Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پہلی بار خواتین پر مشتمل ہم جنس جوڑے مردوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سن 2005 میں ہم جنس جوڑوں میں مردوں کا تناسب زیادہ تھا، جہاں 54 فیصد جوڑے مردوں پر مشتمل تھے جبکہ خواتین کا حصہ 45 فیصد تھا۔ اس وقت قانونی طور پر ہم جنس شادی صرف ایک ریاست میساچوسٹس میں تسلیم شدہ تھی۔تاہم دو دہائیوں میں صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ 2024 تک خواتین ہم جنس جوڑوں کا تناسب بڑھ کر 53 فیصد ہو گیا جبکہ مرد جوڑوں کا تناسب 46 فیصد رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی میں سن 2015 میں ہم جنس شادی کو ملک بھر میں قانونی حیثیت ملنا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق 2024 تک امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی تعداد تقریباً 1.4 ملین تک پہنچ گئی، جو کہ 2005 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ یہ تعداد ملک کے مجموعی گھرانوں کا تقریباً 1 فیصد بنتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ شرح اب بھی اس مجموعی آبادی سے کم ہے جو خود کو LGBTQ+ شناخت کرتی ہے، جس کا اندازہ تقریباً 9 فیصد لگایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 5 فیصد امریکی خود کو بائی سیکسوئل قرار دیتے ہیں۔

    اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو معاشی عدم مساوات بھی سامنے آیا۔ خواتین ہم جنس جوڑوں کی اوسط سالانہ گھریلو آمدنی تقریباً 108,500 ڈالر رہی، جبکہ مرد جوڑوں کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ یعنی 140,500 ڈالر رہی۔تاہم ملازمت کے حوالے سے دونوں اقسام کے جوڑوں میں تقریباً یکساں شرح دیکھی گئی، جہاں تقریباً 64 فیصد جوڑوں میں دونوں پارٹنرز ملازمت پیشہ تھے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہم جنس جوڑے تعلیمی اعتبار سے اپنے مخالف جنس ہم منصبوں سے آگے ہیں۔ تقریباً 32.5 فیصد ہم جنس غیر شادی شدہ جوڑوں میں دونوں افراد کم از کم بیچلر ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.1 فیصد ہے۔مزید برآں، ہم جنس شادی شدہ جوڑوں میں نسلی تنوع بھی زیادہ پایا گیا، جہاں 31.3 فیصد جوڑے مختلف نسلی پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.5 فیصد ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شادی شدہ ہم جنس جوڑے اوسطاً کم عمر ہیں (49 سال) جبکہ شادی شدہ مخالف جنس جوڑوں کی اوسط عمر 53.2 سال ہے۔ غیر شادی شدہ جوڑوں میں عمر کا فرق تقریباً برابر رہا۔اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، جس سے اس شہر کی بطور LGBTQ+ کمیونٹی کے مرکز کی شہرت مزید مستحکم ہو گئی۔یہ اعداد و شمارامریکن کمیونٹی سروے کے تحت 2005 سے 2024 تک جمع کیے گئے، تاہم 2020 میں کووڈ-19 وبا کے باعث ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحانات نہ صرف سماجی قبولیت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ امریکی معاشرے میں خاندانی ساخت میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

  • کوٹلی ستیاں،نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے بھرپور توجہ حاصل کر لی

    کوٹلی ستیاں،نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے بھرپور توجہ حاصل کر لی

    تحصیل مری کے خوبصورت پہاڑی علاقے کوٹلی ستیاں میں قائم ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (ٹی ڈی سی پی) کے نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے ملکی میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والے مختلف معروف الیکٹرانک میڈیا چینلز کے ٹورازم بیٹ رپورٹرز نے ریزارٹ کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر بیس سے زائد صحافیوں نے ریزارٹ میں موجود جدید سہولیات سے آراستہ گلمپنگ پوڈز اور دلکش ٹری ہاؤسز میں کا دورہ کیا اور قدرتی حسن سے بھرپور ماحول کو خوب سراہا۔ ریزارٹ میں جدید طرز اور منفرد فن تعمیر پر سات گلمپنگ پورڈذ اور چار ٹری ہائوسز تیار کئے گئے ہیں اور ریسٹورنٹ بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اس کے علاؤہ آرچری، اے ٹی وی رائیڈرز ، سٹار گیزنگ جیسی تفریحی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے،اس موقع پر صحافیوں کو ریزارٹ میں فراہم کی جانے والی جدید رہائشی سہولیات، ماحولیاتی ہم آہنگی پر مبنی تعمیرات، اور سیاحت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے ریزارٹ کے منفرد تصور، اعلیٰ معیار اور سیاح دوست سہولیات کو بے حد سراہتے ہوئے اسے پنجاب میں سیاحت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

    صحافیوں کا کہنا تھا کہ چیوڑا بیس ریزارٹ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام ثابت ہوگا، جو خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ٹی ڈی سی پی نے پٹریاٹہ ٹاپ پہ بھی چار نئے ٹری ہاؤسسز قائم کئے ہیں جن کا مقصد ماحول دوست سیاحت کا فروغ اور سیاحوں کو منفرد انداز میں قیام کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ تمام منصوبے اس خطے میں سیاحت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہونگے،محکمہ سیاحت ایسے منصوبوں کے ذریعے پنجاب کے خوبصورت اور کم دریافت شدہ علاقوں کو سیاحتی نقشے پر لانے اور معیاری سیاحتی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

  • بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    بھارت کے شہر ممبئی میں 26 سالہ نویِنا وانامالا اپنی زندگی کے سب سے اہم دن کی تیاری میں مصروف ہیں، مگر خوشیوں کے اس موقع پر پریشانیوں کا سایہ بھی نمایاں ہے۔ میک اپ آرٹسٹ جب ان کے چہرے پر باریک سفید نقطے بنا رہی ہے، اسی دوران ان کا فون مسلسل بج رہا ہے . کہیں پھول غائب ہیں، کہیں انتظامات ادھورے ہیں۔

    یہ ذمہ داریاں عام طور پر دلہن کے والد سنبھالتے ہیں، مگر نویِنا کے والد کا چھ ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے، جس کے بعد وہ خود ہی اپنی شادی کے تمام فیصلے لینے پر مجبور ہیں ، وہ بھی ایسی شادی جس کے اخراجات ان کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہیں۔نویِنا، جو ایک سوشل میڈیا مارکیٹنگ ایگزیکٹو ہیں، ماہانہ تقریباً 145 ڈالر کماتی ہیں۔ ان کی شادی کا ابتدائی بجٹ 3,200 ڈالر تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوگنا ہو گیا۔ مجبوراً انہوں نے بینک سے قرض لیا، جبکہ ان کے منگیتر، سائی کرن دوسا، پہلے سے موجود ہاؤس لون کے باوجود مزید قرض لینے پر مجبور ہو گئے۔نویِنا کہتی ہیں "اتنا قرض لینا مناسب نہیں تھا، مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ ہمیں یہ شادی کرنی ہی تھی۔”

    بھارت میں شادیاں ایک وسیع سماجی روایت ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں شادیوں کی صنعت تقریباً 130 ارب ڈالر کی ہے۔ یہاں شادیوں میں کئی دنوں تک تقریبات جاری رہتی ہیں اور اکثر دلہن کے خاندان پر اخراجات کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔سماجی دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ دلہن کے خاندان کو شاندار تقریب منعقد کرنی ہوتی ہے،سونے کے زیورات، نقد رقم اور گھریلو سامان دینا عام بات ہے،جہیز قانونی طور پر ممنوع ہونے کے باوجود اب بھی رائج ہے،یہ مسئلہ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں۔ ایک طرف غریب خاندان بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتے ہیں، تو دوسری جانب امیر طبقے میں شاہانہ شادیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

    نئی دہلی میں کاویری مہتا کی شادی اس کی مثال ہے، جہاں سینکڑوں مہمان شریک ہوئے،مہنگی سجاوٹ، بین الاقوامی مہمان اور شاندار کھانے کا اہتمام کیا گیا،تقریب کے لیے تقریباً 150 افراد پر مشتمل ٹیم نے کام کیا،ویڈنگ پلانر وکرم جیت شرما کے مطابق "بعض کلائنٹس شادی پر 5 لاکھ سے 30 لاکھ ڈالر تک خرچ کرتے ہیں۔”کاویری مہتا کا کہنا ہے کہ وہ سادہ شادی چاہتی تھیں، مگر سماجی روایات کے باعث مہمانوں کی فہرست کم کرنا ممکن نہیں تھا۔”لوگوں کو بلانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنی شادی میں بلایا ہوتا ہے۔”یہی وہ سماجی دباؤ ہے جو خاندانوں کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔بھارت کے شمالی علاقوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شادی ایک بڑا مالی بحران بن چکی ہے۔ 19 سالہ انامیکا اپادھیائے کی مثال سامنے آتی ہے، جو ایک اجتماعی شادی میں شریک ہوئیں کیونکہ ان کی والدہ اکیلے شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔

    اگرچہ بھارت میں جہیز لینا دینا غیر قانونی ہے، مگر اس کے باوجود یہ روایت مضبوطی سے قائم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 6,000 سے زائد خواتین جہیز سے متعلق تنازعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ماہر قانون کنال مدن کہتے ہیں "یہ مطالبات معمولی نہیں ہوتے، بلکہ بھاری رقم، جائیداد اور سونا مانگا جاتا ہے، جو اکثر خواتین فراہم نہیں کر سکتیں۔”31 سالہ پریانکا ڈابلا کے مطابق، ان کے والد نے شادی پر 32,000 ڈالر خرچ کیے، مگر اس کے باوجود سسرال کی جانب سے مزید مطالبات جاری رہے۔ انہوں نے گھریلو تشدد کا بھی الزام عائد کیا۔

    ممبئی میں، نویِنا کی شادی میں 500 سے زائد مہمان شریک ہوئے۔ تقریب شاندار رہی، مگر اس کے بعد کا مالی بوجھ انہیں پریشان کر رہا ہے۔وہ کہتی ہیں "شادی ویسی ہی تھی جیسی میں نے خواب میں دیکھی تھی، مگر قرض ختم ہونے تک میں پریشان رہوں گی۔”

    بھارت میں شادی ایک خوشی کا موقع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مالی چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔ سماجی دباؤ، مہنگی روایات اور جہیز جیسی غیر قانونی رسمیں لاکھوں خاندانوں کو قرض کے بوجھ تلے دبا رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اس رجحان کو کنٹرول نہ کیا گیا تو شادی جیسی خوشی کی تقریب مزید خاندانوں کے لیے مالی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے

  • مردانہ کمزوری دل کی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، ماہرین

    مردانہ کمزوری دل کی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، ماہرین

    طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مردوں میں پائی جانے والی ایریکٹائل ڈس فنکشن (ED) یا مردانہ کمزوری محض جنسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ دل اور خون کی نالیوں سے جڑی سنگین بیماریوں کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹروں کے مطابق جب مریض اس مسئلے کے ساتھ کلینک آتے ہیں تو ان کی پہلی تشویش اکثر صحت نہیں بلکہ رشتے سے متعلق ہوتی ہے۔ بیشتر مرد یہ خوف ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا شریکِ حیات انہیں چھوڑ سکتا ہے، تاہم ماہرین اس موقع کو ایک بڑے طبی مسئلے کی نشاندہی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر یا بے قابو ذیابیطس ہو تو مردانہ کمزوری کی وجہ سمجھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر نوجوان یا بظاہر صحت مند افراد میں یہ مسئلہ ظاہر ہو تو ڈاکٹر اس کو دل اور خون کی نالیوں کی صحت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

    طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی کمزوری دل کی بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے ایک سے تین سال پہلے سامنے آ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک “وارننگ سائن” کے طور پر کام کر سکتا ہے۔دل کی زیادہ تر بیماریاں براہِ راست دل سے شروع نہیں ہوتیں بلکہ جسم کی چھوٹی خون کی نالیوں سے آغاز ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ شریانیں سخت ہو جاتی ہیں،کولیسٹرول جمع ہونے لگتا ہے،خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے، ہائی بلڈ پریشر، شوگر، تمباکو نوشی، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ ان مسائل کو مزید بڑھاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایریکشن ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں دماغ، اعصاب، خون کی نالیاں اور پٹھے سب مل کر کام کرتے ہیں۔دماغ سے سگنل شروع ہوتا ہے،خون عضوِ تناسل کی طرف جاتا ہے،نالیاں پھیلتی ہیں اور خون اندر رکتا ہے،اگر اس عمل میں کسی بھی مرحلے پر خلل آئے تو ایریکشن متاثر ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر خون کی نالیاں تنگ یا سخت ہونا شروع ہو جائیں تو اس کا اثر سب سے پہلے جنسی کارکردگی پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردانہ کمزوری کو بعض اوقات “ویسکولر بیماری” (خون کی نالیوں کی بیماری) کی ابتدائی علامت سمجھا جاتا ہے۔اگر یہ مسئلہ اچانک شروع ہو،مسلسل رہے،یا وقت کے ساتھ بڑھتا جائے،تو اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی دل کی حالت مستحکم ہو تو جنسی عمل عام طور پر محفوظ ہوتا ہے۔یہ عمل جسم پر اتنا ہی دباؤ ڈالتا ہے جتنا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنے سے پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سرگرمیاں بغیر سینے کے درد یا سانس پھولنے کے کر سکتا ہے تو جنسی عمل بھی عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ مردانہ کمزوری کی ادویات فوری فائدہ دیتی ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ صرف علامت کو ٹھیک کرتی ہیں، اصل بیماری کو نہیں۔خاص طور پر دل کے مریضوں کی کچھ ادویات کے ساتھ یہ خطرناک ردعمل دے سکتی ہیں،اس لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے،ماہرین مردوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر انہیں اپنی جنسی صحت میں تبدیلی محسوس ہو تو اسے نظرانداز نہ کریں بلکہ بلڈ پریشر چیک کروائیں،کولیسٹرول اور شوگر ٹیسٹ کروائیں،نیند اور ذہنی دباؤ پر توجہ دیں،تمباکو نوشی ترک کریں

    ماہرین کے مطابق مردانہ کمزوری کو صرف ایک نجی یا وقتی مسئلہ سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ جسم کے اندر جاری کسی بڑی بیماری کا ابتدائی اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف بہتر جنسی زندگی بلکہ ایک لمبی اور صحت مند زندگی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

  • گلشن پارک مغل پورہ میں آوارہ کتوں کے بچوں پر حملے، شہریوں کا شدید احتجاج

    گلشن پارک مغل پورہ میں آوارہ کتوں کے بچوں پر حملے، شہریوں کا شدید احتجاج

    شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا۔ بار بار شکایات کے باوجود تاحال کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔ مغل پورہ کے علاقے گلشن پارک میں آوارہ کتوں کے دو بچوں پر خوفناک حملے۔ اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ آوارہ کتوں کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جائیں۔

    مغل پور ہ کے قریب حبیب پارک اور گلشن پارک کے علاقوں میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آوارہ کتوں کے غول کے غول گلیوں میں پھرتے اور بھونکتے دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں کئی بچوں اور بزرگوں پر کتوں نے شدید حملے کیے ہیں ۔ خاص طور پر نماز فجر کے وقت نمازیوں کا مساجد میں جانا محال ہو چکا ہے۔ قرآن پڑھنے کے لیے بچے مسجد جاتے ہوئے ڈرتے ہیں اور والدین بھی خوف زدہ دکھائی دیتے ہیں۔ مغل پورہ کے علاقے حبیب پارک میں جامع مسجد قبا کے قریب چونکہ کچھ کھلی جگہ موجود ہے اس لیے وہاں آوارہ کتوں نے خاص طور پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں جس سے مسجد آنے والے نمازیوں اور قرآن پڑھنے والے بچوں کو انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ حبیب پارک اور گلشن پارک کے علاقوں میں آئے دن بچوں اور بزرگوں پر آوارہ کتوں کے حملوں اور کاٹنے کےو اقعات بھی پیش آئے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو سکولوں اور مساجد میں قرآن پڑھنے کے لیے بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ان علاقوں میں کتوں کی بھرمار ہے جبکہ شکایت کے باوجود شنوائی نہ ہونے پر شہری انتہائی بے بسی سے دوچار ہیں۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب اس خطرناک صورت کا فوری نوٹس لے اور گلیوں میں جگہ جگہ پھرنے والے آوارہ کتوں سے لوگوں کی جان چھڑائی جائے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں آوارہ کتوں کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے وبال جان بن گئی ہے اور ہر روز کتوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے کئی لوگ ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کروائی گئی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ پچھلے ڈھائی سال میں آوارہ کتوں کے حملوں میں صرف پنجاب میں پانچ لاکھ سے زائد افرادزخمی ہوئے ہیں۔ ایک سال میں صرف لاہور میں بیس ہزار کے قریب آوارہ کتوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

  • طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش، انکار پر ملزم  آپے سے باہر،فائرنگ

    طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش، انکار پر ملزم آپے سے باہر،فائرنگ

    گوجرخان (قمرشہزاد) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ڈھونگ کے باہر میٹرک کا امتحان دے کر نکلنے والی طالبات پر فائرنگ کے ہولناک واقعے سے علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ زرائع کے مطابق گاؤں کے ایک اوباش نوجوان مزمل حسین عرف جگا نے امتحان سے فارغ ہو کر گھر جانے والی طالبات کا راستہ روک کر انہیں ہراساں کرنے اور بات کرنے کی کوشش کی۔

    طالبات کی جانب سے سخت ردعمل اور ڈانٹ ڈپٹ پر ملزم مشتعل ہو گیا اور 30 بور پستول نکال کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں امتحانی مرکز کے باہر بھگدڑ مچ گئی اور طالبات جان بچانے کے لیے چیخ و پکار کرتی ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ اسی اثنا میں سکول کے ملازم ناصر حسین نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسلح ملزم پر جھپٹ پڑا۔ ملزم نے ناصر حسین پر بھی فائرنگ کی کوشش کی تاہم ناصر حسین نے ہمت نہ ہاری اور جان جوکھوں میں ڈال کر ملزم کو قابو کر کے اس سے اسلحہ چھین لیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ جاتلی پولیس کی نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور ملزم مزمل حسین ولد محمد اسلم کو اسلحہ سمیت اپنی تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا۔ خوش قسمتی سے واقعے میں تمام طالبات محفوظ رہیں، تاہم امتحانی مرکز پر ناقص سکیورٹی انتظامات نے والدین اور اہل علاقہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوامی حلقوں نے ناصر حسین کی جرات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

  • گوجرخان میں ایل پی جی مافیا بے لگام، فی کلو قیمت 500 روپے سے متجاوز

    گوجرخان میں ایل پی جی مافیا بے لگام، فی کلو قیمت 500 روپے سے متجاوز

    گوجرخان (قمر شہزاد مغل) گوجرخان اور گردونواح میں ایل پی جی مافیا نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی، گیس کی فی کلو قیمت 500 روپے کی ریکارڈ سطح سے بھی تجاوز کر گئی۔ اوگرا کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گیا ہے، جبکہ پلانٹ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز نے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے من مانے ریٹس وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے اس دور میں اب گیس سلنڈر بھروانا ایک خواب بن چکا ہے۔ مقامی و ضلعی انتظامیہ گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے، جس سے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ مافیا کو اعلی حکام کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ شہریوں نے حکومتِ پاکستان اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان میں ایل پی جی کی سرکاری نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے پلانٹ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

  • خواتین کی ویڈیوز بنانے والے سیاہ کار کو نوازنے کا انکشاف،انکوائری کا مطالبہ

    خواتین کی ویڈیوز بنانے والے سیاہ کار کو نوازنے کا انکشاف،انکوائری کا مطالبہ

    گوجرخان (قمر شہزاد) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کی کارکردگی پر اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا جب ایک ایسے بدنامِ زمانہ اہلکار کو رورل ہیلتھ سنٹر دولتالہ میں تعینات کر دیا گیا جس پر تحصیل کہوٹہ کے سرکاری ہسپتال میں خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے جیسے سنگین الزامات کا سائبر کرائم میں انکوائری نمبر 1541/25 مکمل ہونے کے بعد مقدمہ نمبر 90/25 درج ہوا۔ اس شرمناک تعیناتی نے عوامی و سماجی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سی ای او ہیلتھ راولپنڈی کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی سنگین شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار نہ صرف سنگین اخلاقی جرائم میں ملوث ہے بلکہ اسی کیس میں 8 ماہ اڈیالہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے اور تاحال ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے، جس پر رواں ماہ ہی فردِ جرم عائد ہونی ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی احتجاج اور شدید دباؤ کے بعد اگرچہ سی ای او ہیلتھ نے مبینہ طور پر یہ احکامات منسوخ کر دیے ہیں، مگر شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے افسر کو تعیناتی سے قبل اپنے عملے کے ریکارڈ کا علم نہ تھا؟ یا پھر سب کچھ جانتے بوجھتے کسی خاص مفاد کے تحت خاموشی اختیار کی گئی؟ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب سے موجودہ سی ای او نے چارج سنبھالا ہے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے زیر سایہ چلنے والے سرکاری ہسپتال مبینہ طور پر اسکینڈلز کا گڑھ بن چکے ہیں۔ کبھی ہسپتالوں کے واش رومز میں خواتین کی ویڈیوز بننے کے واقعات سامنے آتے ہیں تو کبھی عملے کی بدتمیزی اور منظورِ نظر افراد کو نوازنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

    عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے غیر ذمہ دار سی ای او راولپنڈی کو فی الفور عہدے سے ہٹا کر کسی فرض شناس افسر کو تعینات کیا جائے اور اس پورے معاملے کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والی مائیں بہنیں خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔

  • ایرانی حملے کے بعد امریکی جنگی جہاز پیچھے ہٹنے پر مجبور

    ایرانی حملے کے بعد امریکی جنگی جہاز پیچھے ہٹنے پر مجبور

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا اور اسے واپس ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

    ایران کے سرکاری میڈیا ایجنسی فارس نیوز کے مطابق، ایل ایچ اے-7 ہیلی کاپٹر کیریئر اور امفی بیئس اسالٹ شپ یعنی یو ایس ایس ٹرپولی پر "بجلی کی رفتار والے ایرانی میزائل” سے حملہ کیا گیا۔ حملے کے بعد امریکی جہاز کو و جنوبی بحر ہند کی گہرائیوں میں واپس ہٹنا پڑا۔حملے کی درست تاریخ اور مقام کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔

    واضح رہے کہ یو ایس سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ یو ایس ایس ٹرپولی، جس میں تقریباً 3,500 عملہ اور ٹرانسپورٹ و اسٹرائیک فائٹر طیارے موجود ہیں، 27 مارچ کو مشرق وسطیٰ پہنچا تھا۔اب تک امریکہ نے ایرانی دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری جانب ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کویت کے بوبیان جزیرے پر موجود امریکی افواج پر حملے کیے ہیں۔ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ جزیرے پر قائم امریکی تنصیبات اور فوجی ساز و سامان کو نشانہ بنایا گیا۔ بوبیان جزیرہ اس وقت امریکی افواج کے زیر استعمال ہے، جو بار بار کے ایرانی حملوں کے بعد کویت کے مین لینڈ میں واقع عروفجان کیمپ سے یہاں منتقل ہو چکی ہیں۔بیان کے مطابق، حملے میں سیٹلائٹ آلات اور دیگر ہتھیار ہدف بنے۔پینٹاگون کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔یاد رہے کہ بوبیان جزیرہ کویت کے ساحلی جزائر میں سب سے بڑا جزیرہ ہے اور خلیج کی شمال مغربی سمت میں واقع ہے۔یہ واقعہ خطے میں تناؤ میں اضافے اور امریکہ-ایران کشیدگی کے نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • دبئی ایئر پورٹ پر حملہ،ڈرون،میزائل پہنچ گئے، دھوئیں کے بادل

    دبئی ایئر پورٹ پر حملہ،ڈرون،میزائل پہنچ گئے، دھوئیں کے بادل

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک اہم ایوی ایشن حب دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک بڑی مقدار میں سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی ایئر پورٹ پر حملہ ہوا ہے یا میزائل کے ٹکڑے گرے ہیں

    دھوئیں کے حوالے سے مقامی لوگوں نے گواہی دی ہے کہ شدید بادل دکھائی دے رہے ہیں، تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک کسی بھی قسم کا سرکاری بیان یا تصدیق جاری نہیں کی گئی۔ متحدہ عرب امارات کے شہروں دبئی اور شارجہ پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے،ٹیلیگرام چینل "نیا” نے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں میں دبئی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا،متذکرہ حملوں میں "شارجہ” شہر کو بھی نشانہ بنایا گیا، خبر رساں ذرائع کا کہنا ہے کہ شارجہ پر حملے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ شہر کے کس علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔

    مارچ کے وسط میں بھی اسی مقام پر دھواں اٹھنے کی ویڈیوز اور تصاویر منظرِ عام پر آئیں تھیں، جب ڈرون حملے کے باعث ایک فیول ٹینکر لگا، جس سے بھڑکتی آگ اور سیاہ دھواں بلند ہوا تھا۔ اسی واقعے کے باعث عارضی طور پر پروازیں معطل یا محدود کردی گئی تھیں۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کی ایک سلسلے وار کارروائیوں کا سامنا کیا ہے، جس میں متعدد بار فضائی دفاعی نظام نے اہداف کو ناکارہ بنایا، اور اس دوران ملبہ مختلف مقامات پر گِرنے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔