Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی سیاحوں کا نامناسب رویہ،تھائی لینڈ کے یونا بیچ کلب نے داخلہ بند کر دیا

    بھارتی سیاحوں کا نامناسب رویہ،تھائی لینڈ کے یونا بیچ کلب نے داخلہ بند کر دیا

    بین الاقوامی سیاحتی حلقوں میں حالیہ دنوں بھارتی سیاحوں کے مبینہ نامناسب رویّے سے متعلق خبروں نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

    تھائی لینڈ کے مشہور سیاحتی مقام “یونا بیچ کلب” میں بھارتی سیاحوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ماضی میں پیش آنے والے چند ناخوشگوار واقعات کے بعد کیا گیا۔یونا بیچ کلب، جو اپنی پرتعیش سہولیات اور بین الاقوامی سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث معروف ہے، کی انتظامیہ کے مطابق بعض مواقع پربھارتی سیاحوں کا رویّہ غیر مہذب اور کلب کے ضابطہ اخلاق کے خلاف تھا، اس فیصلے کا مقصد تمام مہمانوں کے لیے محفوظ اور پُرسکون ماحول کو یقینی بنانا ہے۔واضح رہے کہ تھائی لینڈ کی سیاحتی صنعت بھارتی سیاحوں پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں بھارتی شہری وہاں کا رخ کرتے ہیں۔

    تھائی لینڈ کے معروف اور سیاحوں میں مقبول یونا بیچ کلب (Yona Beach Club) میں بھارتی سیاحوں کے داخلے سے مبینہ انکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ بھارتی سیاحوں کے ایک گروپ نے کلب انتظامیہ پر نسلی امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ماضی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے باعث بھارتی شہریوں کے داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ گوا سے تعلق رکھنے والے موسیقار جوناس مونٹیرو (Jonas Monteiro) نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو تصدیق شدہ بکنگ اور درست ٹکٹ ہونے کے باوجود کلب میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔جوناس مونٹیرو کے مطابق وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ مقررہ وقت پر کلب پہنچے اور ان کے پاس باقاعدہ تصدیق شدہ ٹکٹ موجود تھے، تاہم داخلی دروازے پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔

    سب سے سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ گروپ کے ارکان نے مبینہ طور پر کلب کے عملے کو یہ کہتے ہوئے سنا،“کسی بھارتی کو اندر مت آنے دو۔”

    ماضی میں چند بھارتی سیاحوں کے ہنگامہ آرائی اور غیر مہذب رویے کے واقعات کے بعد کلب انتظامیہ نے سخت اقدامات کیے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سیاحتی مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کیے جاتے ہیں ،

  • خالصتان حامیوں نے امرتسر میں پاکستانی پرچم والی پتنگیں اڑا دیں

    خالصتان حامیوں نے امرتسر میں پاکستانی پرچم والی پتنگیں اڑا دیں

    بھارتی پنجاب کے علاقےامرتسر میں بسنت کے تہوار کے دوران خالصتان تحریک کے حامیوں کی جانب سے پاکستانی قومی پرچم والی پتنگیں اُڑانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔

    مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریوں نے بسنت کے موقع پر ایسی پتنگیں اڑائیں جن پر پاکستان کا قومی پرچم بنا ہوا تھا،باخبر ذرائع کے مطابق یہ اقدام روایتی بسنت منانے کے بجائے ایک علامتی احتجاج کے طور پر کیا گیا۔ خالصتان حامیوں نے اس عمل کو بھارتی پنجاب میں سکھوں کے حقوق سے متعلق مبینہ مسائل اور شکایات کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    یاد رہے کہ خالصتان تحریک سکھوں کے لیے علیحدہ ریاست کے قیام سے متعلق ایک نظریہ ہے، جو ماضی میں شدت اختیار کر چکا ہے اور آج بھی وقفے وقفے سے اس کے حامی اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

  • اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی حلف برداری کی تقریب

    اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی حلف برداری کی تقریب

    اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آئی یو جے) کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی پروقار تقریب کا انعقاد اسلام آباد ہوٹل میں کیا گیا، جس میں سینئر صحافیوں، تجزیہ کاروں، مختلف میڈیا ہاؤسز کے نمائندگان اور صحافتی تنظیموں کے عہدیداران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کے مہمان خصوصی ممتاز سینئر صحافی اور تجزیہ کار خوشنود علی خان تھے، تقریب کے دوران چیئرمین شاہنواز خان نے اپنے عہدے کا حلف ممتاز سینئر صحافی و تجزیہ کار خوشنود علی خان سے لیا۔ بعد ازاں چیئرمین شاہنواز خان نے دیگر عہدیداران سے ان کے عہدوں کا حلف لیا، جبکہ ایگزیکٹو ممبران سے حلف شمشاد مانگٹ نے لیا۔نو منتخب عہدیداران میں صدر عامر چوہدری،نائب صدور فیاض تنولی، ملک ظفر، عباس احمد، منصور قریشی،نائب صدر خواتین فائزہ یونس،جنرل سیکرٹری سردار سجاد طارق،ڈپٹی جنرل سیکرٹری راشد عباسی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری خواتین سلمی ملک،جوائنٹ سیکرٹری ملک نجیب،ڈپٹی جوائنٹ سیکرٹریز واجد عباسی، وقار عباسی،انفارمیشن سیکرٹری محمد عادل خان،ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری چوہدری عابد حسین،ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری خواتین نبیلہ حفیظ،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری راجہ نعمان،فنانس سیکرٹری راشد اشرف،ڈپٹی فنانس سیکرٹری سردار تنویر عابد،ایڈیشنل انفارمیشن سیکرٹریز عبدالرزاق، قاسم جمشید، عمران قادر،آفس سیکرٹری قاسم منیر،لیگل سیکرٹری ملک سیف ایڈووکیٹ،پریس سیکرٹری ملک احتشام فاروق شامل تھے جبکہ گورننگ باڈی میں شیر دل خان، فاروق خان، راجہ ارسلان، راجہ خلیل جنجوعہ، رجب علی، شیخ طیب، وقاص کھوکھر، عثمان عباسی، چوہدری عبد الرحمان، ملک نوید آصف، عمر فاروق چوہدری، سید ایم فیضان علی شاہ، کامران کھوکھر، ایم سلیم، بلال احمد ملک، راجہ جمیل، امجد کیانی، عمران عمار، ولید خان شلمانی، ملک اختر شامل تھے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شاہنواز خان نے کہا کہ اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، آزادیٔ صحافت کے فروغ اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تنظیم کسی بھی صحافی کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور قانونی و پیشہ ورانہ معاونت فراہم کی جائے گی۔
    صدر عامر چوہدری نے کہا کہ صحافی معاشرے کی رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں، اس لیے صحافیوں کے اتحاد، تحفظ اور وقار کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دیگر عہدیداران نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، تنظیم کو مضبوط اور فعال پلیٹ فارم بنائیں گے اور صحافتی مسائل کے حل کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔

    تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، آزادیٔ صحافت، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تنظیم کی ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ آئی یو جے کی نئی قیادت صحافتی برادری کو اتحاد، طاقت اور بہتر مستقبل فراہم کرے گی

  • اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے،سیکیورٹی ذرائع

    اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے،سیکیورٹی ذرائع

    لاہور میں میڈیا نمائیندگان سے سیکیورٹی عہدیدار، ذرائع کی ملاقات ہوئی ہے

    سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا،دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز ، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے، پاکستان کے اندر تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، حالیہ ترلائی امام بارگاہ کے حملہ آور کو دہشتگردانہ حملے کی ٹریننگ افغانستان نے دی،بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کیخلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں، آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو ، اس سے فرق نہیں پڑتا، البتہ دہشت گردی کیخلاف ہمیں متحد ہونا ہے، ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہے فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے، سیکیورٹی ذرائع

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق تین سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی، جو اب ختم ہوچکی ہے، اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں استعمال ہوتا ہے، گُڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتی ہے،احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گردوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، اس سلسلے میں پختونخواہ میں کی جانیوالی حالیہ میٹنگز خوش آئیند ہے ،جس طرح ہم نے معرکہ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی اسی طرح ہم دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے، تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے ، کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے، اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے، بات چیت تمام سیاسی جماعتیں کا استحقاق ہے، سیاست سے فوج کا کچھ لینا دینا نہیں ، قانونی اور کورٹ کیسز اور اس سے جڑےتمام معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے،

  • نیپرا کا عوام کو  ٹیکا ،300 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز

    نیپرا کا عوام کو ٹیکا ،300 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز

    اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اب 300 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد ہوں گے۔

    نیپرا کی جانب سے یہ فیصلہ پاور ڈویژن کی درخواست پر جاری کیا گیا۔ اس سے قبل فکسڈ چارجز صرف 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لاگو تھے، تاہم نئے فیصلے کے بعد پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں اقسام کے صارفین اس دائرہ کار میں آ گئے ہیں۔نیپرا فیصلے کے مطابق ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد کیے گئے ہیں۔ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز مقرر کیے گئے ہیں۔

    نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فکسڈ چارجز کی نئی شرحیں درج ذیل ہیں،100 یونٹ تک استعمال پر 275 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز،200 یونٹ تک استعمال پر 300 روپے فکسڈ چارجز،300 یونٹ تک استعمال پر 350 روپے فکسڈ چارجز ہوں گےمزید برآں 301 سے 400 یونٹ تک استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے فکسڈ چارجز میں 200 روپے اضافہ کر کے 400 روپے مقرر کر دیے گئے ہیں۔401 سے 500 یونٹ تک استعمال پر 100 روپے اضافے کے بعد فکسڈ چارجز 500 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔600 یونٹ ماہانہ استعمال پر فکسڈ چارجز میں 75 روپے اضافہ کر کے 675 روپے کر دیے گئے ہیں۔700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 125 روپے کمی کے بعد فکسڈ چارجز 675 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 325 روپے کمی کے بعد فکسڈ چارجز 675 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

    توانائی ماہرین کے مطابق فکسڈ چارجز کے نفاذ کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی حالت بہتر بنانا اور ریونیو میں استحکام لانا ہے، تاہم اس فیصلے سے کم اور متوسط آمدنی والے صارفین پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔صارفین تنظیموں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف کے علاوہ فکسڈ چارجز میں اضافے سے مجموعی بلوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے مہنگائی کے موجودہ دور میں عوام کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔نیپرا کی جانب سے جاری کردہ فیصلہ آئندہ بلنگ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد صارفین کو اپنے ماہانہ بلوں میں نئی شرحوں کے مطابق فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔

  • سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ گھر میں گر کر زخمی

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ گھر میں گر کر زخمی

    اسلام آباد: سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اپنے گھر میں گرنے کے باعث زخمی ہو گئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو گرنے سے جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئی ہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے پیش آیا جب وہ اپنے گھر کے واش روم میں اچانک پھسل کر گر گئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرنے کے نتیجے میں ان کے سر پر بھی زخم آئے ہیں، جس کے باعث ڈاکٹروں نے انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کر دیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق سابق آرمی چیف کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا معائنہ کر رہی ہے۔

    خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو بروقت طبی امداد فراہم کر دی گئی تھی اور فی الحال وہ ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہیں۔ مزید طبی معائنے اور ضروری ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ اندرونی چوٹوں کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے نومبر 2022 میں اپنی مدتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد پاک فوج کی سربراہی سے ریٹائرمنٹ حاصل کی تھی۔ ان کی اچانک علالت کی خبر سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خاتمے کیلیے اقدامات کئے جائیں،صدر مرکزی مسلم لیگ

    بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خاتمے کیلیے اقدامات کئے جائیں،صدر مرکزی مسلم لیگ

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کی جان ہے، لاہور میں بیٹھ کر ادھر تم ادھر ہم کی باتیں کرنے والے ملک دشمنوں کی ترجمانی کر رہے ہیں، بلوچستان پاکستان کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا ،ملک دشمنوں کی زبان بولنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہئے.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی بڑھ چکی ہے، آئے روزنہتے شہریوں، سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں،بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وطن عزیز پاکستان کو دہشتگردی،افراتفری سے عدم استحکام سے دو چار کیا جائے ،بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کے واضح ثبوت ہیں، کلبھوشن یادیو بھی بلوچستان ہی گرفتار ہوا تھا، اب پاکستان کے نام نہاد رہنما بھی دشمنوں کی زبان بولنا شروع ہو گئے ہیں، لاہورمیں ادھر ہم ،ا دھر تم کا بیان واضح طور پر ملک دشمنی ہے، اس پرکسی صورت خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی،پاکستان کلمہ کے نام پر بنا تھا ،پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے،ادھر ہم ادھر تم کی باتیں کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے،بلوچوں کو پاکستان سے کوئی الگ نہیں کر سکتا، اہل بلوچستان کی محرومیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے،بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خاتمے کے لیے اقدامات کئے جائیں.

  • حکومتی بینچز پر موجود ہونے کے باوجود ہم عوام دشمن فیصلوں کا حصہ نہیں بنتے،شازیہ مری

    حکومتی بینچز پر موجود ہونے کے باوجود ہم عوام دشمن فیصلوں کا حصہ نہیں بنتے،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ،رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی مسائل کی آواز بلند کرتی آئی ہے۔ حکومتی بینچز پر موجود ہونے کے باوجود ہم عوام دشمن فیصلوں کا حصہ نہیں بنتے،آج بجلی اور نیٹ میٹرنگ سے متعلق فیصلوں نے نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا بوجھ عوام پر ڈالا بلکہ موجودہ اور مستقبل کے صارفین کی حوصلہ شکنی بھی کی ہے،

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شازیہ مری کا کہنا تھا کہ عوام معاشی بدحالی کا شکار ہیں، روزگار کے موقع تلاش کر رہے ہیں کھانے کے لالے پڑے ہیں، حکومت کو ایسے وقت میں بھی کوئی احساس نہیں، حکومت اپنی‌صفوں میں وہ لوگ تلاش کرے جو اسے کمزور کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہے، وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہیئے.ایسی پالیسی سے پہلے کیوں نہیں بات کی جاتی ،اعتماد میں لیا جاتا،

  • آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے،شرجیل میمن

    آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے،شرجیل میمن

    کراچی میں صوبائی وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ اور سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ اطلاعات سندھ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ اطلاعات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمن میمن، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات معیز پیرزادہ، ڈائریکٹر فلمز حزب اللہ میمن، ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات سارانگ لطیف چانڈیو سمیت دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران میڈیا سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل، صحافیوں کے لیے سہولیات میں بہتری، بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی، اور محکمہ اطلاعات اور میڈیا کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر محکمہ اطلاعات کے جاری اور مجوزہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ، جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومتی معلومات کی مؤثر ترسیل، فلم اور ڈاکومنٹری منصوبوں کی سرپرستی، اور عوام کو حکومتی پالیسیوں تک شفاف اور آسان رسائی کی فراہمی کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری جمہوری نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور ان کے تحفظ اور پیشہ ورانہ سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے، اور سندھ حکومت میڈیا کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام تک درست اور بروقت معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے نقصانات،جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے نقصانات،جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال میں نقصانات روکنے کے حوالے سے اقدامات سے متعلق جواب طلب کر لیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کم عمر بچے شنواری کی والد کے ذریعے دائر درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا درخواست گزار کے مطابق عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق دنیا بھر میں قوانین بنے ہیں،جسٹس ارباب محمد طاہر نے دو صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ 3 مارچ تک جواب جمع کرائے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے نقصانات روکنے کے حوالے سے کیا اقدامات کیے گئے، سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق بھی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیرا وائز کمنٹس دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عملدرآمد کی رپورٹ دیں،عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے بتایا جائے کہ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیا ریگولیٹری فریم ورک بنایا گیا، بچوں کی (سوشل میڈیااستعمال) عمر کے جائزے کے مکینزم پر اقدامات سےبھی آگاہ کریں،ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہمیت کا حامل ہے، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ کے حوالے سے بھی آگاہ کریں، بغیر ریگولیشن کے سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک ہے،عدالت کا کہنا ہے کہ بغیر ریگولیشن بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے ذہنی امراض کے مسائل ہیں، بغیر ریگولیشن بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پرائیویسی کی خلاف ورزی کا مسئلہ ہے۔