Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران جنگ بندی پر متحدہ عرب امارات کا سخت مؤقف

    ایران جنگ بندی پر متحدہ عرب امارات کا سخت مؤقف

    ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے حوالے سے محتاط اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مزید وضاحت چاہتا ہے تاکہ تہران کی جانب سے مکمل پابندی اور آبنائے ہرمز کی “بلا مشروط بحالی” کو یقینی بنایا جا سکے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امارات یہ بھی چاہتا ہے کہ جنگ کے دوران ملک کو پہنچنے والے نقصانات پر ایران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔متحدہ عرب امارات نے اپنے بعض خلیجی اتحادیوں کے برعکس ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کرنے سے گریز کیا اور واضح کیا کہ صرف وقتی وقفہ کافی نہیں بلکہ ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام، خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے معاملات کو بھی اس حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

    صدر امارات کے مشیر انور قرقاش نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امارات کے مؤقف پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا “رسمی مروّت کا دور گزر چکا ہے، اب صاف گوئی ناگزیر ہو چکی ہے۔ آنے والے مرحلے میں ہمیں ایک مضبوط اور واضح اجتماعی مؤقف اپنانا ہوگا جو خطے میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دے۔”

    واضح رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات ایران کے حملوں کا بڑا نشانہ بنا، جہاں تقریباً نصف میزائل اور ڈرون حملے امارات کی جانب کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔
    جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی ایران کی جانب سے اماراتی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جنہیں ایرانی میڈیا نے ایران کی آئل ریفائنریوں پر پہلے کیے گئے حملوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔

  • بیروت پر اسرائیلی حملے، حزب اللہ سربراہ کے قریبی ساتھی کی  شہادت کا دعویٰ

    بیروت پر اسرائیلی حملے، حزب اللہ سربراہ کے قریبی ساتھی کی شہادت کا دعویٰ

    بیروت: اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تازہ فضائی کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے سربراہ کے قریبی ساتھی کو شہید کر دیا گیا ہے، جبکہ لبنان بھر میں شدید بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں علی یوسف حارشی نامی شخص مارا گیا، جو حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے قریبی مشیر اور ذاتی معاون تھے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ حارشی نہ صرف نعیم قاسم کے دفتر کے انتظامی امور سنبھالتے تھے بلکہ سیکیورٹی معاملات میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق رات گئے بیروت میں کیے گئے حملے میں حرشی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے دریائے لیتانی کے شمال اور جنوب کے درمیان حزب اللہ کے جنگجوؤں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والے دو اہم راستوں کو بھی نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران جنوبی لبنان میں اسلحے کے تقریباً 10 ذخائر، راکٹ لانچرز اور کمانڈ سینٹرز کو بھی تباہ کیا گیا۔دوسری جانب لبنان میں جاری اسرائیلی بمباری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 254 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔دارالحکومت بیروت کے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں صرف ایک دن میں 91 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ شہری علاقوں پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان اور چین بزنس تعلقات  کیلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم

    پاکستان اور چین بزنس تعلقات کیلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سروس لانگ مارچ ٹائرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیئرمین جن یانگ شینگ (Jin Yongsheng) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی.

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں مزید وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں. حکومت پاکستان ایک پائیدار، شفاف اور اور سہولیات پر مبنی سرمایہ کاری نظام پر یقین رکھتی ہے. خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں. سروس لانگ مارچ جیسے جوائنٹ وینچرز دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی ، ملازمت کے نئے مواقع ، ٹیکنالوجی کی اشتراک اور برآمدات میں اضافے کے لئے انتہائی ضروری ہیں.چیئرمین سروس لانگ مارچ جناب جن یانگ شینگ نے پاکستان میں سرمایہ کار دوست نظام اور حکومتی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی. وزیراعظم کو سروس لانگ مارچ ٹائرز کی نئی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سروس لانگ مارچ برآمدات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ؛ سال 2024-2025 میں کمپنی کا ایکسپورٹ ریونیو 54 ملین امریکی ڈالرز رہا. وفاقی سرمایہ کاری بورڈ سروس لانگ مارچ ٹائرز کو مختلف شعبوں میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کوشاں ہے. نوری آباد ،سندھ میں سروس لانگ مارچ ٹائرز کے سول ڈویلپمنٹ زون (Sole development zone)کے قیام کے حوالےسے وفاقی سرمایہ کاری بورڈ نے تمام ضروری سہولیات مہیا کیں. ملاقات میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • یہ ہے مودی کا بھارت،18 سالہ لڑکی نے دو بچوں کی ماں سے کی شادی

    یہ ہے مودی کا بھارت،18 سالہ لڑکی نے دو بچوں کی ماں سے کی شادی

    18 سالہ لڑکی نے دو بچوں کی ماں سے بیاہ رچا لیا، سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی کہانی نے سب کو حیران کر دیا

    بہار (بھارت) کے ایک علاقے میں پیش آنے والی ایک انوکھی محبت کی کہانی نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا، جہاں 18 سالہ لڑکی نے 32 سالہ دو بچوں کی ماں سے شادی کر لی۔ یہ غیر معمولی واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور ہر طرف موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ضلع بکسر کے باگین تھانہ علاقے کی رہائشی 18 سالہ روبی نے 32 سالہ سندھیا کے ساتھ شادی کی، جو پہلے سے دو بچوں کی ماں ہیں۔ دونوں کے درمیان محبت کا آغاز سوشل میڈیا پر ریلز بنانے کے دوران ہوا، جو وقت کے ساتھ گہری محبت میں تبدیل ہو گیا۔ذرائع کے مطابق، دونوں نے پہلی بار 4 اپریل کو وندھیاچل مندر میں شادی کی، جبکہ 6 اپریل کو رام ریکھا گھاٹ کے ایک پرانے شادی منڈپ میں روایتی ہندو رسومات کے تحت دوبارہ شادی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس منفرد شادی کی خبر جیسے ہی پھیلی، سینکڑوں افراد موقع پر جمع ہوگئے اور اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

    اس رشتے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ روبی نے خود کو ’شوہر‘ کے کردار میں قبول کیا ہے جبکہ سندھیا ’بیوی‘ کے طور پر اس رشتے میں شامل ہوئی ہیں۔دونوں خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے اس فیصلے پر خاندان والے سخت ناراض ہیں اور انہیں دھمکیوں کا سامنا بھی ہے، تاہم انہوں نے معاشرتی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔مقامی سطح پر اس واقعے پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے محبت کی آزادی کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے سماجی اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی کوشش،ممکنہ تباہی ٹل گئی، حافظ مسعود اظہر

    پاکستان کی سفارتی کوشش،ممکنہ تباہی ٹل گئی، حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اسلامی دنیا کا شاہین وشہبازہے اور قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات و واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا کا مضبوط اور ذمہ دار ملک ہے بلکہ امن و استحکام کے قیام میں ایک قائدانہ کردار بھی ادا کر رہا ہے۔عالمی سطح حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے جس دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں ایران کی جانب سے سعودی عرب کی سویلین اور توانائی تنصیبات پر حملوں کو غیر ضروری قرار دینا درحقیقت پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے ۔ اس لئے کہ سعودی عرب پاکستان کا سچا اور مخلص دوست ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں ممکنہ بڑی تباہی کا خطرہ ٹل گیا ہے ۔ پاکستان کی یہ کاوشیں خطے میں امن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان نے تنازع کو کم کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کا عملی ثبوت بھی دیا ہے ۔ پاکستان نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سا لمیت پر حملہ ناقابل قبول ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ سعودی عرب نے ایران کی طرف سے بار بار کی جانے والی جارحیت کے جواب میں جس صبر و تحمل اور ذمہ داری کا ثبوت دیا وہ عالمی برادری کے لیے ایک مثبت مثال ہے جسے پوری دنیا نے سراہا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست بھی ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی امت مسلمہ کی رہنمائی اور عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان کی آمد پر کابینہ اراکین نے تالیاں بجا کر پُرجوش خیرمقدم کیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کابینہ اراکین نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے بھی ڈیسک بجا کر مبارکباد پیش کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔اجلاس میں تمام اراکین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی گئی کامیاب سفارتی کوششوں اور مثبت اقدامات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سطح پر اپنے مؤثر سفارتی کردار کے باعث نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ قومی قیادت نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں اور ملک امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

    وزیراعظم نے اجلاس کے دوران کابینہ کو جنگ بندی کے لیے ہونے والی پیش رفت اور پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔جنگ بندی کی خوشی میں کابینہ اراکین میں مٹھائی تقسیم کی گئی، جبکہ جمعہ کے روز یومِ تشکر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین قومی مفاد میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی اور عالمی سطح پر ملک کے امن پسند کردار کو اجاگر کیا۔

  • پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد کی قیادت کی انتھک سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تباہی کے راستے کے بجائے مذاکرات کا انتخاب کیا اور کشیدگی سے پیچھے ہٹنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا، پاکستان کو فخر ہے کہ اس نے دانشمندی، عزم اور امن کے لیے پختہ وابستگی کے ساتھ قیادت کا کردار ادا کیا، تینوں ممالک کی قیادت نے کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جبکہ یہ جنگ بندی پورے خطے کے لیے سکون کا سانس لینے کا ایک اہم موقع ہے، یہ پیش رفت محض عارضی وقفہ ثابت نہیں ہوگی بلکہ پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز بنے گی جو خطے اور دنیا بھر میں مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی، سوشل میڈیا ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ بندی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی، سوشل میڈیا ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ بندی

    : پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جسے ماہرین “سوشل میڈیا ڈپلومیسی” کی ایک منفرد مثال قرار دے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان سے قبل وزیر اعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپیل کی کہ “سفارتکاری کو موقع دیا جائے” اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی اس اپیل کے محض ڈیڑھ گھنٹے بعد امریکی صدر نے حملے مؤخر کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، جسے پاکستان کی بروقت اور مؤثر سفارتی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

    بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ “انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف جنگ بندی میں ثالث بنا بلکہ اب وہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کرے گا۔ جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کی پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔مزید برآں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ممکنہ طور پر ہنگری کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

  • امریکا،ایران جنگ بندی، عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم

    امریکا،ایران جنگ بندی، عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان پر عالمی برادری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آسکے۔ سعودی حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی خطے میں ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوگی۔

    دوسری جانب ملائیشین وزیراعظم انورابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدہ تشکیل دیا جائے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس پیش رفت کو خطے اور دنیا کے لیے باعثِ راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے۔ادھر فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ جنگ بندی کی شرائط کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم لبنان کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لہٰذا اسے بھی کسی جامع امن معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس اہم پیش رفت کی راہ ہموار کی، جسے سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے جاری ہیں، جہاں ماہرین اور عالمی رہنما پاکستان کی ثالثی کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی بروقت اور مؤثر کوششوں کے باعث ایک ممکنہ بڑے تصادم کو ٹال دیا گیا، جس سے پورا خطہ تباہی کے دہانے سے واپس آ گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہایت متحرک اور مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی حکمت عملی اور عالمی رابطوں نے کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔جنگ بندی کو ممکن بنانے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشیں بھی نمایاں رہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے مختلف عالمی دارالحکومتوں سے مسلسل رابطے رکھے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوئی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور صلاحیتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

    بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کے اثرات عالمی منظرنامے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جہاں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئی بلکہ اقتصادی استحکام کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں جاری رہیں تو خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں "ویلڈن پاکستان” کی گونج اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی بروقت، مخلصانہ اور حکمتِ عملی پر مبنی سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے حصول میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ کامیابی ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کے اُس کردار کی توثیق کرتی ہے جو ایک منتشر عالمی منظرنامے میں پل بنانے والے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔یہ جنگ بندی محض وقتی توقف نہیں بلکہ کشیدگی پر امن کی ایک بڑی فتح ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ مکالمہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک دوراندیش رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور مخلصانہ ثالثی نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ہر سفارتی کوشش پاکستان کے قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے عین مطابق تھی۔ ان کی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کر دیا ہے۔داخلی سکیورٹی نظام کی قیادت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتکاری میں مرکزی کردار ادا کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے عسکری اور سفارتی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کی ہے۔

    کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے نے اصولی مؤقف کے ساتھ واضح طور پر فریق بننے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ایسے مؤقف کا بروقت اظہار پاکستان کے مثبت اور مخلص کردار کے نتائج کے تعین میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ حقیقی ثالثی میں کوئی ہار یا جیت نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ فریقین اجتماعی بھلائی کے لیے کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ پاکستان نے توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں جانب مساوی مفادات کو یقینی بنایا تاکہ دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔ یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔ کشیدگی میں کمی کے ذریعے پاکستان نے خطے اور دنیا بھر میں کمزور طبقات کے روزگار اور زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں استحکام نے عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی چین پر دباؤ کم کیا ہے، جس سے دنیا بھر کے غریب طبقات کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    اس تاریخی کامیابی کے باوجود ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔ مخالف عناصر اپنے مفادات کے لیے اس کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے کو دوبارہ بحران کی طرف دھکیلا جا سکے۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا اور پھر علاقائی استحکام و خوشحالی کی طرف بڑھنا ہماری اگلی منزل ہے۔پاکستان نے منفی پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیوں کو مؤثر انداز میں رد کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دکھائی ہے، تاہم معلوماتی میدان میں دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے بیک وقت متعدد سنگین بحرانوں سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی، آپریشن "غضب للحق” اور اندرونی انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کے دوران ریاست مضبوط اور ثابت قدم رہی۔ ان تمام سکیورٹی اور سفارتی محاذوں کو سنبھالتے ہوئے پاکستان نے اپنی معاشی استحکام کو بھی برقرار رکھا۔ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد معاشی فوائد میں تبدیل ہو رہا ہے اور اہم معاشی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

    ان بے شمار کامیابیوں کے ذریعے پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو صرف بحرانوں کا سامنا نہیں کرتا بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے، الحمدللہ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد