Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    آج اردو ادب کے معروف شاعر، فلسفی، اور سوانح نگار جون ایلیاء کے مداح ان کی 93 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    جون ایلیاء کا اصل نام سید جون اصغر تھا، اور وہ 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا، جہاں ادب و ثقافت کی عظیم روایات کا آغاز ہوا۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیاء، ایک بلند پایہ عالم تھے، جنہوں نے اردو، فارسی، عربی، اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی، سید محمد تقی اور رئیس امروہوی بھی اردو ادب کی دنیا کے جانے پہچانے نام تھے۔

    جون ایلیاء نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچپن میں کیا، اور صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاعری میں گہرائی اور لطافت کی نئی راہیں کھولتے گئے اور اپنی زندگی بھر کی تخلیقی سفر میں وہ اردو ادب کے منفرد شاعر بن گئے۔جون ایلیاء کی شاعری میں ایک خاص نوعیت کی بے باکی اور انفرادیت تھی، جس کی بدولت وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر بنے۔ ان کی تحریروں میں فلسفے، تاریخ، منطق، اور یورپی ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کا اندازِ تحریر اتنا نرالا اور جاندار تھا کہ وہ اردو کے روایتی اشعار سے ہٹ کر ایک نئی شعری فضا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، تنہائی، اور دنیا کی حقیقتوں کا گہرا عکس تھا۔

    شاعری کے مجموعے اور ادبی خدمات
    جون ایلیاء کے مشہور شعری مجموعوں میں "شاید”، "یعنی”، "لیکن”، "گمان” اور "گویا” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک طرف جہاں حقیقتوں اور تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے، وہیں دوسری طرف ان کے اشعار میں فلسفہ اور گہری سوچ بھی چھپی ہوئی ہوتی تھی۔جون ایلیاء نے نہ صرف شاعری میں بلکہ سوانح نگاری، فلسفے اور ادبی تنقید میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی گہری بصیرت اور وسیع علم نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معروف کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا۔

    اعزازات اور یادگار خدمات
    جون ایلیاء کی ادبی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2000ء میں انہیں "صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی” عطا کیا۔ ان کے کلام کی بازگشت آج بھی اردو ادب کے محافل میں سنائی دیتی ہے۔جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج ان کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور اردو ادب کے شائقین ان کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں، اور ان کی شاعری کو پڑھ کر اور سراہ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جون ایلیاء کا کلام آج بھی ادب کی دنیا میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور اردو شاعری کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت گوانگ ژو میں انوسٹمینٹ کانفرنس کا انعقاد ہوا

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ورکنگ گروپ قائم کرنے , فوکل پرسن مقرر اورہیلپ ڈیسک قائم کرنے کا اعلان کیا،گول میز کانفرنس میں چین اور ہانگ کانگ کی 60سے زائد نمایاں کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی،ہیلتھ،آرٹی فیشل انٹیلی جنس،زراعت،انفارمیشن ٹیکنالوجی،ویسٹ مینجمنٹ، سولرانرجی اور دیگر سیکٹرز کے نمائندگان شریک ہوئے،چین کی نمایاں کمپنیوں کے نمائندوں نے اپنے اداروں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی،پاک چائنا کی فری ٹریڈ کے بارے میں تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا، وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت دی،چینی ٹیکنالوجی کمپنیز نے پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے اظہار دلچسپی کیا،چینی کمپنیوں کو پنجاب میں ون ونڈو آپریشن سے سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا

    وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کو چینی کمپنیوں کے لئے”لینڈ آف اپرچونیٹی“ قرار دیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انوسٹمیںٹ کانفرنس میں شرکت کے شرکاء کاشکریہ ادا کیا،وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب کے معاشی،جغرافیائی اور کاروباری اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی،چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کے ویژن کو سراہا،چینی کمپنیوں نے پنجاب میں نو پلاسٹک کے مہم کے آغاز کو سراہا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے ”نو ٹو پلاسٹک“مہم شروع ہوچکی ہے۔ ماحول کو متاثر کرنے والے پلاسٹک کی خرید و فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کررہے ہیں۔چھٹی کے باوجود چینی کمپنیوں کے حکام کی آمد ہمارے لیے بے حد حوصلہ افزاء امر ہے۔ستھراپنجاب کے تحت زیرویسٹ مشن شروع ہوچکا ہے،چینی کمپنیوں کی معاونت اور اشتراک کار کا خیر مقدم کریں گے۔ویسٹ کو قابل تجدید انرجی میں تبدیل کرنے کے پراجیکٹ شروع کررہے ہیں۔زراعت کوجدت کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے میکانائزیشن کی جارہی ہے۔سستی بجلی کے حصول کیلئے ونڈ مل،سولر انرجی اور قابل تجدید انرجی کے ذرائع پر توجہ دی جارہی ہے۔ ایکو سسٹم میں بہتری کیلئے انڈسٹری میں اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہے۔پنجاب میں سولر انرجی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پنجاب میں سولرائزیشن کے لئے میگا پراجیکٹ کا آغاز ہوچکا ہے۔سولرائزیشن پراجیکٹ میں چینی کمپنیوں کے اشتراک کار کا خیر مقدم کریں گے۔ زراعت کے سب سیکٹر میشن مینوفیکچرنگ، فوڈ پراسیسنگ اور ہائیبرڈ بیج ڈویلپمنٹ کو اشتراک کار سے ممکن بنائیں گے۔ پنجاب میں ینگ انڈسٹریل ہیومن ریسورس کے قابل قدر اثاثے کو استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔بائیو اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کے استعمال سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے میں جدت لانا وقت کی ضرورت ہے۔پنجاب میں ای کامرس،انکیوبیٹر سنٹر،ای لرننگ میں سرمایہ کاری کو ویلکم کریں گے،نوازشریف آئی ٹی سٹی کو سٹیٹ آف دا آرٹ بنانا چاہتے ہیں،چینی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں،پاک چائنا تعلقات کے فروغ کیلئے چینی سرمایہ کاروں کا رد عمل حوصلہ افزاء ہے۔پاکستان وسطی ایشیا، مڈل ایسٹ اور دیگر ممالک کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان گلوبل ٹریڈ روٹ کا قابل قدر حصہ ہے۔ٹیلی میڈیسن ٹیکنیک کیلئے چین کے ہیلتھ سسٹم سے مستفید ہونگے۔ زراعت میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب میں واٹر ایفی شنٹ اریگیشن سسٹم متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ چین کی کمپنیوں کے لئے پنجاب میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانا کا بہترین وقت ہے۔

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

  • اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

    اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کے اہم کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، پولیس نے ملزم علی رضا کو گرفتار کر لیا ہے۔

    بدھ 10 دسمبر 2024 کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے 23 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، لڑکی کے ساتھ ایک لڑکا دو دن پہلے ہوٹل آیا تھا اور اُس نے کمرہ بک کیا تھا۔ لڑکا 9 دسمبر کی رات ہوٹل سے فرار ہوگیا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ کو شک ہونے پر کمرہ کھولا گیا، جہاں لڑکی کی لاش ملی،پولیس نے فوراً تحقیقات شروع کی اور لڑکی کی لاش پمز ہسپتال منتقل کر دی۔ بعد ازاں، پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی اور 14 دسمبر 2024 کو ملزم علی رضا کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق، ملزم نے ابتدائی طور پر اعتراف کیا ہے کہ اُس نے لڑکی کو قتل کیا۔ پولیس نے بتایا کہ لاش کے گلے پر ازار بند کے نشان موجود ہیں، جب کہ ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے لڑکی کو اپنے مفلر سے پھندا دے کر قتل کیا۔پولیس حکام نے بتایا کہ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس کیس میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کے پیچھے محرکات جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

    خالد مقبول صدیقی کا حکومت چھوڑنے کا عندیہ

  • پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم  نے ایڈوائس صدر  کو بھجوا دی

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایڈوائس ارسال کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یہ ایڈوائس 17 دسمبر کو دن 11 بجے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز کے حوالے سے بھیجی ہے۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جائے گی، جن میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نیا بل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اجلاس میں 8 دیگر بلز کی منظوری کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نئے بل پر حکومت اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مشاورت ابھی جاری ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے مدارس بل پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس کے باعث صدر آصف زرداری نے اس بل کو اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب مدارس کے رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت اور دینی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مدارس کے نظام میں اصلاحات لانے کے لیے نئے بل کا مسودہ تیار کیا گیا تھا، جس پر مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں ان اختلافات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،اختلاف اس بات پر ہے کہ جو مدارس وزارتِ تعلیم سے منسلک ہو گئے ان سے متعلق منفی قانون سازی نہ ہو، مدارس اپنا آڈٹ بھی کرواتے ہیں، حسابات سب کے لیے کھلے ہیں، کوئی مدارس کے حسابات چیک کرنا چاہتا ہے تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، کسی عالمی قوت کو پاکستان کے نظام میں مداخلت کا حق نہیں، فیٹف سے متعلق ماضی میں بھی مدارس کی کوئی شکایت نہ تھی اور نہ ہی اب ہے،گالی گلوچ اور الزام تراشی سے مدارس کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

  • خالد مقبول صدیقی کا حکومت چھوڑنے کا عندیہ

    خالد مقبول صدیقی کا حکومت چھوڑنے کا عندیہ

    کراچی: وفاقی وزیر تعلیم و انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کورنگی میں آئی ٹی لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نجانے ہم کب ناراض ہو کر حکومت چھوڑ دیں”، ان کا یہ بیان وفاقی حکومت کے ساتھ ایم کیو ایم کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

    خالد مقبول صدیقی نے کراچی کی ترقی کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے اور کہا کہ "جب کراچی کو بائی پاس کیا گیا، تو پاکستان کی ترقی بھی بائی پاس ہو گئی۔” ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے، اور اگر کراچی میں ترقی ہو گی تو پورا ملک ترقی کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ "جو ادارے کراچی سے ختم کرنے کی سازش کی گئی تھی، وہ آج کسی صوبے میں نہیں، بلکہ بنگلہ دیش منتقل ہو گئے ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے کراچی کیمپس کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "کراچی میں بھی نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کا کیمپس ہونا ایک مثبت قدم ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ کپاس پاکستان کی سب سے اہم پیداوار ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں کپاس کی کمی ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ضروری خام مال نہیں مل رہا، جبکہ بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان سے زیادہ ایکسپورٹ کر رہی ہے۔ہ "50 سال کی تمام تر مشکلات اور پابندیوں کے باوجود کراچی چل رہا ہے، اور یہ صرف چل نہیں رہا بلکہ پاکستان کو چلا رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ "کراچی کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ہے۔”وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ "بلدیاتی اداروں کی کارکردگی سے متعلق سب جانتے ہیں، اور ان اداروں کا کام عوام تک براہ راست فائدہ پہنچانا ہے۔”

    خالد مقبول صدیقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ "فیصل واؤڈا ایم کیو ایم کے نمائندے نہیں ہیں، ان کی اپنی سوچ ہے اور ہماری اپنی سوچ۔” فیصل واوڈا نے کبھی نہیں کہا وہ ہمارے سینیٹرہیں۔جس حکومت میں بلدیاتی معاملات خود مختار نہ ہوں، ایسی جمہوریت کا کوئی فائدہ نہیں،ہ کراچی شہر کی تعمیر اور اس سے محبت کرنا ہوگی، جب تک خوشحالی کراچی میں نہیں آئے گی ملک خوشحال نہیں ہوگا، دعا کریں کراچی بھی اسلام آباد جیسا ہوجائے، 26ویں آئینی ترمیم کے وقت بہت عجلت تھی، آئینی ترمیم کے باعث مدارس کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔

  • انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    پاکستان میں انٹرنیٹ ایک ایسی ضرورت بن چکا ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔ چاہے کاروباری سرگرمیاں ہوں، تعلیمی اداروں کی کلاسز، یا فری لانسرز کی روزمرہ کی محنت، انٹرنیٹ ہر جگہ موجود ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں پاکستان بھر میں انٹرنیٹ کی غیر اعلانیہ بندش، سست روی اور وی پی این پر پابندی نے نہ صرف شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، بلکہ مختلف شعبوں کے افراد بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ کی غیر اعلانیہ بندش اور سست رفتار کی شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو انٹرنیٹ پر اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں چلاتے ہیں، جیسے فری لانسرز، کاروباری افراد، اور تعلیمی اداروں کے طلباء، ان مشکلات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔انٹرنیٹ کی سست رفتار اور بندش کی وجہ سے آئی ٹی سیکٹر اور کاروباری دنیا میں نمایاں مشکلات آ رہی ہیں۔ فری لانسرز جو آن لائن کام کرتے ہیں، ان کی پروڈکٹیوٹی کم ہو رہی ہے اور انہیں اپنے کلائنٹس کے ساتھ رابطہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیٹا انٹری، اور گرافک ڈیزائننگ جیسے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ ان شعبوں کے کارکنان کو تیز انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔کاروباری افراد بھی انٹرنیٹ کی سست رفتار کی وجہ سے اپنی آن لائن خدمات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انٹرنیٹ کی بندش نے ان کی کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سی سی ٹی وی کیمرہ انسٹالیشن سے وابستہ افراد بھی انٹرنیٹ کی رفتار کی کمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو سی سی ٹی وی کی لائیو اسٹریم کی سہولت فراہم کرتے ہیں، انہیں صارفین کے ساتھ رابطہ میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سی سی ٹی وی کی لائیو اسٹریم کا لوڈ نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس سے صارفین کی شکایات بڑھ رہی ہیں اور وہ تسلی بخش خدمات حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

    پاکستان کے تعلیمی اداروں کے طلباء بھی انٹرنیٹ کی غیر اعلانیہ بندش اور سست روی کی شکایات کر رہے ہیں۔ آن لائن کلاسز کی کمیونیکیشن، ویڈیوز کا لوڈ نہ ہونا اور مواد تک رسائی میں مشکلات طلباء کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خاص طور پر وہ طلباء جو آن لائن امتحانات اور اسائنمنٹس پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لئے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

    پاکستان میں وی پی این (ویژول پرائیویٹ نیٹ ورک) پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے کئی افراد اپنی ضروری ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ وی پی این کی بندش نے کاروباری اور تعلیمی سرگرمیوں کو مزید متاثر کیا ہے، کیونکہ بہت سے افراد مختلف بین الاقوامی ویب سائٹس اور سروسز تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال کرتے ہیں۔

    حکومت کی طرف سے اس غیر اعلانیہ انٹرنیٹ بندش اور سست روی کی کوئی واضح وضاحت نہیں دی جا رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت ایک بنیادی حق بن چکی ہے اور اس میں خلل ڈالنا ان کی روزمرہ کی زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے۔ کاروباری افراد اور فری لانسرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنایا جائے اور اس کے ساتھ وی پی این کی پابندیوں پر بھی نظر ثانی کی جائے۔ شہریوں، کاروباری افراد اور طلباء کی شکایات کا حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل ترقی میں رکاوٹ نہ آئے اور انٹرنیٹ کے بغیر چلنے والی معاشرتی اور اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ سے اپنے معمولات میں آ سکیں۔

    بھارت کو دھچکا،بنگلہ دیش نے انٹرنیٹ فراہمی کا معاہدہ کیا منسوخ

    انٹرنیٹ کی سست روی کیخلاف درخواست،پی ٹی اے کو نوٹس جاری

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

    پاکستان عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں 198 ویں نمبر پر

    بلوچستان اور وزیرستان میں موبائل ،انٹرنیٹ سروس خراب،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

  • وزیر اطلاعات عطا  تارڑ  کی ترکیہ کے صدارتی ہیڈ آف کمیونیکیشنز  سے ملاقات

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی ترکیہ کے صدارتی ہیڈ آف کمیونیکیشنز سے ملاقات

    وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی ترکیہ کے صدارتی ہیڈ آف کمیونیکیشنز پروفیسر فحرتین التون سے ملاقات ہوئی ہے.

    ملاقات کے دوران میڈیا کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے، عوامی سفارتکاری کو فروغ دینے پربات چیت کی گئی، اسلاموفوبیا اور مس انفارمیشن کے خاتمے، میڈیا وفود کے تبادلوں سے متعلق گفتگو کی گئی،ملاقات کےدوران مشترکہ پروڈکشنز کی تیاری سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، مشترکہ پروڈکشنز کی تیاری سے دونوں ممالک کی ثقافتوں کا آپس میں تبادلہ ہوگا.پی ٹی وی اور ”ٹی آر ٹی“ کی مشترکہ نشریات سمیت ارطغرل غازی جیسے ڈرامے پاکستان میں دکھانے پر اتفاق کیا گیا، ورکنگ گروپ کی تشکیل اور دونوں اطراف سے فوکل پرسن نامزد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا،ملاقات میں تفریح اور سیاحت کے شعبے میں تعاون اور مشترکہ منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں. دونوں ممالک کے درمیان میڈیا کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں.میڈیا تعاون سے عوامی سطح پر روابط مزید مستحکم ہوں گے.نوجوان نسل کو پاکستان اور ترکیہ کے مابین تاریخی تعلقات سے آگاہی فراہم کرنا ہو گی .وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے پروفیسر فحرتین التون کو پاکستان کے دورہ کی دعوت دی، پروفیسرفحرتین التون نے پاکستان میں میڈیا کی ترقی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ ترک ڈرامہ ارطغرل غازی نے پاکستان میں بہت مقبولیت حاصل کی.پاکستانی فنکاروں اور موسیقاروں کو ترکیہ میں بہت پسند کیا جاتا ہے.مشترکہ میڈیا تعاون سے اسلامو فوبیا اور مس انفارمیشن کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی،وفاقی وزیر عطاءاللہ تارڑ نے ترک میڈیا پر کشمیر کے حوالے سے کوریج پر پروفیسر فحرتین التون کا شکریہ ادا کیا

  • اسلام آباد،پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ،ہرمیت سنگھ کی ضمانت منظور

    اسلام آباد،پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ،ہرمیت سنگھ کی ضمانت منظور

    اسلام آباد میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونے کے بعد صحافی ہرمیت سنگھ کی ضمانت منظور کر لی گئی۔

    خصوصی عدالت نے صحافی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جس میں انہوں نے ہرمیت سنگھ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی تھی۔ہرمیت سنگھ نے اپنے وکلاء، بینا فراز اور فرخ شہزاد کے ذریعے ایڈیشنل سیشن جج، افضل مجوکا کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ وکلا نے اپنے دلائل میں عدالت سے استدعا کی کہ ہرمیت سنگھ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں کسی بھی قسم کی گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت دی جائے۔عدالت نے وکلاء کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہرمیت سنگھ کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ عدالت کی جانب سے صحافی کی ضمانت بیس ہزار روپے مچلکوں کے عوض 21 دسمبر تک منظور کی گئی۔ اس دوران صحافی ہرمیت سنگھ اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے ایف آئی اے کو نوٹس جاری جواب طلب کر لیا،

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ہرمیت سنگھ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق صحافی پر ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے بیانیے کو پھیلانے، لوگوں کو اکسانے، اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہرمیت سنگھ نے ایکس پروفائل پر ریاستی اداروں کے خلاف بدنیتی پر مبنی مواد شیئر کیا اور عام شہریوں کو پرتشدد کارروائیوں کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی۔ مزید برآں، انہیں ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے اور صوبائیت و نسلی تفریق کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کا الزام بھی دیا گیا ہے۔

    عدالت پیشی کے موقع پر ہرمیت سنگھ کا کہنا تھا کہ میں اقلیت کا کارڈ نہیں کھیلنا چاہتا لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ میرے خلاف ہونے والے مقدمے کو اب دشمن ملک انڈیا استعمال کرے گا ہماری ریاست کو سوچنا چاہیے،میں نے ہمیشہ اس ملک کے مثبت چہرے کے لئے کام کیا، میں پاکستانی ہوں،

    لال کرشن اڈوانی کی طبیعت پھر خراب، دہلی کے اسپتال میں داخل

    جنوبی کوریا،صدر کٰیخلاف مؤاخذے کی دوسری تحریک کامیاب

  • لال کرشن اڈوانی کی طبیعت پھر خراب، دہلی کے اسپتال میں داخل

    لال کرشن اڈوانی کی طبیعت پھر خراب، دہلی کے اسپتال میں داخل

    بھارتی سیاستدان،بی جے پی کے رہنما اور سابق نائب وزیرِ اعظم لال کرشن اڈوانی کی طبیعت ایک بار پھر بگڑ گئی ہے، جس کے بعد انہیں آج دہلی کے مشہور اپولو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، اڈوانی کی حالت فی الحال مستحکم ہے اور انہیں بہتر دیکھ بھال فراہم کی جارہی ہے۔ میڈیکل بلیٹن بھی جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے تاکہ ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جا سکے۔لال کرشن اڈوانی، جو اس وقت 97 سال کے ہیں، گزشتہ چند ماہ سے مختلف طبی مسائل کا شکار رہے ہیں اور انہیں کئی مرتبہ اسپتال میں داخل کرانا پڑا ہے۔ اس سے پہلے، اگست 2023 میں بھی اڈوانی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 3 جولائی کو انہیں دہلی کے اپولو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، اور اس سے قبل 26 جون کو دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) میں بھی ان کا علاج کیا گیا تھا۔ اس دوران انہیں نیورولوجی ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں رکھا گیا تھا اور ایک چھوٹی سی سرجری بھی کی گئی تھی۔ تاہم، وہ جلد ہی صحت یاب ہو کر اسپتال سے ڈسچارج ہوگئے تھے۔

    لال کرشن اڈوانی کی صحت کے مسائل حالیہ برسوں میں بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ زیادہ تر وقت گھر پر ہی آرام کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کی سیاسی اور سماجی سرگرمیاں جاری ہیں، اور حالیہ برسوں میں ان کی خدمات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس سال، انہیں ملک کے سب سے بڑے اعزاز، بھارت رتن سے نوازا گیا تھا، لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے وہ راشٹرپتی بھون میں منعقد ہونے والی بھارت رتن کی تقریب میں شرکت نہیں کر سکے تھے۔30 مارچ 2023 کو، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے ان کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں بھارت رتن کا اعزاز دیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نریندر مودی، نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی موجود تھے۔

    لال کرشن اڈوانی 8 نومبر 1927 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1950 کی دہائی میں کیا۔ اڈوانی نے اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میں نائب وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ بھارت کے وزیرِ داخلہ بھی رہے اور 1986 سے 2005 تک بی جے پی کے قومی صدر کی حیثیت سے کئی اہم فیصلوں میں شامل رہے۔ انہیں 2015 میں پدم وِبھوشن سے بھی نوازا گیا تھا، جو بھارت کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔

  • جنوبی کوریا،صدر کٰیخلاف مؤاخذے کی دوسری تحریک کامیاب

    جنوبی کوریا،صدر کٰیخلاف مؤاخذے کی دوسری تحریک کامیاب

    جنوبی کوریا میں مارشل لاء لگانے والے صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی دوسری تحریک کامیاب ہو گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق، مواخذے کی تحریک کی کامیابی کے بعد صدر یون سک یول کو اپنے فرائض سے معطل کر دیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق، جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ میں موجود 300 اراکین میں سے 204 ارکان نے صدر کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد مواخذے کی تحریک کامیاب ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی جماعت کے ارکان نے صدر کے خلاف ووٹ دینے پر اتفاق کیا اور یہ تحریک پیش کی۔

    مواخذے کی تحریک کے دوران جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں تقریباً دو لاکھ سے زائد مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر جمع ہوئے ہیں، جو صدر یون سک یول سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے اقدامات نے ملک میں سیاسی بحران اور بدامنی کو جنم دیا ہے، اور اب انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹنا چاہیے۔

    یاد رہے کہ صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی پہلی تحریک گزشتہ ہفتے ناکام ہو گئی تھی، لیکن دوسری تحریک نے کامیابی حاصل کی۔ اس صورتحال نے جنوبی کوریا میں سیاسی تناؤ اور بے چینی کو بڑھا دیا ہے