Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ،برطانوی میری ٹائم ایجنسی

    آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ،برطانوی میری ٹائم ایجنسی

    برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ہے۔

    برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی، آئی آر جی سی کی کشتیوں سے آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی۔میری ٹائم ایجنسی نے مزید کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں آئل ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کم از کم دو تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جس دوران فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اطلاعات کے مطابق ایران نے اس اہم بحری راستے کو مختصر وقت کے لیے دوبارہ کھولنے کے بعد ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے باعث راستے پر دوبارہ پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

    برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب، عمان کے شمال مشرقی علاقے میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایک ٹینکر کے کپتان نے رپورٹ کیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی گن بوٹس نے ان کے جہاز کا تعاقب کیا اور فائرنگ کی۔تاہم حکام کے مطابق مذکورہ ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اس سے قبل جب بحری راستہ عارضی طور پر کھولا گیا تھا تو کئی جہاز دوبارہ شپنگ لین میں داخل ہوئے تھے، جسے جنگ شروع ہونے کے بعد جہازوں کی پہلی بڑی نقل و حرکت قرار دیا گیا تھا۔ لیکن تازہ کشیدگی کے بعد یہ قافلہ منتشر ہو گیا ہے۔

    جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم کے مطابق حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں موجود بحری قافلہ منتشر ہو چکا ہے اور متعدد جہاز رک گئے یا واپس مڑ گئے ہیں۔دوسری جانب تجارتی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کی شہ رگ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • سعودی تعاون سے پاکستان میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ

    سعودی تعاون سے پاکستان میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ

    اسلام آباد: سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان میں شروع کیے گئے جدید آبپاشی منصوبوں کے نتیجے میں گندم، چارہ اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستانی اور سعودی حکام نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اور پانی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے تفصیلات پیش کی گئیں۔تقریب میں سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید بڑھا رہا ہے اور اسی سلسلے میں گرین پاکستان انیشی ایٹو (GPI) کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے۔

    گرین پاکستان انیشی ایٹو پاکستان حکومت اور افواج پاکستان کا مشترکہ زرعی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک میں زرعی ترقی، بنجر زمینوں کی بحالی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت اب تک پاکستان بھر میں 1 لاکھ 36 ہزار ایکڑ بنجر زمین قابلِ کاشت بنائی جا چکی ہے، جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے 64 شراکت دار اس منصوبے میں شامل ہیں۔

    گزشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کو 10 جدید ترین آبپاشی نظام فراہم کیے تھے، جنہیں ریکارڈ مدت میں نصب کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان نظاموں کا مقصد پانی کے ضیاع کو روکنا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور خشک علاقوں کو سرسبز بنانا ہے۔

    گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کے اسٹریٹیجک پراجیکٹس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا “یہ 10 پیوٹ سسٹمز صرف 70 دنوں میں نصب کیے گئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔”انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کی بدولت پہلے غیر آباد زمینوں پر اب گندم، چارہ اور دیگر فصلیں کامیابی سے اگائی جا رہی ہیں۔

    تقریب میں دکھائی گئی ایک دستاویزی فلم میں پنجاب کے شہر بھکر میں قائم ایک نمایاں منصوبے کو پیش کیا گیا، جہاں سعودی عرب کی فراہم کردہ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے صرف تین ماہ میں بنجر زمین کو زرعی فارم میں تبدیل کر دیا گیا۔اس منصوبے کے تحت 5 ارب روپے مالیت کا جدید آبپاشی نظام نصب کیا گیا، جس سے تقریباً 1,500 ایکڑ غیر آباد زمین کو زرخیز زرعی رقبے میں تبدیل کیا گیا۔حکام کے مطابق جدید آبپاشی نظام کے استعمال سے گندم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    روایتی آبپاشی طریقوں سے پیداوار: 28 سے 30 من فی ایکڑ،جبکہ جدید نظام سے پیداوار: 45 سے 50 من فی ایکڑ ہوئی ہے،یہ اضافہ پاکستان کی غذائی خود کفالت اور زرعی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ حکومت چھوٹے کسانوں کے لیے بھی جدید زرعی نظام جیسے سپرنکلر سسٹم،ڈرِپ اریگیشن متعارف کرا رہی ہے، جن پر سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ بڑے منصوبوں کی کامیابی کو چھوٹے فارموں تک بھی پہنچایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ 2023 سے 2026 کے دوران قائم کیے گئے 64 جدید فارموں میں بلوچستان میں زیتون کے باغات،سندھ میں پام آئل فارمزبھی شامل ہیں، جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں تنوع پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی غذائی تحفظ حکمتِ عملی سے بھی ہم آہنگ ہے، کیونکہ پاکستان کم فاصلے اور تیز تر لاجسٹکس کے باعث سعودی عرب کو زرعی اجناس کی بروقت اور کم لاگت فراہمی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے کہا “یہ فصلیں نہ صرف پاکستان کے لیے پائیدار زرعی پیداوار فراہم کریں گی بلکہ سعودی عرب کو برآمد بھی کی جا سکیں گی۔”

    ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ملک میں جدید آبپاشی نظام، بنجر زمینوں کی بحالی اور بین الاقوامی شراکت داری مستقبل کی زرعی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ یہ تعاون نہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔

  • امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔ایرانی سپریم لیڈر

    امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ پہلوی خاندان کی باقیات اور امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ کچھ طاقتیں ایران کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں، ایران کی نیوی دشمنوں کو نئی اور تلخ شکستیں دینے کیلئے تیار ہے۔سپریم لیڈر نے ایرانی فوج کے قیام کے دن پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ فوج قوم کے بیٹے کی مانند ہے جو عوام کے گھروں سے جنم لیتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک سامنے نہیں آئے تا ہم انکے پیغامات ایکس پر دیئے جا رہے ہیں،ایران امریکا مذاکرات اسلام آباد میں اگلے ہفتے متوقع ہیں،

    دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جن نکات پر امریکی حکام اور میڈیا بات کررہے ہیں ان کی تصدیق نہیں ہوسکتی، افزودہ یورینیم کو کسی صورت کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے کبھی افزودہ یورینیم منتقلی کی تجویز پیش نہیں کی گئی، جس طرح ایرانی سرزمین ہمارے لیے اہم ہے یہ معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے، ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے ضروری اقدامات کرے گا۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر نیا مؤقف

    ایران کا آبنائے ہرمز پر نیا مؤقف

    ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے بحری نظام کا نفاذ کیا جائے، جس کے تحت خلیجی گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت پر مزید سخت نگرانی رکھی جائے گی۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز مخصوص بحری راستوں سے گزر سکیں گے جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے باقاعدہ اجازت حاصل ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان جہازوں کو اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے مقررہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جبکہ بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایرانی جہازوں کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو حالات فوری طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ایران مزید سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت بحال نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سخت کنٹرول میں رہے گی۔

  • جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،ایاز صادق

    جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی استنبول میں ترکیہ کے ہم منصب نعمان کُرتُلموش سے اہم ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کے 152 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،اسپیکر سردار ایاز صادق نے عالمی امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے جنگوں کے خاتمے کے لیے ڈائیلاگ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا،پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا،ترک اسپیکر نعمان کُرتُلموش نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ترک اسپیکر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے بروقت اقدامات کر کے خطے کو بڑے بحران سے بچا لیا، پاکستان کی امن کے قیام کے لیے کوششیں قابلِ تحسین ہیں، ترک اسپیکر نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف سید عاصم منیر کے کردار کی بھی تعریف کی،ترک اسپیکر نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں ممالک نےپارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا،اسپیکر قومی اسمبلی کا ترک اسپیکر کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے،پاکستان نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، جنگ و جدل کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، مسائل کا حل ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہو سکتا ہے، جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کی عزت اور تکریم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

  • سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    بھارت میں مندروں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، ٹریفک سگنلز اور بازاروں کے باہر بھیک مانگتے افراد ایک عام منظر ہیں۔ مگر بھارت کی کس ریاست میں سب سے زیادہ بھکاری پائے جاتے ہیں؟ اور یہ لوگ ایک ماہ میں کتنی کمائی کر لیتے ہیں؟ اس حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

    بھارت میں بھکاریوں سے متعلق سب سے مستند اعداد و شمار 2011 کی مردم شماری میں سامنے آئے تھے۔ اس سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 13 ہزار 670 تھی۔ ان میں 2 لاکھ 21 ہزار 673 مرد جبکہ 1 لاکھ 91 ہزار 997 خواتین شامل تھیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار پرانے ہیں، تاہم اس موضوع پر یہی آخری جامع سرکاری ریکارڈ تصور کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ بھکاریوں کی تعداد مغربی بنگال میں پائی جاتی ہے، جہاں یہ تعداد 81 ہزار 244 بتائی گئی۔دوسرے نمبر پر اتر پردیش ہے، جہاں 65 ہزار 835 بھکاری موجود ہیں۔تیسرے نمبر پر آندھرا پردیش ہے، جہاں بھکاریوں کی تعداد 30 ہزار 218 ریکارڈ کی گئی۔بہار میں 29 ہزار 723،مدھیہ پردیش میں 28 ہزار 695،راجستھان میں 25 ہزار 853 بھکاری ہیں،یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھیک مانگنا صرف ایک یا دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کے مختلف علاقوں میں ایک سنجیدہ سماجی چیلنج بن چکا ہے۔

    بھکاریوں کی آمدنی سے متعلق کوئی باضابطہ سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، کیونکہ یہ مکمل طور پر مقام، شہر، رش اور لوگوں کے رویے پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم مختلف اندازوں کے مطابق ایک عام بھکاری روزانہ 100 سے 500 بھارتی روپے تک کما لیتا ہے۔اس حساب سے ان کی ماہانہ آمدنی 3 ہزار سے 15 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔جبکہ دہلی، ممبئی، کولکتہ اور لکھنؤ جیسے بڑے شہروں میں بعض بھکاری روزانہ 500 سے 1000 روپے تک بھی کما لیتے ہیں، جس سے ان کی ماہانہ آمدنی 15 ہزار سے 30 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بھیک مانگنے کے پیچھے صرف غربت ہی وجہ نہیں، بلکہ بے روزگاری، تعلیم کی کمی، معذوری، سماجی ناانصافی اور بعض اوقات منظم بھکاری مافیا بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف خیرات نہیں بلکہ مؤثر سماجی اور معاشی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔

  • ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی کے تسلسل کے دوران چھ اہم ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے،

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی ایئرلائنز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ تہران کے دو بڑے ہوائی اڈے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ساتھ ساتھ مشہد، بیرجند، گرگان اور زاہدان کے ہوائی اڈے بھی دوبارہ آپریشن شروع کریں گے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے ملک کے مشرقی حصے میں اپنی فضائی حدود کو جزوی طور پر کھول دیا ہے، جس کے بعد فضائی آپریشنز کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ امریکا و اسرائیل کے حملے کے آغاز کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی تھی۔ تاہم 8 اپریل سے جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد خطرے کی سطح میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت – تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز کامیابی سے منعقد کی گئی، جو بین الاقوامی سول ایویشن آرگنائزیشن کے معیار اور قومی فضائی حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھی۔

    اس مشق کا مقصد کرائسز اینڈ ایمرجنسی رسپانس پلان کی افادیت کا جائزہ لینا تھا، جس میں رابطہ، کمانڈ، ہم آہنگی اور ردعمل کے وقت پر خصوصی توجہ دی گئی۔تقریب میں کمانڈنگ آفیسر پی این ایس صدیق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ، او سی اے ایس ایف، جی ون آرمی ایف او بی سمیت دیگر اہم نمائندگان نے شرکت کی۔ ایئرپورٹ منیجر محمد الیاس بریچ نے بریفنگ اور ڈی بریفنگ دی جبکہ ایئر سائیڈ پر ہنگامی صورتحال کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔ اس مشق میں پی اے اے ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ سروسز، پاکستان آرمی، پاکستان نیوی، اے ایس ایف اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ایڈمنسٹریشن نے حصہ لیا۔یہ مشق ہنگامی ردعمل کے نظام کو جانچنے، بروقت رسائی کو یقینی بنانے اور معمولی خامیوں کی نشاندہی کے ذریعے فضائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب رہی۔

  • بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی نے انکشافات کئے ہیں

    رحیمہ بی بی (دالبندین) کا کہنا ہے کہ شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی۔ بعد میں گھر میں ایک نامعلوم خاتون (زرینہ) کی آمد، شوہر کا اس کے ساتھ مشکوک روابط اور موبائل فون کے استعمال پر شکوک پیدا ہوئے۔ خاتون کو کچھ دن بعد افغانستان لے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ نومبر-دسمبر 2025 میں شوہر افغانستان فرار ہو گئے اور مبینہ طور پر رابطے کے بعد گرفتاری بھی ہوئی۔ رحیمہ بی بی نے الزام لگایا کہ شوہر نے ذمہ داری سے انکار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ رشتے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کی جائے،رحیمہ بی بی کے مطابق بعد میں معلوم ہوا کہ وہی عورت مبینہ طور پر ایک خودکش حملے سے جڑی تھی۔ ان کے شوہر پر سنگین الزامات اور تعلقات کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ وہ شہریوں سے اپیل کرتی ہیں کہ رشتہ کرنے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کریں،بیان کے آخر میں وہ کہتی ہیں کہ ان کا شوہر بعد میں مکمل طور پر غائب ہو گیا اور مبینہ طور پر افغانستان چلا گیا، جبکہ وہ خود قانونی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ والدین سے درخواست کرتی ہیں کہ شادی سے پہلے مکمل تصدیق اور احتیاط کو لازمی سمجھیں

    بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک خاتون کی گرفتاری کے بعد اہم پریس کانفرنس میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے طریقہ کار، خواتین کے استحصال اور خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک سے متعلق کئی سوالات کو اجاگر کر دیا ہے۔پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض شدت پسند عناصر خواتین کو سماجی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق خواتین کو کمزور طبقہ سمجھ کر ان پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے، انہیں مخصوص بیانیے کے تحت متاثر کیا جاتا ہے اور پھر دہشت گرد سرگرمیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔پریس کانفرنس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی اہلیہ رحیمہ کا موبائل نمبر جان بوجھ کر دہشت گرد تنظیموں اور ایک خاتون خودکش بمبار سے رابطوں کے لیے استعمال کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورک بی ایل اے اور بی ایل ایف اپنے قریبی رشتوں تک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔حکام کے مطابق زرینہ رفیق نامی خاتون کچھ عرصہ مذکورہ افراد کے گھر میں مقیم رہی، جس کے بعد اسے افغانستان میں موجود تربیتی کیمپ بھیجا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ یہ واقعہ اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ خواتین ہمیشہ گھروں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ بعض عناصر اس حقیقت کے برعکس مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دے کر ریاست اور حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ سرحد پار موجود تربیتی مراکز اور سہولت کار پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے شواہد مختلف کارروائیوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔حکام نے خواتین کو دہشت گردی میں استعمال کرنے کے ایک منظم ماڈل کی بھی نشاندہی کی، جس کے مطابق پہلے مرحلے میں ذہنی گمراہی، نفرت انگیز سوچ، انتہا پسندی اور نظریاتی تربیت کی جاتی ہے۔دوسرے مرحلے میں بھرتی، عملی تربیت اور کارروائی کے لیے تیاری مکمل کی جاتی ہے۔اگر کارروائی کامیاب ہو جائے تو خاتون کو مزاحمت کی علامت بنا کر مزید بھرتی اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر کارروائی ناکام ہو جائے یا گرفتاری عمل میں آ جائے تو تنظیمیں لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔

    پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ خواتین کو خودکش حملوں یا دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کرنا بلوچ ثقافت، قبائلی روایات اور مذہبی تعلیمات کے منافی ہے۔ حکام کے مطابق بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام، عزت اور تحفظ کا داعی رہا ہے، جبکہ مذہب بھی بے گناہ جانوں کے قتل اور فساد کی اجازت نہیں دیتا۔حکام نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور خواتین سمیت نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

    پریس کانفرنس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں سے بچانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، تعلیمی و سماجی اداروں کو فعال کردار دیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں روزگار و تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ انتہا پسند عناصر کو جگہ نہ مل سکے۔

  • امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے اس اقدام کی وجہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود بار بار اعتماد شکنی اور وعدہ خلافی کو قرار دیا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مکمل نگرانی قائم کر دی گئی ہے اور اگر مبینہ بحری ناکہ بندی جاری رہی تو اس راستے سے گزرنے والی بحری نقل و حرکت کو غیر مؤثر تصور کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ٹریفک کے لیے کھلی ہے، تاہم چند گھنٹوں بعد سرکاری میڈیا نے نئی پابندیوں کی تصدیق کر دی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران کے ساتھ مکمل معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

    دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ناکام ہونے کے بعد یہ واضح نہیں کہ آئندہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔

    ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، لیکن امریکا مبینہ طور پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی اور جہازوں کی غیر قانونی روک تھام جاری رکھے ہوئے ہے۔ترجمان کے مطابق جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز ایرانی افواج کے سخت کنٹرول میں رہے گی۔