Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دہلی بنے گا خالصتان،9 تعلیمی اداروں کو بم کی دھمکی موصول

    دہلی بنے گا خالصتان،9 تعلیمی اداروں کو بم کی دھمکی موصول

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کی صبح متعدد اسکولوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔

    دہلی فائر سروس (ڈی ایف ایس) کے مطابق پہلی کال صبح 8 بج کر 33 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس ٹیمیں متاثرہ مقامات پر روانہ کر دی گئیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں واقع 9 اسکولوں کو ای میل کے ذریعے بم دھماکوں کی دھمکیاں دی گئیں۔ دھمکی موصول ہونے والے اسکولوں میں،لوریٹو کانوینٹ اسکول، دہلی کینٹ،کیمبرج اسکول، سری نیواسپوری (جنوبی دہلی)،وینکٹیشور اسکول، روہنی (نارتھ ویسٹ دہلی)،سی ایم اسکول، روہنی،بال بھارتی اسکول، روہنی،کیمبرج اسکول، نیو فرینڈز کالونی (جنوبی دہلی)،دی انڈین اسکول، صادق نگر (جنوبی دہلی)،ڈی ٹی اے اسکول، آئی این اے شامل ہیں،حکام کے مطابق مزید اسکولوں کو بھی اسی نوعیت کی دھمکیاں موصول ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق دھمکی آمیز ای میل میں انتہائی اشتعال انگیز اور خوفناک زبان استعمال کی گئی۔ ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ “دہلی خالصتان بنے گا، پنجاب خالصتان ہے، افضل گرو کی یاد میں”۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ 13 فروری کو دوپہر 1 بج کر 11 منٹ پر پارلیمنٹ میں دھماکہ ہوگا۔

    سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر تمام متاثرہ اسکولوں کو خالی کروا کر تلاشی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ طلبہ اور عملے کی حفاظت کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کسی مشتبہ شے کی برآمدگی کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔حکام کے مطابق ای میل بھیجنے والے عناصر کا سراغ لگانے کے لیے سائبر سیل کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے، جبکہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

  • سانحہ بھاٹی گیٹ، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم

    سانحہ بھاٹی گیٹ، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم

    بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ماں بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ عدالت نے صلح کی بنیاد پر گرفتار پانچوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ فریقین کے مابین صلح ہو چکی ہے، اس لیے ملزمان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے مدعی کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ملزمان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔سماعت کے دوران مدعی نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے بعد فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے صلح ہو چکی ہے اور وہ ملزمان کے خلاف مزید کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مدعی نے واضح طور پر کہا کہ ملزمان کو بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    عدالت نے مدعی کے بیان اور فریقین کی رضامندی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ صلح کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، بشرطیکہ مدعی کو کوئی اعتراض نہ ہو۔

    واضح رہے کہ تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر رکھا تھا، جس میں لاپرواہی اور غفلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ماں بیٹی کی المناک موت پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا رہا، جبکہ شہریوں کی جانب سے کھلے مین ہولز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔

  • ایران میں ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام گرفتار

    ایران میں ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام گرفتار

    ایران میں اصلاح پسندوں کے اتحاد ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام کو پاسدارانِ انقلاب نے گرفتار کر لیا ہے، جب کہ اسی روز ریفارم فرنٹ سے تعلق رکھنے والے مزید تین سیاستدانوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جواد امام کو گزشتہ روز ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کی کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی گئی، جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گرفتار افراد کو کہاں رکھا گیا ہے یا ان سے کب عدالت میں پیشی کرائی جائے گی۔ایرانی عدلیہ کے مطابق گرفتار سیاستدانوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حالیہ مظاہروں کے دوران ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے میں ملوث رہے۔

    ایرانی عدلیہ کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کرنے کا بھی الزام ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف سماجی و سیاسی مسائل پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جن کے بعد حکام کی جانب سے متعدد کارکنوں اور سیاستدانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاستی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں، جب کہ ناقدین ان اقدامات کو سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

  • طالبان انٹیلیجنس سے منسلک سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب

    طالبان انٹیلیجنس سے منسلک سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب

    طالبان انٹیلیجنس (GDI) سے منسلک اکاؤنٹس ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلانے میں بے نقاب ہو گئے ہیں، جس کے تحت کراچی کے ایک معروف تاجر کو جھوٹے طور پر داعش-خراسان کا کمانڈر ظاہر کیا گیا۔

    گزشتہ تین ہفتوں سے یہ طالبان سے منسلک اکاؤنٹس خیبر ضلع کے علاقے تیراہ میں مبینہ طور پر ISKP کی موجودگی سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلا رہے تھے۔اسی مہم کے دوران ایک جعلی شناخت “حافظ زبیر موحد” گھڑی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ تیراہ میں داعش-خراسان کی قیادت کر رہا ہے۔ انہی اکاؤنٹس نے یہ بھی جھوٹا الزام لگایا کہ مذکورہ شخص اسلام آباد خودکش حملے کے وقت اسلام آباد میں موجود تھا۔جسے داعش-خراسان کا کمانڈر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ کسی بھی طرح کا شدت پسند نہیں۔ “حافظ زبیر موحد” کے جعلی نام سے گردش کرنے والی تصویر دراصل حافظ محمد کی ہے، جو کراچی کے ایک معروف تاجر اور پراپرٹی ڈیلر ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہیں۔

    طالبان انٹیلیجنس سے منسلک اکاؤنٹس نے دانستہ طور پر ان کا نام حافظ محمد سے بدل کر حافظ زبیر رکھا، انہیں جھوٹے طور پر داعش سے جوڑا اور خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ میں داعش-خراسان کا کمانڈر قرار دیا۔ حقیقت میں حافظ محمد کا داعش سے کوئی تعلق نہیں اور انہوں نے آج تک کبھی تیراہ کا دورہ بھی نہیں کیا۔

  • ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو صرف سندھ نظر آتا ہے،شرجیل میمن

    ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو صرف سندھ نظر آتا ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جس نے بات کرنی ہے اسمبلی میں آئے، مسائل پاکستان کے ہر شہر میں ہیں، دو سیاسی جماعتیں ایسی ہے جن کی سیاست تنقید کرنے کی ہے، اگر یہ تنقید نہیں کریں گے تو ان کی سیاست کیسے چلے گی؟

    سندھ اسمبلی میڈیا کارنر میں گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے، وہ اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں حملے کرا رہا ہے، فیک اکاؤنٹ سے مذہبی انتشار کی مہم چلائی گئی، ساری بزدلانہ کارروائی بھارت کی طرف کی جا رہی ہیں، کوئی بھی دشمن ملک ایسی کارروائیاں کرے گا تو ہم اسے منہ توڑ جواب دینے کو تیار ہیں،اسلام آباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، دہشت گردوں نے معصوم لوگوں پر حملہ کیا، جو دشمن ممالک سامنے آ کر لڑ نہیں سکتے وہ پراکسی کے ذریعے سازشیں کر رہے ہیں،افغان طالبان کی مدد اور بھارتی سرپرستی میں اسلام آباد میں کیا گیا خودکش حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگوں میں ناکامی کے بعد یہ عناصر بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ مسائل پاکستان کے ہر شہر میں ہیں، دو سیاسی جماعتیں ایسی ہے جن کی سیاست تنقید کرنے کی ہے، اگر یہ تنقید نہیں کریں گے تو ان کی سیاست کیسے چلے گی؟ اگر یہ مخالفت نہیں کریں گے تو سیاست کیا کریں گے؟ یہی مخالفت کہیں اور نظر نہیں آئے گی، باقی صوبوں میں واقعات ہوئے تو ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی خاموش کیوں رہیں؟ ان کی سیاست کا دارومدار تنقید پر ہے، اتوار کو ہڑتال کی کال دی گئی، ویسے ہی بند ہوتا ہے، چند دن پہلے سندھ اسمبلی نے کامن ویلتھ کی میزبانی کی، ایک تاریخی پروگرام ہوا، پیغام گیا کہ پاکستان اور سندھ امن کا گہوارا ہیں، مائی کراچی بھی چند دن پہلے ہوا، ڈیفنس ایکسپو بھی کراچی میں ہوتی ہے، یہاں ایسے ایونٹ ہوتے رہتے ہیں، ورلڈ بینک کے وفد نے بھی سندھ حکومت کے اقدامات کی تعریف کی، دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پروجیکٹ سندھ حکومت بنا رہی ہے، سندھ حکومت نے ہر شہر اور منصوبے کو فوکس کر رکھا ہے، کوشش ہے کہ تمام منصوبے وقت پر مکمل کیے جائیں۔

  • پشاور میں "چوہے” بڑھ گئے، شہریوں کی عدالت میں درخواست

    پشاور میں "چوہے” بڑھ گئے، شہریوں کی عدالت میں درخواست

    پشاور کے کئی علاقوں میں چوہوں کی بڑھتی تعداد کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

    درخواست ورسک روڈ، چارسدہ روڈ، بشیر آباد اور دیگر علاقوں کے شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ہے،پشاور ہائیکورٹ میں‌دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال کی وجہ سے چوہوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چوہوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے،ناقص سیوریج انتظامات کی وجہ سے چوہوں کی افزائش ہورہی ہے، حکومت اور انتظامیہ کو لوگوں نے کئی بار اس مسلے کو اجاگر کیا،
    2016 میں بھی یہ مسئلہ پیدا ہوگیا تھا، چوہوں کا انسانوں کو کاٹنے کے واقعات میں بے حد اضافہ ہوگیا تھا،صرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 423 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس میں چوہوں نے انسانوں کو کاٹا تھا،2016 میں پشاور انتظامیہ نے سکیم شروع کیا تھا جس میں چوہوں کے مارنے پر پیسے دیئے جاتے تھے، حکومت شہر میں چوہوں کے خلاف اقدامات کریں، تاکہ یہ مسلہ مزید سنگین نہ ہوجائے،درخواست میں صوبائی حکومت، محکمہ صحت، ڈی سی، چیف ایگزیکٹو ڈبلیو ایس ایس پی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • صحافی  زین ملک کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین

    صحافی زین ملک کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین

    لاہور کے معروف صحافی زین ملک کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جس کے بعد مرحوم کو مقامی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔ زین ملک کے انتقال سے صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    مرحوم کی نمازِ جنازہ میں اہلِ خانہ، قریبی عزیز و اقارب، دوست احباب اور صحافتی برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی، جبکہ شرکاء مرحوم کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا گو رہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ساندہ کےرہائشی صحافی زین ملک چھت سے گرکر جاں بحق ہو گئے تھے،صحافی زین ملک کو زخمی حالت میں میاں منشی ہسپتال منتقل کیاگیاتھا تا ہم وہ دم توڑ گئے،زین ملک لاہور کے مختلف چینلز پر بطور رپورٹر کام کرتا رہا ہے ،زین ملک نے آپ نیوز میں بطور سپورٹس رپورٹربھی کام کیا۔وہ جی این این میں بطور سپورٹس رپورٹر کا کام کر رہے تھے۔صحافی زین ملک سابق صدر لاہور پریس کلب میاں شہباز کے کزن تھے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے نجی ٹی وی کے میڈیا ورکر زین ملک کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔عظمی بخاری نے کہا کہ میری تمام ہمدردیاں غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں اور ہم اس صدمے میں ان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے میڈیا ورکر زین ملک کے اہلخانہ سے اپنی تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور ان کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے وفد کا پرجوش استقبال کیا اور صحت، تعلیم، اپنی چھت، اپنا گھر، ستھرا پنجاب اور موسمیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ورلڈ بینک اور پنجاب کے درمیان شراکت داری پر گفتگو کی۔ عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے فلاحی منصوبوں کو سراہا اور پنجاب میں جاری ٹورازم، ایجوکیشن، ہیلتھ اور سکل ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو قابل تحسین قرار دیا،پنجاب میں مختلف شعبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل گورننس اور جامع ترقی کے لیے سپورٹ اور سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی،

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور صحت و تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، جن میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب، ورلڈ بینک کے ساتھ مالی استحکام اور قابل عمل کاروباری ماڈلز کے ذریعے مسلسل تعاون کا خواہاں ہے،وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے اشتراک سے ”کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” تیار کیا جا رہا ہے اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک نہ صرف صوبے میں آئی ٹی انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے گا بلکہ اقتصادی ترقی کو بھی متحرک کرے گا،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، گورننس اور زراعت میں بہتری کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد صوبے میں کارکردگی، شفافیت اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مزید کہا کہ آئی ٹی سٹی، عالمی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز اور ای-پروکیورمنٹ جیسے اقدامات گورننس سسٹم میں بہتری لا رہے ہیں، ورلڈ بینک کے تعاون سے آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ ”اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام کے ذریعے سستی رہائش فراہم کی جا رہی ہے اور مستحق افراد کے لیے ”نگہبان پیکج” اور ”ہمت کارڈ” جیسی سماجی بہبود کی اسکیمیں بھی شروع کی گئی ہیں۔

  • لاہور میں انسدادِ پولیو ٹیموں پر تشدد کے واقعات، 8 ملزمان کے خلاف مقدمات درج

    لاہور میں انسدادِ پولیو ٹیموں پر تشدد کے واقعات، 8 ملزمان کے خلاف مقدمات درج

    لاہور: شہر کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں پر تشدد کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 8 افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعات ہربنس پورہ اور شاہدرہ کے علاقوں میں پیش آئے، جہاں پولیو ٹیموں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شدید مزاحمت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہربنس پورہ میں انسدادِ پولیو ٹیم جب بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مصروف تھی تو ملزمان نے نہ صرف ٹیم کے ارکان کو دھمکایا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    اسی طرح شاہدرہ کے علاقے چمن کالونی میں بھی انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق وہاں ٹیم کے انچارج سمیت دیگر عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں 8 افراد ملوث پائے گئے ہیں، جن کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، سرکاری اہلکاروں پر تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ٹیموں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔دوسری جانب شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے اور پاکستان کو پولیو فری بنانے کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔

  • پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی ،سینئر صحافی حامد میر، پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ کو چیلنج کر رکھا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وکیل میاں سمیع الدین نے دلائل دیے ،وکیل نے متنازع پیکا ایکٹ میں ترمیم کے بعد شامل کی گئی شقیں پڑھ کر سنائیں ،وکیل نے کہا کہ جو اختیارات عدلیہ کے پاس ہونے چاہئیں وہ ایگزیکٹو کو دے دی گئیں، جوڈیشل ٹریبونل ہونا چاہیے جس کا چیف جسٹس کی مشاورت سے تقرر ہو،سیکشن ٹو سی جعلی اور جھوٹی سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی سے متعلق ہے، جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ فیک انفارمیشن کے متعلق فیصلہ کون کرے گا کہ معلومات غلط اور جھوٹی ہیں؟ یہ بتائیں اور سمجھائیں کہ فیک نیوز کا تعین کیسے کرنا ہے؟ فیک نیوز پر پروسیڈنگ کیسے شروع ہو گی؟ وکیل نے کہا کہ کمپلینٹ فائل کرنے کا ایک نیا طریقہ بتا دیا گیا ہے کہ متاثرہ فریق کے علاوہ تھرڈ پارٹی بھی کمپلینٹ فائل کر سکتی ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس سے کوئی پراکسی بھی کمپلینٹ دائر کر سکے گی اور اس قانون کا غلط استعمال ہو گا، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فیک انفارمیشن سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے،فیک انفارمیشن ایک غلطی بھی ہو سکتی ہے جس کا کسی کو نقصان نہ ہو،

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چوہدری روسٹرم پر آ گئے ،آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ پی ایف یو جے پچھلے سال چھ فروری کو یہ کیس لے کر عدالت آئی تھی، کیس زیر التواء ہے اور اسٹے نہیں ملا اس دوران ہمارے دو درجن سے زائد صحافیوں کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی،سڑک کی جلد توڑ پھوڑ پر تعمیر میں ناقص مٹیریل کے استعمال کی خبر دینے والے پر بھی مقدمہ درج کر لیا گیا،یہ قانون سازی ہے، اس کو حکم امتناع سے معطل نہیں کیا جا سکتا، کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے، عدالت نے کیس پر مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی