Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے  وہ لیڈر ہے، جنیداکبر

    پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، جنیداکبر

    تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نےکہا ہے کہ ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں، جو وہ کہیں گے فائنل ہوگا۔

    اڈیالہ جیل روڈ پر میڈیا سےگفتگو میں رہنما پی ٹی آئی جنید اکبر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میرا گھر ہے، ناراضی، جھگڑے اور شکوے یہ سب چلتا رہےگا، میں نے جمعرات اور جمعہ کو شکوہ کیا کہ بات کرنی ہے، میں نےکہا مطمئن نہیں ہوں تقریروں میں وجوہات نہیں بتائی جاتیں، محمود خان اچکزئی پر تحفظات نہیں، ان پر تحفظات رکھنے والا میں کون ہوتا ہوں، محمود خان اچکزئی کو ابھی ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگےگا، ہماری پارٹی کا اپنا کلچر ہے، ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کے بعد ہرکوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں، جو وہ کہیں گے فائنل ہو گا، جب ہر بندے کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اختلاف ہوتا ہے، دوسری پارٹیوں میں آمریت ہے وہاں اختلاف کم ہوتا ہے، وہاں سب کو پتہ ہوتا ہے مریم نواز نے وزیر اعلیٰ اور شہباز شریف نے وزیر اعظم بننا ہے، مریم نواز کا بیٹا کل آئےگا تو وزیراعلی بنےگا۔

    جنید اکبر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینا محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ بدترین سیاسی انتقام اور فسطائیت ہے۔ ان کی صحت اور زندگی کے ساتھ جان بوجھ کر کھیلا جا رہا ہے۔ اس مجرمانہ فعل کا اب کوئی بھی عذر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فوری طور پر ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی دی جائے،

    اس سے پہلے جنید اکبر نے اپنی آڈیو ٹیپ سامنے آنے پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہيں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا ، برداشت ختم ہوگئی ہے ، چیف وہپ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا کہ روزانہ کون بولے گا ،
    ہماری شرافت کو غلط سمجھ رہے ہو ،کسی میں ہمت نہیں کہ پوچھے محسن نقوی ایوان میں کیوں نہیں آیا؟.میں آج سے پارلیمانی کمیٹی اور آپ کا حصہ نہیں ہوں اسپیکر سے کہوں گا مجھے آزاد پوزیشن دیں،میری اپنی پارٹی کے لوگ بولنے نہیں دیتے,

  • پاک فضائیہ کی جانب  سے  فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد

    پاک فضائیہ کی جانب سے فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد

    پاک فضائیہ کی جانب سے ساؤتھ زون میں فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سدرن ائیرکمانڈ کے دائرہ اختیار میں فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا مشق میں پاک فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کو منظم انداز میں بروئےکار لایاگیا اور جنگی تیاریوں کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، مشق کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیت بڑھانا ہے، مشق کے حربی مرحلے میں فرسٹ شوٹ، فرسٹ کل صلاحیت رکھنے والے لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا گيا۔طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی وی آر رینج ائیر ٹو ائیر میزائلوں سے لیس تھے، طیارے توسیع شدہ رینج کے ائیرٹوگراؤنڈ اسٹینڈ آف ہتھیاروں اور انتہائی درست نشانہ سازی کی صلاحیتوں سے لیس تھے۔ کارروائیوں کو ائیر ٹو ائیر ریفیولرز اور ائیر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹمز جیسے فورس ملٹی پلائرز کی معاونت حاصل رہی، ان سسٹمز کے ذریعے دشمن کے مراکز کو نہایت درستی اور مؤثر انداز میں نشانہ بنانے کی مشق کی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان آپریشنز سے جنگی حالات میں پاک فضائیہ کی تیز رفتار آپریشنز کی صلاحیت کی توثیق ہوئی، مشق نے پاک فضائیہ کومتحدکمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت جدید فضائی جنگی تصورات کی توثیق کا موقع فراہم کیا، مشق گولڈن ایگل کی کامیاب تکمیل پاک فضائیہ کی ہمہ وقت جنگی تیاری برقرار رکھنے کا واضح ثبوت ہے۔

  • پشاورکور ہیڈکواٹر میں اجلاس، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق

    پشاورکور ہیڈکواٹر میں اجلاس، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق

    کورہیڈ کوارٹر پشاور میں آج امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کورکمانڈر پشاور نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق کیا،ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگراسٹیک ہولڈرز کےساتھ ملاقات خوشگوار رہی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ سمیت 3 گھنٹے تک کور ہیڈ کوارٹرمیں رہے وزیر اعلیٰ اور کابینہ ارکان نے لنچ بھی کور ہیڈ کوارٹر میں کیا، لنچ کے دوران وزیر اعلیٰ اور محسن نقوی نے قریب بیٹھ کر گفتگو کی، وزیر اعلیٰ نے محسن نقوی سمیت دیگرشرکا سے مصافحہ بھی کیا۔

    امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب نے مل بیٹھ کر امن وامان کی صورتحال پرمتفقہ طورپر بات چیت کی، اجلاس اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا فالو اپ تھا۔اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو بطور ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ماڈل کو خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور کے پی کے درمیان دہشت گردی پر مکمل ہم آہنگی یقینی بنائی جائے گی جبکہ غیرقانونی سم کارڈز، دھماکا خیزمواد اور بھتا خوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔رواں سال پشاور میں پی ایس ایل کے میچز بھی کرائے جائیں گے۔ وزير اعلیٰ نے اجلاس میں کہا کہ صوبے اوراس کےعوام کے مفاد کی خاطر کام کروں گا، ذاتی مفاد اور سیاست کیلئے کسی کےسامنےدست سوال نہیں کروں گا۔

  • شراب کی خریدوفروخت پر پابندی کی قرارداد سندھ اسمبلی سے مسترد

    شراب کی خریدوفروخت پر پابندی کی قرارداد سندھ اسمبلی سے مسترد

    سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کردیا۔شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی حکومت نے مخالفت کی۔

    ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار نے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کےتمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ وزیر قانون و داخلہ سندھ ضیا لنجار نے قرارداد کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائے گا، آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں جس کے بعد ایوان نے قرارداد مسترد کردی۔

    ایوان نے ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین خان کی بھی 2 قراردادیں مسترد کردیں، ایک قرارداد جنسی زیادتی اور بچوں کی ہراسانی کو روکنے کے لیے لائیف بیسڈ اسکل لرننگ سے متعلق جبکہ دوسری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی کو دیکھنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق تھی۔

  • بیگناہوں کا خون بہانے والے اسلام، انسانیت اور پاکستان کے دشمن ہیں،قدرت اللہ

    بیگناہوں کا خون بہانے والے اسلام، انسانیت اور پاکستان کے دشمن ہیں،قدرت اللہ

    قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن کے صدر قدرت اللہ، چیئرمین سید احسن محمود شاہ اور سرپرستِ اعلیٰ حفیظ البرکات شاہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بیگناہوں کا خون بہانے والے اسلام، انسانیت اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ایسے عناصر کا کسی دین، مسلک یا نظریے سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآنِ کریم ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے، دہشت گردی اور قتل و غارت اسلامی تعلیمات کی صریح توہین ہے۔ مساجد، مدارس اور امام بارگاہیں امن، عبادت اور اخوت کا مرکز ہوتی ہیں، ان مقدس مقامات کو نشانہ بنانا صرف عبادت گزاروں پر ہی حملہ نہیں بلکہ ملک کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد پر براہِ راست حملہ ہے۔ پاکستانی عوام کامطالبہ ہے کہ ملک بھر کی تمام مساجد، مدارس، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی و عوامی مقامات پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات فوری طور پر یقینی بنائے جائیں اور غفلت یا لاپرواہی برداشت نہ کی جائے۔

    قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں، سہولت کاروں اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور امن دشمن نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

    قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ملک و قوم کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہادر سپاہی ہمارے حقیقی محسن، قومی وقار کی علامت اور دشمن کے سامنے آہنی دیوار ہیں۔ ان کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ان حالات میں جبکہ دشمن ہم پر دہشت گردی کی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے قوم سے ہماری اپیل ہے کہ وہ مسلکی، لسانی اور علاقائی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد، صبر اور شعور کا مظاہرہ کرے، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ پاکستان ایک پُرامن اسلامی ریاست ہے اور ان شاء اللہ دہشت گردی، نفرت اور خونریزی کو ہر صورت شکست دی جائے گی۔

  • سینیٹ  قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    سینیٹ قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم امور کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محمد فیصل واوڈا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں میری ٹائم شعبے سے متعلق اہم آپریشنل، انفراسٹرکچر اور گورننس کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بندرگاہوں کی کارکردگی، ڈریجنگ آپریشنز، زمین کے انتظام اور برآمدات میں سہولت کاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام زیر التواء زمین الاٹمنٹس کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور غیرقانونی الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں۔

    اجلاس میں سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر ندیم احمد بھٹو اور سینیٹر روبینہ قائم خانی سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر سید مسرور احسن نے بھی ایجنڈا آئٹم کے محرک کے طور پر اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی نے ناجائز قبضہ شدہ زمین خالی کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT) پر 239 کنٹینرز تاخیر کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجوہات کسٹمز میں تاخیر اور بین الاقوامی کمپنیوں کی شمولیت ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ کنٹینر کلیئرنس سے منسلک سالانہ تقریباً 40 ملین امریکی ڈالر کی بدعنوانی ہوتی ہے، جہاں مبینہ طور پر فی کنٹینر تقریباً ایک لاکھ بارہ ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے KICT کو ہدایت کی کہ تمام بیک لاگ فوری طور پر کلیئر کیا جائے اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے فشریز ہاربر اتھارٹی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شفافیت کا فقدان ہے اور کورنگی فشریز میں زمین کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فشریز اتھارٹی کے بعض اہلکار غیرحاضری کے باوجود اپنی تنخواہیں سینئر افسران کے ساتھ غیرقانونی طور پر شیئر کرتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ متعدد بورڈز خودمختار ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سینیٹر واوڈا نے غیر مؤثر بورڈ ممبران کی تنظیمِ نو یا ان کے خاتمے پر زور دیا۔کمیٹی نے فشریز سمیت مختلف علاقوں میں زمین کے مجموعی ریکارڈ سے متعلق ڈیٹا مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    وفاقی وزیر برائے میری ٹائم امور محمد جنید انور نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ وزارت مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نظامی مسائل کو ایک ساتھ حل کرنا ممکن نہیں، اسی لیے وزارت مرحلہ وار حکمتِ عملی اپنا رہی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کمیٹی کی مکمل حمایت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت اس وقت درست راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں نیشنل ڈریجنگ کمپنی قائم کی ہے جو کم لاگت اور برآمدکنندگان کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوگی۔

    چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) نے آگاہ کیا کہ KPT نے حالیہ عرصے میں دوسری بلند ترین کارگو ہینڈلنگ کی ہے۔ KPT میں کنٹینر ہینڈلنگ میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال کے دوران مجموعی طور پر سب سے زیادہ کارگو ہینڈلنگ بھی حاصل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بندرگاہ کے ڈرافٹ کی گہرائی بڑھانے پر کام جاری ہے تاکہ 100,000 ٹن تک کے بحری جہازوں کو سنبھالا جا سکے۔ اس کے علاوہ KPT دنیا کی سب سے بڑی بلک ایکسپورٹ سہولت بھی ترقی دے رہا ہے جس کی اسٹوریج گنجائش 80 لاکھ ٹن ہوگی، جبکہ کلنکر کی برآمدات موجودہ 45 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 85 لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دنیا بھر میں فعال تقریباً 400 بندرگاہوں میں سے KPT اس وقت 90ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بندرگاہ پر ڈریجنگ کی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

    سینیٹر روبینہ قائم خانی نے نشاندہی کی کہ کنٹینر کلیئرنس میں اب بھی ڈویل ٹائم کے مسائل درپیش ہیں۔ وزیر نے جواب میں بتایا کہ ڈویل ٹائم کے مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور اس میں نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔سینیٹر ندیم بھٹو نے نیشنل ڈریجنگ کمپنی کے کردار پر سوال اٹھایا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ AD پورٹ کمپنی کو 60 ملین امریکی ڈالر مالیت کا کام دیا گیا ہے جبکہ باقی کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو سونپا گیا ہے۔ آئندہ تمام ڈریجنگ کا کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو دیا جائے گا۔

    وزیر نے مزید بتایا کہ بندرگاہی آپریشنز میں سہولت کے لیے لیاری پر علیحدہ سڑک پر کام جاری ہے، جبکہ ملیر ایکسپریس وے بھی زیر تعمیر ہے جس کی تکمیل وسط 2026 تک متوقع ہے۔ یہ سڑکیں 24 گھنٹے کنٹینر ٹرانسپورٹیشن میں معاون ثابت ہوں گی۔ چیئرمین KPT نے بتایا کہ جولائی 2026 تک برآمدات کے لیے چار فریٹ ٹرینیں آپریشنل ہوں گی، جبکہ KPT سے ML-1 کنیکٹیوٹی تیز اور مؤثر کنٹینر نقل و حمل میں مدد دے گی۔
    وزیر نے کہا کہ وزارت زمین کی واپسی، ناجائز قبضوں کے خاتمے اور پراپرٹی ڈیلرز کی مداخلت ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کمیٹی چیئرمین کا تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزارت زمین سے متعلق قانونی مقدمات نمٹانے اور ماضی میں لینڈ گریبنگ میں سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    اجلاس کے دوران سینیٹر شہادت اعوان کے سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں 42 جائیدادیں الاٹ کی گئی ہیں۔ سینیٹر اعوان نے نشاندہی کی کہ کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی نے اپنا ماسٹر پلان، زمین الاٹمنٹ پالیسی اور قواعد و ضوابط تاحال اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیے۔ اتھارٹی نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ مطلوبہ معلومات جلد از جلد کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔

  • کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپاکستان اور کویت کے سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل لائسنس کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے لائسنس کے اجراء پر رقمی بورڈ کے چیئرمین اور متعلقہ حکام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ رقمی بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کے لئے لائسنس کا اجراء پاکستان-کویت تعلقات کے لئے بہت اہم ہے، اس سے پاکستان میں بینکاری کے شعبے کو فروغ ملے گا،سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے،اقتصادی شراکت داری کے لئے کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    سی ای او رقمی اسلامک بینک عمیر اعجاز نے کہا کہ شرعی اصولوں کے مطابق بینکاری کا فروغ رقمی بینک کا عزم ہے،رقمی ڈیجیٹل بینکنگ پاکستان میں کیش لیس معیشت کی طرف اہم پیشرفت ہے، رقمی بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس ملنا اہم سنگ میل ہے، تمام شعبہ زندگی کی مالیاتی نظام میں شمولیت کے لئے پرعزم ہیں،تمام شعبہ زندگی کی ترقی کے لئے مواقع کی فراہمی ترجیح ہو گی۔

    چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری نے کہا کہ رقمی ڈیجیٹل بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس کا اجراء تاریخی لمحہ ہے،یہ اقدام پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی تعلقات کا بھی عکاس ہے، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو معاشی ترقی کے لئے بروئے کار لانا ہے،پاکستان سرمایہ کاری کے لئے بہت اہم ملک ہے، رقمی بینک کا آغاز پاکستان کے شاندار معاشی مستقبل پر اعتماد کا مظہر ہے۔تقریب میں وزیراعظم نے چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری کو رقمی اسلامک بینک کے لئے ڈیجیٹل لائسنس دیا۔

  • نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کو مسترد کرتے ہیں،حکومت فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کو مسترد کرتے ہیں،حکومت فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی توانائی کے حوالہ سے کوئی مستقل پالیسی نہیں ، آئے روز نئے فیصلے کر کے قوم کو پریشان کرنا اور غریبوں کو دیا گیا ریلیف واپس لینا حکمرانوں کا وطیرہ بن چکا ہے،سولر صارفین سے بجلی سستے داموں خرید کر پھر مہنگی بیچنا حکومت کا عوام دشمن، ظالمانہ فیصلہ ہے، اسےمسترد کرتے ہیں

    ان خیالات کا اظہار انہوں‌نے نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز پر ردعمل دیتے ہوئے کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ حکمران خود عیاشیاں کرنے حکومت میں آئے، غریب عوام کی کسی کو کوئی فکر نہیں،سولر سے متعلق نیا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حکومت عام شہری کو ریلیف نہیں دینا چاہتی،بھاری بھر بجلی کےبلوں نے عوام کی کمر توڑ دی تھی،جس کے بعد عوام مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور حکومتی نااہلی سے تنگ آکر سولر کی طرف گئی،اب سولر کا نیا ریگولیشن عوام کے حق پر کھلا ڈاکہ ہے،مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے میدان میں ہو گی، ہم حکومت کے غلط فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام دشمن فیصلہ فوراً واپس لیا جائے، بجلی مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے غریب شہریوں کو ریلیف دیا جائے.

  • کراچی  ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات،سحر کامران قومی اسمبلی میں پھٹ پڑیں

    کراچی ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات،سحر کامران قومی اسمبلی میں پھٹ پڑیں

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران سمیت دیگر ارکان نے کراچی جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات اور بدانتظامی پر شدید احتجاج کیاہے

    پیپلز پارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا تھا کہ کراچی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت لوگوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، طویل اور لمبی قطاریں لوگوں کے وقت کے ضیاع اور مشکلات کی وجہ بن رہی ہیں، ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے کہا کہ کراچی ایئر پورٹ خستہ حالی کا شکار ہو رہا ہے، امیگریشن سسٹم کو اپ گریڈ کیا جانا چاہیے، ایئر پورٹ پر عوام ذلیل ہو رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے اجلاس میں کہا کہ کراچی ایئر پورٹ پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور امیگریشن کلیئرنس اور آمد کے عمل کے دوران مسائل آ رہے ہیں،انہوں نے سول ایوی ایشن کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے جناح ایئر پورٹ کے نظام کو درست کرنے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا،اختیار بیگ نے کہا کہ ایئر پورٹ پر دستاویزات رکھنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    ن لیگی رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کراچی ایئر پورٹ معیشت کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور ارکان کی تجاویز کو ایڈریس کیا جائے گا، ایئر پورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کی ضرورت ہے، اسلام آباد ایئر پورٹ سے متعلق فیصلہ کیا جا رہا ہے، کل متعلقہ وفاقی وزیر اس مسئلے پر جواب دیں گے

  • ٹک ٹاکر علینہ عامر کی مبینہ لیک ویڈیوپراہم پیشرفت

    ٹک ٹاکر علینہ عامر کی مبینہ لیک ویڈیوپراہم پیشرفت

    پاکستانی معروف ٹک ٹاکر علینہ عامر کی مبینہ لیک ویڈیو کے معاملے میں پیش رفت سامنے آئی ہے

    فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹک ٹاکر علینہ عامر نے کہا ہے کہ ویڈیو لیک کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا،انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ الحمدللّٰہ! ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اس معاملے میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں بخشا جائے گا،میں نے یہ اقدام صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اس مقصد کے تحت اٹھایا ہے کہ آئندہ کوئی اور لڑکی اس طرح کے استحصال کا شکار نہ ہو،میری فیک ویڈیو بنانے والوں اور اسے شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، میں اس کیس کو انصاف کی فراہمی کے لیے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہوں۔

    علینہ عامر نے بروقت کارروائی اور ایف آئی آر کے اندراج پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، حنا بٹ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ اس کیس میں ملوث تمام ذمے داران کو گرفتار کر کے سزا دی جانی چاہیے تاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خلاف ایک واضح اور مضبوط مثال قائم کی جا سکے۔