Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نومئی مقدمہ،مراد سعید،میاں اسلم اقبال سمیت 8 رہنما اشتہاری قرار

    نومئی مقدمہ،مراد سعید،میاں اسلم اقبال سمیت 8 رہنما اشتہاری قرار

    انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے 9 مئی کو کلمہ چوک پر کینٹینر جلانے کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے 8 رہنماؤں کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ تھانہ نصیر آباد میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس کی درخواست پر کیا۔

    پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو چکے ہیں اور ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں، تاہم وہ اب تک گرفتار نہیں ہو سکے۔ پولیس نے مزید کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے گئے، مگر ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔عدالت نے پولیس کی درخواست پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں میاں اسلم اقبال، حماد اظہر، مراد سعید، زبیر خان نیازی، حامد رضا گیلانی، محمد جاوید، عبد الصمد اور واثق قیوم کو اشتہاری قرار دے دیا۔ ان رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کو لاہور کے کلمہ چوک پر کینٹینر جلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔انسداد دہشتگردی عدالت نے ان رہنماؤں کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں اور حکم دیا کہ انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    اس سے قبل، ان رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کو پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان مظاہروں میں کینٹینر، سرکاری املاک اور دیگر وسائل کو نقصان پہنچایا گیا تھا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریکِ انصاف کے جلسے کے دوران توڑ پھوڑ کے کیس میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر ایوب اور زرتاج گل کی عبوری ضمانتوں میں 8 جنوری تک توسیع کر دی ہے،عمر ایوب اور زرتاج گل کے خلاف تحریکِ انصاف کے سنگجانی جلسے کے دوران توڑ پھوڑ کے کیس کی سماعت ہوئی،اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمر ایوب اور زرتاج گل کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی،عمر ایوب اور زرتاج گل کی جانب سے وکلاء سردار مصروف اور آمنہ علی عدالت پیش ہوئے،عدالت نے عمر ایوب اور زرتاج گل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کر لیں۔

    علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی جناح ہاؤس ، عسکری ٹاور ،تھانہ شادمان کیس میں ساہیوال سے تحریک انصاف کے ایم پی اے رائے مرتضی اقبال کی تین مقدمات میں عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔تحریک انصاف کے ایم این اے رائے حسن نواز سمیت دیگر کی عبوری ضمانت میں 22 جنوری جبکہ ندین عباس بارا کی عبوری ضمانت میں 21 جنوری تک توسیع کر دی گئی۔

  • ایس آئی ایف سی کی معاونت ، مال بردار جہاز سازی کی تیاری میں اہم سنگ میل

    ایس آئی ایف سی کی معاونت ، مال بردار جہاز سازی کی تیاری میں اہم سنگ میل

    پاکستان میں مال بردار جہاز سازی کی صنعت میں ایک نیا سنگ میل طے ہوا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی موثر کاوشوں کی بدولت، 1100 ٹی ای یو (Twenty-Foot Equivalent Unit) کنٹینر شپ منصوبہ بحال ہو گیا ہے۔ اس منصوبے میں پاکستان نیوی، کراچی شپ یارڈ اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) شراکت دار ہیں، جو اس اہم پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

    ایس آئی ایف سی کی محنت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی بدولت یہ منصوبہ تقریباً نو ماہ بعد بحال ہو سکا۔ اس منصوبے کے تحت کراچی شپ یارڈ 40 سال بعد پہلا بڑا تجارتی بحری جہاز مقامی سطح پر تیار کرے گا۔ یہ جہاز 20 فٹ کے 1100 کنٹینرز بیک وقت منتقل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جو کہ اس منصوبے کی تکنیکی اور اقتصادی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔یہ کوئی نیا اقدام نہیں ہے، کیونکہ اس سے قبل 1970ء کی دہائی میں بھی کراچی شپ یارڈ نے تجارتی بحری جہازوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، یہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کا شپ یارڈ عالمی معیار کے تجارتی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اب بھی ملکی سطح پر بحری جہاز سازی کی صنعت کو فروغ دینے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔

    اس منصوبے کی مالیت 24.75 ملین ڈالر ہے، جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کم لاگت پر جہاز تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس سے پاکستان کو نہ صرف معیاری جہازوں کی تیاری کا موقع ملے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کی برآمدات کے امکانات بھی بڑھیں گے۔یہ منصوبہ پاکستان کو غیر ملکی شپنگ کمپنیوں پر انحصار کم کرنے اور ملکی معیشت کی خود کفالت کو فروغ دینے میں اہم مدد فراہم کرے گا۔ اس کی بدولت غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی، جس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ایس آئی ایف سی کا یہ منصوبہ نہ صرف بحری صنعت کی ترقی کا موجب بنے گا بلکہ "بلیو اکانومی” کے تصور کو بھی حقیقت کا روپ دے گا۔ بلیو اکانومی ایک ایسا تصور ہے جس میں سمندری وسائل کو اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور اس منصوبے سے پاکستان کی بحری صنعت کو تقویت ملے گی۔

    ایس آئی ایف سی کی جانب سے یہ ایک اہم قدم ہے، جس سے پاکستان میں مال بردار جہاز سازی کے شعبے کی ترقی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان کو نہ صرف عالمی سطح پر مال بردار جہازوں کی تیاری میں ایک اہم مقام حاصل ہوگا بلکہ اس سے دیگر اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ ایس آئی ایف سی کا مقصد پاکستان میں بحری صنعت کی ترقی کو بڑھاوا دینا اور عالمی سطح پر "بلیو اکانومی” کو فروغ دینا ہے۔

  • پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات ابھر کر سامنے آرہے ہیں.12 دسمبر 2024 کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس آڈیٹوریم اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن، پاک سوشل الائنس اور پاکستان سول سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا. کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قومی ترانے کی مسحور کن دھنوں سے ہوا.کانفرنس میں بنگلہ دیش سے خواتین و حضرات بشمول ڈاکٹر پروفیسر شاہدزمان، سابق ڈین ڈھاکہ یونیورسٹی، اور بین الاقوامی اسکالر نے آن لائن شرکت کی،

    1971 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش سے اتنی بڑی تعداد میں کسی پاکستانی تقریب میں شرکت کی گئی. بنگلہ دیشی شرکاء نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بھارتی ہندوتوا کی لعنت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے مشترکہ امن وخوشحالی اور ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا. پاکستان کی طرف سے ممتاز ماہرین تعلیم، نوجوان رہنما، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اور کامیاب کاروباری افراد مرکزی مقررین تھے. تمام شرکاء نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا.شرکاء نے جعلی خبروں سے بچنےاور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت وقت کو اجاگر کیا .شرکاء نے مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگامہ خیز سال کے دوران ہمارے فوجیوں، بہاریوں اور محب وطن شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا . تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور یتیم خانوں کے بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت. کانفرنس کا اختتام بنگلہ دیش سے آئےمہمان مقررین اور تمام شرکاء کے شکریہ کے ساتھ ہوا. کانفرنس کے مقررین، یوتھ ٹیم لیڈرز اور کانفرنس کے منتظمین کو یادگاری شیلڈز اور اسناد بھی پیش کی گئیں

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

  • 20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد نے امریکی جیل میں قید معروف پاکستانی محقق اور ماہر نفسیات ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ کی صحت، قید کی حالت اور رہائی کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وفد نے اس موقع پر امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں امریکی کانگریس اور وزارت خارجہ کے حکام شامل تھے، تاکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔پاکستانی وفد میں شامل سینیٹر بشریٰ انجم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے امریکی حکام سے ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت رہی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ امریکی حکومت 20 جنوری سے پہلے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کوئی فیصلہ کر لے گی”۔ سینیٹر بشریٰ انجم نے مزید کہا کہ یہ کیس صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، اور اس حوالے سے عالمی برادری کا بھی کردار اہم ہے۔

    عافیہ صدیقی کو 2003 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف حملے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2010 میں انہیں امریکا کی جیل میں 86 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔پاکستانی وفد کی اس ملاقات کا مقصد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی کوششوں کو تیز کرنا تھا تاکہ انہیں طویل عرصے سے جاری قید سے نجات مل سکے۔ اس موقع پر وفد نے امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کرنے کی درخواست کی، اور ان کے ساتھ انصاف کی فراہمی کی اپیل کی۔پاکستانی حکومت نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کے معاملے کو ہر سطح پر اٹھا کر انہیں جلد سے جلد انصاف دلانے کی کوشش کرے گی۔

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • لندن میں وراثتی ٹیکس کے خلاف کسانوں کا احتجاج، ٹریکٹرز سے سڑکیں بلاک

    لندن میں وراثتی ٹیکس کے خلاف کسانوں کا احتجاج، ٹریکٹرز سے سڑکیں بلاک

    لندن: برطانیہ کے کسانوں نے وراثتی ٹیکس کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا، جس دوران سینٹرل لندن کی سڑکوں کو ٹریکٹرز کے ذریعے بلاک کر دیا۔ احتجاج کا مقصد نئے وراثتی ٹیکس قوانین کی مخالفت کرنا تھا، جنہیں کسانوں کے مطابق ان کی معیشت اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    کسانوں نے ٹریکٹرز کے ذریعے اپنی موجودگی کا اظہار کرتے ہوئے لندن کی مشہور سڑکوں پر ٹریفک جام کر دیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکس پالیسی کے تحت زمینوں کی وراثت کے معاملے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کسانوں کے مطابق، اس ٹیکس کی وجہ سے وہ اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ پورے زرعی شعبے اور خوراک کی فراہمی میں کمی آنے کا خطرہ ہے۔کسانوں نے اس موقع پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کریں اور اسے فوری طور پر واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر یہی پالیسی رہی تو زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا اور ہمارے لیے زمینیں بچانا ناممکن ہو جائے گا۔”

    نئے وراثتی ٹیکس قوانین کے مطابق، 2026 سے 10 لاکھ پاؤنڈ یا اس سے زیادہ مالیت والے فارم پر 20 فیصد ٹیکس ادا کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس ٹیکس پالیسی پر کوئی یو ٹرن نہیں لیا جائے گا اور اسے کسانوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    وراثتی ٹیکس کا یہ نیا نظام کسانوں کے لیے اضافی بوجھ بن رہا ہے، خاص طور پر وہ کسان جو بڑے فارم کی ملکیت رکھتے ہیں اور ان کی وراثت میں آنے والی زمینوں کا قیمتی ہونا اس ٹیکس کی زد میں آتا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے باعث وہ نہ صرف اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں بلکہ زرعی پیداوار کی کمی بھی ہو سکتی ہے، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا۔برطانوی حکومت نے اس ٹیکس کے نئے قوانین کو اس بات پر مبنی قرار دیا ہے کہ یہ قوانین بڑے زمین مالکان کو مالی طور پر بہتر پوزیشن میں لائیں گے اور ایک زیادہ منصفانہ نظام فراہم کریں گے۔ تاہم، کسانوں کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ ان کے کاروبار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا اور ان کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    سی ڈی اے نے انٹر نیشنل میڈیا سے وابستہ ادارے وائس آف امریکہ کو رہائشی ایریا میں آفس رکھنے پر نوٹس جاری کر دیا۔

    سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/3 میں واقع ایک رہائشی گھر پر غیر قانونی تجارتی استعمال کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ڈائریکٹریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گھر نمبر 1، گلی نمبر 89، سیکٹر جی-6/3 میں رہائش پذیر شخص، مس شمیم غلام، نے اپنے رہائشی مکان کو غیر قانونی طور پر دفتر یا میڈیا ہاؤس کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی واضح خلاف ورزی ہے۔سی ڈی اے کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اوپر ذکر کردہ غیر متناسب استعمال کو اس نوٹس کی تاریخ سے 15 دن کے اندر ختم کر دیا جائے، ورنہ سی ڈی اے مذکورہ خلاف ورزی کو ختم کرنے کے لئے قانونی کارروائی کرے گی۔

    اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے مطابق، رہائشی مقامات پر غیر تجارتی یا غیر متعلقہ استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں صرف رہائشی سرگرمیاں کی جائیں اور تجارتی یا دفاتر کی تعمیرات نہ ہوں، تاکہ شہری سہولتوں اور ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ اگر نوٹس میں درج ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو اتھارٹی اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی، جن میں عمارت کی سیلنگ اور الاٹمنٹ کی منسوخی شامل ہو سکتی ہے۔

    سی ڈی اے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری مکمل طور پر متعلقہ فرد پر ہوگی، اور اس کے اخراجات بھی اسی کے ذمہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اس طرح کی خلاف ورزیاں مقامی انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہیں، اور اس سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہر کی ترقی اور رہائشی معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مکانات اور جائیدادوں کے استعمال کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کا احترام کریں تاکہ شہر میں قانون کی حکمرانی قائم رہے اور شہریوں کو بہتر رہائشی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    notice

  • محمد عامر کا انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    محمد عامر کا انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    عماد وسیم کے بعد پاکستان کے کھلاڑی آل راؤنڈ محمد عامر نے بھی اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے

    محمد عامر، جو کہ پاکستان کے فاسٹ بولنگ کے بڑے ستاروں میں شمار ہوتے ہیں، نے اپنے کرکٹ کیریئر کے اختتام کا اعلان کیا۔ 32 سالہ محمد عامر نے جون 2009ء میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور اس کے بعد پاکستان کے لیے 36 ٹیسٹ، 61 ون ڈے اور 62 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔ عامر نے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 271 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں اور 1179 رنز بنائے۔محمد عامر 2009ء کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا بھی حصہ تھے اور ان کی فاسٹ بولنگ نے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کو شاندار کامیابی دلائی۔ عامر نے کہا کہ پاکستان کے لیے تینوں فارمیٹس میں کھیلنا ان کے لیے ایک اعزاز تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ وقت آگیا ہے کہ میں اگلی نسل کو اپنی ذمہ داری سنبھالنے کا موقع دوں اور پاکستان کرکٹ کو نئی بلندیوں تک لے جاؤں۔”عامر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے کیریئر کے دوران ہمیشہ ان کی سپورٹ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پی سی بی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سپورٹ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور قومی ٹیم کی آئندہ کامیابیوں کے منتظر ہیں۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف آپریٹنگ افسر سمیر احمد سید نے بھی دونوں کھلاڑیوں کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ "ہم محمد عامر اور عماد وسیم کا پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی شاندار خدمات پر دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان دونوں کی کرکٹ میں شراکت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ہم ان کی آئندہ کی کوششوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔”

  • ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،ڈی چوک احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی کی وزیراعظم شہباز شریف و دیگر کے خلاف کرمنل کمپلینٹ سیشن جج اعظم خان نے 23 دسمبر کو کیس ابتدائی بحث کے لیے مقرر کر دیا.

    عدالت نے آئندہ سماعت پر شکایت کنندہ کو حاضر ہونے کا حکم دے دیا،بیرسٹر گوہر نے موجودہ حکومت کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہے ،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہبازشریف و دیگر کے خلاف پرائیوٹ کمپلینٹ دائر کی ہے ،پرائیوٹ کمپلینٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطاتارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف کو فریق بنایاگیاہے،آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی سیکیورٹی اور نامعلوم افراد کو بھی فریق بنایاگیاہے،بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 12 ہلاک ہونے والے کارکنان کی لسٹ فراہم کی،گولیوں سے زخمی ہونے والے 38 کارکنان کی لسٹ بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے،139 کا پتہ کارکنان کے بھی نام درخواست میں درج کیے گئے ہیں.

    درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

  • پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے، پارٹی نے اپنی حالیہ ڈی چوک احتجاج کے دوران مسنگ پرسنز کی فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں کئی ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جن کا پی ٹی آئی کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور بعض افراد کے نام کے ساتھ والد کا نام تک نہیں لکھا گیا، جو ایک حیران کن بات ہے۔

    خاص طور پر، پی ٹی آئی نے مسنگ پرسنز کی فہرست میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا ہے جس کا نہ تو پی ٹی آئی سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی وہ احتجاج میں شامل ہوا تھا۔ یہ شخص خالد مزاری ہیں، جو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی ویڈیو پیغام کے ذریعے اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    خالد مزاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: "میں راجن پور سے مخاطب ہوں، اور سوشل میڈیا پر پہلی بار آپ سے بات کر رہا ہوں۔ 139 مسنگ پرسنز کی پی ٹی آئی کی فہرست میں میرا نام موجود ہے۔ اللہ معاف کرے، میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی میں احتجاج میں شامل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا تھا۔ ان کا جھوٹ اور پروپیگنڈہ دیکھیں، لوگ یہی سمجھیں گے کہ اتنے لوگ مسنگ پرسن ہیں۔ اب 59 پرسنز پر میرا نام ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوں۔”مزاری نے مزید کہا کہ ان کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈہ کرنے والے افراد کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور دعا کی کہ وہ عمران خان کا جنازہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔

    اس واقعہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مسنگ پرسنز کے بارے میں کیے جانے والے جھوٹے دعوؤں کو مزید اجاگر کیا ہے، اور ایک بار پھر پارٹی کے پروپیگنڈہ کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ خالد مزاری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور وہ ایکس پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خالد مزاری کا تعلق ن لیگ سے ہے، باخبر ذرائع کے مطابق خالد مزاری کے دوستوں نے باہمی مشورے سے اس کا نام پی ٹی آئی والوں کو بھیجا اور پی ٹی آئی کی ٹیم نے بغیر کسی تصدیق کے خالد مزاری کا نام مسنگ پرسن کی لسٹ میں ڈال دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مسنگ پرسن کے نام پر پروپیگنڈہ کر رہی ہے.

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

  • پنجگور، ہرنائی اور خاران میں فائرنگ، مقامی سیاسی رہنما جاں بحق

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں فائرنگ، مقامی سیاسی رہنما جاں بحق

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں کئی افراد زخمی ہوگئے، جبکہ نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔

    پنجگور میں فائرنگ کے ایک واقعے میں نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عبدالغفور بلوچ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑادی ہے اور پولیس حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ عبدالغفور بلوچ کی موت کے بعد نیشنل پارٹی اور ان کے حامیوں نے مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کیا جائے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں نامعلوم افراد نے سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا اور ساتھ ہی فائرنگ کی۔ اس حملے میں پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی گروپ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    خاران کے علاقے میں بھی ایک اور حملہ ہوا، جہاں ملزمان نے زیر تعمیر عمارت کے قریب دو دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔ خوش قسمتی سے بموں کے پھٹنے سے جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے مقام کا محاصرہ کر لیا اور مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں پیش آنے والے ان واقعات نے بلوچستان میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کو مزید اجاگر کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان حملوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرے تاکہ علاقے میں امن و سکون بحال ہو سکے۔ مقامی عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرے اور عوام کی حفاظت کے لیے مزید سیکیورٹی فورسز تعینات کرے۔