Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت،شمبھو بارڈر پر کسانوں اور پولیس کے درمیان تصادم

    بھارت،شمبھو بارڈر پر کسانوں اور پولیس کے درمیان تصادم

    بھارت میں ہفتے کے روز شمبھو بارڈر پر کسانوں اور پولیس کے درمیان شدید تصادم ہوا جب 101 کسانوں کا قافلہ دہلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    کسانوں نے دہلی پہنچنے کے لیے راستہ بنانے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے ان کو بیریئر لگا کر روک دیا۔ اس دوران جب کسانوں نے بیریئر کوہٹانے کی کوشش کی، تو پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان پر آنسو گیس کے گولے داغے اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔یہ تصادم اس وقت ہوا جب کسان پنجاب اور ہریانہ کی سرحدوں پر 307 دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت سے اپنے مطالبات کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدام کی توقع کر رہے ہیں۔ کسانوں کی احتجاجی تحریک کو کسان مزدور مورچہ کی قیادت حاصل ہے، جس کے رہنما سرون سنگھ پنڈھیر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے اور تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    کسان مزدور مورچہ نے اعلان کیا تھا کہ ہفتے کے روز ایک اور قافلہ دہلی کی طرف روانہ ہوگا، جس میں 101 کسان شامل تھے۔ اس اعلان کے بعد، ہریانہ حکومت نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے امبالہ کے 12 دیہاتوں میں موبائل انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز معطل کر دی ہیں۔ یہ پابندی 17 دسمبر تک جاری رہے گی تاکہ احتجاج کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔کسانوں کی تحریک میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب کسان رہنما جگجیت سنگھ ڈلیوال نے 18 دنوں سے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے آواز بلند کی ہے، لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ان کی بھوک ہڑتال نے کسانوں کی تحریک کو مزید طاقت بخشی ہے، اور انہیں وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہو رہی ہے۔سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ جگجیت سنگھ ڈلیوال کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرے۔ عدالت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لے اور فوری طور پر حل کے لیے اقدامات کرے۔

    کسان رہنما راکیش ٹکیت نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے کسانوں کے مطالبات پورے نہ کیے تو وہ دہلی کو گھیرنے کے لیے ایک بڑی حکمت عملی اپنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے چار لاکھ ٹریکٹرز کی ضرورت ہوگی اور کسان دہلی کو کے ایم پی ایکسپریس وے سے گھیر کر اپنا احتجاج مضبوط کریں گے۔

    کسانوں کا احتجاج گزشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے اور انہوں نے زرعی قوانین کے خلاف آواز اٹھائی ہے جنہیں حکومت نے 2020 میں منظور کیا تھا۔ کسانوں کا موقف ہے کہ یہ قوانین ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان کے حقوق کی حفاظت نہیں کرتے۔ کسانوں نے اپنے احتجاج کو پنجاب، ہریانہ، اور دیگر ریاستوں میں پھیلایا ہے، اور دہلی کی سرحدوں پر کئی ماہ سے خیمے لگا کر بیٹھے ہیں۔حکومت نے اس احتجاج کے دوران کئی بار مذاکرات کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک کوئی پائیدار حل نہیں نکل سکا۔ کسانوں کی یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنے کا امکان ہے جب تک ان کے مطالبات پوری طرح سے تسلیم نہ کیے جائیں۔

  • لاہور ائیرپورٹ، کسٹمز نے اسمگل کیے جانیوالے ہیرے اور قیمتی سامان پکڑ لیا

    لاہور ائیرپورٹ، کسٹمز نے اسمگل کیے جانیوالے ہیرے اور قیمتی سامان پکڑ لیا

    لاہور: لاہور ائیرپورٹ پر کسٹمز حکام نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسمگل کیے جانے والے ہیرے، قیمتی گھڑیاں اور دیگر اشیاء برآمد کر لی ہیں۔ یہ سامان دبئی سے لاہور پہنچنے والے ایک مسافر کے بیگ سے برآمد ہوا۔

    تفصیلات کے مطابق، کسٹمز کے ترجمان نے بتایا کہ اے سی کسٹمز سمرا اظہر کی سربراہی میں کسٹمز حکام نے لاہور ائیرپورٹ پر مشکوک سامان کی اطلاع پر کارروائی کی۔ ترجمان کے مطابق، دبئی سے لاہور آنے والے مسافر خالد راشد کے بیگ کو تلاشی کے دوران مشکوک سمجھا گیا، جس پر کسٹمز حکام نے بیگ کی چھان بین کی۔تلاشی کے دوران مسافر کے بیگ سے 45 ہیرے، 18 قیمتی گھڑیاں اور دیگر قیمتی اشیاء برآمد ہوئیں، جن کی مالیت تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ ان اشیاء میں ہیرے اور قیمتی گھڑیاں شامل تھیں جنہیں اسمگل کیا جا رہا تھا۔کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ تمام برآمد شدہ اشیاء کو قبضے میں لے لیا گیا ہے اور مسافر خالد راشد کے خلاف اسمگلنگ کے مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کسٹمز حکام نے مزید بتایا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے لاہور ائیرپورٹ پر چیکنگ کے عمل کو مزید سخت کیا جائے گا۔

    یہ کارروائی لاہور ائیرپورٹ پر کسٹمز حکام کی کامیاب کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے، جس میں انہوں نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اپنی سرگرمیاں مزید مؤثر بنا رکھی ہیں۔

  • اداکارہ نرگس پر شوہر کا تشدد کیس،ملزم کی ضمانت میں توسیع

    اداکارہ نرگس پر شوہر کا تشدد کیس،ملزم کی ضمانت میں توسیع

    سیشن کورٹ لاہور میں اسٹیج اداکارہ نرگس پر شوہر کا تشدد کے مقدمہ کیس کی سماعت ہوئی

    ملزم ماجد بشیر کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی پولیس نے نامکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے ، عدالت نے ملزم ماجد بشیر کی عبوری ضمانت میں دو جنوری تک توسیع کردی ڈیوٹی ایڈیشنل سیشن جج نے عبوری ضمانت پر سماعت کی، تھانہ ڈیفنس سی پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے

    واضح رہے کہ اداکارہ نرگس کے شوہر ماجد بشیر ضمانت پر ہیں اور عدالت نے انہیں کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے،لاہور ڈیفنس سی کے علاقہ میں اداکارہ نرگس پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا، جس پر ان کے شوہر ماجد بشیر کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کیا گیا مقدمے میں تشدد اور گن پوائنٹ پرجان سے مارنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں، بعد ازاں ماجد بشیر نے کہا تھا کہ میری اہلیہ باکردار عورت ہے، جھگڑے ہر گھر میں ہوجاتے ہیں، یہ جھگڑا ہمارا ذاتی معاملہ ہے، نرگس ابھی بھی میرے نکاح میں ہے، کچھ لوگ اس واقعے کو کردار کشی کے لئے استعمال کررہے ہیں، میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کروں گا۔

    عابدہ عثمانی کی اداکارہ نرگس پر تہمت، شہریوں کا احتجاج

    عابدہ عثمانی کی سابقہ اداکارہ نرگس پر تنقید ،علامہ ہشام الہی ظہیر کا موقف

    اداکارہ نرگس پر تہمت،عابدہ عثمانی توبہ کرے،معافی مانگے،فتویٰ جاری

    عابدہ عثمانی کی اداکارہ نرگس پر تہمت،مولانا ناصر مدنی کا بیان بھی آگیا

  • بہت ہو گیا، آگے بہتری کی طرف بڑھنا چاہئے،بیرسٹر گوہر

    بہت ہو گیا، آگے بہتری کی طرف بڑھنا چاہئے،بیرسٹر گوہر

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بس بہت ہو گیا، ملک کو بہتری کی طرف بڑھانا چاہئے،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں، سیاسی مسائل کا حل سیاسی بیٹھک سے ہی ہوتا ہے، پہلے بھی ہم آگے بڑھ رہے تھے، رابطے بہترین جا رہے تھے، ایک سطح پر رابطے ختم ہو گئے، اُمید ہے رابطے دوبارہ بحال ہوں گے، مذاکرات کے لئے عمران خان نے کئی ماہ قبل کمیٹی بنائی تھی، میں سمجھتا ہوں مذاکرات ہونے چاہئے، جمہوریت کے لئے مذاکرات ہی حل ہے، جو بھی ہو غیر مشروط مذاکرات میں ہی کامیابی ہے، ہمارے مطالبات ہیں دو، جن کے لئے ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں،پہلے بھی ہمارا رابطہ ہوا تھا ہم آگے بڑھ رہے تھے لیکن پھر ختم ہو گا، اب بھی امید ہے حالات بہتری کی طرف جائیں گے،کل میں میٹنگ میں نہیں تھا،مقدمہ درج کرنے کا طریقہ کار ہوتا ہے ،پارٹی کی طرف سے درخواست دینے کاطریقہ کار الگ ہوتا ہے، میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اب بہت ہو گیا، اب بس ہونا چاہئے اور آگے بہتری کی طرف بڑھنا چاہئے، 9 مئی کے مقدمے میں کیس سے ڈسچارج ہونے کی درخواست دائر کی ہے، تمام مقدمات جعلی ہیں،دنیا بھر میں احتجاج کے دوران گولی نہیں چلی، احتجاج کے لیے مظاہرین ابھی بیٹھے نہیں اور شیلنگ شروع کر دی گئی تھی۔

  • گلوکار سلمان احمد کے بشریٰ پر الزامات،پی ٹی آئی قیادت خاموش،عمران پھٹ پڑے

    گلوکار سلمان احمد کے بشریٰ پر الزامات،پی ٹی آئی قیادت خاموش،عمران پھٹ پڑے

    سابق وزیراعظم عمران خان نے گلوکار سلمان احمد کی جانب سے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور احمقانہ قرار دیتے ہوئے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سلمان احمد کو شرم آنی چاہیے کہ وہ خود امریکہ میں بیٹھ کر بشریٰ بی بی کے خلاف اس طرح کے الزامات لگا رہا ہے۔ یہ بیان عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا، جہاں وہ توشہ خانہ کیس میں خود اور اپنی اہلیہ پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد زیر حراست ہیں۔سلمان احمد نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بشریٰ بی بی پر کئی متنازعہ الزامات عائد کیے تھے اور ان کے خلاف متواتر پوسٹس کی تھیں۔ ایک حالیہ ٹوئٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور بشریٰ بی بی اس سازش کا حصہ ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد میڈیا میں شدید ردعمل آیا تھا، اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی تھی۔

    عمران خان کی جانب سے سلمان احمد پر کی جانے والی تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب پارٹی کے دیگر رہنما، جیسے شہباز گل، اس معاملے پر مکمل خاموش تھے۔ اینکر پرسن منصور علی خان نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان نے آخرکار سلمان احمد کی بشریٰ بی بی کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر کھل کر ردعمل دیا ہے، جبکہ دیگر پی ٹی آئی رہنما اس پر خاموش تھے۔”عمران خان نے آج آکر سلمان احمد کو نکال دیا، پی ٹی آئی رہنماؤں کی زبانیں بند تھیں، شہباز گل امریکہ بیٹھاہے اور خاموش ہے حالانکہ سلمان احمد بشریٰ بی بی کو رگڑی جا رہا تھا،ہم بار بار کہہ رہے تھے کہ سلمان بشریٰ کے بارے کیا کہہ رہا ہے، مجال ہے شہباز گل نے کوئی بات کی ہو، آج عمران خان کو بولنا پڑا کہ یہ کیا بولے جارہا،

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکا گوانگ ژو پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکا گوانگ ژو پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    پنجاب کی وزیراعلیٰ، مریم نوازشریف، اپنے اہم دورہ چین کے دوران گوانگ ژو پہنچ گئیں، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس دوران، گوانگ ژو کے وائس گورنر، مسٹر زینگ گوزی نے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ مفادات پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے اعزاز میں گوانگ ژو کی انتظامیہ کی جانب سے ایک خصوصی سٹیٹ ڈنر کا اہتمام کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں کے رہنماؤں اور حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے گوانگ ژو کے وائس گورنر اور مقامی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "پنجاب کے وفد کی پزیرائی اور پرتپاک خیرمقدم ہمیشہ یاد رہے گا۔”انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے ساتھ اخلاص کی ڈوری میں بندھے ہوئے ہیں اور چین نے ہر تاریخی موڑ پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ "پاکستان اور چین کے عوام بھی ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات میں جڑے ہیں، اور یہ دورہ چین ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔”وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ "چین کا یہ دورہ میرے لیے بصیرت افروز ہے۔ مجھے یہاں بہت کچھ سیکھنے، جاننے اور دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پنجاب کے عوام اس دورے کے ثمرات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔”

    دوسری جانب، گوانگ ژو کے وائس گورنر مسٹر زینگ گوزی نے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی آمد کو خوش بختی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ گوانگ ژو اور پنجاب کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چین ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے اور اس سے دونوں ممالک کے عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

  • پی ٹی آئی احتجاج کے دوران گرفتار32 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی احتجاج کے دوران گرفتار32 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 32 ملزمان کو کیسز سے ڈسچارج کر دیا۔ یہ فیصلہ عدالت میں ملزمان کے شناخت پریڈ کی کارروائی کے دوران سامنے آیا، جس پر جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

    گرفتار 32 ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے رات گئے انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان ملزمان کو جہلم جیل سے عدالت لایا گیا تھا۔ تاہم، جج نے ان کی پیشی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملزمان کو رات کے وقت پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔وکیل صفائی انصر کیانی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پولیس نے صرف ملزمان کی تعداد بڑھانے کے لیے بے گناہ مزدوروں کو گھروں سے گرفتار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو بے بنیاد الزامات میں ملوث کر کے گرفتار کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو 25 نومبر کو گرفتار کیا گیا، لیکن شناخت پریڈ مکمل نہیں کی جا سکی۔ اس پر جج نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ اگر ملزمان کی شناخت پریڈ نہیں کی گئی تو ان کا جسمانی ریمانڈ کیوں منظور کیا گیا۔

    جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کی کوئی معقول وجہ نہیں دی، اور اگر ان ملزمان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تو وہ پولیس اہلکاروں کو ہتھکڑی لگا دیں گے۔ جج نے مزید کہا کہ "پولیس کی کارروائی قانون کے مطابق نہیں ہے، اور اگر دوبارہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا تو اس پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔”عدالت نے تمام ملزمان کو کیسز سے ڈسچارج کر دیا اور انہیں فوری طور پر آزاد کرنے کا حکم دیا۔

    25 نومبر کو پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسلام آباد کے ڈی چوک سے 32 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کو تھانہ آئی نائن اور تھانہ مارگلہ کے مختلف مقدمات کے حوالے سے ظاہر کیا تھا۔

  • نومئی مقدمہ،مراد سعید،میاں اسلم اقبال سمیت 8 رہنما اشتہاری قرار

    نومئی مقدمہ،مراد سعید،میاں اسلم اقبال سمیت 8 رہنما اشتہاری قرار

    انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے 9 مئی کو کلمہ چوک پر کینٹینر جلانے کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے 8 رہنماؤں کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ تھانہ نصیر آباد میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس کی درخواست پر کیا۔

    پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو چکے ہیں اور ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں، تاہم وہ اب تک گرفتار نہیں ہو سکے۔ پولیس نے مزید کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے گئے، مگر ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔عدالت نے پولیس کی درخواست پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں میاں اسلم اقبال، حماد اظہر، مراد سعید، زبیر خان نیازی، حامد رضا گیلانی، محمد جاوید، عبد الصمد اور واثق قیوم کو اشتہاری قرار دے دیا۔ ان رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کو لاہور کے کلمہ چوک پر کینٹینر جلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔انسداد دہشتگردی عدالت نے ان رہنماؤں کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں اور حکم دیا کہ انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    اس سے قبل، ان رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کو پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان مظاہروں میں کینٹینر، سرکاری املاک اور دیگر وسائل کو نقصان پہنچایا گیا تھا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریکِ انصاف کے جلسے کے دوران توڑ پھوڑ کے کیس میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر ایوب اور زرتاج گل کی عبوری ضمانتوں میں 8 جنوری تک توسیع کر دی ہے،عمر ایوب اور زرتاج گل کے خلاف تحریکِ انصاف کے سنگجانی جلسے کے دوران توڑ پھوڑ کے کیس کی سماعت ہوئی،اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمر ایوب اور زرتاج گل کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی،عمر ایوب اور زرتاج گل کی جانب سے وکلاء سردار مصروف اور آمنہ علی عدالت پیش ہوئے،عدالت نے عمر ایوب اور زرتاج گل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کر لیں۔

    علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی جناح ہاؤس ، عسکری ٹاور ،تھانہ شادمان کیس میں ساہیوال سے تحریک انصاف کے ایم پی اے رائے مرتضی اقبال کی تین مقدمات میں عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔تحریک انصاف کے ایم این اے رائے حسن نواز سمیت دیگر کی عبوری ضمانت میں 22 جنوری جبکہ ندین عباس بارا کی عبوری ضمانت میں 21 جنوری تک توسیع کر دی گئی۔

  • ایس آئی ایف سی کی معاونت ، مال بردار جہاز سازی کی تیاری میں اہم سنگ میل

    ایس آئی ایف سی کی معاونت ، مال بردار جہاز سازی کی تیاری میں اہم سنگ میل

    پاکستان میں مال بردار جہاز سازی کی صنعت میں ایک نیا سنگ میل طے ہوا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی موثر کاوشوں کی بدولت، 1100 ٹی ای یو (Twenty-Foot Equivalent Unit) کنٹینر شپ منصوبہ بحال ہو گیا ہے۔ اس منصوبے میں پاکستان نیوی، کراچی شپ یارڈ اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) شراکت دار ہیں، جو اس اہم پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

    ایس آئی ایف سی کی محنت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی بدولت یہ منصوبہ تقریباً نو ماہ بعد بحال ہو سکا۔ اس منصوبے کے تحت کراچی شپ یارڈ 40 سال بعد پہلا بڑا تجارتی بحری جہاز مقامی سطح پر تیار کرے گا۔ یہ جہاز 20 فٹ کے 1100 کنٹینرز بیک وقت منتقل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جو کہ اس منصوبے کی تکنیکی اور اقتصادی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔یہ کوئی نیا اقدام نہیں ہے، کیونکہ اس سے قبل 1970ء کی دہائی میں بھی کراچی شپ یارڈ نے تجارتی بحری جہازوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، یہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کا شپ یارڈ عالمی معیار کے تجارتی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اب بھی ملکی سطح پر بحری جہاز سازی کی صنعت کو فروغ دینے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔

    اس منصوبے کی مالیت 24.75 ملین ڈالر ہے، جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کم لاگت پر جہاز تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس سے پاکستان کو نہ صرف معیاری جہازوں کی تیاری کا موقع ملے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کی برآمدات کے امکانات بھی بڑھیں گے۔یہ منصوبہ پاکستان کو غیر ملکی شپنگ کمپنیوں پر انحصار کم کرنے اور ملکی معیشت کی خود کفالت کو فروغ دینے میں اہم مدد فراہم کرے گا۔ اس کی بدولت غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی، جس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ایس آئی ایف سی کا یہ منصوبہ نہ صرف بحری صنعت کی ترقی کا موجب بنے گا بلکہ "بلیو اکانومی” کے تصور کو بھی حقیقت کا روپ دے گا۔ بلیو اکانومی ایک ایسا تصور ہے جس میں سمندری وسائل کو اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور اس منصوبے سے پاکستان کی بحری صنعت کو تقویت ملے گی۔

    ایس آئی ایف سی کی جانب سے یہ ایک اہم قدم ہے، جس سے پاکستان میں مال بردار جہاز سازی کے شعبے کی ترقی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان کو نہ صرف عالمی سطح پر مال بردار جہازوں کی تیاری میں ایک اہم مقام حاصل ہوگا بلکہ اس سے دیگر اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ ایس آئی ایف سی کا مقصد پاکستان میں بحری صنعت کی ترقی کو بڑھاوا دینا اور عالمی سطح پر "بلیو اکانومی” کو فروغ دینا ہے۔

  • پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات ابھر کر سامنے آرہے ہیں.12 دسمبر 2024 کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس آڈیٹوریم اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن، پاک سوشل الائنس اور پاکستان سول سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا. کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قومی ترانے کی مسحور کن دھنوں سے ہوا.کانفرنس میں بنگلہ دیش سے خواتین و حضرات بشمول ڈاکٹر پروفیسر شاہدزمان، سابق ڈین ڈھاکہ یونیورسٹی، اور بین الاقوامی اسکالر نے آن لائن شرکت کی،

    1971 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش سے اتنی بڑی تعداد میں کسی پاکستانی تقریب میں شرکت کی گئی. بنگلہ دیشی شرکاء نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بھارتی ہندوتوا کی لعنت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے مشترکہ امن وخوشحالی اور ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا. پاکستان کی طرف سے ممتاز ماہرین تعلیم، نوجوان رہنما، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اور کامیاب کاروباری افراد مرکزی مقررین تھے. تمام شرکاء نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا.شرکاء نے جعلی خبروں سے بچنےاور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت وقت کو اجاگر کیا .شرکاء نے مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگامہ خیز سال کے دوران ہمارے فوجیوں، بہاریوں اور محب وطن شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا . تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور یتیم خانوں کے بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت. کانفرنس کا اختتام بنگلہ دیش سے آئےمہمان مقررین اور تمام شرکاء کے شکریہ کے ساتھ ہوا. کانفرنس کے مقررین، یوتھ ٹیم لیڈرز اور کانفرنس کے منتظمین کو یادگاری شیلڈز اور اسناد بھی پیش کی گئیں

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع