Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اورکزئی  ، افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 5 دہشتگرد ہلاک

    اورکزئی ، افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 5 دہشتگرد ہلاک

    اورکزئی ضلع کے حساس سرحدی علاقے واچاپالہ میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دہشتگردوں کے ایک گروہ کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں 5 دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ 3 سے 4 دہشتگرد شدید زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا اور وہ سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ فورسز نے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ سامان بھی برآمد کر لیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس اور کومبنگ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ مقامی آبادی کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ملک دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا۔

    مقامی قبائلی عمائدین اور شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کی قربانیاں علاقے میں امن کے قیام کی ضمانت ہیں۔ عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

  • فتنہ الخوارج اور نور ولی کے جھوٹے جہاد کا پردہ فاش،ریاستِ پاکستان کی اسلامی حیثیت کی توثیق

    فتنہ الخوارج اور نور ولی کے جھوٹے جہاد کا پردہ فاش،ریاستِ پاکستان کی اسلامی حیثیت کی توثیق

    پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کی قانون سازی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اسلامی ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان دین کا صریح غلط استعمال ہے۔

    پیغامِ پاکستان کے تحت 1,800 علما کی متفقہ توثیق سے جاری فتوٰی قتلِ ناحق واضح کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جدوجہد شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ریاستی اداروں کو ان کے خلاف سخت اقدامات کا پابند بناتا ہے۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جو ہر مسلمان کے احترام اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔نور ولی اسلام کو مسخ کر کے غیر ملکی ایجنڈوں کی خدمت، تشدد کو ہوا دینے اور کمزور طبقات کو استعمال کر کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نور ولی کے پاس کوئی جائز دینی اختیار نہیں۔ وہ نہ تسلیم شدہ دینی تعلیم رکھتا ہے، نہ سند اور نہ ہی علمی قبولیت۔ وہ محض ایک خودساختہ مفتی ہے۔ پیغامِ پاکستان کے ذریعے 1,800 سے زائد علما نے نور ولی کے فتنہ الخوارج کے نظریے اور نام نہاد جہاد کو متفقہ طور پر حرام اور غیر اسلامی قرار دیا ہے، بالخصوص معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے باعث۔ فتنہ الخوارج کے سربراہ کے طور پر نور ولی جدید خوارج کی نمائندگی کرتا ہے جو لالچ اور اقتدار کے حصول کے لیے دین کو ذاتی مفاد میں استعمال کرتا اور محفوظ ٹھکانوں سے تشدد کی ہدایات دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسے مجاہد نہیں بلکہ جھوٹا قائد ثابت کرتا ہے۔

    مفتی تقی عثمانی نے واضح کیا ہے کہ اسلامی آئین کے تحت چلنے والی ریاستِ پاکستان جائز اسلامی اختیار کی حامل ہے اور اس کے خلاف بغاوت شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

    پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان اسلامی فقہ میں بغاوت اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔ خوف، بدامنی اور خونریزی پر مبنی تشدد کو مذہبی نعروں سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

    نور ولی جہاد کے تصور کو تکفیر، انتہاپسندی اور سیاسی خواہشات سے جوڑ کر مسخ کرتا ہے جبکہ اسلام جہاد کو عدل، ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں سے جوڑتا ہے۔ قرآن کی آیت 5:32 انسانی جان کی حرمت کو قائم کرتی ہے جو دہشت گردی کی صریح نفی ہے۔

    وفاق المدارس جو پاکستان کے دینی مدارس کی سب سے بڑی تنظیم ہے نے انتہاپسندی اور ہر قسم کے تشدد کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مدارس علم، اخلاقی تربیت، امن اور اصلاح کے مراکز ہیں نہ کہ بغاوت کے۔ وفاق المدارس نے واضح اعلان کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے مسلح جدوجہد، دہشت گردی اور تشدد اسلام سے بنیادی طور پر متصادم اور اس کی اخلاقی و دینی تعلیمات کی توہین ہیں۔

    رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے واضح اخلاقی اصول مقرر فرمائے جن میں غیر جنگجوؤں کو نقصان پہنچانے کی سخت ممانعت شامل ہے۔ طاہرالقادری کے مطابق جہاد کبھی بھی شہریوں پر حملوں کو جائز قرار نہیں دیتا اور جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔

    مفتی عبدالرحیم کے مطابق جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور اس اصول پر اسامہ بن لادن اور ملا عمر بھی علمی مباحث کے بعد متفق تھے۔ یہ حقیقت پاکستان میں دہشت گردی کی اصل نوعیت یعنی فتنہ الخوارج کے خودساختہ نام نہاد جہاد کو بے نقاب کرتی ہے۔

    مولانا عبداللہ خلیل نے مساجد، مدارس اور علما پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات اور دینی شخصیات پر تشدد خود اسلام کو کمزور کرتا ہے اور فساد و انتشار پھیلاتا ہے۔

    مفتی طیب قریشی نے اسلام کے نام پر دہشت گردی کو جائز ٹھہرانے کے خلاف خبردار کیا اور زور دیا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا دین ہے۔ اسلام کو تشدد سے جوڑنا اس کی تعلیمات کی تحریف، عالمی اسلام دشمنی کو ہوا دینے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی شرعی ممانعت کی خلاف ورزی ہے۔

    اسلام جہاد کو عدل، امن اور بے گناہوں کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیتا ہے نہ کہ دہشت اور جبر کا ہتھیار۔ پیغامِ پاکستان نے فتنہ الخوارج کو تکفیری قرار دے کر اس کے اعمال کو حرام اور اس کے نام نہاد جہاد کو دین کے لبادے میں اقتدار کی خونریز جدوجہد بے نقاب کیا ہے۔

  • اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے،بھارتی سکول میں پاکستانی جنگی ترانہ چل گیا

    اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے،بھارتی سکول میں پاکستانی جنگی ترانہ چل گیا

    بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع یاوت مال کے ایک سرکاری اسکول میں پاکستان کا جنگی دور کا مشہور ملی نغمہ چلائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

    واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں کم عمر بھارتی طلبہ کو پاکستانی فوجی ترانے "اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے” پر تلواروں کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسکول کے طلبہ ایک باقاعدہ پرفارمنس کے دوران ہاتھوں میں تلواریں تھامے ملی جوش و جذبے کے انداز میں حرکات کر رہے ہیں، جبکہ پس منظر میں پاکستانی افواج کا مشہور جنگی ترانہ بج رہا ہے۔

    یاد رہے کہ "اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے” 1965 کی پاک-بھارت جنگ کے دوران پاکستانی افواج اور عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے نشر کیا گیا تھا اور آج بھی پاکستان کے مقبول ترین ملی نغموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ نغمہ بھارتی فوج کے خلاف جنگی پس منظر رکھتا ہے، جس کے باعث بھارت میں اس کے سرکاری اسکول میں بجنے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی تعلیمی حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ یہ نغمہ کس کی اجازت سے چلایا گیا اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے میں کس سطح پر غفلت برتی گئی۔ ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسکول کے اساتذہ یا پروگرام کے منتظمین نے گانے کے پس منظر اور حساسیت پر توجہ نہیں دی۔

  • منکی پاکس اور ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک اور مریض کی موت

    منکی پاکس اور ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک اور مریض کی موت

    نکی پاکس (ایم پاکس) اور ایچ آئی وی سمیت متعدد موذی امراض میں مبتلا ایک اور مریض دورانِ علاج جاں بحق ہو گیا۔ حکام کے مطابق 53 سالہ مریض کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور وہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں زیرِ علاج تھا، جہاں ہفتے کے روز اس کا انتقال ہو گیا۔

    صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والا مریض ایم پاکس اور ایچ آئی وی کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی جیسے سنگین امراض میں بھی مبتلا تھا، جس کے باعث اس کی صحت کی حالت مسلسل بگڑتی رہی۔ ڈاکٹرز کے مطابق مریض کا مدافعتی نظام انتہائی کمزور ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اب تک ایم پاکس کے باعث دو مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایم پاکس سے پہلی ہلاکت دسمبر 2023 میں اسلام آباد میں رپورٹ ہوئی تھی، جس کے بعد ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ جاں بحق مریض کی کوئی بیرونِ ملک سفر کی ہسٹری موجود نہیں تھی، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسے یہ مرض مقامی سطح پر لاحق ہوا۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں ایم پاکس کے پھیلاؤ کے واضح شواہد موجود ہیں۔محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں ایم پاکس کے 53 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے مریض شامل تھے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایم پاکس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص، مؤثر نگرانی اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔

    حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر جلد پر غیر معمولی دانے، بخار، جسم میں درد یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

  • کم عمری کی شادی کو اگر رکن اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟ شرمیلا فاروقی

    کم عمری کی شادی کو اگر رکن اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟ شرمیلا فاروقی

    شرمیلا فاروقی نے مولانا فضل الرحمان کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    شرمیلا فاروقی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کال دی گئی،کہ قانون پر دستخط ہوئے تو ملک گیر احتجاج ہو گا، اب قانون بن گیا،یہ بہت اہم ایشو ہے، جوائنٹ سیشن میں اس پر بات ہوئی، اس قانون پر بات ہو گی، ایک رکن قومی اسمبلی جو خود قانون ساز ہے اس کو چیلنج کرے تو اسکی سزا کیا ہے، آپ نے حلف لیا ہے کہ ایوان کو قانون کے مطابق چلانا ہے، ایک قانون پاس ہوتا ہے اور آپ ریاست کو للکارتے ہیں کہ کر لو جو کرنا ہے، کوئی اس پر سزا دینے والا ہے، یہ شرعی معاملہ نہیں ہے، اسلامی معاملہ نہیں ہے،کم عمری کی شادی کو اگر رکن قومی اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟

  • صوبے کے مفاد کیلئے ہر کسی کے ساتھ بیٹھوں گا، سہیل آفریدی

    صوبے کے مفاد کیلئے ہر کسی کے ساتھ بیٹھوں گا، سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کے پی کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا، ہر کسی نے پختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا لیکن اب صوبے کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دوں گا۔

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، یہاں تعلیم، صحت یا اسپورٹس، ہر شعبے میں ٹیلنٹ موجود ہے، یہاں مواقع کے مسائل ہیں،خیبر پختونخوا کو ہمیشہ تجربہ گاہ بنایا گیا، ہر ایک نے اپنا تجربہ کیا جس کے باعث بے امنی پیدا ہوئی، میں صوبے کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دوں گا، میں اپنے لیے کسی کے در پر نہیں جاؤں گا، لیکن اپنے صوبے کے مفاد کیلئے ہر کسی کے ساتھ بیٹھوں گا، چاہے کوئی مجھے کتنا ہی ناپسند ہو۔

    سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا، ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا، بعض مائنڈ سیٹ کے لوگ نہیں چاہتے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ ترقی کریں، وفاق نےکے پی کے 4000 ارب سے زیادہ روپے روک رکھے ہیں، یہ پیسا میں آپ کی مدد سے وفاق سے لوں گا،جامعات میں بے روزگاروں کی کھیپ تیار کی جا رہی ہیں، لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان روزگار کے بغیر نہ ہوں، ہم سب نے مل کر پاکستان کو عظیم ملک بنانا ہے.

  • فتنہ الہندوستان کےبزدلانہ حملوں میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں،لواحقین کاعزم غیرمتزلزل

    فتنہ الہندوستان کےبزدلانہ حملوں میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں،لواحقین کاعزم غیرمتزلزل

    فتنہ الہندوستان کےبزدلانہ حملوں میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں،لواحقین کاعزم غیرمتزلزل

    فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں کے سامنے بلوچ غیورعوام اورسیکیورٹی فورسز ایک آہنی دیوارثابت ہوئے ،بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے ناپاک عزائم کو سیکیورٹی فورسز اور عوام کے باہمی اتحاد اورعزم نے خاک میں ملادیا ،بلوچستان پولیس کےبہادرافسر اے ایس آئی محمود الرحمٰن نے دفاع وطن کیلئےجام شہادت نوش کیا، شہید کے بھائی نےفتنہ الہندوستان کےسرپرست بھارت کو واضح پیغام دیا کہ بھائی کا شہادت کے عظیم رتبے پر فائزہونا قابل فخر ہے، اسکو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے،اے ایس آئی محمودالرحمٰن شہید نے فرض کی ادائیگی کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ،

    اے ایس آئی محمود الرحمنٰ شہید کی بلوچستان کے امن کی خاطر دی گئی لازوال قربانی ہرگز رائیگاں نہیں جائیگی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں ناقابل فراموش ہیں،شہدائے پاکستان قوم کے ماتھے کا جھومر اورآنےوالی نسلوں کیلئےمشعل راہ ہیں

  • نااہل مودی کی ناکام پالیسیوں پر کسان سراپا احتجاج

    نااہل مودی کی ناکام پالیسیوں پر کسان سراپا احتجاج

    بھارت میں کسان برادری مجوزہ بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف شدید احتجاج کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ مختلف کسان تنظیموں نے اس معاہدے کو زرعی شعبے کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق مودی حکومت کے دعوے حقیقت کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں اور اس ڈیل کے ممکنہ اثرات نے کسانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

    بھارت کے معروف اخبار دی ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنی رپورٹ میں اس مجوزہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے اسے زرعی شعبے کے لیے چیلنج قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق کسان برادری میں اس ڈیل کو غیر منصفانہ اور یک طرفہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے باعث غم و غصہ بڑھ رہا ہے،کسان یونینز کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے بھارتی زراعت پر مزید دباؤ بڑھے گا اور مقامی کسان عالمی مسابقت کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہوں گے۔ تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کو کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے اور ایسے کسی بھی معاہدے سے گریز کرنا چاہیے جو مقامی پیداوار اور ڈیری سیکٹر کے لیے نقصان دہ ہو۔

    کسان یونینز نے تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیر تجارت کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ شرائط پر امریکا اور بھارت کے درمیان معاہدہ طے پایا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

    عالمی ماہرین کے مطابق اگر یہ تجارتی ڈیل موجودہ نکات کے تحت مکمل ہوتی ہے تو بھارتی کسانوں اور ڈیری کے شعبے کو نمایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ میں کیے گئے فیصلے حکومت کی خارجہ پالیسی اور داخلی انتظامی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں،سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خارجہ محاذ پر چیلنجز اور اندرونی انتظامی مسائل حکومت کے لیے مسلسل دباؤ کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ کسانوں کا ردعمل آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔

  • مودی سرکار مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا

    مودی سرکار مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا

    نئی دہلی: ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی مسلم دشمنی کو ناقدین ایک منظم ریاستی پالیسی قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق نام نہاد جمہوری دعوؤں کے برعکس مودی سرکار مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

    بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ریاست آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنت بسوا کو مسلمانوں کی تصاویر پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں دیوار پر نصب تصویر پر No mercy یعنی "کوئی رحم نہیں” کے الفاظ بھی درج تھے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ آسام کے اقدام کو "نسل کشی کی دعوت” قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ آسام کی ویڈیو کو محض سوشل میڈیا مواد سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس سے قبل بھی آسام کے وزیرِ اعلیٰ پر اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور عوام کو ان کے خلاف اکسانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی قیادت دانستہ طور پر مذہبی نفرت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور حکمران جماعت کی سرپرستی میں نفرت انگیز بیانیے کا براہِ راست نشانہ بھارت کی مسلم اقلیت بن رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس بھارتی سیاست میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی واضح مثال ہیں۔

  • پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی وقت میں کرائے جائیں،حمزہ شہباز

    پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی وقت میں کرائے جائیں،حمزہ شہباز

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز سے ن لیگ بیٹ رپورٹرز کی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پارٹی امور اور ملکی صورتحال پر گفتگو کی۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ پارٹی ورکرز ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی قیادت کے مشکل ترین دور میں پارٹی ورکرز نے سب سے زیادہ ساتھ دیا، پارٹی ورکرز نے کڑے حالات میں مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں لیکن پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا،قومی اسمبلی سے ایک ایسا بل منظور ہونا چاہیے جس کے مطابق پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی وقت میں کرائے جائیں، بلدیاتی انتخابات سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور عوام کو بہتر انداز میں ریلیف ملے گا،ن لیگ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات کام کیا جائے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا لیکن ن لیگ کی مثبت پالیسیوں نے ملک کو اس صورتحال سے بچایا، میرے والد وزیر اعظم شہباز شریف اور میں نے جیل میں مشکل ترین وقت گزارا لیکن غلط باتوں کو تسلیم نہیں کیا،ہمیں سب سے زیادہ محنت ملکی معیشت کو بہتر بنانے پر کرنی ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف اس مقصد کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔