Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جنگ بندی،پاکستان کی کامیابی،بھارت میں صف ماتم،تجزیہ کارمودی پر برس پڑے

    جنگ بندی،پاکستان کی کامیابی،بھارت میں صف ماتم،تجزیہ کارمودی پر برس پڑے

    امریکا ،ایران جنگ بندی،پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کردار نے عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل کی ہے، جس کے بعد خطے سمیت بین الاقوامی حلقوں میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں اس پیش رفت پر سیاسی و تجزیاتی حلقوں میں بحث کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد تجزیہ کاروں نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی نے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک بھارتی تجزیہ کار نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل اڑی واقعے کے بعد نریندر مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے ، آج سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کا نام ہے اور بھارت اور نریندری مودی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

    دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی تجویز کو اصولی طور پر قبول کر لیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فیصلے کی منظوری مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے دی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران پر حملے بند ہو جائیں تو ایران بھی جوابی کارروائی روک دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ ٹرانزٹ ممکن بنایا جا سکتا ہے، جس کے لیے فوجی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانات کے بعد اپنی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر قبل دو ہفتوں کے لیے عسکری کارروائی روکنے کا اعلان کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی ثالثی کو اس تناظر میں ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اسے بین الاقوامی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کردار کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

  • پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ،تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مارکیٹوں میں تیزی

    پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ،تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مارکیٹوں میں تیزی

    پاکستان کی مؤثر اور فعال سفارتکاری کے نتیجے میں عالمی سطح پر مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور عالمی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

    سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 19 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق کشیدگی میں کمی کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف عالمی ایکسچینجز میں شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے کاروباری برادری نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران نے عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جس کی منظوری ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دی گئی۔

  • جنگ بندی اعلان کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز 2 ہفتے کیلئےکھولنے کا اعلان

    جنگ بندی اعلان کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز 2 ہفتے کیلئےکھولنے کا اعلان

    امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہرمز سب کیلئے 2 ہفتے کیلئے کھولنےکا اعلان کردیا۔

    وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے اپنے عزیز بھائی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مشکورہوں کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کی انتھک کوشش کی،یرا ن نے وزیراعظم شہبازشریف کی اپیل اور 15 نکاتی تجاویز پر امریکا کی جانب سے مذاکرات کی درخواست مان لی ہے اور امریکا کے صدرٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجاویز پر عمومی فریم ورک پر بھی اتفاق کرلیاہے، اس بنیاد پر میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے حوالے سے کہتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے گئے تو ہماری طاقتور افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کردیں گی، ایرانی فوج سے رابطے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے دو ہفتے کیلئے محفوظ راستہ دیا جائے گا تاہم اس میں تکنیکی قیود کا خیال رکھنا ہوگا

  • جنگ بندی،پاکستان نے 10 اپریل کو وفود کو اسلام آباد مدعو کر لیا،وزیراعظم

    جنگ بندی،پاکستان نے 10 اپریل کو وفود کو اسلام آباد مدعو کر لیا،وزیراعظم

    پاکستان کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

    وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا،وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے ان کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا ہے،وزیراعظم نے کہا ہمیں پوری امید ہےکہ اسلام آباد مذاکرات’ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔

  • ایران بھی پاکستان کی مان گیا،سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی دی منظوری

    ایران بھی پاکستان کی مان گیا،سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی دی منظوری

    ایران نے پاکستان کی دو ہفتےکی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی، ایران کے نئے سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی منظوری دی۔

    ایرانی میڈیا نے کہاکہ ایران مخالف بیان بازی سے ٹرمپ کی ذلت آمیز پسپائی ہوئی جبکہ ایرانی وزیر خا رجہ عباس عراقچی نے کہا ایران پرحملے رک گئے تو ایران بھی حملے روک دے گا، ایرانی فوج سےرابطےکےساتھ آبنائےہرمزسےدوہفتےتک محفوظ ٹرانزٹ ممکن ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نےجنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط مان لیں جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی بندی کا اعلان کیا ہے،ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے دو ہفتے کے جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق روک دیے گئے ہیں،ادھر اسرائیلی میڈ یا اور وائٹ ہاؤس عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی سے اتفاق کر لیا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست،ٹرمپ نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی تجویز قبول کر لی

    وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست،ٹرمپ نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی تجویز قبول کر لی

    ایران کی پوری تہذیب ایک رات میں ختم کرنے کی دھمکی کے بعدامریکی صدر نے اپنی دی گئی ڈ یڈ لا ئن ختم ہونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ایران پر بمباری دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر حملےکودوہفتوں کےلیےمعطل کرنے پر متفق ہوں، یہ دوطرفہ جنگ بندی ہوگی، اس شرط کے ساتھ کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقےسےکھولنے پر آمادہ ہو۔صدر ٹرمپ نے کہا پاکستانی کے وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیرکےساتھ گفتگوہوئی، پاکستانی قیادت کی درخواست پرایران پرحملےمعطل کرنےپررضامندہوا، میں سمجھتاہوں یہ قابل عمل بنیاد ہےجس پربات چیت ہوگی، ہم پہلےہی تمام عسکری اہداف حاصل کرچکے ہیں بلکہ ان سےآگےبڑھ چکےہیں، مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق حتمی معاہدےکےقریب پہنچ چکےہیں، ہمیں ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے اور ہمارا مانناہےکہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں دوہفتے توسیع کی درخواست کی تھی۔ وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی بھی درخواست کی تھی۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور جلد ٹھوس نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی بھی درخواست کردی۔شہباز شریف نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی کریں تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

  • استنبول میں اسرائیلی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ، 3 افراد ہلاک

    استنبول میں اسرائیلی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ، 3 افراد ہلاک

    استنبول میں واقع اسرائیلی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ سے 3 افراد ہلاک ہوگئے۔

    ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اچانک پیش آیا جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں قریبی اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    حملہ آوروں نے خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے بعد ترک پولیس نے فوری جوابی کارروائی کی۔پولیس مقابلے میں 3 حملہ آور ہلاک ہو گئے جبکہ 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق ایک مشتبہ حملہ آور کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔قونصل خانے کے اندر موجود عملے یا اسرائیلی شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ قونصل خانے کے باہر تک محدود رہا اور اب تک کسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

  • برطانیہ میں ملک ریاض پر پابندی،دبئی میں منصوبے کی تشہیر پر تین ایم پی تنقید کی زد میں

    برطانیہ میں ملک ریاض پر پابندی،دبئی میں منصوبے کی تشہیر پر تین ایم پی تنقید کی زد میں

    برطانیہ میں تین ارکانِ پارلیمنٹ ایک ایسے لگژری پراپرٹی منصوبے کی تشہیر کے باعث تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے مالکان پر بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات کے تحت برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔

    رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ افضل خان اور ناظ شاہ، جبکہ آزاد حیثیت سے منتخب ایوب خان نے دبئی میں بننے والے ایک نئے صحرائی شہر “واڈا” کی تشہیری تقریبات میں شرکت کی۔ ان تقریبات کا مقصد برطانوی پاکستانی سرمایہ کاروں کو اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا تھا۔یہ منصوبہ ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی بحریہ ٹاؤن سے وابستہ ہے، جسے پاکستانی کاروباری شخصیت ملک ریاض حسین اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک چلاتے ہیں۔ دونوں شخصیات اس وقت پاکستان میں بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کا سامنا کر رہی ہیں اور برطانیہ میں داخلے پر پابندی کا شکار ہیں۔

    سن 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض اور ان کے خاندان کے خلاف تحقیقات کے بعد 14 کروڑ پاؤنڈ نقد رقم اور لندن کے علاقے نائٹس برج میں واقع تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ مالیت کی جائیداد ضبط کرنے کا معاہدہ کیا۔ یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا اثاثہ ریکوری تصفیہ قرار دیا گیا۔یہ کارروائی پاکستانی حکام کی جانب سے بحریہ ٹاؤن سے متعلق مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے تناظر میں کی گئی تھی۔ تاہم ملک ریاض اور ان کے بیٹے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

    دبئی کے جنوبی صحرا میں مجوزہ “Waada” شہر کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہاں 40 ہزار افراد کے لیے رہائش، فائیو اسٹار ہوٹل، ولاز، اپارٹمنٹس، باغات اور مصنوعی جھیلیں تعمیر کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا مرکز ایفل ٹاور کی طرز پر ایک ماڈل ڈھانچہ ہوگا۔افضل خان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مقامی کاروباری شخصیت کی دعوت پر مختصر وقت کے لیے تقریب میں گئے تھے، انہوں نے نہ تو خطاب کیا اور نہ ہی منصوبے کی حمایت یا تشہیر کی۔ایوب خان نے کہا کہ انہیں منصوبے کے مالکان کے ماضی کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا اور انہوں نے اپنے نام کو تشہیری مواد سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ناظ شاہ کے ترجمان کے مطابق وہ اکثر اپنے حلقے کے پاکستانی نژاد افراد کی تقریبات میں شرکت کرتی ہیں اور یہ بھی انہی میں سے ایک تھی۔

    اگرچہ برطانوی قانون کے تحت ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے پراپرٹی منصوبوں کی تشہیر پر کوئی واضح پابندی نہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے متنازع کاروباری شخصیات سے جڑے منصوبوں میں شرکت سیاسی ساکھ اور فیصلہ سازی پر سوال اٹھاتی ہے۔مزید برآں، پاکستان میں اس کیس کا تعلق سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی جوڑا گیا، جن پر الزام تھا کہ ضبط شدہ رقم کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا۔

  • پاکستان میں شمسی توانائی کا فروغ توانائی تحفظ کی مضبوط ڈھال بن گیا

    پاکستان میں شمسی توانائی کا فروغ توانائی تحفظ کی مضبوط ڈھال بن گیا

    پاکستانی قیادت کی بہترین حکمت عملی اور دور اندیشی نے شمسی توانائی سے توانائی بحران کو حل کر دیا

    حالیہ کشیدی سے پیدا ہونےو الے عالمی بحران کے برعکس پاکستان توانائی میں مضبوط خودکفیل بن کر ابھرا ہے،سی این این کی رپورٹ کے مطابق حالیہ کشیدگی میں عالمی بحران سے تیل و گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں ،تمام تر حالیہ صورتحال کے باوجود پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جو توانائی بحران سے محفوظ ہے، گزشتہ 2 سے 3 برسوں میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر پینلز کی تنصیب ہوئی ہے اور اندازاً 25 فیصد بجلی سولر سے پیدا ہو رہی ہے،اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات پاکستان پرانتہائی محدود ہیں،

    پاکستان نے خاموش انقلاب سے شمسی توانائی میں نمایاں اضافہ کیا، جو آج ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آ رہا ہے ،شمسی توانائی میں فروغ کے بعد پاکستان نے 2020 کے بعد توانائی کی برآمد میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کی ،عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود پاکستان میں رواں سال کے اختتام تک مزید 6.3 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے ،قابلِ تجدید توانائی کا فروغ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت، استحکام اور معاشی بہتری کی مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے

  • سینیٹ پینل کا پی آئی اے کیبن کریو واقعے کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم

    سینیٹ پینل کا پی آئی اے کیبن کریو واقعے کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا اجلاس منگل کے روز سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعدد استحقاقی تحریکوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا، جبکہ خاص طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے کیبن کریو سے متعلق مبینہ بدسلوکی کو زیر غور لایا گیا۔

    اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، سینیٹر عطا الرحمٰن ،سینیٹر جان محمد اور سینیٹر دوست علی جیسر نے شرکت کی۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کے کیبن کریو کے رویے کی تحقیقات وزارت دفاع کے ذریعے کسی تیسرے فریق سے کروائے۔ یہ ہدایت سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل کی جانب سے 12 فروری 2026 کو پیش کی گئی تحریکِ استحقاق کی بنیاد پر دی گئی، جس میں 7 فروری کو کوئٹہ سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز PK-326 میں کیبن کریو کی رکن مس صائمہ رانا کی مبینہ بدسلوکی کو رپورٹ کیا گیا تھا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 17 فروری 2026 کو جاری کی گئی سفارشات میں کیبن کریو کی رکن اور متعلقہ پائلٹ دونوں کو گراؤنڈ کرنے کا کہا گیا تھا، تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پی آئی اے نے ان ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا۔ سینیٹر مندوخیل نے اس عدم تعمیل مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واضح ہدایات کے باوجود عملے کو ڈیوٹی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے غیر جانبدار دو فریقی انکوائری کے بجائے صرف اپنی ادارہ جاتی تحقیقات پر انحصار کیا اور انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی رکن کو غلطی کی صورت میں معافی مانگنے کے کئی مواقع دیے گئے، مگر عملے اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کی جانب سے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوششوں کے باوجود کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔

    سینیٹر مندوخیل نے کہا کہ انہوں نے سفر کے لیے بھاری کرایہ ادا کیا، مگر انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس بنیاد پر جہاز کا دروازہ بند کیا گیا، مسافروں کو اترنے سے روکا گیا اور اے ایس ایف اہلکاروں کو طلب کیا گیا، جبکہ کوئی جرم یا غیر قانونی عمل سرزد نہیں ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سینیٹر کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام مسافر سے ایسے معاملے میں مزید تشویشناک سلوک ہوسکتا ہے، اور ایسے حالات میں کسی عام شہری کو حراست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔

    سینیٹر بلال نے کیبن کریو کی رکن اور پائلٹ دونوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی، تاہم کمیٹی کی اجتماعی رائے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ وزارت دفاع کے ذریعے تھرڈ پارٹی انکوائری کرائی جائے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک عملہ کے دونوں ارکان کو گراؤنڈ رکھا جائے۔

    سینیٹ کمیٹی نے متعدد استحقاقی معاملات پر غور کیا، جوابدہی کا مطالبہ
    ایک اور معاملے میں سینیٹر عطا الرحمٰن نے سینیٹ سیکریٹریٹ کے سیکیورٹی عملے کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ بارش کے دوران خراب موسم سے بچنے کی کوشش کے دوران انہیں گیٹ نمبر 5 سے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے چیئرمین سینیٹ کی ہدایات کا حوالہ دیا، جبکہ اسی دوران ایک اور سینیٹر کی گاڑی کو بغیر رکاوٹ گزرنے دیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔

    کمیٹی نے چیئرمین وقار مہدی کی جانب سے اٹھائی گئی ایک اور استحقاقی تحریک پر بھی غور کیا، جو کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کے سیکریٹری بیرسٹر نبیل احمد اعوان کے مبینہ رویے سے متعلق تھی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ جواب اور معذرت نامہ جمع کرا دیا گیا ہے۔

    تحریری جواب میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹر وقار مہدی کی کالز اور واٹس ایپ پیغامات کا جواب نہ دینے کی شکایت کو تسلیم کیا۔ جواب میں کہا گیا کہ بیرسٹر نبیل اے اعوان پارلیمنٹیرینز کا انتہائی احترام کرتے ہیں اور سینیٹ کے آئینی مقام کو تسلیم کرتے ہیں۔

    جواب میں اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں کسی قسم کی دانستہ غفلت شامل نہیں تھی۔ بیرسٹر اعوان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوتاہی غیر ارادی تھی اور اس دوران وہ محکمانہ ترقیاتی کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کے اجلاسوں سمیت دیگر اہم سرکاری مصروفیات میں مصروف تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی عرصے کے دوران پہلی بار تقریباً 500 افسران کی ترقی کے کیسز نمٹائے گئے، جس کی وجہ سے وہ معزز سینیٹر سے رابطہ نہیں کرسکے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر اعوان نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ارکان پارلیمنٹ سے بروقت رابطے کو یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دوبارہ معذرت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کمیٹی اس معاملے پر درگزر کرے گی۔

    کمیٹی کا وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ، وزیر مواصلات کی عدم جواب دہی پر تشویش
    ایک علیحدہ معاملے میں، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف بدسلوکی کے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیر کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
    کمیٹی نے اس صورتحال کو افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھا جائے، جس میں واضح کیا جائے کہ ایسے معاملات میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔

    کمیٹی نے اسلام آباد میں واقع مکان نمبر 622 سے متعلق گمشدہ فائل کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ یہ کیس اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ محفوظ کیا جا چکا ہے۔عدالتی کارروائی کے پیش نظر چیئرمین وقار مہدی نے اس معاملے کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے، اور متعلقہ حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ اور رپورٹ بھی فراہم کی جائے۔