Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وادی لیپہ،سخت موسمی حالات، پاک فوج عوامی خدمت میں سرگرم عمل

    وادی لیپہ،سخت موسمی حالات، پاک فوج عوامی خدمت میں سرگرم عمل

    وادی لیپہ کے دشوار گزار علاقے میں سخت موسمی حالات کے باوجود پاک فوج عوامی خدمت میں سرگرم عمل ہے۔ پاک فوج کی زیر نگرانی مقامی آبادی کے لیے قائم کیا گیا ہسپتال علاقے کے باسیوں کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔

    پاک فوج کے زیر اہتمام قائم طبی مرکز میں عوام کو بنیادی اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہسپتال میں مقامی آبادی کو مفت علاج اور معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے دور دراز علاقوں کے مکینوں کو بڑی سہولت میسر آئی ہے،سخت موسمی حالات اور زمینی راستوں کی بندش کے باوجود پاک فوج کا طبی عملہ مسلسل عوامی خدمات میں مصروف عمل ہے اور مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کر رہا ہے،وادی لیپہ کے مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پاک فوج کا قائم کردہ ہسپتال ان کی زندگیوں کی ضمانت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق بروقت علاج، فوری طبی امداد اور ہنگامی صورتحال میں دستیاب سہولیات نے کئی قیمتی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    مقامی آبادی نے پاک فوج کے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی قابلِ ستائش خدمات کو بھرپور سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مشکل ترین حالات میں بھی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  • فیصل واوڈا نے پاکستان کے مسائل کا حل بتا دیا

    فیصل واوڈا نے پاکستان کے مسائل کا حل بتا دیا

    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 30 سال کے کم سے کم 500 اور زیادہ سے زیادہ 5000 سیاستدانوں کو گولی مار دیں تو پاکستان کے مسئلے حل ہو جائیں گے۔

    صدر آصف علی زرداری سے سینیٹر فیصل واوڈا کی ملاقات ہوئی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال، پارلیمانی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،بعد ازاں جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ گزشتہ 30 سال کے کم سے کم 500 اور زیادہ سے زیادہ 5000 سیاستدانوں کو سڑک پر گولی ماردیں یا چوک پر پھانسی لگا دیں تو پاکستان کے مسائل حل ہو جائیں گے،28 ویں ترمیم ضرور آئے گی، جس میں این ایف سی سمیت دوسرے معاملات باہمی رضا مندی سے حل ہو جائیں گے۔

  • پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے اختتام پذیر، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر  تھے مہمان خصوصی

    پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے اختتام پذیر، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر تھے مہمان خصوصی

    9 ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے کھاریاں میں اختتام پذیر ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ٹیم اسپرٹ مقابلہ 60 گھنٹوں پر مشتمل گشت پر مبنی عسکری مشق ہے، اس مشق کا مقصد پیشہ وارانہ فوجی مہارتوں میں مؤثر اضافہ کرنا ہے۔ 5 فروری 2026 سے شروع ہونے والی مشق پنجاب کے نیم پہاڑی علاقوں میں انجام دی گئی، علاقے نے حقیقت پسندانہ اور چیلنجنگ عملی ماحول فراہم کیا۔
    اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے، مشق میں شریک ٹیموں کے درمیان جدید خیالات اور حربی تجربات کا تبادلہ کیا گیا، مشق میں بہترین عسکری طریقہ کار سے باہمی سیکھنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔

    اختتامی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے تمام ٹیموں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شرکاء کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، اور ٹیموں کی جسمانی اور ذہنی برداشت کی بھرپور تعریف کی،فیلڈ مارشل نے عملی صلاحیت، جنگی مہارت اور بلند حوصلے کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں یہ اوصاف پاکستانی جوان ثابت کر رہے ہیں،تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو انعامات دیے گئے، بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی اتاشی بھی تقریب میں شریک تھے، مہمانوں نے بھی اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور بہترین انتظامات کو سراہا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی کا دورہ بھی کیا، فیڈ مارشل نے مختلف تربیتی سرگرمیوں کا عملی مشاہدہ کیا اور نئے قائم شدہ ٹیکٹیکل سمیولیٹر کا بھی دورہ کیا گیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جوانوں اور تکنیکی ٹیم کی کوششوں کو سراہا، فیلڈ مارشل نے روایتی تربیتی طریقوں کے ساتھ سمیولیٹر پر مبنی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔

  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی، مالکان اور کرایہ داروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

    کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی، مالکان اور کرایہ داروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

    اے ایس پی سید دانیال حسن کا سخت انتباہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں اور لاپرواہ مالکان کی اب خیر نہیں
    گوجرخان، مندرہ اور جاتلی میں پولیس ٹیمیں متحرک کرایہ داری اندراج نہ کرانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا فیصلہ
    گوجرخان(قمرشہزاد) سرکل گوجرخان میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے اے ایس پی سید دانیال حسن کی خصوصی ہدایات پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں گوجرخان، مندرہ اور جاتلی سمیت مختلف علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر کرایہ داروں کے کوائف کی پڑتال کریں گی۔ پولیس حکام کے مطابق، ایسے مالکانِ مکان جو اپنے کرایہ داروں کی رجسٹریشن کرانے میں ناکام رہے ہیں اور وہ کرایہ دار جو بغیر قانونی اندراج کے رہائش پذیر ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اے ایس پی سید دانیال حسن نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اے ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی قانونی پریشانی یا گرفتاری سے بچنے کے لیے کرایہ داری ایکٹ پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنائیں۔ پولیس نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ایک محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیں اور فوری طور پر اپنے کرایہ داروں کا اندراج متعلقہ تھانے میں کروائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ مالک مکان اور کرایہ دار پر ہوگی۔

  • بسنت،مجموعی طور پر 20 ارب کا کاروبار،ہر دو ماہ بعد منانے کا مطالبہ آ گیا

    بسنت،مجموعی طور پر 20 ارب کا کاروبار،ہر دو ماہ بعد منانے کا مطالبہ آ گیا

    لاہور ایک بار پھر بسنت کی رنگا رنگ بہاروں میں نہا گیا، جہاں تین روز تک جشن کا سماں رہا۔ ملک بھر سے لاکھوں شہری بسنت منانے لاہور پہنچے، جس کے باعث شہر میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ بسنت کے موقع پر اربوں روپے کا کاروبار ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، فوڈ انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں بھی زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔

    بسنت کی تعطیلات کے دوران لاہور آنے والے شہریوں کی بڑی تعداد کے باعث ٹرانسپورٹ پر مسافروں کا شدید رش رہا۔ بسیں، ویگنز اور دیگر سفری ذرائع مکمل طور پر بھرے رہے جبکہ شہر کے تقریباً تمام بڑے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز مکمل طور پر بُک ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق شہریوں اور سیاحوں کی آمد سے مقامی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا۔حکومت پنجاب کی جانب سے بسنت کے موقع پر شہر بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ پولیس، ریسکیو اور دیگر ادارے تین دن تک متحرک رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حفاظتی ایس او پیز پر عمل درآمد کے باعث مجموعی طور پر بسنت کا تہوار خیریت سے اختتام پذیر ہوا۔

    آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے بسنت کے کامیاب انعقاد پر ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔ اس موقع پر پیٹرن ان چیف عقیل ملک نے بتایا کہ صرف گڈی اور ڈور کی مد میں تقریباً 3 ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر بسنت کے دوران 20 ارب روپے کا کاروبار ہوا، جس میں ہوٹل بکنگ، ٹرانسپورٹ، فوڈ انڈسٹری اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔عقیل ملک نے کہا کہ بسنت کا تہوار مجموعی طور پر پُرامن رہا اور وہ سانحہ اسلام آباد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی تعاون اور تجاویز سننے کے باعث یہ تہوار کامیابی سے ممکن ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ کائٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے 15 ہزار راڈ بھی تقسیم کیے گئے تاکہ حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔پریس کانفرنس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بانس مافیا کی جانب سے ریٹس تین گنا تک بڑھا دیے گئے، جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عقیل ملک نے اعلان کیا کہ اگلے سال پورے پنجاب میں بسنت منائی جائے گی اور گڈی و ڈور کے ریٹس بھی باقاعدہ مقرر کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

    صدر آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن شیخ شکیل نے کہا کہ بسنت کا تہوار ہر دو ماہ بعد ہونا چاہیے تاکہ غیر ملکی سیاح بھی پاکستان کا رخ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ بسنت منعقد کی گئی تو قیمتوں پر قابو رکھنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے گی۔

    دوسری جانب پولٹری ایسوسی ایشن نے بتایا کہ بسنت کے تین دنوں میں مرغی کے گوشت کی فروخت 10 ارب 75 کروڑ روپے تک جا پہنچی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بسنت سے فوڈ انڈسٹری کو بھی غیر معمولی فائدہ ہوا۔

    انتظامیہ کے مطابق بسنت کے موقع پر شہر میں 10 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا ٹول ٹیکس بھی جمع ہوا۔

    واضح رہے کہ بسنت کا میلہ نہ صرف مقامی کاروبار جیسے پتنگ سازی، ڈور اور کھانے پینے کے اسٹالز کو فروغ دیتا ہے بلکہ یہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پنجاب حکومت اور انتظامیہ کی یہ کوشش قابلِ ستائش قرار دی جا رہی ہے کہ انہوں نے سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ عوام کو ان کا روایتی تہوار واپس لوٹانے کی کوشش کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں بھی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تو بسنت کا یہ فیصلہ صوبے کی معیشت اور سیاحت کے لیے ایک بہترین مثال ثابت ہو سکتا ہے۔

  • جنوری میں کراچی میں آتشزدگی کے 225 واقعات میں  83 افراد کی موت

    جنوری میں کراچی میں آتشزدگی کے 225 واقعات میں 83 افراد کی موت

    پچھلے ماہ جنوری میں کراچی میں آتشزدگی کے 225 واقعات میں 83 افراد جاں بحق ہوئے ہیں

    دستیاب معلومات کے مطابق کراچی میں آتشزدگی کے بڑھتے واقعات نے شہر میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی تیاری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صرف جنوری کے مہینے میں شہر بھر میں 225 آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ فروری کے ابتدائی دنوں میں ہی 20 سے زائد حادثات سامنے آ چکے ہیں۔ 17 جنوری کو گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ، جس میں 79 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، آج بھی شہریوں کے لیے ایک دردناک یاد دہانی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، عمارتوں کے باقاعدہ معائنے اور عوامی آگاہی کو ترجیح نہ دی گئی تو چھوٹے اور بڑے آتشزدگی کے واقعات شہریوں کی جان، مال اور روزگار کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہیں گے۔

    کراچی میں رواں سال کےپہلے ماہ آتشزدگی کے 225 واقعات ہوئے جس میں سب سے بڑا اور خوفناک واقعہ گل پلازہ میں پیش آیا۔محکمہ فائربریگیڈ کی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے واقعات میں 2بچوں اور 8خواتین سمیت 83 افرادجاں بحق ہوئے جب کہ ان واقعات میں ایک بچے سمیت 24 افراد زخمی ہوئے۔ضلع وسطی میں آتشزدگی کے سب سے زیادہ 30 واقعات ہوئے اور ایک ماہ کے دوران صدر میں آگ لگنےکے 18 واقعات پیش آئے۔سہراب گوٹھ، گلستان مصطفی فائراسٹیشن کی حدود میں آتشزدگی کے 18 واقعات ہوئے جب کہ ناظم آباد 13، لیاری 9 اور سائٹ میں آتشزدگی کے 11 واقعات ہوئے۔کورنگی 9 اور لانڈھی میں آتشزدگی کے تین واقعات پیش آئے، اورنگی ٹاؤن 8، شاہ فیصل 8، منظور کالونی کی حدود میں 14واقعات پیش آئے، نیو کراچی فائر اسٹیشن کی حدود میں 13 واقعات ہوئے۔محکمہ فائر بریگیڈ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور آتشزدگی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

  • برطانوی شہزادہ ولیم پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    برطانوی شہزادہ ولیم پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم اپنے پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض پر شہزادہ ولیم کا پرتپاک استقبال ریاض کے نائب گورنر شہزادہ نے کیا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ ولیم کا یہ دورہ اگرچہ ان کا سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ ہے، تاہم اس سے قبل وہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ شہزادہ ولیم نے جون 2018 میں فلسطین اور اسرائیل کے دورے کیے تھے، جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کی تھیں اور خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ریاض پہنچنے کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تاریخی شہر درعیہ میں شہزادہ ولیم کا باضابطہ استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور سعودی عرب و برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، تعلیم، سیاحت اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے گا۔

    بعد ازاں برطانوی شہزادہ ولیم نے درعیہ کے تاریخی الطریف ضلع کا دورہ کیا اور سلویٰ محل بھی دیکھنے گئے، جہاں انہیں سعودی تاریخ، ثقافت اور ورثے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ شہزادہ ولیم نے سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تاریخی مقامات کی بحالی کی کوششوں کو سراہا۔سیاسی مبصرین کے مطابق شہزادہ ولیم کا یہ دورہ سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

  • بسنت،ن لیگ کی عوامی مقبولیت،مبشر لقمان کا مرتضیٰ وہاب کو چیلنج

    بسنت،ن لیگ کی عوامی مقبولیت،مبشر لقمان کا مرتضیٰ وہاب کو چیلنج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مرتضیٰ وہاب کی بڑی ہی فنی سٹیٹمنٹ سامنے آئی ہے کہ ہم کراچی میں لاہور سے بڑی بسنت منائیں گے، اس سٹیٹمنٹ کی وجہ نواز لیگ کو جو پنجاب میں ،عوام میں پذیرائی ملی، بہت زیادہ ان کو سپورٹ ملی، لوگ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں جو ن لیگ کی حکومت ہے جس کی وزیراعلیٰ مریم نواز ہے یہ حکومت مشکل اور سخت فیصلے کرتی ہے، ایسی ہی حکومت کی ہمیں ضرورت ہے جو سخت فیصلے کر سکے اور جن میں حوصلہ ہو،اور یہ وہی حکومت کر سکتی ہے جس کو پتہ ہو کہ عوام اس کے ساتھ کھڑی ہے،

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ جب جنرل ر پرویز مشرف کا دور تھا میں انکے قریب تھا اس وقت سارے کہتے تھے کالا باغ ڈیم بنانا ہے،پرویز مشرف اس وقت مقبول تھے لیکن عوام کو انگیج کرنے کی کوئی چیز نہیں تھی جس پر وہ فیصلہ نہ کرسکے، الیکٹڈ حکومت سخت سے سخت فیصلہ کر سکتی ہے، کیونکہ عوام اسکی تائید کرتی ہے، اب مرتضیٰ وہاب نے یہ بیان دے دیا، مرتضیٰ وہاب نے زندگی میں گڈی اڑائی نہیں یا پتہ نہیں، یا سیاسی بیان دے دیا، پہلی بات وہ یہ کہیں کہ پنجاب ویلڈن، ملک جب دہشتگردی کا شکار ہے تم نے ملک کو فیسٹول دے دیا، امیر ہو، غریب ہو،کوئی بھی ہو، اس میں شریک ہو سکا، آمدنی کا ایک ذریعہ دے دیا، بچوں کے ساتھ انٹرٹیمنٹ کا ذریعہ دے دیا،ہماری فیملی انٹرٹینمنٹ ہے ہی نہیں، بچوں کے ساتھ باہر جانا ہو کہاں جائیں سوائے کھانا کھانے کے، بچوں ، رشتے داروں کے ساتھ نکلتے ہیں تو ماحول چاہئے ہوتا ہے لاہور نے یہ کر دکھایا اور اب پنجاب کے باقی شہروں میں ہو گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب میرا خیال ہے کہ آپ لاہور آئیں، میرے مہمان بنیں، لاہور کی بسنت اٹینڈ کریں میں دکھاؤں گا بسنت ہوتی کیا ہے، گڈی اڑانے کا مطلب نہیں ہوتا، کوئی چمپو بھی ہوا میں کر لے گا جتنی تیز ہوا ہوتی ہے، میں بتاؤں جب بسنت منائیں گے تو گلوز کا کاروبار شروع کر دیں، کیونکہ تیز ہوا میں پھر انگلیاں ہی کٹیں گی،وہاں پر ایسے حالات نہیں، کلائمنٹ پنجاب کا سوٹ کرتا ہے اسکو کیونکہ یہ پنجاب کے سیزن کے ساتھ منسلک ہے، جاڑے کا جانا،موسم کا بدلنا ،یہ بسنت ہے ہی اس کا نام، بسنت تہوار ہی موسم کی تبدیلی کا ہے اور خزاں کا ختم ہونا ،اس کے بعد دیکھیے گا لاہور پھولوں سے بھر جائے گا،پورا پنجاب یہ موسم کی تبدیلی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں میں سیاسی موت آئی ہے کہ ن لیگ بہت بڑا پوائنٹ سکورنگ کر گئی ہے،حالت یہ ہے کہ کل پی ٹی آئی کا ایک ورکر بھی نہیں نکلا کل خود چھتوں پر کھڑے ہوئے تھے، عمران خان کے بھانجے بھی ،آخری بسنت 18 برس قبل ہوئی تھی،کہتے ہیں یہ تین سال پرانی ہے تو مطلب اس وقت قانون توڑا، جھوٹ بول رہے، اس بسنت میں کچھ کمیاں رہ گئی ہیں، پتنگ اڑانے والوں‌کے دل کی بات کر رہا ہوں ،میں حکومت پر تنقید نہیں کر رہا، وقت بڑا تھوڑا تھا اتنے سال ہو گئے اس کام کو بند ہوئے، جو لوگ ،کاریگر ان کاموں سے منسلک تھے انہوں نے شاید کوئی اور کام شروع کر دیا، اب میں دیکھ رہا ہوں جین زی نے اس میں شرکت کی لیکن پتنگ بازی کا کچھ پتہ نہیں ،یہ نہیں پتہ کہ گڈی پر کنی کیسے باندھنی ہے،چیپی نہیں لگاتا تو اوپر جا کر پھٹ جائے گی،کس ہوا میں کیسے رکھنا ہے،ٹیکنیکل چیزیں سالہا سال پتنگ بازی کے بعد آتی ہیں،جو ڈوروں کی، پتنگوں کی کوالٹی تھی شاید وہ اتنی اچھی نہیں تھی لیکن خیر، جب یہ کام شروع ہو گا ،لوگوں کو روزگار نظر آئے تو اچھے بنانے والے بھی آئیں گے، کچھ جگہوں پر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے جہاں لوگ کیمکل ڈور کے ساتھ اڑاتے رہے،ہم نے بھی مزنگ میں نشاندہی کی اور دھمکی دی کہ نہ اتاری تو میں خود رپورٹ کروں گا، کل منصور علی خان نے مجھے بتایا کہ کچھ جگہوں پر لوگ کیمکل ڈور سے اڑا رہے تھے،منصور کی خبریں صحیح ہوتی ہیں،اس کا نام شہیدوں میں آ گیا کیونکہ اسکی انگلیوں پر کٹ لگے تھے، کل بڑا سماں تھا جب سارے جمع ہوئے، حکومتی افراد اس بات پر ریلیف میں تھے کہ تین دن کا فیسیٹول بغیر کسی مسئلے کے گزر گیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تین دن لاہور میں کرائم رپورٹ نہیں ہوا،تھانے میں دیکھ لیں زیادہ شکایتیں نہیں ملیں گی، حادثوں کے واقعات ہوئے لیکن کرائم نہیں ،کیا مرتضیٰ وہاب یہ کریں گے کہ وہ کراچی میں بسنت کریں گے تو کرائم نہیں ہو گا، میں مرتضیٰ وہاب کو چیلنج کرتا ہوں‌وہ بسنت نہیں کر سکتے، بسنت کا مطلب گڈی اڑانا نہیں بلکہ ایک تہوار ہے ہماری چھتوں پر جہاں ہم نے بسنت کا فنکشن کیا وہاں خواتین بسنتی جوڑوں میں آئے، ہم نے کھانے بھی وہی بنوائے،جن کے رنگ ملتے ہیں،اسی طرح میوزک بھی بسنت کے اعتبار سے تھا،جو فیسیٹول تھا اس کو ہم نے فیسٹو فیسٹول بنایا ہوا تھا، ہزاروں جگہ بسنت منائی جا رہی تھی ہر جگہ ایسا ہوا، سب سے کمزور پروگرام وہ والے تھے جن کی حکومت کی پشت پناہی تھی،نیم سرکاری جہاں لوگ حاضریاں دینے گئے تھے ، عوامی سطح پر جو ہوا یہ پذیرائی آپ کی سوچ سے باہر ہے، مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں لاہور سے بڑی بسنت کر کے دکھاؤں گا،آپ نے مریم نواز کا مقابلہ کرنا ہے تو لاہور کی سڑکوں کا کریں، کراچی کی سڑکوں کا کریں،وہاں پانی مل رہا ہے یا نہیں، کرائم کم ہو رہے یا نہیں، تجاوزات ختم کر رہے یا نہیں، ریسکیو چل رہی ہے یا نہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کیسی چل رہی، مریم نواز سے تو ان باتوں کا مقابلہ کریں، کراچی کے لوگ بھی کل میری بسنت پر آئے تھے وہ دانتوں میں انگلیاں دبا کر پھر رہے تھے کہ یہ لاہور ہے،؟ آپ نے جو حال وہاں کا کیا…..

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بسنت پر آ جائیں مریم نواز کو چھوڑیں میرا چیلنج ہے میرے سے بڑی بسنت کر کے دکھائیں ،ویڈیو موجود ہیں، جس دن آپ بسنت منائیں گے میں پنجاب حکومت سے اجازت لے کر بسنت کا اعلان کروں گا، نہ سرکاری فنڈز لوں گا،نہ کوئی سپانسر،میں کروں گا دیکھنا وہاں ہزاروں‌لوگ کیسے آتے ہیں، لاہوریئے ہیں، دل والے ہیں، تم کرو،تمہیں تو اڑانی نہیں آتی تو تمہاری کال پر کون آئے گا.

  • سابق امیر جماعت اسلامی کا رضاکاروں کو خراج تحسین

    سابق امیر جماعت اسلامی کا رضاکاروں کو خراج تحسین

    خواجہ آصف کا بیان ۔۔۔ سابق امیر جماعت اسلامی کا رضاکاروں کو خراج تحسین

  • بجلی کی قیمتوں میں  ریلیف ختم کرنے کی بات عوام دشمن پالیسی ہے۔ خالد مسعود سندھو

    بجلی کی قیمتوں میں ریلیف ختم کرنے کی بات عوام دشمن پالیسی ہے۔ خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں غریب طبقے کو دیا گیا معمولی ریلیف ختم کرنے کی بات عوام دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ حکومت اشرافیہ کو دی گئی بے شمار مراعات اور غیرضروری شاہانہ اخراجات کم کر کے غریب عوام کا سوچے۔

    ان خیالات کا اظہار خالد مسعود سندھو نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں عوام کو دیا گیا ریلیف ختم کرنے کے حوالہ سے بیان پر ردعمل میں کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ 70 فیصد رعایت کسی بڑے طبقے کے لیے نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے، ایسے میں بجلی کے نرخوں میں دیا گیا تھوڑا سا ریلیف بھی واپس لینا سراسر ناانصافی ہے، ریاست اگر آئی پی پیز کو کھربوں روپے کی ادائیگیاں، اشرافیہ کو بے شمار مراعات اور غیر ضروری شاہانہ اخراجات برداشت کر سکتی ہے تو غریب عوام کو سستی بجلی دینا کیوں ناممکن قرار دیا جا رہا ہے؟ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ غلط ترجیحات ہیں۔

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بجلی کے بلوں میں عوام کو حقیقی اور پائیدار ریلیف فراہم کرے اور معاشی بوجھ غریب عوام کے بجائے طاقتور طبقات اور مافیا پر ڈالے، تاکہ عام آدمی کو سکھ کا سانس میسر آ سکے،مرکزی مسلم لیگ عوام کے حقوق کی پاسداری کرے گی.