Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران میں درجنوں لانچنگ سائٹس نشانہ ، 300 میزائل لانچرز کو ناکارہ بنا دیا ،اسرائیلی فضائیہ

    ایران میں درجنوں لانچنگ سائٹس نشانہ ، 300 میزائل لانچرز کو ناکارہ بنا دیا ،اسرائیلی فضائیہ

    اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ فضائیہ نے ایران میں درجنوں لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا اور تقریباً 300 میزائل لانچرز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ فوج کے مطابق موجودہ کارروائی کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فضائیہ ایران بھر میں 4,000 سے زائد ہتھیار گرا چکی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سینکڑوں جنگی طیارے اور دیگر فضائی جہاز بیک وقت ایران اور لبنان میں سینکڑوں اہداف پر حملے کر رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق جارحانہ حکمت عملی کے تحت فضائیہ ایرانی حکومت کے بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی دفاعی نظام کے خلاف مسلسل اور مرحلہ وار حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن "شیر کی دھاڑ” کے آغاز سے اب تک فضائیہ تقریباً 300 میزائل لانچرز کو مکمل طور پر ناکارہ بنا چکی ہے۔ یہ نتیجہ 1,600 سے زائد حملہ آور پروازوں اور چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی منظم کارروائیوں کا حاصل ہے، جن کا مقصد میزائل لانچرز اور میزائل ذخائر کو تباہ کر کے اسرائیل کے اندرونی علاقوں پر ہونے والی فائرنگ کو کم سے کم کرنا ہے۔

  • اسرائیل کا  تہران پر حملے میں لبنان کے لیے ایران کے اعلیٰ کمانڈر کو مارنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا تہران پر حملے میں لبنان کے لیے ایران کے اعلیٰ کمانڈر کو مارنے کا دعویٰ

    اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں ایک فضائی حملے کے دوران ایران کی قدس فورس کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو شہید کر دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایران کے دارالحکومت تہران میں کی گئی، جس میں پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک آپریشنز کی ذمہ دار شاخ قدس فورس کے عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والے کمانڈر کی شناخت داؤد علی زادہ کے نام سے ہوئی ہے، جو قدس فورس کے لبنان کور کے "عارضی کمانڈر” تھے اور لبنان میں ایرانی سرگرمیوں کے سب سے سینئر ذمہ دار افسر سمجھے جاتے تھے۔فوجی بیان کے مطابق علی زادہ اپنے پیشرو کی جگہ تعینات کیے گئے تھے، جو اس سے قبل اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔

    تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کہا ہے کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ ایران کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علی زادہ جس ڈویژن کی قیادت کر رہے تھے وہ لبنان میں حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتی تھی اور پاسدارانِ انقلاب اور حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ تھی۔

    اسرائیل کے مطابق لبنان کور دراصل پاسدارانِ انقلاب اور لبنان کی ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اسرائیل گزشتہ چند روز سے لبنان میں حزب اللہ سے منسلک اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز،ترک صدر کا  خطے میں امن کیلیے  مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

    وزیراعظم شہباز،ترک صدر کا خطے میں امن کیلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر جناب رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔

    وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ سپریم لیڈرخامنہ ای کی جگہ کوئی ویسا ہی سخت گیر رہنما آ جائے،ٹرمپ

    بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ سپریم لیڈرخامنہ ای کی جگہ کوئی ویسا ہی سخت گیر رہنما آ جائے،ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے پہلی بار عوامی سطح پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ گفتگو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر کے ہمراہ ملاقات کے دوران کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان بند کمرہ اجلاس بھی ہوا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے منصوبے نے امریکا کو ہفتے کے روز کارروائی پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے انہوں نے اسرائیل کو اقدام پر “مجبور” کیا ہو، نہ کہ اس کے برعکس۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی آپریشن کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ان کے بقول ایران کے پاس “نہ بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، نہ فضائی نگرانی کا نظام اور نہ ہی ریڈار۔”انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران پر حملوں سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے انخلا کا کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں تھا کیونکہ کارروائی بہت تیزی سے انجام دی گئی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے اپنے ہمسایہ ممالک پر جوابی حملوں پر حیران ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا، وہ بھی اس صورتحال پر حیران تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس بعض ہتھیاروں کا “عملاً لامحدود ذخیرہ” موجود ہے اور دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیاں ہنگامی اختیارات کے تحت تیزی سے اسلحہ تیار کر رہی ہیں۔

    ٹرمپ نے برطانیہ کو “انتہائی غیر تعاون کرنے والا” قرار دیتے ہوئے جزائر چاگوس کے معاملے پر اختلافات کا ذکر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نیٹو اخراجات کے مسئلے پر اسپین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست پر تقریباً تمام یورپی ممالک نے دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم اسپین نے ایسا نہیں کیا۔ یاد رہے کہ اسپین کے وزیر اعظم نے گزشتہ برس نیٹو کی اس تجویز کو “غیر معقول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ٹرمپ نے دھمکی دی کہ امریکا اسپین کے ساتھ تجارت محدود کر سکتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا اور اسپین کے درمیان 47.5 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی، جس میں امریکا کو برآمدات میں برتری حاصل رہی۔اس موقع پر چانسلر فریڈرک مرز نے بھی کہا کہ اسپین واحد ملک ہے جو 5 فیصد دفاعی ہدف سے اتفاق نہیں کر رہا اور جرمنی اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ایران پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے 1979 کے یرغمال بحران اور 1983 میں بیروت میں امریکی میرین بیرکس پر حملے کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کئی دہائیوں سے “دہشت گردی کا سرپرست” رہا ہے اور “کسی نہ کسی کو یہ قدم اٹھانا ہی تھا۔”انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی حالیہ موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ ان کی جگہ کوئی ویسا ہی سخت گیر رہنما آ جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ “فی الحال” احتجاج نہ کریں کیونکہ حالات انتہائی خطرناک ہیں اور بمباری جاری ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں ایران میں ایسی قیادت آئے جو اقتدار عوام کو واپس دے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مختصر عرصے میں ہزاروں میزائل تیار کیے، جن میں سے متعدد امریکی کارروائی میں تباہ کر دیے گئے ہیں۔

  • خلیجی ممالک کے پاس میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ

    خلیجی ممالک کے پاس میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی فضائی کارروائیاں موجودہ رفتار سے “ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ” جاری رہیں تو خلیجی ممالک کے لیے اپنے دفاع کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اورقطراپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے پریس دفاتر نے الگ الگ بیانات میں واضح کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام کمزور نہیں ہوئے اور ان کے پاس دفاعی سازوسامان وافر مقدار میں موجود ہے۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک 182 میں سے 169 میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ 645 ڈرون مار گرائے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 44 میزائل یا ڈرون ریاستی حدود کے اندر آ کر گرے۔دوسری جانب قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 104 میں سے 101 میزائل ناکارہ بنائے اور 39 میں سے 24 ڈرون تباہ کیے۔

    اگرچہ یہ شرح کامیابی بظاہر مؤثر دکھائی دیتی ہے، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔سنگاپور کی National University of Singapore سے وابستہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو Jean-Loup Samaan نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ایرانی حملوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے (متحدہ عرب امارات) ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ اپنے موجودہ دفاعی وسائل پر انحصار نہیں کر سکتے۔”

    دوسری جانب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے دفاعی ایڈیٹر Shashank Joshi کے مطابق ایران کے پاس مختلف رینج کے تقریباً 2,500 میزائل موجود ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ “شاہد” ڈرونز کی درست تعداد واضح نہیں۔جوشی نے خبردار کیا کہ اگر اسی نوعیت کے حملے مزید ایک ہفتہ جاری رہے تو “انتہائی جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید قلت” پیدا ہو سکتی ہے۔

    ادھر لندن میں قائم تھنک ٹینک ے سینئر فیلو Hasan Alhasan کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک ممکنہ طور پر دفاعی حکمتِ عملی سے ہٹ کر جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا “اگر خلیجی ریاستیں اپنی جدید اور متنوع فضائی افواج کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو میدان کسی حد تک کھلا ہو سکتا ہے۔”

    تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال نہ صرف خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر حملوں کا سلسلہ طویل ہوا تو اس کے اثرات تیل کی منڈیوں، فضائی حدود کی سیکیورٹی اور عالمی سفارتی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتِ حال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تاہم یواے ای اور قطر نے انٹر سیپٹرز کی کمی سے متعلق خدشات مسترد کر دیے،یواے ای اور قطر کا کہنا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستوں کے پاس امریکی فوجی نظام کے ساتھ دنیا کے سب سے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، امریکی اخبار کے مطابق یوکرین کی 4 سالہ جنگ میں معاونت کے بعد پینٹاگون کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوتا جا رہا ہے ۔

  • امریکی و اسرائیلی حملے میں تہران میں گلستان محل میں بھی تباہی

    امریکی و اسرائیلی حملے میں تہران میں گلستان محل میں بھی تباہی

    ایران کے تاریخی اور عالمی ثقافتی ورثے کی علامت گلستان محل کو حالیہ امریکی،اسرائیلی حملوں کے بعد نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد محل کے بعض حصوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محل کا مشہور آئینہ دار تخت ہال اور وہاں موجود نایاب میوزیم نوادرات کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ اقدام جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور جون 2025 میں جاری 12 روزہ جنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا تھا، جس کے باعث قیمتی تاریخی اشیا کو محفوظ والٹ میں رکھا گیا۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے نے تمام متعلقہ فریقین کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل مقامات اور قومی اہمیت کے حامل تاریخی مقامات کے جغرافیائی محلِ وقوع (کوآرڈینیٹس) فراہم کر دیے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

    گلستان محل ایران کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار قاجار دورِ حکومت میں اقتدار کا مرکز بنا، جب دارالحکومت کو تہران منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں پہلوی دور میں بھی یہ محل ریاستی تقریبات اور اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اداروں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران تاریخی اور ثقافتی مقامات کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے جائزہ کارروائی جاری ہے۔

  • ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کی جانب سے عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں کرد گروہوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کی ذمہ داری آئی آر جی سی نے قبول کرلی ہے۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ے مطابق آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراق کے کردستان ریجن میں موجود گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران 30 ڈرونز فضا میں بھیجے گئے، جنہوں نے مبینہ طور پر ہدف بنائے گئے مقامات کو تباہ کر دیا۔آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی ایران کی قومی سلامتی کے تحفظ اور سرحد پار سرگرم گروہوں کے خلاف کی گئی

    دوسری جانب کرد تنظیموں نے حملوں کی تصدیق تو کی ہے، مگر ایرانی دعوے میں بتائی گئی ڈرونز کی تعداد کو مسترد کر دیا ہے۔ ے ڈی پی آئی نے کہا ہے کہ ان کے ٹھکانوں پر صرف تین ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔اسی طرح پی اے کے نے بھی تصدیق کی کہ ان کے ایک مرکز کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں ایرانی مخالف کرد گروہ طویل عرصے سے سرگرم ہیں، اور ماضی میں بھی ایران ان پر سرحد پار حملوں کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بغداد اور اربیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ایران  کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ کیا ہے۔
    یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بحری ایندھن کا مرکز ہے جو بحری جہازوں کو ہرمز کے آبنائے کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اہم تجارتی مرکز فجیرہ بندرگاہ نے حملے کے بعد اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔یاد رہے کہ فجیرہ پورٹ کو اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ یہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر، بحیرۂ عمان کے راستے، محدود پیمانے پر تیل کی فروخت اور ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران اب براہ راست دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ،اسرائیل اور ایران کشیدگی کے چوتھے روز خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی ایک بڑی آئل ریفائنری اور قطر میں امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی ڈرونز نے Fujairah کے آئل زون کو نشانہ بنایا، جو مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا آئل ٹریڈنگ ہب تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔اماراتی حکام کے مطابق آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تیل کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے عمل کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ فجیرہ خطے میں ریفائنڈ آئل مصنوعات کے سب سے بڑے کمرشل ذخائر موجود ہیں، اس لیے اس حملے کو عالمی تیل منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں واقع Al Udeid Air Base کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس اڈے پر بھی حملے کیے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر بھی دو ایرانی ڈرونز ٹکرانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بلا جواز اور بزدلانہ اقدام” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان میں نئی پوزیشنز سنبھالنے کے لیے زمینی پیش قدمی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہے۔اس سے قبل اسرائیل نے تہران میں ایرانی صدارتی دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

    فرانس نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جبکہ قبرص کے دفاع کے لیے بحری جہاز بھی روانہ کیے گئے ہیں، جہاں ایک برطانوی فضائی اڈے کو حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ایرانی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو تہران آبنائے ہرمز میں "ہر جہاز کو جلا دے گا”۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

  • افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    دہشتگرد وسیم عرف بلال، جو 2008 میں ننگرہار میں پیدا ہوا، نے 2023 میں قرآن حفظ کیا۔ یہ ایک عظیم کامیابی تھی جو اسے امن اور انسانیت کی خدمت کی طرف لے جا سکتی تھی، مگر اسے جلال آباد کے ایک مدرسے میں تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے گروہ جماعت الاحرار سے وابستہ دہشتگردوں نے اپنے جال میں پھنسا لیا۔

    اسے 9 مئی 2024 کو اپنے مشن سے پہلے گرفتار کر لیا گیا۔دہشتگرد وسیم نے شونکرے، کنڑ میں دہشتگرد کمانڈروں احمد اور مفتی صدیق کے زیر نگرانی تربیت حاصل کی، جہاں 20 سے 25 بھرتی افراد اور تقریباً 100 خودکش بمبار موجود تھے۔ یہ پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا واضح ثبوت ہے، جس کی نشاندہی پاکستان عالمی سطح پر بارہا کرتا رہا ہے اور جس کی تصدیق حالیہ 37ویں اقوام متحدہ مانیٹرنگ رپورٹ سمیت دیگر رپورٹس میں بھی ہوئی۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشتگرد وسیم کو پشاور کے حاجی کیمپ بس اسٹینڈ پر گرفتار کیا، جو دہشتگردی کی روک تھام میں پاکستان کی چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔

    دہشتگرد گروہ جیسے فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ مسلمانوں سمیت معصوم شہریوں، خواتین، بچوں، بزرگوں اور زخمیوں کو قتل کرتے اور ان کے روزگار تباہ کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ پاکستانی قوم اور تمام مکاتب فکر کے 1,800 علماء کے متفقہ فیصلے کے مطابق مسترد ہے، جنہوں نے خوارج کے جہادی نظریے کو حرام قرار دیا۔ خوارج انسانیت اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے ادارے ریاست اور حقیقی اسلام کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔دہشتگرد وسیم کابل سے اسمگلروں اور ہینڈلرز جیسے کمانڈر سربکف کے ساتھ پاکستان آیا۔ اس کی تعیناتی کے صرف پانچ دن کے اندر گرفتاری پاکستان کی اعلیٰ سطح کی چوکسی کو ظاہر کرتی ہے اور واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں تشدد کے ارادے سے داخل ہونے والا ہر شخص گرفتار اور سزا کا مستحق ہوگا۔

  • اسرائیل کا  تہران میں صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل کا تہران میں صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جب آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران ایران کے صدارتی کمپاؤنڈ پر متعدد بم گرائے گئے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی ایرانی قیادت کے حساس مراکز کو ہدف بنانے کے لیے کی گئی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ سطحی فیصلہ سازی اور عسکری رابطہ نظام کو متاثر کرنا تھا۔اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دفتر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔ یہ ادارہ قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ "تزویراتی صلاحیت” کو کمزور کیا جا سکے۔

    تہران میں لیڈرشپ کمپلیکس پر 100 طیاروں سے حملہ کیا گیا،اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں صدارتی بیورو کو بھی نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوج پچھلے 30 گھنٹے کے دوران ایران پر 2000 بم گرائے ہیں، ایران کے صدارتی دفتر اور سلامتی کونسل کی عمارت پر حملہ کیا ہے۔

    علاوہ ازیں ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور قطرمیں امریکی اڈے پر حملے کیے ہیں،دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں جانی نقصان میں اضافہ ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں جنگ کے آغاز سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 787 تک پہنچ گئی۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سمیت متعدد اہم عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوگئیں، اسکول کی درجنوں بچیوں سمیت سیکڑوں شہری بھی حملوں میں جاں بحق ہوئے۔