Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یو اے ای سواٹ چیلنج ، پاکستان اور چین کی برتری نمایاں، بھارت کی کارکردگی بے نقاب

    یو اے ای سواٹ چیلنج ، پاکستان اور چین کی برتری نمایاں، بھارت کی کارکردگی بے نقاب

    یو اے ای سواٹ چیلنج ، پاکستان اور چین کی برتری نمایاں، بھارت کی کارکردگی بے نقاب ہو گئی

    یو اے ای سواٹ چیلنج 2026 سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ جدید دور کی جنگ صرف نعروں اور سیاسی دعوؤں سے نہیں جیتی جاتی،میڈیارپورٹس کے مطابق یو اے ای سواٹ چیلنج 2026 میں بھارت کو بیک وقت دو مقابلوں میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا،ایونٹ میں بھارت کو پاکستانی نیشنل سیکیورٹی یونٹ اور پھر چین کی خواتین ٹیم نے مات دی ،سندھ پولیس کے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ نے یرغمالیوں کے بچاؤ ایونٹ میں بھارتی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو ہرایا،دوسری طرف ایونٹ میں چینی خواتین ٹیم نے رفتار، کوآرڈینیشن اور فائرنگ کی درستگی میں بھارتی ٹیم کو کئی گنا پیچھے چھوڑ دیا، دبئی پولیس کے زیر اہتمام ہونے والے اس عالمی مقابلے میں دنیا کے 52 ممالک کی 118 ایلیٹ سواٹ ٹیموں نے شرکت کی،

    دفاعی ماہرین کے مطابق ؛جدید جنگ میں تربیت، ٹیم ورک اور فیصلہ سازی میں نااہلی نے مودی کی جنگی تیاریوں کے کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کر دیا ہے ،بھارتی ٹیم میں کوآرڈینیشن کی کمزوری اور فائرنگ میں سست روی نے ظاہر کیا کہ بھارتی فورسز نمائشی طاقت کے خول میں قید ہیں، حقیقی میدان میں کامیابی محض سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ عملی پیشہ ورانہ صلاحیت طے کرتی ہے،پاکستان اور چین کی برتری منظم تربیت، مسلسل مشق اور حقیقی منظرناموں کی عکاس ہے

  • سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ منظور

    سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ منظور

    اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے دیا گیا استعفیٰ بالآخر منظور کر لیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے سردار اختر مینگل کا استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے، جس کے بعد این اے 256 خضدار کی نشست خالی قرار دے دی گئی ہے۔سردار اختر مینگل این اے 256 خضدار سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے،سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024ء کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ تاہم ان کا استعفیٰ تقریباً 17 ماہ تک زیر التوا رہا اور اب اسے باقاعدہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔

    استعفے کی منظوری کے بعد متعلقہ حلقے میں ضمنی انتخاب کے انعقاد کا عمل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

  • افغانستان، لڑکوں کے لباس میں کیفے پر کام کرنے والی کمسن بچی گرفتار

    افغانستان، لڑکوں کے لباس میں کیفے پر کام کرنے والی کمسن بچی گرفتار

    افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان حکام نے ایک کمسن بچی کو گرفتار کر لیا جو گزشتہ تین برس سے لڑکوں کے لباس میں “نور احمد” کے نام سے کام کر رہی تھی۔

    بچی کی اصل شناخت نوریہ کے نام سے ہوئی ہے، جو لشکرگاہ شہر کے ایک کیفے شاپ میں ملازمت کرتی رہی۔مقامی ذرائع کے مطابق نوریہ تقریباً تین سال سے مردانہ لباس پہن کر روزگار کما رہی تھی اور ماہانہ دس ہزار افغانی کے عوض کیفے میں کام کرتی تھی۔ حکام کو اس کی اصل شناخت کا علم ہونے کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم گرفتاری کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے علاقے میں ہمدردی اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

    نوریہ نے گرفتاری کے بعد بتایا کہ وہ یہ سب کچھ سخت مجبوری کے تحت کر رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا،
    “میں یہ سب سخت مجبوری میں کر رہی ہوں۔ مجبوری کی وجہ سے میں نے مردانہ لباس پہنا۔ میں اپنی بہنوں کی کفالت کرتی ہوں، گھر کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اگر حالات خراب نہ ہوتے تو میں ایسا کیوں کرتی؟”جب اس سے اس کے والد کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور گھر میں کوئی دوسرا کفیل موجود نہیں۔ ذرائع کے مطابق نوریہ کے خاندان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اس نے لڑکوں کا بھیس بدل کر ملازمت اختیار کی تاکہ گھر کا خرچ چلا سکے۔

    یاد رہے کہ افغانستان میں موجودہ حالات کے باعث خواتین اور بچیوں کے لیے تعلیم اور ملازمت کے مواقع انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ متعدد علاقوں میں خواتین کے اکیلے کام کرنے یا بعض شعبوں میں ملازمت پر پابندیاں عائد ہیں، جس کے نتیجے میں کئی خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ افغانستان میں خواتین اور بچیوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت اور بے روزگاری نے کمسن بچیوں کو بھی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔

  • سپریم کورٹ کی ہدایات پر صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ سے 1 ارب کی عمارت واگزار

    سپریم کورٹ کی ہدایات پر صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ سے 1 ارب کی عمارت واگزار

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ نے اسلام آباد کے آرام باغ میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ملکیت 1 ارب روپے مالیت کی عمارت صارم برنی ویلفئیر ٹرسٹ سے واپس حاصل کر لی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ای ٹی پی بی کے زیر انتظام مذکورہ عمارت کافی عرصے سے ٹرسٹ کے غیر قانونی تسلط میں تھی، جس کا استعمال مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا تھا۔عمارت میں صارم برنی کی طرف سے کم عمر بچوں کی مبینہ اسمگلنگ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث وہ اس وقت جیل میں موجود ہیں،عمارت کو قبضے میں لینے کے بعد سیل کر دیا گیا اور بعد ازاں متروکہ وقف املاک بورڈ کے سپرد کر دیا گیا،حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد عمارت کا قانونی اور شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا، جبکہ غیر قانونی قبضے پر مزید سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

  • بھارتی اقلیتوں پرانتہا پسندہندووں کے  مظالم ،عالمی امریکی ادارہ بھی بول اٹھا

    بھارتی اقلیتوں پرانتہا پسندہندووں کے مظالم ،عالمی امریکی ادارہ بھی بول اٹھا

    بھارتی اقلیتوں پرانتہا پسندہندووں کے وحشیانہ مظالم پرمذہبی آزادی کا عالمی امریکی ادارہ بھی بول اٹھا

    آرایس ایس کے ہندوتوا نظریہ پرقائم مودی حکومت میں اقلیتوں پر وحشیانہ مظالم کی تمام حدیں پارکر لی گئیں،بی جے پی کی انتہا پسند حکومت اپنا اقتدار قائم رکھنے کیلئے ہندوتوا کو ایک سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کرنے پر کاربندہے،بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اورمسیحیوں کے ہجوم پر تشدد اورعبادت گاہوں پرحملے معمول بن چکے،امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مطابق؛موجودہ سال کی ابتداء سے ہی بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا،خصوصاً جب اوڑیسہ میں پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا یاگیا،مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات پراقلیتوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا جاتا ہے اور سفاک حملے کیے جاتے ہیں، اترپردیش میں گھر کے اندرعبادت کرنے والے12مسلمانوں کوحراست میں لیا جانا بھی اس کی بدترین مثال ہے ،

    بین الاقوامی ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی نفرت پر مبنی پالیسیوں نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے،آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت موجودہ بھارتی حکومت اقلیتوں کو قومی اور سماجی دھارے سے الگ کرنے کی منظم کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے

  • پاک افغان سرحد کی بندش،پاکستانی موقف کی عالمی تائید

    پاک افغان سرحد کی بندش،پاکستانی موقف کی عالمی تائید

    افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی اورنااہلی نےافغانستان کوشدیدداخلی اورخارجی بحران میں دھکیل دیا

    عالمی جریدہ نےپاکستان کےافغان سرحدی بندش کےفیصلےکوسیکیورٹی کےنقطہ نظرسے بہترین حکمت عملی اورجائزاقدام قراردے دیا ،عالمی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان کیلئےافغانستان کیساتھ سرحدی انتظام محض کسٹمزیاتجارت کامعاملہ نہیں بلکہ بقاوسلامتی کا مسئلہ ہے ،افغان سرزمین سےپاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہواجس میں سکیورٹی اہلکاراورعام شہری شہیدہوئے ،پاکستان کی جانب سےافغان سرحدی راستوں کا بندکرنا اپنےشہریوں کےتحفظ کیلئے ایک بہترین فیصلہ ہے ،پاکستان کاموقف ہےکہ کابل کیساتھ تعلقات معمول پرلانےمیں رکاوٹ صرف دہشتگردی ہے

    عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کو یہ واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشتگرد عناصر کو پناہ دیتے رہیں گے یا خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر امن اور ترقی کے مشترکہ سفر کا حصہ بنیں گے،افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی اور دہشتگردی کی سرگرمیوں نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران اور تاجکستان کی سلامتی اور استحکام کو بھی شدید متاثر کیا ہے

  • اے این ایف کی گوادر میں بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کیخلاف کارروائی

    اے این ایف کی گوادر میں بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کیخلاف کارروائی

    اینٹی نارکوٹکس فورس کی گوادر میں بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کیخلاف ایک اور بڑی کارروائی سامنے آئی ہے

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 1.2ٹن منشیات برآمد کرلی،2اسمگلرز بھی گرفتار کر لئے، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں برآمد شدہ1.2ٹن چرس کی عالمی منڈی میں مالیت 66.15 ملین امریکی ڈالر ہے ، اینٹی نارکوٹکس فورس بدنام زمانہ اسمگلرکی زیر سرپرستی اسمگلنگ منشیات نیٹ ورک کی نگرانی کر رہی تھی ، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں اے این ایف نے پنجگور اورتربت قومی شاہراہ پر ٹرک کو روک کر خفیہ خانوں سے منشیات برآمد کی گئی ، تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ برآمد شدہ منشیات افغانستان سے اسمگل کی گئی تھی ،بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کا نیٹ ورک پنجگور سے تربت کے راستے گوادر اور پسنی تک منشیات منتقل کرنے میں ملوث ہے ،یہ گروہ گوادر سے ماہی گیر کشتیوں کے ذریعے خلیجی ممالک، یمن اور تنزانیہ منشیات اسمگل کرتا تھا ، گرفتار ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر کے گروہ کے سرغنہ اور دیگر ارکان کی گرفتاری کیلئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ، اینٹی نارکوٹکس فورس ملک سے منشیات کی لعنت کے مکمل خاتمہ کیلئے پرعزم ہے

  • پاک بھارت جنگ میں 10 طیارے گرائے جا چکے تھے،ٹرمپ

    پاک بھارت جنگ میں 10 طیارے گرائے جا چکے تھے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس جنگ میں 10 طیارے گرائے گئے۔

    امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکا سےمعاہدہ کرنا چاہتا ہے، ایران معاہدہ نہیں کرے گا تو بے وقوف ہوگا،پاک بھارت جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں 10 طیارے گرائے جا چکے تھے،پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی ایٹمی جنگ بن سکتی تھی، دونوں ممالک ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن ٹیرف سے جنگ روکی گئی، میری رائے میں وہ واقعی شدید لڑائی لڑ رہےتھے،

  • پی آئی اے کی طبی سہولیات،اسٹیٹ لائف سے معاہدہ، پالپا کا عدالت جانے کا اعلان

    پی آئی اے کی طبی سہولیات،اسٹیٹ لائف سے معاہدہ، پالپا کا عدالت جانے کا اعلان

    اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے پائلٹس کی نمائندہ تنظیم پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے جاری طبی سہولیات کے معاملات اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (PIAHCL) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پالپا کے جنرل سیکریٹری کیپٹن (ر) عارف مجید کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 9 فروری 2026 کو چیف ہیومن ریسورس آفیسر کی طرف سے جاری کیے گئے سرکلر نمبر 03/2026 کے بعد پائلٹس میں شدید تشویش اور ذہنی دباؤ پایا جا رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس سرکلر کے اثرات پائلٹ برادری کے لیے نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں، جس کے باعث قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پالپا 13 فروری 2026 کو متعلقہ عدالت میں مقدمہ دائر کرے گی تاکہ اراکین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ وہ اپنے ممبران کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کے حصول کے لیے تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب پی آئی اے کے اندرونی حلقوں میں یہ تاثر بھی گردش کر رہا ہے کہ مجوزہ انتظامی تبدیلیوں اور ہولڈنگ کمپنی کے قیام کے پس منظر میں اہم کاروباری گروپ سرگرم ہے، اور بعض غیر مقبول فیصلے موجودہ انتظامیہ سے کروائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ اقدامات مستقبل کی تنظیم نو اور ممکنہ نجکاری کے عمل کا حصہ ہیں۔

    تاہم پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال قومی ایئرلائن کے مستقبل، ملازمین کے حقوق اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عارف حبیب کنسورشیم تمام غیر مقبول اور سخت فیصلے موجودہ پی آئی اے انتظامیہ سے کروانا چاہتا ہے، اور موجودہ انتظامیہ اپنی ملازمتوں کے تحفظ کی امید میں یہ اقدامات کر رہی ہے۔جب یہ تمام متنازع اور سخت اقدامات مکمل ہو جائیں گے تو عارف حبیب کنسورشیم موجودہ پی آئی اے انتظامیہ کو ایک طرف کر کے خود مرکزی حیثیت اختیار کر لے گا، گویا جشن اور دھوم دھام سے اقتدار سنبھالے گا۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔ ہولڈکو کے قیام کے خلاف پالپا کا مقدمہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے 1857 کے بعد بہادر شاہ ظفر کے خاندان کا ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرنا۔

  • اڈانی ہتک عزت کیس میں صحافی روی نائرکوایک سال کی قید

    اڈانی ہتک عزت کیس میں صحافی روی نائرکوایک سال کی قید

    گاندھی نگر کے علاقے مانسا کی مجسٹریٹ عدالت نے فوجداری ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں صحافی روی نائر کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

    یہ مقدمہ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (اے ای ایل) کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جو اڈانی گروپ کی فلیگ شپ کمپنی ہے۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ روی نائر نے ٹوئٹر (ایکس) پر متعدد ٹوئٹس شائع کیں اور پھیلائیں جن میں جھوٹے اور ہتک آمیز بیانات شامل تھے، جن کا مقصد اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے عدالت کو بتایا کہ متنازع ٹوئٹس نہ تو منصفانہ تبصرے کے زمرے میں آتی ہیں اور نہ ہی انہیں جائز تنقید قرار دیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ٹوئٹس عوام اور سرمایہ کاروں کی نظر میں کمپنی کی ساکھ اور اعتماد کو مجروح کرنے کے لیے دانستہ طور پر کی گئیں۔

    مکمل عدالتی کارروائی اور ٹرائل کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ اپنا مؤقف ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ عدالت نے روی نائر کو فوجداری ہتکِ عزت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنائی اور ساتھ ہی جرمانہ بھی عائد کر دیا۔