Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان کا مؤثر جواب، آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ، پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکرخیل پوسٹ تباہ

    پاکستان کا مؤثر جواب، آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ، پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکرخیل پوسٹ تباہ

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے کچھ دیر پہلے افغانستان کی متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیاہے۔ جن میں آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ، پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکرخیل پوسٹ شامل ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید دباؤ کے باعث افغان طالبان فورسز چیک پوسٹیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں۔
    آپریشن “غضب للحق” تاحال جاری ہے اور اپنے طے شدہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

    پاک فوج نے نیوافغان8پوسٹ پر قبضہ کرکے اسے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا،دشمن فرارہونے پرمجبورہو گیا،قلعہ سیف اللہ کے بادینی سیکٹر میں پاک فوج نے دشمن کی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔ پاک فوج کے مؤثر جوابی وار کے نتیجے میں ٹی ٹی اے کے اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے

  • افغان طالبان فیصلہ کر لیں وہ دہشت گردی کا ساتھ دیں گے یا پاکستان کا ،خالد مسعودسندھو

    افغان طالبان فیصلہ کر لیں وہ دہشت گردی کا ساتھ دیں گے یا پاکستان کا ،خالد مسعودسندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ افغانستان کی بلا اشتعال جارحیت پر پاکستانی قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ افغان طالبان فیصلہ کر لیں وہ دہشت گردی کا ساتھ دیں گے یا پاکستان کا ، فتنہ الخوارج ملک و ملت کے دشمن، قیام امن کے لئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہماری لڑائی افغان عوام کے ساتھ نہیں بلکہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے نجی ہوٹل میں سینئر صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مرکزی ترجمان تابش قیوم ، سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ لاہور مزمل اقبال ہاشمی نے بھی خطاب کیا۔ مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کی سیاست خدمت کی سیاست ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کام صرف الیکشن لڑنا نہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کی خدمت کی سیاست صحافیوں نے خود دیکھی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے امام بارگاہ پر حملہ سازش تھی ۔ افغانستان سے ہمارے ملک میں دہشت گردی ہوئی ان 5 سالوں میں دس ہزار کے قریب شہری شہید ہوئے۔برداشت کی ایک حد ہوتی یے ۔ پاکستان نے افغانوں کی میزبانی کی لیکن انہوں نے بھلائی کا بدلہ بھلائی میں نہ دیا ۔مسلح افواج عوام پر حملے قابل برداشت نہیں۔ اب افغان انڈیا کی گود میں جا کر بیٹھ گئے۔ ایک بار پھر کہتا ہوں اسرائیل و انڈیا کی لڑائی افغانستان میں نہ لڑیں ۔ آج وقت ہے ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہو کر اس ملک کے لیے سوچنا ہو گا مسلح افواج کے ساتھ قوم بھر پور طریقے سے کھڑی یے ۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کی طرف امت مسلمہ دیکھتی ہے۔ ہماری افغان عوام کے ساتھ لڑائی نہیں ہماری جنگ ان دہشت گردوں کے ساتھ ہے جو ہمارے عوام پر حملہ کرتے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی برداشت نہیں کریں گے۔ جو بھی ملک کا امن برباد کرنے کی کوشش کرے گا اس کو پاش پاش کریں گے ہماری شناخت پاکستان ہے ۔ یہ قائم دائم رہے گا

    مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی کی جانب گامزن ہے۔ عوام کو قیادت کا حق دینا چاہتے ہیں لاہور کی 274 یونین میں سے 148 یونین کونسل میں انٹرا پارٹی انتخابات کروا چکے ہیں۔ رمضان کے بعد باقی یونین کونسل میں انتخابات کروائیں گے۔۔

  • قومی مفادات پر ہر سیاسی جماعت کا ایک ہی پیج اور یک آواز ہونا چاہیے،بلاول

    قومی مفادات پر ہر سیاسی جماعت کا ایک ہی پیج اور یک آواز ہونا چاہیے،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کو درپیش چیلنجز کے خلاف پوری قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مفادات کے امور پر ہر پاکستانی اور ہر سیاسی جماعت کا ایک ہی پیج، ایک ہی چہرہ اور یک آواز ہونا چاہیے۔ انہوں نے کابل رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر ایک بار پھر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

    پی پی پی چیئرمین نے لاڑکانہ کے میئر انور لُہر کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقد افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف جو بھی سازشیں پک رہی ہیں، ہم اُن کا مِل کر مقابلہ کرنے کیلیئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف خیبرپختونخوا سے لے کر بلوچستان میں دہشتگردی کی نئی لہر چل رہی ہے، تو دوسری جانب کبھی افغانستان کی بارڈر سے تو کبھی بھارت کے محاذ سے حملہ ہوتا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افغانستان کی انٹرم حکومت کی جانب سے پاکستان پر کیئے گئے حملے کا ہماری بہادر مسلح افواج نے بھرپور جواب دیا ہے اور دیتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اِن مشکل حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ موقف ہے اور پوری قوم کیلیئے یہ پیغام بھی ہے کہ اِس وقت ہم سب کو ایک یونائیٹڈ فرنٹ دکھانا چاہیئے، بلکہ حکومت کو قدم بڑھاکر تمام پولیٹیکل اسپیکٹرم کے نمائندوں اور اسٹیک ہولڈرز کو انگیج کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز ایک ایسی مناسب پالیسی تشکیل دیں گے کہ سب آپس کے اختلافات کو چھوڑ کر پاکستان کے اصل چیلنجز پر متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات تو ضرور رہیں گے، اور یہ مناسب وقت اور مناسب فورم پر چلتے رہیں گے۔

    پی پی پی چیئرمین نے سندھ کے بلدیاتی نظام کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے، جہاں بلدیاتی نظام فعال اور بلدیاتی اداروں کے نمائندے سرگرم ہیں، اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں اس نظام کو زیادہ مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام مسلسل چلتا آرہا ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں صرف قانونسازی کرنا ہی بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ صوبہ کے خلاف جو مہم چلائی جاتی ہیں اور جو کردار کشی کی جاتی ہے، اس کے پیچھے مذموم مقاصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوشش کے پیچھے ایک سوچ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کراچی کو الگ کرنا اور صوبے کے وسائل پر بھی قابض ہونا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندے عوام خواہ وہ قومی سطح پر ہو، صوبائی سطح پر یا بلدیاتی سطح کی خدمت کر رہے ہیں اور ہر فورم پر عوام کے حقوق کی جدوجہد لڑ رہے ہیں، ان پر مجھے فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں جواب دینے کیلیئے تیار ہیں، اور ہم یہ جواب عوام کی عدالت میں، سیاسی میدان پر اور میڈیا کے محاذ پر تیار ہیں، لیکن وہ سازشی عناصر پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اور آئندہ بھی ہونگے۔

  • پاک فوج کا مؤثر جواب،297 طالبان ہلاک،89 پوسٹیں تباہ،18 پر قبضہ

    پاک فوج کا مؤثر جواب،297 طالبان ہلاک،89 پوسٹیں تباہ،18 پر قبضہ

    آپریشن غضب للحق اور اس کے نتیجے میں افغان طالبان کی حکومت کے نقصانات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی کے مطابق افغانستان سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں آج دن بھر جاری رہیں۔مجموعی طور پر 297 افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کے ہلاک اور 450 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔افغان طالبان کی 89 پوسٹیں تباہ اور اٹھارہ (18) پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔افغان طالبان کی حکومت کے 135 ٹینک تباہ ہو چکے ہیں۔پورے افغانستان میں انتیس (29) مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔الحمدللہ، پاکستان کی جارحیت کا فوری اور موثر جواب جاری ہے۔

  • طالبان کی حمایت،ٹی ٹی پی ،جماعت الاحرار گروپ کا پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا اعلان

    طالبان کی حمایت،ٹی ٹی پی ،جماعت الاحرار گروپ کا پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا اعلان

    ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار گروپ نے بھی افغان طالبان حکومت کی حمایت کے لیے پاکستان میں دہشت گرد حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    الگ الگ بیانات میں، ٹی ٹی پی کے سرغنہ نور ولی محسود اور جے یو اے نے اراکین کو پاکستان بھر میں حملے شروع کرنے کی ہدایت کی۔پاکستان کے موقف کی کالعدم دہشت گرد تنظیموں نے خود تائید کر دی ،کالعدم ٹی ٹی پی و کالعدم حافظ گل بہادر گروپ کے بعد جماعت الاحرار نے بھی اپنے دہشت گردوں کو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کر دی،اس سلسلے میں جاری ہدایت نامہ میں افغان سرزمین پر پاکستان کی بمباری کو وجہ قرار دیا گیا ہے،گروپ نے پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کا حکم دیا ہے،محولہ بالا ہدایت نامہ پاکستان کے موقف کی تائید و توثیق کے مترادف ہے کہ افغان طالبان اور دہشت گرد ایک ہیں، اور پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے عسکریت پسندوں کے سرپرست افغان طالبان کا ہاتھ ہے

    مفتی ابو منصور عاصم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی پاکستان میں دہشتگردانہ حملے تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مسائلین نظامی کمیشنز (شمالی، جنوبی، وسطی، غربی) کے نام خط میں کہا گیا ہے کہ هر نظامی کمیسیون اپنے ماتحت والیان صاحبان، ولسوالان صاحبان، دلگی مشران اور محاذ پر موجود تمام مجاہدین کو خصوصی امر صادر کریں کہ پاکستان پر مسلط اسلام دشمن فوج کی طرف سے افغانستان پر حالیہ بمباری کے ردِ عمل میں پاکستان بھر میں ایسے تابڑ توڑ حملے کریں کہ دشمن کی کمر ٹوٹ جائے، اور پڑوسی اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ ہمارے مجاہدین کی عملا ہمدردی کا اظہار ہو۔نیز ! موجودہ صورت حال میں چونکہ میڈیا کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اس لیے اپنی عملیات کی ویڈیو بنا کر فوری طور پر سوشل میڈیا پر نشر کریں، اپنی ویڈیوز مرکز بھیجنا ضروری نہیں، تاکہ تاخیر نہ ہو اور عملیات کی تاثیر پر فرق نہ پڑے۔


    دستخط

  • جنگ چھیڑ کر افغان طالبان کی جنگ بندی کی دہائیاں، پاکستان کاواضح انکار،ملے گا جواب

    جنگ چھیڑ کر افغان طالبان کی جنگ بندی کی دہائیاں، پاکستان کاواضح انکار،ملے گا جواب

    افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر 24 گھنٹے پورے ہونے سے پہلے ہی مذاکرات کی باتیں کرنی لگی۔

    افغان طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ افغانستان پہلے بھی امن کے لیے پاکستان سے مذاکرات کی بات کرتا رہا ہے اور اب جاری لڑائی کے تناظر میں بھی سمجھتا ہے کہ تنازع کے حل کا راستہ مذاکرات ہی میں ہے،افغانستان کی زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ہم نے مسائل کا حل ہمیشہ مذاکرات میں چاہا ہے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے حل نکل آئے

    دوسری جانب افغانستان کے نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے،قطری وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت میں پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے طریقوں اور خطے میں امن اور استحکام کو بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے جنگ بندی کی چھٹی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق جاری ، ننگرھار میں فضائی حملے، افغان طالبان کا بریگیڈ ہیڈکوارٹرز  تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ، ننگرھار میں فضائی حملے، افغان طالبان کا بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ، ننگرھار میں فضائی حملے،پاک فوج کی افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ ننگرھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو تباہ کردیا ،پاک فضائیہ نے ننگرھار میں افغان طالبان کے بٹالین ہیڈکوارٹرز کوبھی نشانہ بنایا ،پاکستانی سیکیورٹی فورسز عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صرف افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنارہی ہیں ،آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا

    پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں صوبہ لغمان میں اسلحہ ڈپو،اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ مکمل طورپر تباہ ہو گیا ہے،

  • پاکستان کے ساتھ ہوں،افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا،مداخلت نہیں کروں گا،ٹرمپ

    پاکستان کے ساتھ ہوں،افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا،مداخلت نہیں کروں گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے ، مداخلت نہیں کروں گا۔

    پاک افغان جنگ سے متعلق سوال پر امریکی صدر ٹرمپ سے سوال ہوا جس پرانہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی عزت کرتا ہوں، پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے ، مداخلت نہیں کروں گا، میں پاکستان کے ساتھ ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بہت اچھی طرح سے۔ بہت، بہت اچھا۔ جی ہاں، ان کے پاس ایک عظیم وزیر اعظم ہے، وہاں ایک عظیم جنرل ہے، وہاں آپ کا ایک عظیم لیڈر ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دو لوگوں کا میں واقعی بہت احترام کرتا ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستان بہت اچھا کام کر رہا ہے، ہاں

    اس کے علاوہ امریکی صدر نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران سے خوش نہیں ہوں مگر جمعے تک مزید مذاکرات متوقع ہیں، ایران کے ساتھ ڈیل بنانا چاہتا ہوں ۔

  • گوجر خان سرکل میں زیادتی، قتل و دیگر واقعات

    گوجر خان سرکل میں زیادتی، قتل و دیگر واقعات

    پنجاب بھر میں سی سی ڈی کے دھواں دار ایکشن، مگر سرکل گوجرخان میں خطرناک مجرم بے لگام، متاثرین پر دباؤ اور نام نہاد صلح کا مکروہ کھیل جاری
    بچے اور خواتین غیر محفوظ سنگین جرائم پر عوامی حلقوں کا وزیر اعلیٰ مریم نواز اور سربراہ سی سی ڈی سے فوری سخت نوٹس لینے کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان میں خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو لگام ڈالنے کے لیے جہاں پنجاب کے دیگر اضلاع و تحصیلوں میں سی سی ڈی متحرک کردار ادا کر رہی ہے، وہیں تحصیل گوجرخان میں سنگین جرائم کے باوجود سی سی ڈی کی عدم موجودگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق جنسی درندگی، قتل و غارت، منشیات فروشی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے مجرموں کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دیگر شہروں میں سی سی ڈی کے خوف سے بڑے بڑے جرائم پیشہ عناصر قانون کے شکنجے میں آتے ہیں، مقابلے ہوتے ہیں اور سخت کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں، مگر گوجرخان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ سی سی ڈی کی عدم فعالیت کے باعث متاثرین کو دباؤ میں لا کر نام نہاد سفید پوشوں کی جانب سے صلح صفائی یا بھاری رقوم کے عوض معاملات نمٹانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، جس سے انصاف کا نظام کمزور اور جرائم پیشہ عناصر مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرکل گوجرخان میں سی سی ڈی کا وہ رعب اور خوف، جو جرائم کی بیخ کنی میں مؤثر ثابت ہوتا ہے، مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سربراہ سی سی ڈی سہیل ظفر چھٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل گوجرخان میں فوری طور پر سی سی ڈی کو متحرک کیا جائے اور زیادتی جیسے حساس اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جائیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے اور خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں اور آئے روز بڑھتے واقعات لمحہ فکریہ بن چکے ہیں۔ عوام نے واضح کیا کہ اگر بروقت اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان کو بھی وہی توجہ اور تحفظ دیا جائے جو پنجاب کے دیگر اضلاع کو حاصل ہے، تاکہ عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • 53 مقامات پر حملوں کا جواب دیا،274 افغان اہلکار ہلاک،12سپوت شہید،ترجمان پاک فوج

    53 مقامات پر حملوں کا جواب دیا،274 افغان اہلکار ہلاک،12سپوت شہید،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیا لیکن افغان طالبان ایک ماسٹر پروکسی ہے جس نے ان کا ساتھ دیا ،آپریشن غضب للحق پر وزیر اعظم کو بریف کردیا گیا ہے، ٹی ٹی پی بین الاقوامی سطح پر دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ طالبان نے پختونخوا کے پندرہ سیکٹرز میں 53 مقامات پر حملے کیے،پاک فوج نے تمام 53 مقامات پر بروقت کارروائی کی اور ان دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، اب تک افغان رجیم کے 274 افغان اہلکار ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ 400 سے زائد زخمی ہیں۔ 73 سے زائد پوسٹیں تباہ، 115 ٹینک، آرٹلری گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں،افغان طالبان اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھی فرار ہو چکے ہیں، افغان طالبان اور خوارج ہرجگہ جان بچا کر بھاگتے رہے،لاشیں بھی اٹھا نہیں سکے،یہ کواڈ کاپٹر ، چھوٹے اور بڑے ہتھیار لیکر آئے، انکے کواڈ کاپٹر اور ہتھیاروں کو خاموش کروایا، جہاں جہاں سے یہ حملہ آیا، پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا، 12 پاکستانی فوجی شہید ہوئے 27 زخمی ہیں جبکہ ایک مسنگ ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں کسی سویلین ٹارگٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا ،حالیہ حملوں اور سرحد پار سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک "ماسٹر پراکسی” ہے جس کا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا ہے، ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، بنیان المرصوص کی طرح گزشتہ رات بھی پوری قوم پاک افواج کیساتھ کھڑی تھی۔افغان طالبان اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے شرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، افغان طالبان کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی صورت میں جواب دیں گے،افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، ایبٹ آباد، نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنادیا گیا، ہمارا گزشتہ روز آپریشن اپنے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ میں تھا، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے، پاکستان میں اگر کسی جگہ دہشت گردی، خودکش حملہ ہوا تو جواب ناصرف دہشتگردوں بلکہ ان کاتحفظ کرنےوالوں کو بھی دیا جائے گا، افغانستان کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چننا ہے، ہماری چوائس واضح ہے، ہم اپنی چوائس کیلئے قربانی دینے سے کبھی نہیں جھجکیں گے، پاکستان کی افواج مشرقی اور مغربی بارڈر پر ہر دم تیار ہیں، کسی کو شوق پورا کرنے ہے تو آزمالے، پاکستان کے مفادات کا تحفط ہر قیمت پر کیا جارہا ہے،افغان طالبان رجیم نے ہی دوحہ معاہدہ کیا تھا، افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا افغان طالبان نے اپنے معاہدے کی پاسداری کی؟کل رات جو ہم نے آپریشن کیا وہ اپنے حق کے تحفظ کیلئے تھا، تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو کوئی جگہ نہیں دی جاسکتی، نیشنل ایکشن پلان 2014 میں بنا تھا جسے ہم وژن عزم استحکام کہتے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کے ہر واقعے میں بھارت ملوث ہے، افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن غضب للحق جاری ہے، دنیا سمجھتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کیلئے ہے، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے،