مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران بحیرۂ روم کے جزیرے سائپرس میں واقع برطانوی فوجی اڈے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے کے بعد نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
برطانیہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اڈے کو نشانہ بنانے والا یک طرفہ (ون وے) حملہ آور ڈرون ایران سے لانچ نہیں کیا گیا تھا۔برطانوی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز جاری بیان میں ڈرون کی اصل جائے پرواز کی وضاحت نہیں کی، تاہم اسے "شاہد طرز” (Shahed-like) قرار دیا۔ واضح رہے کہ "شاہد” سیریز کے ڈرون ایران میں ڈیزائن اور تیار کیے جاتے ہیں اور حالیہ برسوں میں مختلف علاقائی تنازعات میں ان کا استعمال رپورٹ ہو چکا ہے۔
قبرصی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ڈرون کا رخ لبنان کی جانب سے تھا۔ قبرص کے نائب حکومتی ترجمان نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ قومی گارڈ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ڈرون لبنان سے داغا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون "ون وے اٹیک ڈرون” تھا، یعنی اسے ہدف سے ٹکرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور واپسی کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس قسم کے ڈرون عموماً بارودی مواد سے لیس ہوتے ہیں اور کم لاگت کے باوجود مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی ایران، اسرائیل اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اگر ڈرون حملے کا براہِ راست تعلق ایران سے جوڑا جاتا تو اس کے سفارتی اور عسکری اثرات مزید سنگین ہو سکتے تھے۔دفاعی ماہرین کے مطابق "شاہد طرز” کی اصطلاح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو ڈرون ایرانی ڈیزائن سے متاثر تھا یا اسی طرز کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، تاہم اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اسے ایران ہی سے لانچ کیا گیا ہو۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید کر دی گئی ہے، لیکن لبنان سے مبینہ لانچنگ بھی خطے میں جاری پراکسی کشمکش کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔









