Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹول کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹول کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور پولیس نے بسنت فیسٹیول کے اختتام کے باوجود شہر بھر میں پتنگ بازی پر مکمل اور سخت پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پابندی کا مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور پتنگ بازی کے باعث پیش آنے والے جان لیوا حادثات کی روک تھام ہے۔

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری پتنگ بازی کے دوران قانون کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے گریز کریں اور اپنی اور دوسروں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، چاہے وہ کسی بھی حیثیت یا طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔بلال صدیق کمیانہ نے لاہور پولیس کے تمام افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ فیلڈ میں سخت چیکنگ کا عمل جاری رکھا جائے اور شہر کے مختلف علاقوں میں پتنگ بازی پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹیمیں حساس مقامات، چھتوں، گلی محلوں اور بازاروں میں گشت کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    لاہور پولیس کی جانب سے دکانداروں اور تاجروں کو بھی سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ پتنگ اور کیمیکل ڈور کی خرید و فروخت سے مکمل طور پر باز رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پتنگ اور ڈور کی غیر قانونی ترسیل اور ذخیرہ اندوزی کو قابلِ دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر فوری گرفتاری اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ گوداموں کی بھی چیکنگ کی جا رہی ہے۔سی سی پی او لاہور نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور اس بات کو سمجھیں کہ غیر قانونی پتنگ بازی نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ یہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، انہیں پتنگ بازی کے خطرات سے آگاہ کریں اور قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔

  • ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی،بھارتی دوغلاپن بے نقاب

    ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی،بھارتی دوغلاپن بے نقاب

    ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی، بھارت کا سفارتی دوغلا پن ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہو گیا

    مفاد پرست بھارت نے چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران کے تیل بردار جہاز بھی ضبط کر لیے ،ایران کے خلاف اقدامات بھارت کی متضاد خارجہ پالیسی اور امریکی دباؤ کے آگے جھکاؤ کا واضح ثبوت بن گیا ،ایرانی میڈیا کے مطابق؛ بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں تین آئل ٹینکروں کو ضبط کیا،تینوں آئل ٹینکرز کو بحیرہ عرب میں ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر روکا گیا، ایرانی میڈیا کے مطابق؛ضبط شدہ بحری جہاز ال جافزیہ ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ایران سے منسلک تھے،اس سے قبل ایران سے شراکت داری کے دعوؤں کے باوجود بھارت امریکی دباؤ میں چابہار بندرگاہ سے دستبردار ہو چکا ہے ، بھارت امریکی پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم بھی ادا کر چکا تھا ،

    عالمی ماہرین کے مطابق؛ ایران کے خلاف اقدامات بھارت کی موقع پرستانہ اور متضاد خارجہ پالیسی کی واضح مثال ہے .چابہار سے واپسی کے بعد ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی بھارت کی جانب سے ایران کو چھرا گھونپنے کے مترادف ہے،دکھاوے،جھوٹ اور دھوکے سے چلنے والی مودی کی نا اہل حکومت کی خارجہ پالیسی زمین بوس ہو چکی ہے

  • تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری

    تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری

    تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری، شڈالہ مدرسہ کو خوارج نے اپنا اڈہ اور مسجد کو مورچہ بنا لیا

    اطلاعات کے مطابق، تیراہ میدان کے علاقے میں واقع شڈالہ مدرسہ کو خوارج مورچے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ خوارج اسلحہ سمیت مسجد اور مدرسے کے اندر موجود رہے اور طویل عرصے تک اسے اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتے رہے۔اسلامی تعلیمات میں مساجد کو امن، عبادت اور روحانی سکون کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں واضح ہے کہ مسجد کے اندر اسلحہ لانا سختی سے منع کیا گیا ہے تاکہ عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رہے اور نمازیوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ خوارج کی جانب سے مسجد میں اسلحہ لے جانا اور اسے پناہ گاہ میں تبدیل کرنا ان اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    جب دہشت گرد عناصر عبادت گاہوں میں پناہ لیتے ہیں تو وہ انہیں جنگی مورچوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے بلکہ مقامی آبادی کی جانیں بھی شدید خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

  • ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ریاستیں نعروں، خواہشات یا محض سیاسی بیانیوں سے نہیں چلتیں، بلکہ مضبوط اداروں، واضح نظم اور قومی اتفاقِ رائے سے قائم رہتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور، متنازع یا عوامی تضحیک کا نشانہ بنایا، وہ بالآخر انتشار، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی، نظریاتی اور سلامتی کے اعتبار سے غیر معمولی دباؤ میں رہا ہے۔ دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور اندرونی عدم استحکام کے باوجود ریاست کا برقرار رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں قومی سلامتی کے ادارے نہ صرف موجود ہیں بلکہ فعال بھی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسے ادارے ریاستی ستون سمجھے جاتے ہیں، جن پر تنقید ضرور ہوتی ہے، مگر ایک متعین آئینی اور قومی دائرے میں۔

    تاہم پاکستان میں ایک خطرناک رجحان مسلسل جڑ پکڑ رہا ہے—جہاں بعض سیاستدان، خود ساختہ دانشور اور سوشل میڈیا کے متحرک کردار قومی سلامتی کے اداروں کو براہِ راست عوامی نفرت اور شکوک کی علامت بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ جمہوری روایت سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سیاسی دانش سے۔

    لیبیا، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں ادارہ جاتی کمزوری کو ’’عوامی آزادی‘‘ کا نام دے کر ریاستی ڈھانچے کو منہدم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ جمہوریت بچی، نہ خودمختاری، اور نہ ہی عوام کا تحفظ۔ عالمی تھنک ٹینکس اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ ریاستی اداروں کا ٹوٹنا براہِ راست انسانی بحران کو جنم دیتا ہے۔
    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اصلاحی تنقید کسی بھی جمہوریت کا حسن ہوتی ہے۔ سوال اٹھانا، احتساب کا مطالبہ کرنا اور پالیسی پر اختلاف رکھنا ایک صحت مند عمل ہے۔ لیکن جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے تضحیک، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا عوامی ذہن کو گمراہ کرنا بن جائے، تو یہ عمل ریاست کے لیے نقصان دہ ہو جاتا ہے۔

    پاکستان جیسے حساس خطے میں واقع ملک کے لیے سیاسی قیادت، میڈیا اور رائے ساز طبقوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ الفاظ محض آواز نہیں ہوتے، یہ بیانیہ بناتے ہیں—اور بیانیے قوموں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں۔

    عالمی تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مضبوط قومی سلامتی کے ادارے جمہوریت کے مخالف نہیں ہوتے، بلکہ اس کے محافظ ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ادارے طاقتور ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم انہیں قومی مفاد کے دائرے میں مضبوط رکھ پا رہے ہیں؟
    ریاستیں اختلافِ رائے سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ بے احتیاط زبان، غیر ذمہ دار سیاست اور ادارہ جاتی تصادم سے کمزور ہوتی ہیں۔

    اگر پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل دینا ہے تو ہمیں تنقید اور تخریب کے فرق کو سمجھنا ہوگا، اور ریاست کے ستونوں کو گرانے کے بجائے انہیں سنبھالنا ہوگا۔

  • پولیس اور ڈاکوؤں کا آمنا سامنا، کراس فائرنگ، دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    پولیس اور ڈاکوؤں کا آمنا سامنا، کراس فائرنگ، دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    موت کا رقص اور پولیس کی جرات، سی پی او سید خالد ہمدانی کا دو ٹوک اعلان پولیس پر گولی چلانے والوں کا انجام ہسپتال یا قبرستان ہوگا
    یہ محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ علاقے میں چھپے گینگز کے لیے واضح پیغام ہے شہریوں کے مال و جان سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں سید دانیال

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ مندرہ کا علاقہ گزشتہ رات میدانِ جنگ بن گیا جہاں فرض شناس پولیس پارٹی اور سنگین وارداتوں میں مطلوب چار سفاک ڈاکوؤں کے درمیان آمنا سامنا ہونے اور پولیس کی جانب سے مشکوک موٹرسائیکل کو رکنے کا اشارہ کرنے پر ملزمان نے خوف و ہراس پھیلانے کی نیت سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس ہولناک مقابلے کے دوران کانسٹیبل علی کو براہِ راست گولی لگی، مگر سینے پر لگی بلٹ پروف جیکٹ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور کانسٹیبل کی جان بچ گئی۔ پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے نتیجے میں دو خطرناک ڈاکو گولیوں کی زد میں آکر زخمی ہوئے، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے وہ موٹر سائیکل بھی برآمد کر لیا گیا جو ڈیڑھ ماہ قبل ایک شہری سے اسلحہ کے زور پر چھینا گیا تھا۔گرفتار ملزمان ڈکیتی اور وہیکل لفٹنگ کی درجنوں سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ اے ایس پی سید دانیال حسن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا پولیس پر فائرنگ کرنا دراصل ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارے جوانوں نے جس بہادری سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان خطرناک مجرموں کو دبوچا ہے، وہ محکمہ پولیس کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ گوجرخان کی حدود میں شہریوں کے مال و جان سے کھیلنے والے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، قانون کا آہنی ہاتھ ان کا تعاقب جاری رکھے گا۔ جبکہ ایس ایچ او مندرہ ملک تنویر اشرف نے کہا کہ یہ محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ علاقے میں چھپے گینگز کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ ملزمان انتہائی شاطر اور مسلح تھے، لیکن ہماری ٹیم کی بروقت جوابی فائرنگ نے انہیں سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔ مفرور ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور بہت جلد وہ بھی اپنے عبرتناک انجام کو پہنچیں گے۔ سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی نے کامیاب کارروائی پر پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔

  • ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے پر سرکاری ملازم گرفتار

    ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے پر سرکاری ملازم گرفتار

    نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ریاست مخالف اور دہشت گرد تنظیم کی حمایت میں مواد پھیلانے کے الزام میں ایک سرکاری ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم ظفر اقبال ریڈیو پاکستان میں نائب قاصد کے طور پر تعینات تھا، جس کے خلاف اندرونی انکوائری مکمل ہونے کے بعد اسے ملازمت سے بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔ترجمان این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم ظفر اقبال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حمایت میں مجموعی طور پر 13 اشتعال انگیز اور ریاست مخالف پوسٹس شیئر کیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مواد نہ صرف قانون کے خلاف تھا بلکہ اس کا مقصد عوام میں نفرت، اشتعال اور فتنہ انگیزی پھیلانا تھا۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم نے پہلے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) سے ایک اسٹے آرڈر بھی حاصل کر رکھا تھا، تاہم شواہد سامنے آنے کے بعد قانون حرکت میں آیا اور ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت باقاعدہ کارروائی کی گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ ظفر اقبال اس سے قبل ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں بطور نائب قاصد خدمات انجام دے چکا ہے۔ اس کے دہشت گرد عناصر سے ممکنہ روابط کے شبے پر سیکیورٹی اداروں نے انکوائری شروع کی، جس دوران سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور قابلِ اعتراض مواد سامنے آیا۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق عدالت نے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ عدالت نے اس کے ڈیجیٹل ڈیوائسز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فرانزک اور تکنیکی تجزیے کے لیے تحویل میں لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔حکام کے مطابق تفتیش کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ملزم اکیلا اس سرگرمی میں ملوث تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک بھی کام کر رہا تھا۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف اور دہشت گرد بیانیے کے پھیلاؤ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

  • سپریم کورٹ،عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی وکلا کی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی۔

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے وکیل رہنما لطیف کھوسہ نے عمران خان سے ملاقات کی استدعا کی تاہم اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم بغیر نوٹس ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ابھی درخواست کےقابل سماعت ہونےکے اعتراض کی رکاؤٹ کو عبور کرنا ہوگا، ذہن میں رکھیں آپ کے مقدمات دوسری عدالتوں میں زیر التوا ہیں، بغیر نوٹس جاری کیے ملاقات سے متعلق کوئی آرڈر نہیں دے سکتے۔

    علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ میں عمران خان کی درخواست ضمانت غیر موثر ہونے پر خارج کردی۔

  • یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    مقامی عدالت نے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

    ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف جوئے کی پرموشن کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے سعد الرحمٰن عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تاہم ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کردیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے مقدمے کے گواہوں کو 23 فروری کو طلب کر لیا،واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے سعد الرحمٰن عرف ڈکی سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے جس میں ملزمان پر آن لائن جوا ویب سائٹس کی تشہیر کا الزام ہے۔

  • اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد کے اندر پیش آنے والا حالیہ دہشت گردی کا واقعہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور تشویش کا باعث ہے۔ دارالحکومت، جو ریاستی رِٹ، سکیورٹی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے دشمن اب کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کر رہے۔

    حکومتی ذرائع اور سکیورٹی اداروں کی ابتدائی معلومات کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے جا ملتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جاری پراکسی وار کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک میں خوف، عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہے۔

    یہ حقیقت اب عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے دہشت گرد عناصر کے استعمال میں رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایک بار پھر ان سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان خود دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا ہے، مگر افسوس کہ اس کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل رہے ہیں۔

    اسی طرح بھارت کا کردار بھی مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ اسلام آباد میں مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن قوتیں مذہبی جذبات کو بھی استعمال کر کے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔

    یہ واقعہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر دہشت گردی واقعی ایک عالمی مسئلہ ہے تو پھر اس کے خلاف ردعمل بھی عالمی سطح پر یکساں اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان کو واضح طور پر پابند کریں کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، اور بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں معصوم شہری، نمازی، علما اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب مزید صبر کا مظاہرہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والا یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر دشمن عناصر کو بروقت اور مؤثر انداز میں لگام نہ دی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنے شہریوں کے خون پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

  • لاہورمیں بسنت، مبشر لقمان بھی پتنگ اڑانے چھت پر پہنچ گئے

    لاہورمیں بسنت، مبشر لقمان بھی پتنگ اڑانے چھت پر پہنچ گئے

    لاہور میں تقریباً 25 برس کے طویل وقفے کے بعد بسنت کے رنگ ایک بار پھر شہر میں لوٹ آئے، جس سے شہریوں میں خوشی اور جوش و خروش کی فضا قائم ہو گئی۔ شہر کی گلیوں، محلّوں اور چھتوں پر رنگ برنگی پتنگیں آسمان کی زینت بن گئیں، جبکہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ اور بچے بھی بسنت کی خوشیوں میں شریک دکھائی دیے۔

    بسنت کی اس بحالی میں جہاں عام شہری پتنگ بازی کے شوق میں پیش پیش نظر آئے، وہیں سینئر صحافی، معروف اینکر پرسن اور باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ مبشر لقمان لاہور میں بسنت منانے کے لیے خود چھت پر پہنچ گئے، پتنگ اڑائی اور روایتی بسنتی ماحول سے بھرپور لطف اٹھایا، مبشر لقمان کی جانب سے ہفتہ کے روز لاہور میں خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ بسنت منانے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے لاہور کے علاقے مزنگ میں تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جہاں روایتی انداز میں بسنت فیسٹیول منانے کے انتظامات کیے گئے ہیں .