Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وزیراعظم

    ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کی زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر (TUME) کے بورڈ چیرمین عبدلقادر قاراگوز (Abdulkadir Karagöz) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے مثالی برادرانہ تعلقات کی مزید مضبوطی کے ساتھ ساتھ معاشی شراکت داری کے فروغ کا بھی خواہاں ہے،برادر ملک ترکیہ سے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کہ بے شمار مواقع موجود ہیں، ترکیہ کے ذرعی اجناس اور لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہونے والی ترقی کی طرح پاکستان کے زرعی شعبے کو جدت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہیں، قدرت نے پاکستان کو زرعی شعبے میں بے شمار وسائل سے نوازا ہے، اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ان وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں، ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،

    عبدالقادر چیئرمین TUME کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور پاکستان کی برادرانہ قیادت کاروباری حضرات کے مابین تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مشعل راہ ہے،

    وزیراعظم نے ترکیہ سمیت دیگر ممالک میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی ماہرین کی بدولت زرعی شعبے میں جدت سے مستفید ہونے کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے زراعت کے شعبے میں پاکستان کے بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے لیے جامع حکمت عملی اور دوست ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ ملاقات کے دوران TUME کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز نے اپنے فرم میں پیداوار بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

    ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نزیراوولو، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیران سید طارق فاطمی اور ہارون اختر اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • تانگیر، گلگت بلتستان میں ایف ڈبلیو او کی گاڑی پر حملہ، ایک شہید، متعدد زخمی

    تانگیر، گلگت بلتستان میں ایف ڈبلیو او کی گاڑی پر حملہ، ایک شہید، متعدد زخمی

    گلگت بلتستان کے پُرفضا مگر حساس علاقے تانگیر بوشیداس میں جمعرات 12 فروری 2026 کو دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے،

    ایف ڈبلیو او کے اہلکار تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معمول کے دورے کے بعد گلگت واپس جا رہے تھے کہ پہلے سے نصب آئی ای ڈی کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑی تباہ ہوگئی ،حملے کے وقت گاڑی میں ایک میجر اور تین فوجی اہلکار سوار تھے۔ شدید زخمی ہونے والے ڈرائیور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ میجر سمیت دیگر اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران مزید چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن سے تفتیش جاری ہے۔

    تانگیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا اور خطے کے امن کو متاثر کرنا ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے اس عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ ایسے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ ایف ڈبلیو او گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اہم انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں پر کام کر رہی ہے،حکام نے شہید اہلکار کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ ادارے پوری قوت کے ساتھ سرگرم ہیں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی

  • مودی کی عوام دشمن سرکار، پُورا بھارت احتجاج کرنے پر مجبور

    مودی کی عوام دشمن سرکار، پُورا بھارت احتجاج کرنے پر مجبور

    مودی کی عوام دشمن سرکار کی نااہلی اور بدانتظامی کے باعث پُورا بھارت احتجاج کرنے پر مجبورہے

    بی جے پی کی نااہل سرکار کی پالیسیوں کے باعث بھارت کے ہرطبقے کے لوگ متاثر، عام بھارتی شہری کی زندگی اجیرن بن گئی،نااہل مودی کی ناقص پالیسیوں کیخلاف بھارتی مرکزی ٹریڈ یونینز کی کال پر ملک گیر احتجاج اور ہڑتال جاری ہے،دی نیوانڈین ایکسپریس کے مطابق ٹریڈ یونینز کی جانب سے ورکرز مخالف پالیسیوں کیخلاف "بھارت بند” کی کال دی گئی ہے،نااہل مودی کی معاشی پالیسیوں کیخلاف ہڑتال میں 600 اضلاع کے 30 کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے،

    بھارت میں ملک گیر ہڑتال کے باعث ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم، گیس اور پانی کی فراہمی سمیت کئی شعبے بُری طرح متاثرہوگئے،ماہرین کے مطابق مودی دور میں بھارتی عوام کی قسمت میں صرف ملکی تنزلی، ٹیکس اضافہ،غیر محفوظ مستقبل اور سہولیات کافقدان ہے،نااہل مودی کی ظالمانہ پالیسیوں سے تنگ مزدور سڑکوں پر نکلنے اور بھارت بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ،نام نہاد شائننگ بھارت کے جھوٹے دعوؤں کے برعکس بڑھتے مظاہرے نااہل مودی کی ناکامیوں کا واضح ثبوت ہیں ،

  • پیپلز پارٹی ہمیشہ آزادیٔ صحافت پر یقین رکھتی ہے،گورنر پنجاب

    پیپلز پارٹی ہمیشہ آزادیٔ صحافت پر یقین رکھتی ہے،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نماز جمعہ کے دوران چھوٹے چھوٹے بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ امام بارگاہ دھماکے میں شہید ہونے والے ہمارے بھائی تھے اور ان کے اہل خانہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ مذہبی فرقہ واریت پھیلانے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کی قیادت میں نو منتخب عہدیداران سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ گورنر پنجاب نے ارشد انصاری کو 14 ویں بار صدر منتخب ہونے پر اور عہدیداران کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سانحہ ترلائی کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی،گورنر سلیم حیدر خان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ گئے، شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی اور شہداء کے ورثاء کو امدادی رقوم دینے کا اعلان کیا،انہوں نے صحافی برادری پر زور دیا کہ وہ غلط اور غیر مصدقہ خبروں کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائیں اور حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ آزادیٔ صحافت پر یقین رکھتی ہے اور صحافی برادری کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے گی

  • پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ

    پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ

    پاکستان نے خلائی شعبے میں ایک بڑا سنگِ میل حاصل کر لیا

    پاکستانی خلائی ادارے سپارکو (SUPARCO) کا PRSC-EO2 سیٹلائٹ چین سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا گیا ہے، جو ملک کے خلائی اور ٹیکنالوجی پروگرامز کے لیے نئی راہیں کھول دے گا۔یہ کامیابی پاکستان کے خلائی عزائم کی جانب ایک اہم اور بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے،

    سپارکو نے چین کے یانگ جیانگ سی شور سینٹر سے پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ ای او-2 (EO-2) کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔ اس اہم پیش رفت کو ملکی خلائی پروگرام میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے بھی سنگِ بنیاد ثابت ہوگی۔سپارکو کے ترجمان کے مطابق ای او-2 سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے (Earth Observation) اور جدید امیجنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ جدید ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ معیار کی تصاویر اور ڈیٹا حاصل کیا جا سکے گا۔ اس ڈیٹا کو زراعت، شہری منصوبہ بندی، آبی وسائل کے انتظام، ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ ای او-2 کی کامیاب لانچنگ پاکستان کی بڑھتی ہوئی خلائی مہارت اور تکنیکی خود اعتمادی کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سیٹلائٹ ملک میں وسائل کے مؤثر انتظام، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔سپارکو حکام کے مطابق پاکستان کے سیٹلائٹس کے بیڑے میں اضافے سے زمین کے مسلسل اور زیادہ درست مشاہدات ممکن ہوں گے، جس سے ڈیٹا کے تسلسل (Data Continuity) اور درستگی (Accuracy) میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس سے مختلف سرکاری اداروں کو بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہوں گی، جو بہتر حکمرانی (Good Governance) میں معاون ثابت ہوں گی۔

    مزید برآں، ای او-2 سیٹلائٹ قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران فوری معلومات فراہم کرنے میں مددگار ہوگا، جس سے ہنگامی صورتحال میں بروقت فیصلے کیے جا سکیں گے اور جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے گا۔سپارکو کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ ای او-2 سیٹلائٹ پاکستان کی سیٹلائٹ تیاری میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف قومی خلائی پروگرام کو تقویت ملے گی بلکہ نوجوان سائنسدانوں اور انجینئرز کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق ای او-2 کی لانچنگ خطے میں پاکستان کی خلائی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گی اور عالمی سطح پر ملک کی سائنسی شناخت کو تقویت دے گی۔

  • سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے آئی ایس پی آر کی اپڈیٹ

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے آئی ایس پی آر کی اپڈیٹ

    پاک فوج کے ترجمان نے سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ کی صحت بارے اپڈیٹ جاری کر دی

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اپنی رہائش گاہ پر گرنے کے باعث زخمی ہوگئے ہیں،آئی ایس پی آر کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ کی صحت سے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی گئی ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر باجوہ اپنےگھر میں گرگئے،انہیں رہائشگاہ پر گرنے کی وجہ سے چوٹ لگی ہے،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں.

  • مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    خاتونِ اول، رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رہائش بنیادی حق ہے اور پیپلز پارٹی کے وعدے روٹی، کپڑا اور مکان میں شامل ہے۔

    ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء سے خطاب کے دوران آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ محفوظ رہائش کا اثر خواتین اور بچوں کے لیے خاص طور پر گہرا ہے، محفوظ گھر اور مالی شمولیت سے خواتین کے فوائد گھر سے باہر تک پھیلتے ہیں، خطے میں لاکھوں خاندان موسمیاتی تبدیلی اور سماجی چیلنجز سے متاثر ہیں، محفوظ رہائش کی کمی صرف مادی مسئلہ نہیں بلکہ وقار اور مواقع کا نقصان ہے، رہائش محض چھت نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور استحکام کی بنیاد ہے،مستقل رہائش وہ جگہ ہے جہاں خاندان سنبھلتے، بچے خواب دیکھتے اور کمیونٹیز آگے بڑھتی ہیں، خواتین خاندان، سماجی ہم آہنگی اور طویل مدتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، خواتین کو منصوبوں کے مرکز میں رکھنے سے پوری معاشرے کی پائیداری ہوتی ہے، ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر حساس علاقوں میں سے ہے۔ سیلاب، طوفان، زلزلے اور شدید گرمی کمیونٹیز کو بے گھر اور بستوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

    آصفہ بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی پائیداری ہر پہلو میں شامل ہونی چاہیے، ڈیزائن سے کمیونٹی گورننس تک، اسی پس منظر میں سندھ ایک طاقتور اور متعلقہ مثال پیش کرتا ہے، 2022ء کے سیلاب کے بعد سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام شروع کیا گیا، قدرتی آفت کے بعد 2 کروڑ 10 لاکھ ماحولیاتی مضبوط مکانات کا یہ دنیا کا بڑا منصوبہ ہے، یہ منصوبہ 15 ملین سے زیادہ لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہا ہے، مکانات اور زمین خواتین کے نام کر کے ان کے وقار، تحفظ و مالی شمولیت کو مضبوط کر رہے ہیں، یہ بحالی صرف ڈھانچہ نہیں بلکہ زندگی و مستقبل کو بحال کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، پائیدار بستوں کے لیے سماجی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے، مضبوط کمیونٹیز اعتماد، شرکت اور ملکیت کے احساس سے بنتی ہیں، فیصلہ سازی و مستقبل میں سرمایہ کاری سے بحالی تیز گہری و ترقی دیرپا ہوتی ہے، یہ فورم حکومت، شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹیز میں تعاون مضبوط کرنے کا موقع ہے، ہماری ذمے داری ہے سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور کمزور افراد شامل حل اپنائیں، ہماری مشترکہ ذمے داری یہ ہے محض مکالمے سے آگے بڑھیں اور عمل کی طرف جائیں، ایسے حل اپنائیں جو سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور پسماندہ افراد شامل ہوں، ایسے فورمز کی کامیابی بیانات میں نہیں بلکہ زمین پر بہتر زندگیوں میں ناپی جاتی ہے، مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ اور ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے،

  • بنگلہ دیش انتخابات،پولنگ اسٹیشن پر دھماکا،3 افراد زخمی

    بنگلہ دیش انتخابات،پولنگ اسٹیشن پر دھماکا،3 افراد زخمی

    بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے جاری ووٹنگ کے دوران ضلع گوپال گنج کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دستی بم دھماکے سے کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے، جبکہ ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل مجموعی طور پر پُرامن ماحول میں جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر 12 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 32.88 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوپال گنج میں قائم پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب دستی بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

    اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ ضلع منشی گنج کے صدر اپازیلہ کی مولا کندی یونین میں مکھاتی گروچرن ہائی اسکول پولنگ سینٹر پر پیش آیا، جہاں صبح تقریباً 11 بجے دیسی ساختہ بم دھماکے کے بعد دو گروپوں میں تعاقب اور جوابی تعاقب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ جھڑپ مبینہ طور پر بی این پی کے حمایت یافتہ امیدوار اور ایک آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان ہوئی، تاہم کسی جانی نقصان کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

    الیکشن کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد نے دوپہر میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کے 32 ہزار 789 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کی شرح 12 بجے تک 32.88 فیصد رہی اور پولنگ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہی ہے۔

    دارالحکومت ڈھاکا کے مختلف پولنگ مراکز میں صبح 7:30 بجے ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ بعض مراکز پر طویل قطاریں دیکھی گئیں جبکہ کچھ مقامات پر ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہا۔ چٹاگانگ، باریسال اور دیگر اضلاع سے بھی پُرامن ووٹنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔باریسال میں صبح 10 بجے کے بعد ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 60 سالہ جلیل مردھا نے میڈیا کو بتایا کہ وہ گزشتہ تین انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے تھے کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ ان کا ووٹ پہلے ہی ڈال دیا گیا ہے، تاہم اس بار وہ صبح سویرے پہنچے اور بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

    ڈھاکا-9 سے آزاد امیدوار تسنیم جارا نے الزام عائد کیا کہ ان کی خواتین پولنگ ایجنٹس کو مختلف مراکز میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ خِلگاؤں ماڈل کالج پولنگ سینٹر کے دورے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پولنگ عملہ من مانے قواعد بنا کر ان کے نمائندوں کو اندر جانے سے روک رہا ہے۔

    نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے ڈھاکا کے گلشن ماڈل ہائی اسکول میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد اس دن کو “نئے بنگلادیش کی سالگرہ” اور “یومِ آزادی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے ماضی کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور عوام سے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم میں بھی بھرپور شرکت کی اپیل کی۔بی این پی کے طارق رحمان، جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان اور این سی پی کے نہید اسلام سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ کاسٹ کیا۔ ڈھاکا-8 سے جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار ناصرالدین پٹواری نے انتخابی ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات ان کے حامیوں پر حملہ کیا گیا۔قومی شہری پارٹی (این سی پی) کے رہنما حسنت عبداللہ نے کملا-4 میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ اب تک ووٹنگ جشن کے ماحول میں جاری ہے اور نوجوان ووٹرز جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ حالیہ عوامی سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث دونوں بڑے اتحادوں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ملک بھر میں 299 حلقوں میں 42 ہزار سے زائد پولنگ مراکز پر ووٹنگ جاری ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • راہل گاندھی کی امریکہ کے ساتھ معاہدے پر مودی حکومت پر کڑی تنقید

    راہل گاندھی کی امریکہ کے ساتھ معاہدے پر مودی حکومت پر کڑی تنقید

    بھارت میں کانگریس پارٹی کے رہنماء اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے بھارت کو بیچ دیا ہے۔

    راہل گاندھی نے لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیلئے ملکی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ”دراصل مودی حکومت نے بھارت ماتا کو بیچ دیا ہے”۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس سچائی کو تسلیم کرنے کے باوجود حکومت نے امریکہ کو توانائی اور مالیاتی نظام کو اس طرح ہتھیار بنانے کی اجازت دی ہے جس کا اثر بھارت پر پڑ رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ ہندوستان کسی خاص ملک (روس) سے تیل نہیں خرید سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری توانائی کی حفاظت کا فیصلہ باہر سے کیا جا رہا ہے، کہ توانائی کو ہی ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کو امریکہ کے ساتھ اس توہین آمیز معاہدے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ پی ایم مودی پر بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ان آنکھوں میں خوف صاف ظاہر ہے۔امریکی ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اوسط ٹیرف تقریباً تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہو گیا ہے، جو چھ گنا زائد ہے۔

    اُنہوں نے مزید دعوی کیا کہ ہندوستان میں امریکی درآمدات 46 بلین ڈالر سے بڑھ کر 146 بلین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کوئی پختہ یقین دہانی حاصل کئے بغیر امریکہ سے ہر سال درآمدات میں تقریباً 100 بلین ڈالر کا اِضافہ کرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہاکہ ہم رعایتیں دے رہے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بے کار ہیں۔ ہمارا ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہوگیا جبکہ امریکی ٹیرف مبینہ طور پر 16 فیصد سے کم ہو کر صفر ہو گیا ہے۔

  • ساہیوال، سی ٹی ڈی کی کاروائی،فتنہ الخوارج  کا مبینہ کارندہ گرفتار

    ساہیوال، سی ٹی ڈی کی کاروائی،فتنہ الخوارج کا مبینہ کارندہ گرفتار

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال ریجن میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان المعروف فتنہ الخوارج کے مبینہ کارندے کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر پاکپتن کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں کی گئی، جہاں دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت آغا محمد کے نام سے ہوئی ہے جو جنوبی وزیرستان کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار شخص کالعدم تنظیم کی تشہیر میں ملوث تھا اور مختلف ذرائع سے لوگوں کو تنظیم میں شمولیت کی ترغیب دے رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد، کالعدم تنظیم سے متعلق کتابیں، نقدی رقم اور اے ٹی ایم کارڈ برآمد کیے گئے ہیں۔ برآمد شدہ مواد کو قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس حوالے سے ڈیجیٹل آلات کا بھی فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا یا انفرادی طور پر سرگرم تھا۔حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیم مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہے جن میں فنڈنگ کے ذرائع، رابطوں کا دائرہ کار اور ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی شامل ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں کالعدم تنظیموں اور شدت پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے اور کسی کو بھی ریاست مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔