ہیلتھ سسٹم سے مستفید ہونگے۔ زراعت میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب میں واٹر ایفی شنٹ اریگیشن سسٹم متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ چین کی کمپنیوں کے لئے پنجاب میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانا کا بہترین وقت ہے۔

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی