Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سینیٹ پینل کا پی آئی اے کیبن کریو واقعے کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم

    سینیٹ پینل کا پی آئی اے کیبن کریو واقعے کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا اجلاس منگل کے روز سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعدد استحقاقی تحریکوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا، جبکہ خاص طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے کیبن کریو سے متعلق مبینہ بدسلوکی کو زیر غور لایا گیا۔

    اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، سینیٹر عطا الرحمٰن ،سینیٹر جان محمد اور سینیٹر دوست علی جیسر نے شرکت کی۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کے کیبن کریو کے رویے کی تحقیقات وزارت دفاع کے ذریعے کسی تیسرے فریق سے کروائے۔ یہ ہدایت سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل کی جانب سے 12 فروری 2026 کو پیش کی گئی تحریکِ استحقاق کی بنیاد پر دی گئی، جس میں 7 فروری کو کوئٹہ سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز PK-326 میں کیبن کریو کی رکن مس صائمہ رانا کی مبینہ بدسلوکی کو رپورٹ کیا گیا تھا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 17 فروری 2026 کو جاری کی گئی سفارشات میں کیبن کریو کی رکن اور متعلقہ پائلٹ دونوں کو گراؤنڈ کرنے کا کہا گیا تھا، تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پی آئی اے نے ان ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا۔ سینیٹر مندوخیل نے اس عدم تعمیل مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واضح ہدایات کے باوجود عملے کو ڈیوٹی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے غیر جانبدار دو فریقی انکوائری کے بجائے صرف اپنی ادارہ جاتی تحقیقات پر انحصار کیا اور انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی رکن کو غلطی کی صورت میں معافی مانگنے کے کئی مواقع دیے گئے، مگر عملے اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کی جانب سے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوششوں کے باوجود کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔

    سینیٹر مندوخیل نے کہا کہ انہوں نے سفر کے لیے بھاری کرایہ ادا کیا، مگر انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس بنیاد پر جہاز کا دروازہ بند کیا گیا، مسافروں کو اترنے سے روکا گیا اور اے ایس ایف اہلکاروں کو طلب کیا گیا، جبکہ کوئی جرم یا غیر قانونی عمل سرزد نہیں ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سینیٹر کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام مسافر سے ایسے معاملے میں مزید تشویشناک سلوک ہوسکتا ہے، اور ایسے حالات میں کسی عام شہری کو حراست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔

    سینیٹر بلال نے کیبن کریو کی رکن اور پائلٹ دونوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی، تاہم کمیٹی کی اجتماعی رائے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ وزارت دفاع کے ذریعے تھرڈ پارٹی انکوائری کرائی جائے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک عملہ کے دونوں ارکان کو گراؤنڈ رکھا جائے۔

    سینیٹ کمیٹی نے متعدد استحقاقی معاملات پر غور کیا، جوابدہی کا مطالبہ
    ایک اور معاملے میں سینیٹر عطا الرحمٰن نے سینیٹ سیکریٹریٹ کے سیکیورٹی عملے کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ بارش کے دوران خراب موسم سے بچنے کی کوشش کے دوران انہیں گیٹ نمبر 5 سے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے چیئرمین سینیٹ کی ہدایات کا حوالہ دیا، جبکہ اسی دوران ایک اور سینیٹر کی گاڑی کو بغیر رکاوٹ گزرنے دیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔

    کمیٹی نے چیئرمین وقار مہدی کی جانب سے اٹھائی گئی ایک اور استحقاقی تحریک پر بھی غور کیا، جو کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کے سیکریٹری بیرسٹر نبیل احمد اعوان کے مبینہ رویے سے متعلق تھی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ جواب اور معذرت نامہ جمع کرا دیا گیا ہے۔

    تحریری جواب میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹر وقار مہدی کی کالز اور واٹس ایپ پیغامات کا جواب نہ دینے کی شکایت کو تسلیم کیا۔ جواب میں کہا گیا کہ بیرسٹر نبیل اے اعوان پارلیمنٹیرینز کا انتہائی احترام کرتے ہیں اور سینیٹ کے آئینی مقام کو تسلیم کرتے ہیں۔

    جواب میں اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں کسی قسم کی دانستہ غفلت شامل نہیں تھی۔ بیرسٹر اعوان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوتاہی غیر ارادی تھی اور اس دوران وہ محکمانہ ترقیاتی کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کے اجلاسوں سمیت دیگر اہم سرکاری مصروفیات میں مصروف تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی عرصے کے دوران پہلی بار تقریباً 500 افسران کی ترقی کے کیسز نمٹائے گئے، جس کی وجہ سے وہ معزز سینیٹر سے رابطہ نہیں کرسکے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر اعوان نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ارکان پارلیمنٹ سے بروقت رابطے کو یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دوبارہ معذرت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کمیٹی اس معاملے پر درگزر کرے گی۔

    کمیٹی کا وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ، وزیر مواصلات کی عدم جواب دہی پر تشویش
    ایک علیحدہ معاملے میں، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف بدسلوکی کے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیر کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
    کمیٹی نے اس صورتحال کو افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھا جائے، جس میں واضح کیا جائے کہ ایسے معاملات میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔

    کمیٹی نے اسلام آباد میں واقع مکان نمبر 622 سے متعلق گمشدہ فائل کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ یہ کیس اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ محفوظ کیا جا چکا ہے۔عدالتی کارروائی کے پیش نظر چیئرمین وقار مہدی نے اس معاملے کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے، اور متعلقہ حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ اور رپورٹ بھی فراہم کی جائے۔

  • خطے کی صورتحال،سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے،شرجیل میمن

    خطے کی صورتحال،سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے ہیں۔ صدرِ مملکت کی مشاورت کے بعد غریب کسانوں کے لیے بڑا ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جس کے تحت 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جا رہے ہیں، اور یہ عمل بینظیر ہاری کارڈ کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیزی سے جاری ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اسی طرح موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ بائیک پر 2000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صوبے میں 67 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ٹرانسفر فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ عوامی سہولت کے لیے ایکسائز دفاتر کو ہفتے کے ساتوں دن صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک کھلا رکھا گیا ہے۔سندھ واحد صوبہ ہے جو سرکاری ٹرانسپورٹ ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو بھی سبسڈی فراہم کر رہا ہے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ ایکسائز ایپ کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جہاں پریس کانفرنس کے دوران ہی 1500 رجسٹریشنز ہوئیں، جبکہ ایک ہی دن میں 15,000 سے زائد افراد نے اندراج کروایا، اور ہزاروں شہریوں کو ادائیگیاں بھی موصول ہو چکی ہیں۔مزید برآں، منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں 500 کلو سے زائد آئس (مالیت تقریباً 5 ارب روپے) ضبط کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات جاری ہیں۔یہ تمام اقدامات عوامی ریلیف، سہولت اور ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال سندھ کی جانب واضح پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ

    سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ

    سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ ہوا جہاں بڑے پیمانے پر آگ لگی – آخر ایران چاہتا کیا ہے ؟

    ایران کی جانب سے سعودی عرب پر یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امن مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاکستان امریکہ سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل اور انتہائی سطح کے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے،ایسے ماحول میں سعودی عرب کو نشانہ بنانا امن عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،قابل غور بات یہ ہے کہ نشانہ فوجی نہیں بلکہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس بنایا گیا، جو معاشی انفراسٹرکچر ہے،یہ اقدام نہایت غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے

    سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کچھ عناصر دانستہ طور پر امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ، ایسے اقدامات خود ایران کے مفادات کے بھی خلاف جا سکتے ہیں،بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس نازک مرحلے پر کسی بھی جارحیت سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ جاری سفارتی کوششیں بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں

  • مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے حالات اور خطے پر تباہ کن جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، پاکستان خطے میں امن کیلئے ایک بار پھر فرنٹ فٹ پر نظر آرہا ہے۔

    پاکستان کا اب تک کا کردار کسی شاندار سفارت کاری سے کم نہیں، اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جمی برف پگھلانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، جن کا اعتراف امریکا اور ایران سمیت پوری دنیا نے کیا۔پاکستان اپنی بے مثال کوششوں سے دونوں ممالک کو اسلام آباد اکارڈ تک لے آیا اور امن کیلئے قابل عمل نکات امریکا اور ایران کے سامنے رکھ دیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اکیلا پاکستان یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے؟، چین کی مکمل حمایت، ترکیہ اور مصر کی ہم قدم کوششیں اپنی جگہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کی تالی دونوں ہاتھوں سے بجے گی، پاکستان کی یہ کوششیں تبھی بار آور ثابت ہوں گی جب دو بڑے اسٹیک ہولڈرز امریکا اور ایران اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے۔

    امن کیلئے سب کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا، حملوں کا سلسلہ روکنا ہوگا اور ان قوتوں کے ہاتھ روکنے ہوں گے جو اس جنگ کو طول دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

    آج کا دن اور آنے والی رات بہت اہم مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی کوششیں حساس مرحلے میں داخل ہوگئیں۔امریکا ایران جنگ رکوانے کیلئے ممکنہ اسلام آباد اکارڈ کو حتمی شکل دینے کی تگ و دو جاری ہے، حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بڑا بیان بھی سامنے آگیا، کہتے ہیں پاکستان نیک نیتی اور خیرسگالی کے تحت جدوجہد کررہا ہے، مزید تفصیلات کا انتظار کیا جائے۔

    پاکستان کی جانب سے اسلام آباد اکارڈ کے نام سے دو مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کردیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطہ ہوا، سپہ سالار کی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی۔پلان کے تحت پہلے فوری جنگ بندی اس کے بعد ایک جامع معاہدہ ہوگا، پاکستان مذاکرات میں واحد رابطہ چینل ہے، مفاہمت کی صورت میں پاکستان کے ذریعے ہی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔آبنائے ہرمز کی بحالی کی بھی تجویز، معاہدے میں ایران کی جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا امکان ہے، بدلے میں پابندیاں نرم اور منجمد اثاثے بحال ہوسکتے ہیں۔

  • تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ  ملبے کا ڈھیر

    تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر

    ایرانی دارالحکومت تہران کی فضا میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق تہران میں کم از کم 3 زوردار دھماکے سنے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا،ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے صوبے لورستان میں خرم آباد ایئر پورٹ کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں

    ایران میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں یہودی عبادتگاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملے جاری ہیں، یہودی عبادت گاہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیاء میں یہودیوں کی دوسری بڑی آبادی ایران میں مقیم ہے۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں، کویت میں امریکی ایئربیس پر ڈرون حملہ کیا گیا، امریکی میڈیا کے مطابق حملے میں 15 فوجی زخمی ہوگئے۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ میں زخمی ہونیوالے فوجیوں کی تعداد 373 ہوگئی۔ایران نے اسرائیل کے شہر حیفا میں طیاروں کو ایندھن فراہم کرنیوالی ریفائنری ملیا میٹ کردی۔ سعودی عرب نے 7 بلیسٹک میزائل تباہ کردیے، میزائل کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی۔کویت، یواے ای اور بحرین میں بھی تیل کی تنصیبات پر میزائل برساددیے گئے، کویت میں امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے کیے گئے۔ایران نے قطر کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کے سلسلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی۔

    نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت سلمان صفدر نے 31 مارچ کے عدالتی حکم کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ متفرق درخواست کیا ہے، جس پر عمران خان سے ملاقات کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ وکیل کی ملاقات یقینی بنائیں۔ عدالت نے سلمان صفدر سے ملاقات کا وقت پوچھا تو انہوں نے دوپہر دو بجے کا وقت تجویز کیا، جس پر عدالت نے اگلے روز دو بجے ملاقات کرانے کا حکم جاری کر دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر ہفتے دو دن اپیل مقرر کر کے وکیل کو اپنے مؤکل سے ملاقات کا موقع دیا جا سکتا ہے، تاہم سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے جیل میں ملاقات کے بعد ہی وہ عدالت کی معاونت کریں گے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ خاتون ملزمہ کے حوالے سے سزا معطلی درخواست پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور اگر اپیل پر دلائل شروع ہو جائیں تو سات دن میں فیصلہ بھی ممکن ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کو پیر کے دن کی مصروفیات کا پیشگی علم نہیں ہوتا اور معاملے کو غیر ضروری طور پر اچھالا جانا مناسب نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

  • ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات تیز

    ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات تیز

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سوات اور مردان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے واقعے کی مزید تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق بھی شریک تھے۔

    ذیلی کمیٹی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے انکوائری کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک اس معاملے میں متعلقہ 20 افسران اور اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ چوری ہونے والے کارٹنوں میں سے 1,262 کارٹن کسان ٹوبیکو برانڈ کے ہیں جو پیراماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی کارٹنوں کی ملکیت کا تعین کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ذیلی کمیٹی کے ارکان نے اس معاملے میں ایف بی آر کی سنجیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ واقعے کے وقت تعینات آر ٹی او، چیف کمشنر اور ممبر (ٹوبیکو) کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں۔

    کمیٹی نے لاہور میں تعیناتی کے دوران ممبر (ٹوبیکو) کے خلاف ہونے والی سابقہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ایف بی آر افسران اور اہلکاروں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے۔ مزید برآں متعلقہ افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی بھی سفارش کی گئی۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کے ایک رکن نے تجویز دی کہ تحقیقات میں تمباکو کارٹیل یا کسی ممکنہ گٹھ جوڑ کے امکان کا بھی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ تمباکو کمپنی کی فیکٹری اور قیمتی مشینری پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہے اور برآمد شدہ کارٹن ٹیکس چوری کے مقدمے میں بطور ثبوت رکھے گئے تھے۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو اس پہلو کی بھی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔

    پارلیمانی نگرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتی ہیں جو قومی اہمیت کے معاملات کی باریک بینی سے جانچ یقینی بناتی ہیں۔ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کو حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ موجودہ ذخائر پر زیادہ قیمتوں سے ممکنہ طور پر کس کو فائدہ پہنچا۔ مزید برآں ایف آئی اے ٹیم کو اس مقام کا دورہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی جہاں سے سگریٹ چوری ہوئے۔بریفنگ کے دوران ایف آئی اے نے مبینہ تمباکو کمپنی کی بینک ٹرانزیکشن ہسٹری بھی پیش کی۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر فیکٹری 2024 سے سیل ہے تو 2024–25 کے دوران مالی لین دین کیسے ریکارڈ ہوا۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو ٹرانزیکشن کی تفصیلات دوبارہ تصدیق کرنے کی ہدایت دی۔

    ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے اپنے گوداموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے معیاری طریقہ کار (SOPs) اور حفاظتی پروٹوکول وضع کر کے نافذ کر دیے ہیں۔ تاہم کنوینر نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ سگریٹ چوری کے مقدمے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کی جائیں۔

    اجلاس میں دیگر متعلقہ امور پر بھی غور کیا گیا جن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال، فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد اور بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ شامل ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ان علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ علاقے اسمگلنگ کے مراکز بنتے جا رہے ہیں جس سے قومی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد سے متعلق تفصیلی ڈیٹا پیش کیا جائے، جبکہ ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ بلوچستان میں داخل ہونے والے ایرانی تیل کے حوالے سے متعلقہ معلومات پیٹرولیم ڈویژن سے حاصل کی جائیں۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے  ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر  کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا (Kadir Özkaya ) کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی.

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہائیوں پر محیط پاکستان اور ترکیہ کےبرادرانہ تعلقات تیزی سے ایک جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں. شہریوں کی انصاف تک رسائی کے حصول کیلئے پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں. ترکیہ کی وفد کے حالیہ دورے کے دوران اسی سلسلے میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اس منزل کی طرف پہلا قدم ہے. انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلہ کی وسیع استعداد موجود ہے.

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی ، انسداد دہشتگری ، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں قوانین اور انکے نفاذ کے سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں.ترکیہ آئینی عدالت کے صدر نے پاکستان میں شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا. قادراوزقایا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محبت ہر ترک کی رگوں میں بسی ہے. ترکیہ کی آئینی عدالت 64 سال پرانی ہے اور اپنے اس وسیع تجربے کے تبادلے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہے. ملاقات میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے فاضل جج صاحبان جناب رضوان گیولیچ (Rıdvan Guleç) اور جناب رجائی آق یل (Recai Akyel) کے علاوہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر جناب عرفان نظیر اولو بھی شریک ہوئے. نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی اور بے ہوش ہیں، قم شہر میں ان کا علاج ہورہا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق برطانوی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا۔ دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی اور بے ہوش ہیں، ان کا ایران کے شہر قم میں علاج ہورہا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق امریکا اور اسرائیل کی انٹیلی جینس میمو میں انکشاف ہوا ہے، دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر روزمرہ کے معاملات چلانے کے قابل نہیں۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کے پہلے روز زخمی ہوئے تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پرامریکہ اور اسرائیل کے حملے کی پہلی لہر کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کیسے ہیں، کہاں ہیں؟ ان کی صحت کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی رپورٹس تاحال سامنے آچکی ہیں۔اس دوران،مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغامات سرکاری میڈیا کے ذریعے منظرعام پرآچکے ہیں لیکن وہ خود عوام کے درمیان نہیں آئے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ دشمن ہر روز دھمکیاں اور تباہی کی وارننگز دے رہا ہے مگر قتل اور جرائم ایران کی مسلح افواج کو کمزور نہیں کرسکتے، مسلح افواج دشمن کیخلاف لڑائی جاری رکھیں گی۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیدیا، کہا امریکا اور اسرائیل کو ایران میں مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، دشمن ایران کے شہری مقامات پر حملے کررہا ہے، پل، پاور پلانٹس اور اسکولوں پر حملے انسانیت کیخلاف جرائم ہیں۔

    ایرانی حکومت نےآیت اللہ خامنہ ای کے 40 ویں پر ملک بھر میں تعزیتی تقاریب کا اعلان کر دیا،ایران بھرمیں تعزیتی اجتماعات، قرآن خوانی کا سلسلہ 8 اپریل سےشروع کیاجائےگا، جمعرات کو جمہوری اسلامی اسکوائر سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے مقام تک مارچ ہوگا، ایران میں جمعے کو صبح 10 بجے 40 ویں کی مرکزی تقریب ہوگی۔یاد رہے امریکا نے آیت اللہ خامنہ ای کو 28 فروری کوتہران میں ان کےدفتر میں شہید کیا تھا۔

  • سانحہ گیاری سیکٹر  کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سیاچن کا محاذ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے

    سیاچن کے محاذ پر دشمن کے علاوہ شدید ترین موسم بھی پاک فوج کے آفیسر اور جوانوں کیلئے کڑی آزمائش ہے ،7 اپریل 2012 کو سیاچن کے محاذ پر انتہائی دل سوز حادثہ پیش آیا،اس حادثے میں وطن عزیز کے دفاع پر مامور بڑی تعداد میں پاک فوج کے جوان برفانی تودے کی زد میں آگئے،اس دل سوز سانحہ میں پاکستان آرمی کا بٹالین ہیڈ کوارٹر مکمل طور پر برف میں دب گیا، بٹالین ہیڈ کوارٹر میں موجود 129 فوجی جوانوں نے وطن کی حرمت کی خاطر جام شہادت نوش کیا ،اس حادثے کے اثرات اتنے تلخ تھے کہ غیر ملکی ریسکیو ٹیموں نے بھی اس مشن کو ناممکن قرار دے دیا تھا

    جذبہ حب الوطنی سے سرشار پاک آرمی کی انجینئرز کور نے اس ریسکیو آپریشن کو مکمل کرنے کا بیڑہ اٹھایا ،پاکستان آرمی کے آفیسرز اور جوانوں کی انتھک محنت اور جوانمردی سے یہ مشکل ترین آپریشن پایۂ تکمیل تک پہنچا،سانحہ گیاری کے شہداء کی قربانیوں کی یاد میں سیاچن کے محاذ پر یادگار شہداء بھی تعمیر کی گئی ،آج پوری قوم شہدائے گیاری سیکٹر کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ،شہداء گیاری کی عظیم قربانی پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی