Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خلیجی ممالک کے پاس میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ

    خلیجی ممالک کے پاس میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی فضائی کارروائیاں موجودہ رفتار سے “ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ” جاری رہیں تو خلیجی ممالک کے لیے اپنے دفاع کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اورقطراپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے پریس دفاتر نے الگ الگ بیانات میں واضح کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام کمزور نہیں ہوئے اور ان کے پاس دفاعی سازوسامان وافر مقدار میں موجود ہے۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک 182 میں سے 169 میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ 645 ڈرون مار گرائے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 44 میزائل یا ڈرون ریاستی حدود کے اندر آ کر گرے۔دوسری جانب قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 104 میں سے 101 میزائل ناکارہ بنائے اور 39 میں سے 24 ڈرون تباہ کیے۔

    اگرچہ یہ شرح کامیابی بظاہر مؤثر دکھائی دیتی ہے، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔سنگاپور کی National University of Singapore سے وابستہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو Jean-Loup Samaan نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ایرانی حملوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے (متحدہ عرب امارات) ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ اپنے موجودہ دفاعی وسائل پر انحصار نہیں کر سکتے۔”

    دوسری جانب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے دفاعی ایڈیٹر Shashank Joshi کے مطابق ایران کے پاس مختلف رینج کے تقریباً 2,500 میزائل موجود ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ “شاہد” ڈرونز کی درست تعداد واضح نہیں۔جوشی نے خبردار کیا کہ اگر اسی نوعیت کے حملے مزید ایک ہفتہ جاری رہے تو “انتہائی جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید قلت” پیدا ہو سکتی ہے۔

    ادھر لندن میں قائم تھنک ٹینک ے سینئر فیلو Hasan Alhasan کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک ممکنہ طور پر دفاعی حکمتِ عملی سے ہٹ کر جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا “اگر خلیجی ریاستیں اپنی جدید اور متنوع فضائی افواج کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو میدان کسی حد تک کھلا ہو سکتا ہے۔”

    تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال نہ صرف خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر حملوں کا سلسلہ طویل ہوا تو اس کے اثرات تیل کی منڈیوں، فضائی حدود کی سیکیورٹی اور عالمی سفارتی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتِ حال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تاہم یواے ای اور قطر نے انٹر سیپٹرز کی کمی سے متعلق خدشات مسترد کر دیے،یواے ای اور قطر کا کہنا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستوں کے پاس امریکی فوجی نظام کے ساتھ دنیا کے سب سے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، امریکی اخبار کے مطابق یوکرین کی 4 سالہ جنگ میں معاونت کے بعد پینٹاگون کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوتا جا رہا ہے ۔

  • امریکی و اسرائیلی حملے میں تہران میں گلستان محل میں بھی تباہی

    امریکی و اسرائیلی حملے میں تہران میں گلستان محل میں بھی تباہی

    ایران کے تاریخی اور عالمی ثقافتی ورثے کی علامت گلستان محل کو حالیہ امریکی،اسرائیلی حملوں کے بعد نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد محل کے بعض حصوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محل کا مشہور آئینہ دار تخت ہال اور وہاں موجود نایاب میوزیم نوادرات کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ اقدام جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور جون 2025 میں جاری 12 روزہ جنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا تھا، جس کے باعث قیمتی تاریخی اشیا کو محفوظ والٹ میں رکھا گیا۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے نے تمام متعلقہ فریقین کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل مقامات اور قومی اہمیت کے حامل تاریخی مقامات کے جغرافیائی محلِ وقوع (کوآرڈینیٹس) فراہم کر دیے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

    گلستان محل ایران کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار قاجار دورِ حکومت میں اقتدار کا مرکز بنا، جب دارالحکومت کو تہران منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں پہلوی دور میں بھی یہ محل ریاستی تقریبات اور اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اداروں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران تاریخی اور ثقافتی مقامات کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے جائزہ کارروائی جاری ہے۔

  • ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کی جانب سے عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں کرد گروہوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کی ذمہ داری آئی آر جی سی نے قبول کرلی ہے۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ے مطابق آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراق کے کردستان ریجن میں موجود گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران 30 ڈرونز فضا میں بھیجے گئے، جنہوں نے مبینہ طور پر ہدف بنائے گئے مقامات کو تباہ کر دیا۔آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی ایران کی قومی سلامتی کے تحفظ اور سرحد پار سرگرم گروہوں کے خلاف کی گئی

    دوسری جانب کرد تنظیموں نے حملوں کی تصدیق تو کی ہے، مگر ایرانی دعوے میں بتائی گئی ڈرونز کی تعداد کو مسترد کر دیا ہے۔ ے ڈی پی آئی نے کہا ہے کہ ان کے ٹھکانوں پر صرف تین ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔اسی طرح پی اے کے نے بھی تصدیق کی کہ ان کے ایک مرکز کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں ایرانی مخالف کرد گروہ طویل عرصے سے سرگرم ہیں، اور ماضی میں بھی ایران ان پر سرحد پار حملوں کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بغداد اور اربیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ایران  کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ کیا ہے۔
    یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بحری ایندھن کا مرکز ہے جو بحری جہازوں کو ہرمز کے آبنائے کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اہم تجارتی مرکز فجیرہ بندرگاہ نے حملے کے بعد اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔یاد رہے کہ فجیرہ پورٹ کو اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ یہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر، بحیرۂ عمان کے راستے، محدود پیمانے پر تیل کی فروخت اور ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران اب براہ راست دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ،اسرائیل اور ایران کشیدگی کے چوتھے روز خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی ایک بڑی آئل ریفائنری اور قطر میں امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی ڈرونز نے Fujairah کے آئل زون کو نشانہ بنایا، جو مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا آئل ٹریڈنگ ہب تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔اماراتی حکام کے مطابق آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تیل کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے عمل کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ فجیرہ خطے میں ریفائنڈ آئل مصنوعات کے سب سے بڑے کمرشل ذخائر موجود ہیں، اس لیے اس حملے کو عالمی تیل منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں واقع Al Udeid Air Base کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس اڈے پر بھی حملے کیے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر بھی دو ایرانی ڈرونز ٹکرانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بلا جواز اور بزدلانہ اقدام” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان میں نئی پوزیشنز سنبھالنے کے لیے زمینی پیش قدمی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہے۔اس سے قبل اسرائیل نے تہران میں ایرانی صدارتی دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

    فرانس نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جبکہ قبرص کے دفاع کے لیے بحری جہاز بھی روانہ کیے گئے ہیں، جہاں ایک برطانوی فضائی اڈے کو حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ایرانی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو تہران آبنائے ہرمز میں "ہر جہاز کو جلا دے گا”۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

  • افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    دہشتگرد وسیم عرف بلال، جو 2008 میں ننگرہار میں پیدا ہوا، نے 2023 میں قرآن حفظ کیا۔ یہ ایک عظیم کامیابی تھی جو اسے امن اور انسانیت کی خدمت کی طرف لے جا سکتی تھی، مگر اسے جلال آباد کے ایک مدرسے میں تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے گروہ جماعت الاحرار سے وابستہ دہشتگردوں نے اپنے جال میں پھنسا لیا۔

    اسے 9 مئی 2024 کو اپنے مشن سے پہلے گرفتار کر لیا گیا۔دہشتگرد وسیم نے شونکرے، کنڑ میں دہشتگرد کمانڈروں احمد اور مفتی صدیق کے زیر نگرانی تربیت حاصل کی، جہاں 20 سے 25 بھرتی افراد اور تقریباً 100 خودکش بمبار موجود تھے۔ یہ پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا واضح ثبوت ہے، جس کی نشاندہی پاکستان عالمی سطح پر بارہا کرتا رہا ہے اور جس کی تصدیق حالیہ 37ویں اقوام متحدہ مانیٹرنگ رپورٹ سمیت دیگر رپورٹس میں بھی ہوئی۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشتگرد وسیم کو پشاور کے حاجی کیمپ بس اسٹینڈ پر گرفتار کیا، جو دہشتگردی کی روک تھام میں پاکستان کی چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔

    دہشتگرد گروہ جیسے فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ مسلمانوں سمیت معصوم شہریوں، خواتین، بچوں، بزرگوں اور زخمیوں کو قتل کرتے اور ان کے روزگار تباہ کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ پاکستانی قوم اور تمام مکاتب فکر کے 1,800 علماء کے متفقہ فیصلے کے مطابق مسترد ہے، جنہوں نے خوارج کے جہادی نظریے کو حرام قرار دیا۔ خوارج انسانیت اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے ادارے ریاست اور حقیقی اسلام کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔دہشتگرد وسیم کابل سے اسمگلروں اور ہینڈلرز جیسے کمانڈر سربکف کے ساتھ پاکستان آیا۔ اس کی تعیناتی کے صرف پانچ دن کے اندر گرفتاری پاکستان کی اعلیٰ سطح کی چوکسی کو ظاہر کرتی ہے اور واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں تشدد کے ارادے سے داخل ہونے والا ہر شخص گرفتار اور سزا کا مستحق ہوگا۔

  • اسرائیل کا  تہران میں صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل کا تہران میں صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جب آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران ایران کے صدارتی کمپاؤنڈ پر متعدد بم گرائے گئے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی ایرانی قیادت کے حساس مراکز کو ہدف بنانے کے لیے کی گئی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ سطحی فیصلہ سازی اور عسکری رابطہ نظام کو متاثر کرنا تھا۔اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دفتر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔ یہ ادارہ قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ "تزویراتی صلاحیت” کو کمزور کیا جا سکے۔

    تہران میں لیڈرشپ کمپلیکس پر 100 طیاروں سے حملہ کیا گیا،اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں صدارتی بیورو کو بھی نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوج پچھلے 30 گھنٹے کے دوران ایران پر 2000 بم گرائے ہیں، ایران کے صدارتی دفتر اور سلامتی کونسل کی عمارت پر حملہ کیا ہے۔

    علاوہ ازیں ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور قطرمیں امریکی اڈے پر حملے کیے ہیں،دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں جانی نقصان میں اضافہ ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں جنگ کے آغاز سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 787 تک پہنچ گئی۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سمیت متعدد اہم عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوگئیں، اسکول کی درجنوں بچیوں سمیت سیکڑوں شہری بھی حملوں میں جاں بحق ہوئے۔

  • ابھی واضح نہیں قونصل خانے پر احتجاج کے دوران کس نے فائرنگ کی تھی،شرجیل میمن

    ابھی واضح نہیں قونصل خانے پر احتجاج کے دوران کس نے فائرنگ کی تھی،شرجیل میمن

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے جے آئی ٹی بنائی، کمیٹی 15 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی واضح نہیں امریکی قونصل خانے پر احتجاج کے دوران کس نے فائرنگ کی تھی، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور کرائم سین کو مانیٹرنگ کیا جائے گا، جے آئی ٹی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا انتظار کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر فائرنگ سے 10 مظاہرین جاں بحق ہوئے تھے۔کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے معاملے پر پولیس نے سرکار کی مدعیت میں 3 مقدمات درج کرلئے، مقدمات میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی گئی تھی۔کراچی پولیس نے سرکار کی مدعیت میں مقدمات درج کرلیے، جن میں قتل، اقدام قتل، دہشتگردی اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ ڈاکس تھانے میں پولیس انسپکٹر نند لال کی مدعیت میں درج کیا گیا،مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کیا گیا، کچھ افراد قونصل خانے میں گھس گئے، مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور آگ لگانے کی کوشش کی،متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہجوم میں شامل چند عناصر نے فائرنگ کی، شرپسند افراد نے ٹریفک پولیس چوکی کو آگ لگائی۔

  • کراچی پولیس کا ٹرمپ،نیتن یاہو،مودی پر مقدمے سے انکار،شہری عدالت پہنچ گیا

    کراچی پولیس کا ٹرمپ،نیتن یاہو،مودی پر مقدمے سے انکار،شہری عدالت پہنچ گیا

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ،نریندر مودی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پراسکیوشن ،ایس ایس پی کمپلین سیل کیماڑی اور ایس ایچ او ڈاکس کو نوٹس جاری کردئیے ،عدالت نےفریقین سے پانچ مارچ تک جواب طلب کرلیا ،درخواست گزار نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کئی برسوں سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اور لاکھوں ایرانی شہریوں کو دھمکیاں دے رہے تھے ، اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان میں افراتفری پیدا کی ہے ، سولہ فروری اور 25 فروری نریندری مودی نے افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کیا ہے ، امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر 300 سے زائد حملے کرکے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا ہے ،ایران پر حملے سے درخواست گزار اور لاکھوں مسلمان کو ذہنی ،جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے ،پولیس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، اسرائیلی صدر نیتن یاہو ،نریندری مودی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا ہے،عدالت نے استدعا ہے کہ ایس ایچ او ڈاکس کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا جائے ،

  • عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر عائد اعتراضات دور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو نمبر لگا کر دس مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدائت کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے خلاف اپیل میں متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی اور دوران سماعت اعتراضات دور کر دیے۔ عدالت نے کہا مرکزی اپیل کیوں نہ سنی جائے؟ سردار لطیف کھوسہ نے کہا بانی پی ٹی آئی کی صحت کا بھی معاملہ ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا ہم اپیل اور آپ کی درخواست دونوں سُن لیتے ہیں، ہم آپ کی اپیل پر فیصلہ کریں گے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا 2023 کی اپیلیں ہیں لیکن پیپر بک تیار نہیں۔ سردار لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل سے اسپتال منتقلی کی درخواست پر تاخیر مت ہونے دیں وہ کل ہی لگا لیں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کا آرڈر بھی جاری کیا جائے۔

    جسٹس ارباب طاہر نے کہا آپ نے یہ استدعا اپنی متفرق درخواست میں کی ہے، ہم نے آپکی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ پیپر بک تیار ہونے میں دو تین دن لگ جائیں گے، مرکزی اپیل آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر رہے ہیں، آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں

  • ایف سی بلوچستان نارتھ  نے دشمن کی  ابو طاہر  پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا

    ایف سی بلوچستان نارتھ نے دشمن کی ابو طاہر پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا

    ایف سی بلوچستان نارتھ کی بلوچستان کے گڈوانہ سیکٹر، ژوب میں افغان طالبان کے خلاف مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔

    ایف سی بلوچستان نارتھ نے دشمن کی ایک اہم ابو طاہر پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے،کارروائی کے دوران دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ دشمن کی پوسٹ پر قبضے سے سیکیورٹی فورسز کی پوزیشن ایریا میں مزید مستحکم ہوئی ہے۔ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا،سیکیورٹی فورسز ہر قسم کی دراندازی اور جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔ پاکستان اپنی خودمختاری، سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔