Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کاگٹھ جوڑ

    ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ قندھار میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سرغنہ بشیر زیب بلوچ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر غازی خراسانی کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی اطلاعات سامنے ائی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں منظم اور مشترکہ دہشتگرد حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بشیر زیب اس وقت قندھار کے علاقے عینو مینہ میں ایک انتہائی محفوظ سیف ہاؤس میں موجود ہے۔ جبکہ اس مقام کے اطراف میں سیکورٹی کے لئےبڑی تعداد میںمسلح افراد تعینات ہیں جبکہ بیرونی نگرانی افغان طالبان کے اہلکار کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ سیف ہاؤس کے اندر موجود سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے مبینہ طور پر مجید بریگیڈ کا دہشتگرد پروپیگنڈا مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشیر زیب کی موجودگی کی تصدیق انٹرسیپٹڈ کالز، انسانی مخبروں اور ڈرون فوٹیج سے ہوئی ہے۔

  • عمران خان  کا جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار

    عمران خان کا جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار

    بیرسٹر سلمان صفدر کی سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مندرجات سامنے آ گئے

    عمران خان نے جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا، سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان نے کہا کہ گرمیوں میں سیل میں شدید حبس ہو جاتی ہے، اتنے مچھر، کیڑے مکوڑے آجاتے ہیں نہ ٹھیک سے آرام کر پاتا ہوں نہ سو پاتا ہوں، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کی 10 سیکورٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے اور ایک کیمرا شاور ایریا باتھ روم تک کو کور کرتا ہے،بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق میں نے مشاہدہ کیا عمران خان مکمل بینائی یعنی دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے عمران خان کی آنکھ سے مسلسل پانی نکل نکل رہا تھا عمران خان باربار ٹشو استعمال کر رہے تھے عمران خان شدید تکلیف میں تھے،

    بیرسٹر سلمان صفدر کی تفتیش میں جیل سپریڈنٹ نے بتایا کہ عمران خان اس وقت پمز کے ڈاکٹر عارف کے زیر نگرانی ہیں اس کے علاؤہ جیل ڈاکٹر عمران خان کے شوگر اور بلڈ پریشر کا چیک اپ روانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں لیکن جب بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹس مانگیں تو جیل انتظامیہ نے عمران خان کے کسی ٹیسٹ کی کوئی رپورٹ شئیر نہیں کی.عمران خان نے بتایا اکتوبر 2025 سے آنکھ میں مسئلہ ہوا، جیل حکام کو بتانے کے باوجود علاج نہیں کرایا گیا، دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہونے کے بعد ڈاکٹرز کو بلایا گیا، علاج کے باوجود 15% تک دکھائی دیتا ہے۔

  • طالبان رجیم کی جبر،ناانصافی اورشدت پسندی ، افغانستان تباہی کے دہانے پر

    طالبان رجیم کی جبر،ناانصافی اورشدت پسندی ، افغانستان تباہی کے دہانے پر

    طالبان رجیم حکومت نہیں، ایک مسلح آمریت ہے جو مذہب کی آڑ میں نااہلی، سفاکی اور تنگ نظری کی اصل تصویر ہے

    عالمی جریدے نے افغان طالبان رجیم کے مظالم، شدت پسندی اور نااہلی کو بے نقاب کر دیا،امریکی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق؛افغانستان سنگین بحرانوں سے دوچار ہے اورطالبان رجیم کو نہ ہی بین الاقوامی سطح پر اور نہ ہی عوام کا اعتماد حاصل ہے ، طالبان رجیم کی جانب سےمخالفین ،سابق سکیورٹی اہلکاروں اورعام شہریوں کاقتل عام مسلسل جاری ہے ،طالبان قیادت میں دراڑیں برقرار ،افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت20سے زائد دہشتگرد گروپ فعال ہیں،گذشتہ سال ،افغانستان سب سے زیادہ منشیات پیدا کرنے والا ملک رہا ،

    ماہرین کے مطابق طالبان کا یہ نظام نہ اسلام کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے اور نہ ہی انسانی اقدار کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے،طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور ریاستی جبر افغانستان کو انسانی، معاشی اور سلامتی کے بحران میں جھونک رہا ہے

  • مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان

    مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان

    مودی کی سفاک سرکار کا انتہا پسند ایجنڈا بے نقاب، بابری مسجد پر اشتعال انگیز اعلان سامنے آ گیا

    "بابری مسجد دوبارہ بننے نہیں دیں گے”بی جے پی کی مسلمان دشمنی ایک بارپھر عیاں ہو گئی،انتہا پسند ہندووں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کے34 سال بعد بھی بی جے پی کی مسلمان دشمنی کم نہ ہوئی،بھارت میں انتہا پسند بی جےپی نے نفرت انگیزہندوتوا بیانیہ پر طویل عرصہ سے اقتدارقائم کررکھا ہے،انڈیا ٹوڈے کے مطابق وزیراعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نےبھارتی مسلمانوں کو اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ بابری مسجد قیامت تک دوبارہ نہیں بننے دیں گے،ہم نے بابری مسجد کی جگہ رام مندربنانے کا وعدہ پورا کیا،1992میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت پر فسادات کے دوران ہزاروں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے تھے

    ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں پرمظالم اور عبادت گاہوں پرحملے اسکے نام نہاد جمہوری چہرے پرسیاہ داغ ہے، مودی حکومت میں مسلمانوں اورمسیحیوں سمیت تمام اقلیتیں وحشیانہ مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں،امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی بھارت میں مذہبی آزادی سلب ہونے پر تشویش ظاہرکی ہے

  • نوجوان نسل کو   انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    نوجوان نسل کو انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےا تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر کہا ہے کہ آج تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت و عفریت اور تشدد آمیز نظریات کے خلاف اپنی قومی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات نہ صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی انسانی اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے بہادر سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کی روشن مثال اور باعث فخر ہیں۔اسلام ایک امن پسند دین ہے جو اعتدال، رواداری، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو تعلیم، مواقع اور مثبت سوچ فراہم کر کے انہیں انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا۔ سماجی انصاف، معاشی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔
    اس تناظر میں پاکستان اس امر پر بھی زور دیتا ہےکہ دنیا میں جاری ناانصافیاں، طویل تنازعات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہیں۔عالمی منظر نامہ پر طویل حل طلب تنازعات بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں معصوم شہریوں کے خلاف ریاستی ظلم و جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی بھی انتہا پسندانہ رویہ کی عکاس ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے موثر اقدامات کرے۔پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور ایک منصفانہ و پرامن عالمی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔آئیے آج کے دن ہم سب مل کر ایک پرامن، محفوظ اور ہم آہنگ معاشرے کی تعمیر کا عہد کریں۔

  • بنگلہ دیش   انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    بنگلہ دیش اپنے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے،آج ملک بھر میں انتخابات ہوں گے اور سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار انتخابی معرکے کا مرکز روایتی جماعتی اتحاد یا انتخابی مشینری نہیں بلکہ دو طاقتور سماجی طبقات ہوں گے، جین زی (Gen-Z) ووٹرز اور خواتین۔

    اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دونوں طبقات مل کر نہ صرف ووٹرز کی عددی اکثریت بناتے ہیں بلکہ ایک نسبتاً خودمختار اور بااثر ووٹ بینک کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جو ملکی سیاست کے روایتی توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 127.7 ملین ہے۔ان میں سے 50 ملین ووٹرز کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہے۔تقریباً 40 ملین ووٹرز 18 سے 29 سال کی عمر کے ہیں، جو خالصتاً جین زی کی نمائندگی کرتے ہیں۔رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 62 ملین سے زائد ہے، جو مرد ووٹرز کے تقریباً برابر ہے۔تقریباً 10 ملین شہری پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔خواتین ووٹرز میں سے 26.7 ملین کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے۔

    یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ نوجوان اور خواتین ووٹرز مل کر ایک ایسی انتخابی طاقت بن چکے ہیں جو قریبی مقابلوں میں نتائج کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔سیاسی جماعتیں اس تبدیلی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کئی امیدوار نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ جب تک انہیں خواتین اور جین زی ووٹرز کے رجحان کا اندازہ نہ ہو، فتح کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

    2024 کی عوامی تحریک میں کلیدی کردار ادا کرنے والی نسل اب پہلی بار تحریک کے بعد ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈال رہی ہے۔ سیاسی مبصرین اسے سڑکوں کی سیاست سے ادارہ جاتی سیاست کی جانب منتقلی قرار دے رہے ہیں۔ڈھاکا کے ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق “یہ انتخاب مختلف ہے کیونکہ جس نسل نے سیاسی نظام کو ہلایا، اب وہی فیصلہ کرے گی کہ حکومت کس کی ہوگی۔”ماضی میں نوجوان ووٹر اکثر خاندانی وابستگی یا جماعتی اثر کے تحت ووٹ دیتے تھے، مگر اس بار صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جین زی ووٹرز زیادہ تر گورننس کے معیار، بدعنوانی کے خاتمے، روزگار کے مواقع اور شہری آزادیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سیاسی کارکنان تسلیم کرتے ہیں کہ نوجوان ووٹرز کی غیر متوقع صف بندی نے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔ سول سوسائٹی نمائندگان کا کہنا ہے کہ جین زی ووٹر اس جماعت کا ساتھ دے سکتے ہیں جو انہیں استحکام اور ذاتی سلامتی کی ضمانت دیتی نظر آئے۔

    اگر جین زی نسلی تبدیلی کی علامت ہے تو خواتین ووٹرز ایک ساختی سیاسی تبدیلی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔62 ملین سے زائد خواتین ووٹرز کی موجودگی اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس بار اصل تبدیلی ان کی فیصلہ سازی میں خودمختاری ہے۔راجشاہی کے گوڈاگری،تانور حلقے میں، جو ماضی میں بی این پی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے واپس آنے والی ملازمت پیشہ خواتین نے سیاسی شعور میں نمایاں تبدیلی کا اظہار کیا۔سوروی اختر نے کہا “ہم کافی عرصے بعد ڈھاکا سے ووٹ ڈالنے آئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے خواتین اب خود فیصلہ کر رہی ہیں، یہ نیا احساس ہے۔”مقامی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ابو طاہر کے مطابق “میں نے ہمیشہ دیکھا کہ خواتین مردوں سے مشورہ کر کے ووٹ دیتی تھیں۔ اس بار وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں، اس سے پورا حساب بدل جاتا ہے۔”زمینی سطح پر امیدوار خواتین ووٹرز، خاص طور پر محنت کش طبقے کی خواتین کو سب سے اہم سوئنگ بلاک قرار دے رہے ہیں۔

    اہم سیاسی جماعتوں بی این پی، جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی نے اپنے منشور میں خواتین سے متعلق وعدوں کو نمایاں جگہ دی ہے۔بی این پی کے وعدوں میں خواتین کے لیے “فیملی کارڈ”،پوسٹ گریجویٹ سطح تک مفت تعلیم،خواتین سپورٹ سیلز،ڈے کیئر مراکز،بریسٹ فیڈنگ کارنرز،خواتین کے لیے کاروباری پروگرامز شامل ہیں،جماعت اسلامی کے وعدوں میں قومی خواتین تحفظ ٹاسک فورس،اندرون و بیرون ملک خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت روزگار کی ضمانت شامل ہے،این سی پی کے وعدوں میں ایوانِ زیریں کی 100 مخصوص نشستوں پر خواتین کے لیے براہِ راست انتخابات شامل ہیں،تاہم، سول سوسائٹی میں شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔“وی کین” کی کوآرڈینیٹر جنیّت آرا حق کا کہنا ہے “خواتین ہمیشہ فیصلہ کن رہی ہیں، مگر ان منشوروں میں سنجیدہ تحقیق اور عملدرآمد کا واضح خاکہ موجود نہیں۔”

    سوشل میڈیا پر “بیلٹ سے جواب دیں” کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ بعض متنازع بیانات کے بعد گیارہ خواتین تنظیموں نے الیکشن کمیشن کو یادداشت پیش کر کے ایک امیدوار کی نااہلی کا مطالبہ کیا۔سیاسی کارکن مشرفہ مشو نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔کارکن مرزیہ پرووا کا کہنا ہے میں چاہتی ہوں خواتین زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں اور بیلٹ کے ذریعے جواب دیں۔

    بنگلہ دیش میں آبادیاتی رجحانات نوجوانوں اور خواتین کے حق میں جا رہے ہیں۔ اگر جین زی 2024 کی اصلاحی توانائی کو بیلٹ بکس تک لے آئی اور خواتین نے بڑی تعداد میں خودمختار فیصلے کیے تو 2026 کا انتخابی نقشہ ماضی سے مختلف ہو سکتا ہے۔یہ بیلٹ پیپر صرف حکومت کا تعین نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ آیا بنگلہ دیش میں ایک نئی سیاسی ثقافت نے واقعی جڑ پکڑ لی ہے یا نہیں۔

  • بنگلہ دیش میں آج تاریخی انتخابات،عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب

    بنگلہ دیش میں آج تاریخی انتخابات،عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب

    ڈھاکا: بنگلہ دیش آج اپنی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک ملک گیر ریفرنڈم بھی منعقد ہو رہا ہے، جسے ملک کے آئینی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز آج اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ انتخابات اگست 2024 کی طلبہ قیادت میں ہونے والی “مون سون انقلاب” کے بعد پہلا بڑا جمہوری معرکہ ہیں، جس نے ملک کی سیاسی سمت کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔پولنگ کا عمل صبح 7 بج کر 30 منٹ سے شام 4 بج کر 30 منٹ تک 299 حلقوں میں جاری رہے گا۔ تاہم شیرپور-3 میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار نورالزمان بدل کے انتقال کے باعث ووٹنگ معطل کر دی گئی ہے، اور الیکشن کمیشن جلد نئی تاریخ کا اعلان کرے گا۔

    ووٹروں کو آج دو بیلٹ پیپر دیے جا رہے ہیں،سفید بیلٹ، اپنے حلقے سے پارلیمانی نمائندے کے انتخاب کے لیے،گلابی بیلٹ: مجوزہ “جولائی نیشنل چارٹر” پر ریفرنڈم کے لیے۔جولائی نیشنل چارٹر” میں آئین میں وسیع اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جن میں وزیر اعظم کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنا،مستقبل کے انتخابات کی نگرانی کے لیے غیر جانبدار نگران حکومت کا نظام بحال کرناشامل ہیں.پارلیمنٹ میں ایوانِ بالا کا قیام، جس میں 350 منتخب ارکان کے ساتھ مزید 100 منتخب/نامزد ارکان شامل کیے جائیں گے

    حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات اختیارات کے ارتکاز کو روکیں گی، انتظامی بالادستی پر قدغن لگائیں گی اور جمہوری احتساب کو مضبوط بنائیں گی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج ان اصلاحات کے نفاذ کے طریقہ کار میں ہے، کیونکہ غیر واضح انتظامی تفصیلات مستقبل میں آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔یوں آج کا دن صرف حکومت کے انتخاب کا نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کا بھی ریفرنڈم بن چکا ہے۔

    اس بار انتخابی نقشہ ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ کئی دہائیوں بعد عوامی لیگ بیلٹ پیپر سے غائب ہے، کیونکہ اس کی رجسٹریشن معطل ہے۔ اس تبدیلی نے انتخابی مقابلے کو دو بڑے اتحادوں تک محدود کر دیا ہے۔ایک جانب بی این پی کی قیادت میں اتحاد ہے، جس کی سربراہی طارق رحمان کر رہے ہیں، جو 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آ کر “جمہوریت کی بحالی”، معاشی استحکام اور ریاستی اداروں کو غیر جماعتی بنانے کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔دوسری طرف 11 جماعتی اتحاد ہے، جس کی قیادت جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کر رہے ہیں، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سربراہ ناہید اسلام بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ این سی پی دراصل گزشتہ سال کی طلبہ تحریک سے جنم لینے والی سیاسی قوت ہے۔مجموعی طور پر 50 سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جو گزشتہ تین انتخابات کے برعکس ایک وسیع تر سیاسی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔

    چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں ان انتخابات اور ریفرنڈم کو بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ کا “منفرد اور سنگِ میل لمحہ” قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دوہرا ووٹ عوامی خودمختاری کا براہِ راست اظہار ہے، خاص طور پر ان برسوں کے بعد جب شہریوں کی بڑی تعداد خود کو سیاسی عمل سے محروم محسوس کرتی تھی۔یونس نے نوجوان ووٹروں کا خصوصی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ ایک مسابقتی قومی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

    انتخابی شفافیت اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں فوج، پولیس، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش، ریپڈ ایکشن بٹالین، کوسٹ گارڈ اور انصار فورس شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے جدید ٹیکنالوجی کو بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے،ڈرونز اور یو اے ویز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی،فیلڈ افسران کے لیے باڈی کیمرے نصب ہیں،42 ہزار 779 پولنگ اسٹیشنز میں سے 90 فیصد سے زائد پر سی سی ٹی وی کوریج کی جائے گی،

    چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔45 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے مبصرین بھی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پہلی بار آئی ٹی پر مبنی پوسٹل بیلٹ کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا۔ تقریباً 8 لاکھ تارکین وطن نے رجسٹریشن کرائی، جسے آئندہ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 37 سال کے ووٹرز کل رجسٹرڈ ووٹروں کا تقریباً 44 فیصد ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے مسائل نوجوانوں کے اہم مطالبات رہے ہیں، اور ماہرین کے مطابق شہری اور نیم شہری حلقوں میں نوجوانوں کا رجحان کئی نشستوں کا فیصلہ کر سکتا ہے۔خواتین ووٹرز کی تعداد بھی نمایاں ہے۔ 12 کروڑ 77 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 6 کروڑ 28 لاکھ سے زائد خواتین ہیں۔تقریباً 27 لاکھ خواتین پہلی بار ووٹر کے طور پر رجسٹر ہوئیں، جو نئے مرد ووٹروں (18 لاکھ 70 ہزار) سے کہیں زیادہ ہیں۔ بعض حلقوں میں خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔تاہم امیدواروں میں خواتین کی نمائندگی محدود ہے: صرف 83 خواتین امیدوار میدان میں ہیں، جو مجموعی امیدواروں کا محض 4 فیصد بنتی ہیں۔

    آج کا انتخاب صرف اگلی حکومت کے قیام کا فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ 2024 کی عوامی تحریک کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی نظام کس سمت جاتا ہے۔کیا آئینی اصلاحات طاقت کے توازن کو مستحکم کریں گی؟کیا نئی قیادت معاشی اور ادارہ جاتی استحکام لا سکے گی؟پولنگ اسٹیشنز پر قطاروں میں کھڑے شہری دراصل صرف نمائندے منتخب نہیں کر رہے، بلکہ وہ اپنے ملک کے آئینی اور جمہوری مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔بنگلہ دیش آج ایک ایسے امتحان سے گزر رہا ہے جس کا نتیجہ آنے والے برسوں کی سیاست، حکمرانی اور جمہوری روایت کو متعین کرے گا۔

  • خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات،سرچ آپریشنز جاری

    خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات،سرچ آپریشنز جاری

    خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت شہری زخمی اور شہید ہوئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔

    لنڈی کوتل میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے پوائنٹ کے قریب دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔ ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل زاہد خان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دھماکے کی نوعیت اور اس کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    لکی مروت: تختی خیل میں کوارڈ کاپٹر حملے، تین بچوں سمیت 8 افراد زخمی
    لکی مروت کے علاقے تختی خیل میں دہشتگردوں کی جانب سے کوارڈ کاپٹر کے ذریعے دو حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں تین بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق ایک حملہ فٹ بال گراؤنڈ پر کیا گیا جبکہ دوسرا حملہ امن کمیٹی کے صدر کے گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ دھماکوں کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔زخمیوں کو فوری طور پر سرائے نورنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرید اللہ شاہ کے مطابق ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    بنوں: گل بہار چوک میں پولیس وین پر حملہ ناکام
    بنوں کے علاقے گل بہار چوک، تھانہ ہوید کی حدود میں دہشتگردوں نے پولیس وین کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔پولیس کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس اہلکاروں نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی بھرپور مزاحمت کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ذرائع کے مطابق متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: فائرنگ کے تبادلے میں ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید
    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے تھانہ پنیالہ کی حدود وانڈہ بڈھ میں دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے اس تبادلے میں ایس ایچ او فہیم ممتاز خان مروت سمیت چار اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ڈی ایس پی پہاڑ پور سرکل حافظ عدنان خان شدید زخمی ہوئے ہیں۔واقعے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    باجوڑ: سیاسی رہنما کے گھر پر دستی بم حملہ
    باجوڑ میں دہشتگردوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نوبزادہ وحید خان کی رہائش گاہ پر دستی بم حملہ کیا۔پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر اسی نوعیت کے حملے کیے جا چکے ہیں، جس سے سیاسی شخصیات کی سکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اورکزئی: اغوا کے بعد امام مسجد کو شہید کر دیا گیا
    ضلع اورکزئی کے علاقے غلجو، تھانہ غلجو کی حدود ڈی ڈی ایم دڑا دڑ (ماما زئی) میں جامع مسجد کے امام اجمل کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق امام مسجد کو تین روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، جبکہ آج ان کی لاش اسی علاقے سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول کو ذبح کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں داعش خراسان کے عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رائے تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی دی جائے گی۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ شرپسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

  • نئے عزم کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرنا چاہیے، سردار مسعود خان

    نئے عزم کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرنا چاہیے، سردار مسعود خان

    اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، اسلام آباد کے زیر اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سےفیض احمد فیض آڈیٹوریم، سیکٹر H-8/1، اسلام آباد میں ایک خصوصی فکری و ادبی تقریب بعنوان “کشمیر کا مقدمہ: نسلِ نو کی زبانی” منعقد ہوئی۔

    تقریب کی صدارت سردار مسعود خان، سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے کی، تقریب کے مہمانانِ خصوصی اورنگزیب خان کچھی، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، رانا محمد قاسم نون، وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر، ڈاکٹر سمیع اللہ ملک، کشمیری رہنما و دانشور، اور مہمانِ اعزاز اسدرحمان گیلانی ، وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر کاشف عرفان نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد حسن احمد، طالب علم پنجاب گروپ آف کالجز نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی، جبکہ جبران حیدر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔

    اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ تقریب کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر پر اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا ہے، کیونکہ کشمیر کا مستقبل انھی کے ہاتھوں میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود نامکمل ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اس تقریب کا انعقاد اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو محض سیاسی بیانیے تک محدود رکھنے کے بجائے فکری، ادبی اور تہذیبی سطح پر زندہ رکھا جائے۔ ادب قومی شعور کی تشکیل، تاریخ کے تحفظ اور عالمی مکالمے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ انھوں نے پنجاب گروپ آف کالجز کی انتظامیہ پروفیسر چودھری محمد اکرم اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے نہ صرف سامعین کی حیثیت سے بلکہ بھرپور مکالمے اور فعال شرکت کے ذریعے اپنی فکری وابستگی کا ثبوت دیا۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، H-9 کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جہاں کے طلبہ نے “کشمیر کا مقدمہ” کے موضوع پر ڈرامہ پیش کیا، جس میں کشمیری عوام کے دکھ، کرب اور جدوجہد کو فنکارانہ انداز میں نہایت مؤثر طور پر اجاگر کیا گیا۔

    وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کے جذبات اور وابستگی کو دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک سنجیدہ انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی تقریب اکادمی ادبیات پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر ادبی سطح پر مؤثر کاوشوں کی عکاس ہے اور بطور علمی و ادبی ادارہ مسئلہ کشمیر پر فکری اور علمی معاونت فراہم کر رہی ہے اورحکومت اس مسئلے کو بھرپور انداز میں عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ میں اجاگر کر رہا ہے۔

    وفاقی سیکریٹری اسدرحمان گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہماری تہذیبی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ ہمیں اس بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے فکری اور ثقافتی سطح پر مسلسل کاوشیں کرنا ہوں گی۔ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نےاپنی خطاب میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، اس کی بین الاقوامی حیثیت اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے نوجوانوں کو غور و فکر، شعور اور فکری بیداری کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ کشمیر ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل میں مماثلت ہے، جہاں عوام طویل عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت تک اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کشمیر اس کا حصہ نہیں بنتا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں کشمیری عوام کی جدوجہد سے آگاہ رہیں۔

    سردار مسعود خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام کی طویل جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظلم، جبر اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے اور جینوسائیڈ کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کو یہ موقع میسر آیا ہے کہ وہ نئے عزم اور مضبوط مؤقف کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرے۔آخر میں تقریب میں شریک طلبہ و طالبات میں اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات بطور تحائف تقسیم کی گئیں۔

  • ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات کا معاملہ، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو قانونی نوٹس ارسال

    ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات کا معاملہ، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو قانونی نوٹس ارسال

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے وکیل بدر عالم ایڈووکیٹ نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ افسران کی نمائندہ تنظیم سوسائٹی آف فارمر پی آئی اے آفیسرز (SOFPO) کی جانب سے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (PIA-HCL) کو طبی سہولیات کے معاملے پر باقاعدہ قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔

    قانونی نوٹس 10 فروری 2026 کو جاری کیا گیا جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف ہیومن ریسورس آفیسر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی مکمل نقل فوری طور پر فراہم کی جائے۔نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (PIAC) کو 2016 کے ایکٹ کے تحت پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا تھا، جس کے پیرا 6 کی شق (iv) میں واضح طور پر درج ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات کو ان کے نقصان میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔وکیل کے مطابق طبی سہولیات بھی بعد از ریٹائرمنٹ مراعات کا حصہ ہیں، لہٰذا انہیں کم یا ختم کرنا قانوناً ممکن نہیں۔

    نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں پی آئی اے کو دو اداروں، یعنی PIACL اور PIA-HCL میں تقسیم کیا گیا۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے 3 مئی 2024 کو اسکیم آف ارینجمنٹ (SOA) کی منظوری دی، جس کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور طبی سہولیات سمیت تمام واجبات پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیے گئے۔ایس ای سی پی کے حکم نامے کے پیرا 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیشن نے توقع ظاہر کی تھی کہ کمپنی ریٹائرڈ ملازمین کے خدشات کو قانون کے مطابق دور کرے گی اور ان کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2025 کو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ کی ذیلی کمیٹی برائے طبی سہولیات کے اجلاس میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے مجوزہ میڈیکل انشورنس پلان پر بریفنگ دی تھی۔ اس موقع پر ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے کئی تحفظات کا اظہار کیا اور معاہدے کا مسودہ فراہم کرنے کی درخواست کی، جس پر کمیٹی نے رضامندی ظاہر کی تھی۔تاہم تنظیم کے مطابق تین تحریری یاد دہانیوں کے باوجود معاہدے کا مسودہ فراہم نہیں کیا گیا۔

    نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 جنوری 2026 کو جاری کردہ سرکلر کے ذریعے یہ تصدیق کی گئی کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی نے اسٹیٹ لائف کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ سرکلر کے مطابق 30 ستمبر 2023 تک ریٹائر ہونے والے تمام اہل پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولیات اس معاہدے کے تحت فراہم کی جائیں گی۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی شرائط، دائرہ کار، استثنیٰ اور ممکنہ اثرات سے ریٹائرڈ ملازمین کو آگاہ نہیں کیا گیا، جو شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے۔قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی اور اسٹیٹ لائف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی مکمل اور مصدقہ نقل فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کہیں ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات میں کوئی کمی یا تبدیلی تو نہیں کی گئی۔

    نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مطلوبہ دستاویز فراہم نہ کی گئی تو ریٹائرڈ ملازمین کے قانونی و معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا، جس کے تمام اخراجات اور نتائج کی ذمہ داری کمپنی پر عائد ہوگی۔اس قانونی نوٹس کی نقول چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی، چیئرمین اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔