Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خطے کی صورتحال،سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے،شرجیل میمن

    خطے کی صورتحال،سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے ہیں۔ صدرِ مملکت کی مشاورت کے بعد غریب کسانوں کے لیے بڑا ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جس کے تحت 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جا رہے ہیں، اور یہ عمل بینظیر ہاری کارڈ کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیزی سے جاری ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اسی طرح موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ بائیک پر 2000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صوبے میں 67 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ٹرانسفر فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ عوامی سہولت کے لیے ایکسائز دفاتر کو ہفتے کے ساتوں دن صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک کھلا رکھا گیا ہے۔سندھ واحد صوبہ ہے جو سرکاری ٹرانسپورٹ ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو بھی سبسڈی فراہم کر رہا ہے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ ایکسائز ایپ کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جہاں پریس کانفرنس کے دوران ہی 1500 رجسٹریشنز ہوئیں، جبکہ ایک ہی دن میں 15,000 سے زائد افراد نے اندراج کروایا، اور ہزاروں شہریوں کو ادائیگیاں بھی موصول ہو چکی ہیں۔مزید برآں، منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں 500 کلو سے زائد آئس (مالیت تقریباً 5 ارب روپے) ضبط کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات جاری ہیں۔یہ تمام اقدامات عوامی ریلیف، سہولت اور ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال سندھ کی جانب واضح پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ

    سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ

    سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ ہوا جہاں بڑے پیمانے پر آگ لگی – آخر ایران چاہتا کیا ہے ؟

    ایران کی جانب سے سعودی عرب پر یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امن مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاکستان امریکہ سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل اور انتہائی سطح کے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے،ایسے ماحول میں سعودی عرب کو نشانہ بنانا امن عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،قابل غور بات یہ ہے کہ نشانہ فوجی نہیں بلکہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس بنایا گیا، جو معاشی انفراسٹرکچر ہے،یہ اقدام نہایت غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے

    سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کچھ عناصر دانستہ طور پر امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ، ایسے اقدامات خود ایران کے مفادات کے بھی خلاف جا سکتے ہیں،بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس نازک مرحلے پر کسی بھی جارحیت سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ جاری سفارتی کوششیں بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں

  • مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے حالات اور خطے پر تباہ کن جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، پاکستان خطے میں امن کیلئے ایک بار پھر فرنٹ فٹ پر نظر آرہا ہے۔

    پاکستان کا اب تک کا کردار کسی شاندار سفارت کاری سے کم نہیں، اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جمی برف پگھلانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، جن کا اعتراف امریکا اور ایران سمیت پوری دنیا نے کیا۔پاکستان اپنی بے مثال کوششوں سے دونوں ممالک کو اسلام آباد اکارڈ تک لے آیا اور امن کیلئے قابل عمل نکات امریکا اور ایران کے سامنے رکھ دیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اکیلا پاکستان یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے؟، چین کی مکمل حمایت، ترکیہ اور مصر کی ہم قدم کوششیں اپنی جگہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کی تالی دونوں ہاتھوں سے بجے گی، پاکستان کی یہ کوششیں تبھی بار آور ثابت ہوں گی جب دو بڑے اسٹیک ہولڈرز امریکا اور ایران اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے۔

    امن کیلئے سب کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا، حملوں کا سلسلہ روکنا ہوگا اور ان قوتوں کے ہاتھ روکنے ہوں گے جو اس جنگ کو طول دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

    آج کا دن اور آنے والی رات بہت اہم مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی کوششیں حساس مرحلے میں داخل ہوگئیں۔امریکا ایران جنگ رکوانے کیلئے ممکنہ اسلام آباد اکارڈ کو حتمی شکل دینے کی تگ و دو جاری ہے، حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بڑا بیان بھی سامنے آگیا، کہتے ہیں پاکستان نیک نیتی اور خیرسگالی کے تحت جدوجہد کررہا ہے، مزید تفصیلات کا انتظار کیا جائے۔

    پاکستان کی جانب سے اسلام آباد اکارڈ کے نام سے دو مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کردیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطہ ہوا، سپہ سالار کی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی۔پلان کے تحت پہلے فوری جنگ بندی اس کے بعد ایک جامع معاہدہ ہوگا، پاکستان مذاکرات میں واحد رابطہ چینل ہے، مفاہمت کی صورت میں پاکستان کے ذریعے ہی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔آبنائے ہرمز کی بحالی کی بھی تجویز، معاہدے میں ایران کی جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا امکان ہے، بدلے میں پابندیاں نرم اور منجمد اثاثے بحال ہوسکتے ہیں۔

  • تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ  ملبے کا ڈھیر

    تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر

    ایرانی دارالحکومت تہران کی فضا میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق تہران میں کم از کم 3 زوردار دھماکے سنے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا،ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے صوبے لورستان میں خرم آباد ایئر پورٹ کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں

    ایران میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں یہودی عبادتگاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملے جاری ہیں، یہودی عبادت گاہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیاء میں یہودیوں کی دوسری بڑی آبادی ایران میں مقیم ہے۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں، کویت میں امریکی ایئربیس پر ڈرون حملہ کیا گیا، امریکی میڈیا کے مطابق حملے میں 15 فوجی زخمی ہوگئے۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ میں زخمی ہونیوالے فوجیوں کی تعداد 373 ہوگئی۔ایران نے اسرائیل کے شہر حیفا میں طیاروں کو ایندھن فراہم کرنیوالی ریفائنری ملیا میٹ کردی۔ سعودی عرب نے 7 بلیسٹک میزائل تباہ کردیے، میزائل کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی۔کویت، یواے ای اور بحرین میں بھی تیل کی تنصیبات پر میزائل برساددیے گئے، کویت میں امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے کیے گئے۔ایران نے قطر کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کے سلسلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی۔

    نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت سلمان صفدر نے 31 مارچ کے عدالتی حکم کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ متفرق درخواست کیا ہے، جس پر عمران خان سے ملاقات کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ وکیل کی ملاقات یقینی بنائیں۔ عدالت نے سلمان صفدر سے ملاقات کا وقت پوچھا تو انہوں نے دوپہر دو بجے کا وقت تجویز کیا، جس پر عدالت نے اگلے روز دو بجے ملاقات کرانے کا حکم جاری کر دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر ہفتے دو دن اپیل مقرر کر کے وکیل کو اپنے مؤکل سے ملاقات کا موقع دیا جا سکتا ہے، تاہم سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے جیل میں ملاقات کے بعد ہی وہ عدالت کی معاونت کریں گے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ خاتون ملزمہ کے حوالے سے سزا معطلی درخواست پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور اگر اپیل پر دلائل شروع ہو جائیں تو سات دن میں فیصلہ بھی ممکن ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کو پیر کے دن کی مصروفیات کا پیشگی علم نہیں ہوتا اور معاملے کو غیر ضروری طور پر اچھالا جانا مناسب نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

  • ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات تیز

    ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات تیز

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سوات اور مردان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے واقعے کی مزید تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق بھی شریک تھے۔

    ذیلی کمیٹی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے انکوائری کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک اس معاملے میں متعلقہ 20 افسران اور اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ چوری ہونے والے کارٹنوں میں سے 1,262 کارٹن کسان ٹوبیکو برانڈ کے ہیں جو پیراماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی کارٹنوں کی ملکیت کا تعین کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ذیلی کمیٹی کے ارکان نے اس معاملے میں ایف بی آر کی سنجیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ واقعے کے وقت تعینات آر ٹی او، چیف کمشنر اور ممبر (ٹوبیکو) کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں۔

    کمیٹی نے لاہور میں تعیناتی کے دوران ممبر (ٹوبیکو) کے خلاف ہونے والی سابقہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ایف بی آر افسران اور اہلکاروں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے۔ مزید برآں متعلقہ افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی بھی سفارش کی گئی۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کے ایک رکن نے تجویز دی کہ تحقیقات میں تمباکو کارٹیل یا کسی ممکنہ گٹھ جوڑ کے امکان کا بھی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ تمباکو کمپنی کی فیکٹری اور قیمتی مشینری پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہے اور برآمد شدہ کارٹن ٹیکس چوری کے مقدمے میں بطور ثبوت رکھے گئے تھے۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو اس پہلو کی بھی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔

    پارلیمانی نگرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتی ہیں جو قومی اہمیت کے معاملات کی باریک بینی سے جانچ یقینی بناتی ہیں۔ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کو حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ موجودہ ذخائر پر زیادہ قیمتوں سے ممکنہ طور پر کس کو فائدہ پہنچا۔ مزید برآں ایف آئی اے ٹیم کو اس مقام کا دورہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی جہاں سے سگریٹ چوری ہوئے۔بریفنگ کے دوران ایف آئی اے نے مبینہ تمباکو کمپنی کی بینک ٹرانزیکشن ہسٹری بھی پیش کی۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر فیکٹری 2024 سے سیل ہے تو 2024–25 کے دوران مالی لین دین کیسے ریکارڈ ہوا۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو ٹرانزیکشن کی تفصیلات دوبارہ تصدیق کرنے کی ہدایت دی۔

    ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے اپنے گوداموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے معیاری طریقہ کار (SOPs) اور حفاظتی پروٹوکول وضع کر کے نافذ کر دیے ہیں۔ تاہم کنوینر نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ سگریٹ چوری کے مقدمے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کی جائیں۔

    اجلاس میں دیگر متعلقہ امور پر بھی غور کیا گیا جن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال، فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد اور بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ شامل ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ان علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ علاقے اسمگلنگ کے مراکز بنتے جا رہے ہیں جس سے قومی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد سے متعلق تفصیلی ڈیٹا پیش کیا جائے، جبکہ ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ بلوچستان میں داخل ہونے والے ایرانی تیل کے حوالے سے متعلقہ معلومات پیٹرولیم ڈویژن سے حاصل کی جائیں۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے  ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر  کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا (Kadir Özkaya ) کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی.

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہائیوں پر محیط پاکستان اور ترکیہ کےبرادرانہ تعلقات تیزی سے ایک جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں. شہریوں کی انصاف تک رسائی کے حصول کیلئے پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں. ترکیہ کی وفد کے حالیہ دورے کے دوران اسی سلسلے میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اس منزل کی طرف پہلا قدم ہے. انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلہ کی وسیع استعداد موجود ہے.

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی ، انسداد دہشتگری ، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں قوانین اور انکے نفاذ کے سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں.ترکیہ آئینی عدالت کے صدر نے پاکستان میں شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا. قادراوزقایا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محبت ہر ترک کی رگوں میں بسی ہے. ترکیہ کی آئینی عدالت 64 سال پرانی ہے اور اپنے اس وسیع تجربے کے تبادلے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہے. ملاقات میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے فاضل جج صاحبان جناب رضوان گیولیچ (Rıdvan Guleç) اور جناب رجائی آق یل (Recai Akyel) کے علاوہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر جناب عرفان نظیر اولو بھی شریک ہوئے. نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی اور بے ہوش ہیں، قم شہر میں ان کا علاج ہورہا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق برطانوی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا۔ دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی اور بے ہوش ہیں، ان کا ایران کے شہر قم میں علاج ہورہا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق امریکا اور اسرائیل کی انٹیلی جینس میمو میں انکشاف ہوا ہے، دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر روزمرہ کے معاملات چلانے کے قابل نہیں۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کے پہلے روز زخمی ہوئے تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پرامریکہ اور اسرائیل کے حملے کی پہلی لہر کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کیسے ہیں، کہاں ہیں؟ ان کی صحت کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی رپورٹس تاحال سامنے آچکی ہیں۔اس دوران،مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغامات سرکاری میڈیا کے ذریعے منظرعام پرآچکے ہیں لیکن وہ خود عوام کے درمیان نہیں آئے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ دشمن ہر روز دھمکیاں اور تباہی کی وارننگز دے رہا ہے مگر قتل اور جرائم ایران کی مسلح افواج کو کمزور نہیں کرسکتے، مسلح افواج دشمن کیخلاف لڑائی جاری رکھیں گی۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیدیا، کہا امریکا اور اسرائیل کو ایران میں مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، دشمن ایران کے شہری مقامات پر حملے کررہا ہے، پل، پاور پلانٹس اور اسکولوں پر حملے انسانیت کیخلاف جرائم ہیں۔

    ایرانی حکومت نےآیت اللہ خامنہ ای کے 40 ویں پر ملک بھر میں تعزیتی تقاریب کا اعلان کر دیا،ایران بھرمیں تعزیتی اجتماعات، قرآن خوانی کا سلسلہ 8 اپریل سےشروع کیاجائےگا، جمعرات کو جمہوری اسلامی اسکوائر سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے مقام تک مارچ ہوگا، ایران میں جمعے کو صبح 10 بجے 40 ویں کی مرکزی تقریب ہوگی۔یاد رہے امریکا نے آیت اللہ خامنہ ای کو 28 فروری کوتہران میں ان کےدفتر میں شہید کیا تھا۔

  • سانحہ گیاری سیکٹر  کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سیاچن کا محاذ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے

    سیاچن کے محاذ پر دشمن کے علاوہ شدید ترین موسم بھی پاک فوج کے آفیسر اور جوانوں کیلئے کڑی آزمائش ہے ،7 اپریل 2012 کو سیاچن کے محاذ پر انتہائی دل سوز حادثہ پیش آیا،اس حادثے میں وطن عزیز کے دفاع پر مامور بڑی تعداد میں پاک فوج کے جوان برفانی تودے کی زد میں آگئے،اس دل سوز سانحہ میں پاکستان آرمی کا بٹالین ہیڈ کوارٹر مکمل طور پر برف میں دب گیا، بٹالین ہیڈ کوارٹر میں موجود 129 فوجی جوانوں نے وطن کی حرمت کی خاطر جام شہادت نوش کیا ،اس حادثے کے اثرات اتنے تلخ تھے کہ غیر ملکی ریسکیو ٹیموں نے بھی اس مشن کو ناممکن قرار دے دیا تھا

    جذبہ حب الوطنی سے سرشار پاک آرمی کی انجینئرز کور نے اس ریسکیو آپریشن کو مکمل کرنے کا بیڑہ اٹھایا ،پاکستان آرمی کے آفیسرز اور جوانوں کی انتھک محنت اور جوانمردی سے یہ مشکل ترین آپریشن پایۂ تکمیل تک پہنچا،سانحہ گیاری کے شہداء کی قربانیوں کی یاد میں سیاچن کے محاذ پر یادگار شہداء بھی تعمیر کی گئی ،آج پوری قوم شہدائے گیاری سیکٹر کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ،شہداء گیاری کی عظیم قربانی پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی

  • امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پہلی بار خواتین پر مشتمل ہم جنس جوڑے مردوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سن 2005 میں ہم جنس جوڑوں میں مردوں کا تناسب زیادہ تھا، جہاں 54 فیصد جوڑے مردوں پر مشتمل تھے جبکہ خواتین کا حصہ 45 فیصد تھا۔ اس وقت قانونی طور پر ہم جنس شادی صرف ایک ریاست میساچوسٹس میں تسلیم شدہ تھی۔تاہم دو دہائیوں میں صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ 2024 تک خواتین ہم جنس جوڑوں کا تناسب بڑھ کر 53 فیصد ہو گیا جبکہ مرد جوڑوں کا تناسب 46 فیصد رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی میں سن 2015 میں ہم جنس شادی کو ملک بھر میں قانونی حیثیت ملنا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق 2024 تک امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی تعداد تقریباً 1.4 ملین تک پہنچ گئی، جو کہ 2005 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ یہ تعداد ملک کے مجموعی گھرانوں کا تقریباً 1 فیصد بنتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ شرح اب بھی اس مجموعی آبادی سے کم ہے جو خود کو LGBTQ+ شناخت کرتی ہے، جس کا اندازہ تقریباً 9 فیصد لگایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 5 فیصد امریکی خود کو بائی سیکسوئل قرار دیتے ہیں۔

    اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو معاشی عدم مساوات بھی سامنے آیا۔ خواتین ہم جنس جوڑوں کی اوسط سالانہ گھریلو آمدنی تقریباً 108,500 ڈالر رہی، جبکہ مرد جوڑوں کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ یعنی 140,500 ڈالر رہی۔تاہم ملازمت کے حوالے سے دونوں اقسام کے جوڑوں میں تقریباً یکساں شرح دیکھی گئی، جہاں تقریباً 64 فیصد جوڑوں میں دونوں پارٹنرز ملازمت پیشہ تھے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہم جنس جوڑے تعلیمی اعتبار سے اپنے مخالف جنس ہم منصبوں سے آگے ہیں۔ تقریباً 32.5 فیصد ہم جنس غیر شادی شدہ جوڑوں میں دونوں افراد کم از کم بیچلر ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.1 فیصد ہے۔مزید برآں، ہم جنس شادی شدہ جوڑوں میں نسلی تنوع بھی زیادہ پایا گیا، جہاں 31.3 فیصد جوڑے مختلف نسلی پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.5 فیصد ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شادی شدہ ہم جنس جوڑے اوسطاً کم عمر ہیں (49 سال) جبکہ شادی شدہ مخالف جنس جوڑوں کی اوسط عمر 53.2 سال ہے۔ غیر شادی شدہ جوڑوں میں عمر کا فرق تقریباً برابر رہا۔اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، جس سے اس شہر کی بطور LGBTQ+ کمیونٹی کے مرکز کی شہرت مزید مستحکم ہو گئی۔یہ اعداد و شمارامریکن کمیونٹی سروے کے تحت 2005 سے 2024 تک جمع کیے گئے، تاہم 2020 میں کووڈ-19 وبا کے باعث ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحانات نہ صرف سماجی قبولیت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ امریکی معاشرے میں خاندانی ساخت میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔