Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نادیہ افگن نے ایک انٹرویو میں اپنے کیریئر اور ذاتی زندگی کے بارے میں کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کرنا چاہتیں۔

    نادیہ افگن نے انٹرویو میں اپنی ذاتی زندگی اور شوبز کی دنیا کے حوالے سے کھل کر بات کی۔ میزبان نے اُن سے سوال کیا کہ وہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کس شخصیت کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتیں؟ اس پر نادیہ افگن نے فوری طور پر جواب دیا کہ "میرے جواب میں خلیل الرحمان قمر صاحب ہیں۔”وہ خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کرنا چاہتیں، اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ نادیہ افگن نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کام نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کچھ کرنے کا ارادہ ہے۔ مجھے وہ اچھے انسان نہیں لگتے، نہ وہ اچھی بات کرتے ہیں نہ کسی کے لئے اچھے الفاظ نکالتے ہیں، انہیں ہر ایک سے مسئلہ ہے، میری ایک بار ملاقات ہوئی انہوں نے صوفے پر پاؤں رکھا تھا، بیس پچیس سال پرانی بات تھی، میں نے السلام علیکم کہا تو انہوں نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پوچھا کہ "کون ہو تم لڑکی ایکٹر ہو” .

    میزبان نے نادیہ افگن سے ان کی زندگی کے سب سے مشکل ترین فیصلے کے بارے میں بھی سوال کیا۔ اس پر اداکارہ نے کہا کہ "بچے پیدا نہ کرنا میری زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا۔” نادیہ نے بتایا کہ انہیں طبی پیچیدگیوں کا سامنا رہا اور دو بار ان کا حمل ضائع ہو چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل علاج کرواتی رہیں، لیکن بدقسمتی سے علاج کامیاب نہ ہو سکا۔ اس دوران ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر شدید اثرات مرتب ہوئے، مگر انہوں نے اور ان کے شوہر نے اللہ کی رضا سمجھتے ہوئے اولاد کے بغیر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔نادیہ افگن نے اپنے شوہر کی حمایت کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر ہمیشہ ان کے فیصلوں کی حمایت کرتے رہے اور ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑے رہے۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

    خلیل الرحمان قمر کیس، ملزم کی ضمانت درخواست پر سماعت ملتوی

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت ملزمان کے ریمانڈ میں توسیع

    آمنہ عروج کو "معاف” نہیں کروں گا، خلیل الرحمان قمر

    خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ سے 50 ہزار روپے ریکورکر لئے

  • کراچی،بھارتی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ

    کراچی،بھارتی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ

    کراچی: جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بھارت کے مسافر بردار طیارے نےایمرجنسی لینڈنگ کی ہے،

    دوران سفر مسافر کی طبیعت بگڑنے کی وجہ سے بھارتی پرواز نے لینڈنگ کی،ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، بھارتی ائیرلائن کی پرواز AI-201 دہلی سے جدہ جا رہی تھی کہ پاکستان کی فضائی حدود میں ایک مرد مسافر کی حالت اچانک خراب ہو گئی۔ جہاز کے عملے نے فوری طور پر متاثرہ مسافر کو آکسیجن فراہم کی تاکہ اس کی حالت کو سنبھالا جا سکے، تاہم مسافر کی حالت بدستور خراب ہوتی گئی۔ طیارے کا عملہ مسلسل کوشش کر رہا تھا مگر مسافر کی حالت میں کوئی بہتری نہ آئی، جس کے بعد پائلٹ نے فوری طور پر کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔بھارتی پائلٹ نے کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست کی کہ طیارہ کراچی میں ایمرجنسی لینڈنگ کرے تاکہ مسافر کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ائیرپورٹ حکام نے پائلٹ کی درخواست پر فوری ردعمل دیتے ہوئے لینڈنگ کی اجازت دے دی۔

    جیسے ہی اجازت ملنے کے بعد طیارے نے اپنے روٹ میں تبدیلی کی اور جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی جانب رخ کر لیا۔ طیارہ بغیر کسی مزید دقت کے ائیرپورٹ پر کامیابی سے لینڈ کر گیا۔ ائیرپورٹ پر موجود حکام اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی میڈیکل ٹیم نے فوری طور پر طیارے کے اندر جا کر مسافر کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق، طیارے کی لینڈنگ کے بعد میڈیکل ٹیم نے متاثرہ مسافر کو فوراً طبی امداد دی، جس کے بعد اس کی حالت میں کچھ بہتری آئی۔ مسافر کو ائیرپورٹ کے میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا تاکہ اس کی حالت کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ ایوی ایشن حکام نے بتایا کہ مسافر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ،پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ائیرپورٹ حکام نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت دی اور اس عمل کو انتہائی پروفیشنل انداز میں انجام دیا۔ بھارتی ائیرلائن کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان اس تعاون کو دونوں ممالک کے درمیان مثبت اشارہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    انڈیگو کا کمال،پروازوں میں تاخیر،مسافر 24 گھنٹے تک بے حال

    یورپی یونین کے بعد برطانیہ کی پروازیں بھی کھلنے کی امید

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

  • ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ڈی چوک احتجاج ،یوٹیوبر،وی لاگرز،صحافیوں کیخلاف ریاست مخالف جھوٹا بیانہ بنانےکےمقدمات درج کر لئے گئے

    ایف آئی اےسائبرکرائم ونگ کی جانب سے ہرمیت سنگھ،احمد نورانی، عبدالقادر،حسنین رفیق، سلمان درانی، عمران کھٹانہ،مریم شفقت ملک اور رضوان احمد خان و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،یہ مقدمات ‘پیکا ایکٹ’ کی شق 9، 10، 11 اور 24 کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد میں درج کیے گئے ہیں۔ ہرمیت سنگھ پر درج مقدمے کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے

    درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ @HarmeetSinghPk کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹے اور تخریبی مواد کو فروغ دیا، جس سے ملک میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔مقدمہ 6 دسمبر 2024 کو ایف آئی اےسائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد میں درج کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، ہرمیت سنگھ نے اپنی ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا۔ یہ مواد عوام کو تشویش، خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا تاکہ عوام کو ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف اکسا کر ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرایا جا سکے۔ ہرمیت سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 9، 10، 11 اور 24 کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 505 کے تحت بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے عوام میں دہشت اور خوف پھیلانے کی کوشش کی اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کی سازش کی۔

    ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محمد وسیم خان نے رپورٹ درج کرنے کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں ہرمیت سنگھ کے ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پھیلائے گئے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگھ نے 24 سے 27 نومبر 2024 کے دوران کئی مرتبہ اپنے ٹویٹس کے ذریعے عوام کو بدامنی اور تشویش میں مبتلا کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنگھ کے خلاف اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو ایف آئی آر کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

    پاکستان کے حکومتی اور سیکیورٹی اداروں نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے خلاف سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس قسم کے تخریبی مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں اور اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    fia

  • پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پرآگئے۔

    افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے،حال ہی میں پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، افغانستان سے دہشتگرد پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔سب پر یہ بات عیاں ہے کہ ”دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے”۔دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔

    09 دسمبر 2024 کو، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔آپریشن کے نتیجے میں دو خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ ایک خارجی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A2, M4,AK-47 برآمد ہوا۔

    10 نومبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دس خوارج کو جہنم واصل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A4, M4,AMV-65 برآمد ہوا۔

    23/24 اکتوبر 2024 کی رات، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع باجوڑ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران، پاکستانی فوج کے دستوں نے دو خودکش بمباروں سمیت 9 خوارج اور 1 ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی رنگ کے لیڈر سید محمد عرف قریشی استاد کو جہنم واصل کیا۔ہلاک ہونے والے خوارج سے بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ جس میں M4, AMD65, AK47 گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    19/20 ستمبر 2024 کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں اپنے ہی فوجیوں اور دہشت گردوں کے درمیان دو شدید مقابلے ہوئے جس کے نتیجے میں بارہ خوارج جہنم واصل کر دیے گئے۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں SKS, AK-47, RPD, LMG برآمد ہوا۔

    افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحے کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔یورو ایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر ملکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے۔اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔ امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد دی،یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان رجیم نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور کی ملاقات

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    قومی ترانے کی بے حرمتی:پاکستان نے افغانستان سفارتخانے کی وضاحت کو سختی سے مسترد کردیا

  • انڈیگو کا کمال،پروازوں میں تاخیر،مسافر 24 گھنٹے تک بے حال

    انڈیگو کا کمال،پروازوں میں تاخیر،مسافر 24 گھنٹے تک بے حال

    استنبول کے ایئرپورٹ پر انڈیگو کی فلائٹس 6E 12 (استنبول سے دہلی) اور 6E 18 (استنبول سے ممبئی) میں 24 گھنٹوں سے زیادہ کی تاخیر کا سامنا کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    یہ فلائٹس بدھ کی رات روانہ ہونے والی تھیں، لیکن متعدد مرتبہ انہیں بغیر کسی مناسب اپ ڈیٹ کے ملتوی کر دیا گیا، جس کے باعث مسافر پریشانی کا شکار ہوگئے۔ جمعہ کی صبح تک، 39 گھنٹوں کی اس آزمائش کے بعد بھی انڈیگو نے پرواز کے روانگی کے اوقات کی تصدیق نہیں کی تھی۔پریشان حال مسافروں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کیے اور ایئرلائن کی جانب سے اس صورت حال کے انتظام میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا۔ شوبھم بنسال، ایک متاثرہ مسافر نے لنکڈ ان پر لکھا: "میں ان 400 مسافروں میں سے ایک ہوں جو گزشتہ 24 گھنٹوں سے استنبول میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انڈیگو سے کوئی جواب (یا) اپ ڈیٹس نہیں ملی۔ کیا یہ ایئرلائن چلانے کا طریقہ ہے؟”

    اسی طرح، انوشری بھنسالی نے واقعات کے افراتفری پر مبنی تسلسل کا ذکر کیا۔ "پرواز کو ایک گھنٹے کے لیے دو مرتبہ تاخیر کی گئی، پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور آخرکار 12 گھنٹے بعد دوبارہ شیڈول کیا گیا،” انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا۔ بھنسالی، جو بخار اور تھکاوٹ کا شکار تھیں، نے کہا کہ مسافروں کو رہائش، کھانے کے واؤچرز یا انڈیگو کے نمائندوں کی جانب سے کسی مدد کی پیشکش نہیں کی گئی۔

    ایک اور مسافر، روہن راجہ نے بتایا کہ سرد موسم میں لوگ مشکلات کا شکار ہو رہے تھے کیونکہ ایئرلائن کی طرف سے ان جگہوں تک پہنچنے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں کیا گیا، جہاں رہائش فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    مسافروں کو اطلاع دی گئی کہ انہیں استنبول ایئرپورٹ کے لاؤنج تک رسائی فراہم کی جائے گی، لیکن یہ تدبیر ناکافی ثابت ہوئی۔ "لاؤنج بہت چھوٹا تھا اور اتنے زیادہ مسافروں کو جگہ دینا ممکن نہیں تھا۔ ہم میں سے بہت سے افراد گھنٹوں تک کھڑے رہے، جبکہ مناسب سہولتیں بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ نہ تو متبادل پروازیں پیش کی گئیں، نہ ہی کوئی مناسب رابطہ کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کے معاوضے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا،” ممبئی جانے والے مسافر پارشوا میہتا نے کہا۔میہتا نے انڈیگو کی "بنیادی کسٹمر سروس کی فاش ناکامی” کی مذمت کی اور تمام متاثرہ مسافروں کے لیے معافی اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا۔

    انڈیگو نے اس خلل کے لیے معذرت پیش کی اور ایک بیان میں کہا، "ہم استنبول کے لیے انڈیگو کی پروازوں میں تاخیر سے آگاہ ہیں۔ ہم اپنے صارفین کی سہولت کو اولین ترجیح دیتے ہیں، اور ہماری ٹیمیں تمام رابطہ پوائنٹس پر مسافروں کی مدد کے لیے دستیاب ہیں۔ انڈیگو اپنے صارفین کو پہنچنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہے۔”لیکن اس معذرت کے باوجود، ایئرلائن نے تاخیر کی وجوہات کی تفصیل فراہم نہیں کی اور نہ ہی کسی معاوضے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس کی وجہ سے مسافر ناراض ہیں۔

    یہ واقعہ انڈیگو کی حالیہ شمولیت کے پس منظر میں آیا ہے، جب اسے 2024 کی ایئرہیلپ اسکور رپورٹ میں دنیا کی بدترین ایئرلائنز میں شامل کیا گیا۔ اس رپورٹ میں انڈیگو کو 109 ایئرلائنز میں سے 103 واں نمبر دیا گیا، جس کی وجہ کسٹمر کی تسلی بخش سروس اور پروازوں کی معطلی کے دعووں کی ناقص بنیاد پر توجہ دی گئی۔

    عالمی درجہ بندی،بھارتی انڈیگو بدترین ایئر لائنز میں شامل

    بھارتی ایئر لائن انڈیگو کو ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے نقصان

    انڈیگو ایئر لائن کا کمال،اے سی بند،مسافر پھٹ پڑے

    دہلی سے وارنسی جانے والی ’انڈیگو‘ کی فلائٹ میں ’بم کی افواہ‘

    کولکتہ ایئر پورٹ پر ایئر انڈیا اور انڈیگو کے طیارے ٹکرا گئے

    بھارت،ایئر لائن کو دھمکیوں کے بعد 10 ہوٹل کو بم سے اڑانے کی دھمکی

  • سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف 30 شکایات خارج کردی،جبکہ 5 شکایات پر ججز سے جواب طلب کرلیا,سپریم کورٹ ترجمان نے جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاسسسپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز جناب جسٹس منصور علی شاہ، جناب جسٹس منیب اختر، جناب جسٹس عامر فاروق (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) اور جناب جسٹس محمد ہاشم کاکڑ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں دستور کے آرٹیکل 209(8) اور 2005 کے سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی بنیاد پر ججوں کے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی بابت ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی جناب جسٹس منیب اختر کریں گے، تاکہ ضابطہ اخلاق اور انکوائری کے طریقہ کار میں مناسب ترامیم کی تجویز پیش کی جا سکے۔

    کونسل نے دستور کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کردہ 35 شکایات کا جائزہ لیا۔ ان شکایات میں سے 30 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ 5 شکایات پر جواب طلب کر لیا گیا ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • وزیرِ اعلیٰ مریم نوازکی بی جی آئی جینومکس کو پنجاب میں ریسرچ سنٹر قائم کرنے کی دعوت

    وزیرِ اعلیٰ مریم نوازکی بی جی آئی جینومکس کو پنجاب میں ریسرچ سنٹر قائم کرنے کی دعوت

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف، شنگھائی سے سفر کرتے ہوئے چینی شہر ڈسٹرکٹ یانٹین پہنچ گئیں جہاں انہوں نے عالمی شہرت یافتہ جینیاتی تحقیق اور میڈیسن کمپنی بی جی آئی جینومکس کے حکام کے ساتھ اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کینسر اور دیگر جینیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے بی جی آئی جینومکس کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور بی جی آئی جینومکس کے حکام نے مشترکہ طور پر کینسر کے علاج اور دیگر جینیاتی مسائل میں تعاون کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت بی جی آئی جینومکس پنجاب حکومت کی معاونت کرے گا تاکہ جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے بیماریوں کی تشخیص اور علاج کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے بی جی آئی جینومکس کے ساتھ زرعی شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں رائس پروڈکشن کی نئی ٹیکنیکس متعارف کرانے اور صحت کے شعبے میں نئے ورکنگ گروپ کے قیام کے حوالے سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے بی جی آئی جینومکس کے صدر مسٹر وانگ جیان، سی ای او ین یی، اور دیگر سینئر حکام سے ملاقات کی اور جینیاتی سیکوئنسنگ اور ڈی این اے سنتھیسز کے جدید طریقوں پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر انہوں نے بی جی آئی کی ریسرچ اور جینیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کی کامیابیوں کو سراہا۔

    بی جی آئی جینومکس نے پنجاب میں ریسرچ سینٹر قائم کرنے کی پیشکش پر مثبت ردِ عمل ظاہر کیا اور کہا کہ وہ پنجاب حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے بی جی آئی جینومکس کو پنجاب میں جینیاتی جانچ کے لیے لیبارٹریز اور طبی نمونوں کی نقل و حمل کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔بی جی آئی جینومکس دنیا بھر میں 100 سے زائد ممالک میں اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے اور جدید جینیاتی طریقوں کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ اس کمپنی نے انسانی صحت، زراعت، اور دیگر شعبوں میں اپنی تحقیق کے عملی اثرات پر روشنی ڈالی۔بی جی آئی جینومکس نے پنجاب حکومت کے ساتھ جینیاتی سیکوئنسنگ اور بیماریوں کی تشخیص میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بریفنگ دی اور کہا کہ اس کی تحقیق کا مقصد عوام کی صحت میں بہتری لانا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت صحت کے شعبے میں انقلاب لانے کے لیے پُرعزم ہے اور بی جی آئی جینومکس کے تعاون سے صوبے میں صحت کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کا فروغ ان کی حکومت کی ترجیح ہے اور وہ بی جی آئی جینومکس کے ساتھ بھرپور تعاون کے خواہاں ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ بی جی آئی جینومکس کی فیسلٹی کا قیام پنجاب میں میڈیکل ریسرچ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور اس کی مدد سے صوبے میں جدید طبی تحقیق کو مزید فروغ ملے گا۔وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے زراعت کے شعبے میں بی جی آئی جینومکس کے تعاون سے زیادہ پیداوار والے بیج کی تیاری پر بھی بات کی اور کہا کہ اس شعبے میں بھی ان کی خدمات انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ دورہ پاک چین کے درمیان جاری تعاون میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔بی جی آئی جینومکس کی ٹیم نے اس موقع پر اس بات کا یقین دلایا کہ وہ پنجاب کے صحت اور زراعت کے شعبوں میں مکمل تعاون فراہم کریں گے اور صوبے میں جدید طبی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

    پنجاب کو معاشی طورپر مستحکم اور ایک عوامی فلاحی صوبہ بنانا چاہتی ہوں،مریم نواز

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

  • عماد وسیم کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    عماد وسیم کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے معروف آل راؤنڈر عماد وسیم نے اپنے کیریئر کے اہم موڑ پر انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔

    انہوں نے یہ فیصلہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کیے گئے ایک پیغام میں کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ "بڑی سوچ بچار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کی نمائندگی کرنا میری زندگی کا بہت بڑا اعزاز ہے۔”عماد وسیم نے مزید لکھا کہ وہ اب ڈومیسٹک اور فرنچائز کرکٹ میں اپنے کرکٹ کی سفر کو جاری رکھیں گے، لیکن انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کے لئے مزید کھیلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے پر مکمل طور پر راضی ہیں اور مستقبل میں اپنے کرکٹ کیریئر کو نئے زاویے سے دیکھنے کی امید رکھتے ہیں۔

    یاد رہے کہ عماد وسیم نے اپنی ریٹائرمنٹ سے متعلق اعلان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران کیا تھا، تاہم اس سے قبل انہوں نے ورلڈکپ کے آغاز سے پہلے اپنے فیصلے کو واپس لے لیا تھا اور مزید عالمی کرکٹ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

    عماد وسیم کا کرکٹ کی دنیا میں نمایاں کردار رہا ہے، خاص طور پر محدود اوورز کی کرکٹ میں، جہاں انہوں نے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں سے پاکستان کے لیے متعدد اہم میچز جیتے۔ انہوں نے 2015 میں پاکستان کی نمائندگی شروع کی تھی اور اس کے بعد سے کئی اہم مواقع پر اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اہم آل راؤنڈرز میں سے ایک رہے، جنہوں نے اپنی باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔عماد وسیم نے متعدد ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز میں پاکستان کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات

    وزیراعظم کا زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنیوالے بجلی گھر کو بند کرنے کا حکم

  • مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات  کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں

    پاکستان کے صدر مملکت، آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے اس بل کی مختلف شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے بل میں مدارس کی تعریف میں تضاد موجود ہے اور موجودہ قوانین کے تحت نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بل کی منظوری سے مدارس کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا پاکستان کے تعلیمی نظام اور بین الاقوامی شہرت پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    صدر زرداری نے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ قوانین میں مدارس کے لیے واضح ضوابط اور رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جس کی بنا پر نئے بل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان موجودہ قوانین کو بہتر بنانے اور ان پر عملدرآمد کی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔صدر مملکت نے نئے بل میں مدارس کی تعریف کے حوالے سے تضاد کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انہیں تعلیمی اداروں کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔ تاہم، یہ تضاد پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مدارس صرف تعلیمی مقصد کے لیے قائم ہیں یا ان کا کردار وسیع تر ہے، جس میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی پہلو بھی شامل ہیں۔ اس تضاد کے باعث، بل کی منظوری سے مدارس کے تعلیمی کردار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو بحیثیت سوسائٹی رجسٹر کرانے سے ان کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا، تو ان کا استعمال تعلیمی مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے مدارس کو صرف تعلیمی اداروں کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ان کے دیگر سماجی، مذہبی یا سیاسی کردار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    صدر مملکت نے بل کی منظوری کے نتیجے میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختلف مدارس کو ایک ہی سوسائٹی کے تحت رجسٹر کیا جائے گا، تو ان مدارس میں اختلافات اور فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سوسائٹی میں مختلف مدارس کی موجودگی سے فرقہ وارانہ تشدد اور عدم برداشت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ جب مدارس مختلف تنظیموں یا افراد کی ملکیت بن جائیں گے، تو ان کے اندر مفادات کی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جس سے مدارس کی انتظامیہ میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ نہ صرف مدارس کے اندر بلکہ مقامی کمیونٹی میں بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے بل کی منظوری کے عالمی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے پاکستان کے حوالے سے عالمی اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی تنظیموں کے ردعمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی ادارے پاکستان کے تعلیمی نظام اور مدارس کی رجسٹریشن پر منفی رائے قائم کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ریٹنگز پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے نقصان ہو سکتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن کا اثر نہ صرف مدارس کے تعلیمی نظام پر پڑے گا، بلکہ اس کا پاکستان کے داخلی امن و امان، فرقہ واریت، اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، مدارس کی رجسٹریشن کے لیے موجودہ قوانین میں بہتری لانا اور ان پر مؤثر عمل درآمد کرنا زیادہ مناسب حل ہو گا۔

    اس موقع پر صدر نے تجویز دی کہ حکومت اس بل کو دوبارہ نظرثانی کرے اور مدارس کے حوالے سے موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری اصلاحات کرے تاکہ مدارس کے تعلیمی اور سماجی کردار کو بہتر بنایا جا سکے، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • مائیکرو سافٹ صارفین کے لئے ایڈوائزری،سائبر حملوں کا خطرہ

    مائیکرو سافٹ صارفین کے لئے ایڈوائزری،سائبر حملوں کا خطرہ

    مائیکرو سافٹ صارفین کے لیے ایک بڑا خطرہ سامنے آیا ہے جس میں ان کے اکاؤنٹس اور لاگ ان پاسورڈز کی سیکیورٹی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم ( نے اس حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں صارفین کو سائبر حملوں اور حساس معلومات تک غیر مجاز رسائی کے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ مائیکرو سافٹ کے ونڈوز سسٹم کے ذریعے نیٹ ورک تک رسائی کے لیے ہیکرز کو ایک نئے نوعیت کے سائبر حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان حملوں میں ہیکرز کو سسٹم میں داخل ہونے کے لیے کسی فائل کو کھولنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، اور وہ نیٹ ورک کی حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے مطابق، ہیکرز کو صرف لاگ ان پاسورڈز یا نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہو جائے تو وہ پورے سسٹم کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ اس خطرے کا سامنا مائیکرو سافٹ کے تمام ونڈوز ورژنز بشمول ونڈوز 7، 10، 11 اور ونڈوز سرور 2022 کو ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، مائیکرو سافٹ نے ابھی تک اس سیکیورٹی مسئلے کے لیے کوئی آفیشل حل فراہم نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو اپنی سیکیورٹی کی سطح کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایڈوائزری میں نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے تاکہ ایسے سائبر حملوں سے بچا جا سکے۔

    ایڈوائزری میں دوہرے حفاظتی نظام کو نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ لاگ ان پروسیس کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، نیٹ ورک کی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے فائروال، ورچوئل لوکل ایریا نیٹ ورک یا نیٹ ورک سے مخصوص معلومات کو محفوظ بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یو ایس بی ڈیوائسز، ای میل اٹیچمنٹس اور شیئر فولڈرز سے مشکوک فائلز کو نہ کھولیں۔ یہ فائلز اکثر ہیکرز کے ذریعے سسٹم میں مداخلت کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

    نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کی اس ایڈوائزری کے بعد مائیکرو سافٹ صارفین کے لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پروٹوکولز کو اپ ڈیٹ کریں اور کسی بھی ممکنہ سائبر حملے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنا انتہائی اہم ہے تاکہ حساس معلومات اور نیٹ ورک کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔