Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک فوج کی فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد

    پاک فوج کی فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد

    بلوچستان میں بھارتی پروکسی فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں نے پاک فوج کی فوری امداد اور بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔

    حالیہ بربریت کے دوران پاک فوج عوام کی حفاظت کے لیے میدان میں ڈٹی رہی، جس پر متاثرہ خاندانوں کی جانب سے پاک فوج کے بروقت ایکشن کی بھرپور پزیرائی کی گئی۔نوشکی بلوچستان سے تعلق رکھنے والی متاثرہ لڑکی نے پاک فوج کی جُرات و قربانی کو سراہتے ہوئے بتایا کہ رات کے چار بجے بلوچی لباس پہنے دو دہشتگردوں نے ان پر حملہ کیا اور اس کے پورے خاندان کو نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق پاک فوج نے بروقت پہنچ کر ان کی حفاظت کی اور ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں بہترین نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔

    اسی طرح گوادر بلوچستان سے تعلق رکھنے والی زخمی خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے انہیں بحفاظت ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا اور ان کا بھرپور خیال رکھا۔

  • بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ عدالت پیش

    بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ عدالت پیش

    اڈیالہ جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

    بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ ایڈیشنل سپرینڈنٹ جیل جماعت علی شاہ نے عدالت میں جمع کرائی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پرزن رولز کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کرایا گیا ہے، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کو جیل رولز کے مطابق میڈیکل کی تمام سہولت فراہم کی جارہی ہیں،

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک عدالت میں موجود تھے۔ دور روز قبل عدالت نے رپورٹ پیش نہ کرنے پر سپرینڈنٹ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس بھیجا تھا۔ عدالت نے آج اڈیالہ جیل حکام سے بانی پی ٹی آئی کی رپورٹ طلب کی تھی۔بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے انکے ذاتی معالجین کی اڈیالہ جیل میں رسائی کی درخواست دائر کی کررکھی ہے

    اڈیالہ جیل کے دو افسران نے آج عدالت پیش ہوکر رپورٹ پیش کردی۔ درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل چیک اپ سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔ عدالت نے بانی کی سات مقدمات میں درخواست ضمانت پر سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔

  • کراچی: سینیئر کامرس رپورٹر ،رکن کراچی پریس کلب رفیق بشیر چل بسے

    کراچی: سینیئر کامرس رپورٹر ،رکن کراچی پریس کلب رفیق بشیر چل بسے

    کراچی کے سینئر کامرس رپورٹر، معروف صحافی اور کراچی پریس کلب کے رکن رفیق بشیر طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق رفیق بشیر گزشتہ دو ماہ سے بسترِ علالت پر تھے ، آج وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم نے صحافت کے شعبے میں دہائیوں پر محیط خدمات انجام دیں اور اپنی پیشہ ورانہ دیانت، تحقیقی رپورٹنگ اور شائستہ مزاج کے باعث صحافی برادری میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔رفیق بشیر کراچی پریس کلب کے سینئر رکن تھے جبکہ روزنامہ جنگ، کراچی میں بطور رپورٹر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وہ روزنامہ جنگ کی اسٹاف یونین کے صدر بھی رہ چکے تھے اور اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی کے سابق رکن کے طور پر بھی ان کی خدمات یاد رکھی جائیں گی۔

    مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ مغرب مدنی مسجد، سیکٹر 16-A، ملک سوسائٹی، اسکیم 33 میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین سخی حسن قبرستان میں ہوگی۔ صحافتی تنظیموں، ساتھیوں اور دوست احباب نے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم رفیق بشیر کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،جج کے سمجھانے پر میاں بیوی صلح پر تیار

    اسلام آباد ہائیکورٹ،جج کے سمجھانے پر میاں بیوی صلح پر تیار

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں بیوی کے درمیان دلچسپ غیر معمولی فیملی کیس ، جسٹس محسن اختر کیانی اور میاں بیوی کے درمیان اہم مکالمہ ، جج کے سمجھانے پر میاں بیوی صلح پر تیار ہو گئے

    عدالت نے دونوں کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام بچوں کو عدالت پیش کیاجائے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بچوں کوتقسیم نہیں کیا جاسکتا، میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل مت کریں، گھربیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں، میری جائیداد بھی میری اہلیہ کے نام ہے،جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں کے دشمن ہیں، میاں بیوی خود جو معاملہ حل کرسکتے وہ جج اور وکیل نہیں کرسکتے،

    میاں، بیوی اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے بچے ہیں اور کس کس عمر کے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ساڑھے بارہ سے ساڑھے چار سال کی عمر کے چار بچے ہیں،دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، ایک چھوٹا بیٹا خاتون کے پاس جبکہ تین بچے خاوند کے پاس ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا میاں بیوی میں علیحدگی ہوگئی ہے،میاں بیوی نے عدالت میں بیان دیا کہ علیحدگی نہیں ہوئی اور نہ علیحدگی چاہتے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ دونوں میں علیحدگی نہیں ہوئی،پھر مسئلہ کیا ہے کہ چار سال سے الگ رہ رہے ہیں،خاوند نے عدالت میں کہا کہ علیحدگی نہیں چاہتا نہ دوسری شادی کی، یہ کہتی ہے گھرمیرے نام کرو، جسٹس محسن اختر کیانی نےکہاکہ یہ توکوئی بڑی بات نہیں ہے، میں نے بھی اپنی ساری جائیداد اہلیہ کے نام کی ہوئی ہے، میاں بیوی خود جو معاملہ حل کرسکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کرسکتے، عدالت نے میاں بیوی کو ہدایت کی کہ عرصہ سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے دونوں بیٹھ کر معاملہ حل کریں،ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں، ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو خاموش رہناچاہیے، ہر خاتون گھر میں سخت ہوتی ہے،عورت کا حوصلہ ہوتاہے کہ ماں باپ کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہتی ہے، اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے چند سالوں میں یہ بڑے ہوجائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے، اس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو کام نہیں آئے گی،

    عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے،عدالت نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کردی،عدالت نے میاں بیوی کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کا عدالت پیش کیاجائے،عدالت نے سماعت آئندہ جمعہ تک کیلئے ملتوی کردی

  • شائننگ انڈیا کی سیاہ حقیقت بے نقاب، بھارتی دارالحکومت سے روزانہ درجنوں افراد لاپتہ

    شائننگ انڈیا کی سیاہ حقیقت بے نقاب، بھارتی دارالحکومت سے روزانہ درجنوں افراد لاپتہ

    نااہل مودی کی کرپٹ سرکار میں روزانہ درجنوں مردوخواتین لاپتہ ہونا شائننگ انڈیا کے مضحکہ خیزدعوؤں پرسیاہ داغ ہے

    ہندوتوا کےزیراثرحکومت عوامی مسائل سے لاتعلق،توجہ صرف انتہا پسندی سے اقتدار مضبوط کرنے پر مرکوزہے،ہندوستان ٹائمز نے ریاستی مشینری کی ناکامی کا پول کھول دیا،جنوری 2026کے پہلے15روزمیں بھارتی دارالحکومت دہلی سے 509خواتین سمیت 807افراد لاپتہ ہوئے، لاپتہ ہونے والوں میں 191 کم عمر بچے بھی شامل ،دہلی خواتین اور بچوں کیلئے غیرمحفوظ ہوگیا، گذشتہ برس بھی دہلی سے ساڑھے24 ہزار سے زائد افرادلاپتہ ہوئے، جن میں 60 فیصد سے زائدخواتین شامل ہیں ،

    بھارت کو جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کے سبب گذشتہ برسوں میں ریپ کیپٹل آف دی ورلڈ بھی قرار دیا جا چکا ہے،بین الاقوامی ماہرین کے مطابق نا اہل مودی حکومت کے خطے پر حکمرانی کے غیر حقیقی دعوے، بھارت میں خواتین اور کمزور طبقات کے خلاف بڑھتے جرائم نے مضحکہ خیز ثابت کر دیئے ہیں، تجزیہ کاروں کی رائے میں بھارت میں بڑھتا تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی ریاستی نگرانی اور ادارہ جاتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے

  • افغانستان،عوام بارودی سرنگوں کے مہلک خطرے سے دوچار

    افغانستان،عوام بارودی سرنگوں کے مہلک خطرے سے دوچار

    افغان طالبان رجیم کے دعوے حقیقت سےکوسوں دور، عوام بارودی سرنگوں کے مہلک خطرے سے دوچار ہیں

    افغان طالبان رجیم عوام کے جان و مال کو لاحق خطرات کو پس پشت ڈال کر خطے میں دہشتگردی پھیلانے میں مصروف ہیں،بارودی سرنگوں کے خاتمے کے طالبان کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، اقوامِ متحدہ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ،اقوام متحدہ کی افغانستان میں امدادی مشن(یوناما) کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بارودی سرنگیں جان لیوا خطرہ بن گئیں، متاثرین کی شرح دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئی،افغانستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے متاثرین میں 80 فیصد بچے شامل ہیں، 33 لاکھ افغان شہری دھماکہ خیز اور بارودی سرنگوں والے علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس کے مطابق گذشتہ سال بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے درج کیے گئے 471 واقعات میں 314 بچے شامل ہیں

    سیکیورٹی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی توجہ شہری تحفظ کے بجائے دہشتگرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی پر ہےجو خطے کے لیے طویل المدتی خطرہ بن چکا ہے ،بارودی سرنگوں کے خاتمے میں ناکامی طالبان رجیم کی انتظامی نااہلی اور غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے، جس کا خمیازہ افغان معصوم شہری بھگت رہے ہیں،

  • ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرین پر نازیبا ویڈیو چلانے والا ملزم  گرفتار

    ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرین پر نازیبا ویڈیو چلانے والا ملزم گرفتار

    پولیس نے خیابان اتحاد میں ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرین پر نازیبا ویڈیو چلانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ گزشتہ روز گزری تھانے میں درج کیا گیا تھا جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا، ملزم ایڈورٹائزنگ کمپنی کا ہی ملازم ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق کمپنی کے آپریشن ڈائریکٹر نے فون پر بتایا کہ فیز 8 میں نصب ایس ایم ڈی اسکرین پر وقفے وقفے سے غیر اخلاقی وڈیو کلپس چل رہے ہیں، اطلاع ملتے ہی فوری طور پر اسکرین کو بند کروا دیا گیا تھا،حکام کے مطابق احتیاطی تدابیر کے تحت ڈی ایچ اے کی اہم شاہراہوں کے علاوہ شاہراہِ فیصل اور کارساز روڈ پر نصب متعدد ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا۔

  • پاکستان 2026 کے لیے ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کا صدر منتخب

    پاکستان 2026 کے لیے ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کا صدر منتخب

    اسلام آباد: پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی اور ٹیکنالوجیکل کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں پاکستان کو 2026 کے لیے ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔

    اس کامیابی کو ملک کے ڈیجیٹل مستقبل، آئی ٹی شعبے اور عالمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ڈی سی او کی صدارت سنبھالنے پر اپنے ردِعمل میں اسے ملک و قوم کے لیے باعثِ فخر اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت میں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن نہ صرف رکن ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف بھی مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے گا۔

    شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ بطور صدر پاکستان کو مصنوعی ذہانت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اکانومی، سائبر سیکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے اپنی پالیسیوں اور وژن کو عالمی فورمز پر پیش کرنے کا ایک مضبوط موقع ملے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ڈیجیٹل اختراعات، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ایک متحرک نوجوان آبادی، مضبوط آئی ٹی ٹیلنٹ اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر موجود ہے، جو اسے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ڈی سی او کی صدارت پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، بین الاقوامی شراکت داری اور ڈیجیٹل اصلاحات کے نئے دروازے کھولے گی۔

    ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن ایک بین الحکومتی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینا، ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی ترقی کو ممکن بنانا اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی صدارت نہ صرف ملکی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی بلکہ خطے اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کرے گی۔ڈی سی او کی صدارت پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے

  • نواز شریف کا بھی بسنت منانے کا فیصلہ

    نواز شریف کا بھی بسنت منانے کا فیصلہ

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی لاہور میں بسنت کی بعض تقریبات میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے بسنت کے موقع پر ایک دن اندرونِ شہر میں گزارنے کا پروگرام ترتیب دیا ہے، جہاں وہ اپنے قریبی اور پرانے دوستوں کے ساتھ بسنت منائیں گے اور ماضی کی یادیں تازہ کریں گے۔نواز شریف ممکنہ طور پر بلال یاسین کے گھر کی چھت پر بسنت منائیں گے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرونِ لاہور میں منعقد ہونے والی اس نجی تقریب میں محدود افراد کو مدعو کیا گیا ہے، جہاں روایتی انداز میں بسنت کا جشن منایا جائے گا۔ نواز شریف اس موقع پر لاہوری ثقافت، پرانی روایات اور اپنے بچپن و لڑکپن کی یادوں کو بھی دوستوں کے ساتھ شیئر کریں گے۔

    نواز شریف کو لاہوری کلچر سے خصوصی لگاؤ ہے اور وہ ہمیشہ بسنت کو پنجاب کا ایک اہم ثقافتی اور موسمی تہوار قرار دیتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے نواز شریف محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے متحرک رہے اور اس حوالے سے پنجاب کے کلچر اور ثقافت سے وابستہ افراد سے متعدد ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بسنت کو ایسے طریقے سے منایا جائے جس سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہ ہو۔نواز شریف کا مؤقف ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ پنجاب کی تہذیب اور ثقافت کی نمائندہ علامت ہے۔ ان کے مطابق بسنت کے ذریعے نہ صرف پنجاب کا مثبت تشخص اجاگر ہوتا ہے بلکہ اس سے مقامی معیشت، سیاحت، دستکاری، پتنگ سازی اور دیگر وابستہ کاروباروں کو بھی فروغ ملتا ہے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اندرونِ لاہور میں اپنے بچپن اور لڑکپن کا خاصا وقت گزارا ہے اور بسنت ان یادوں کا اہم حصہ رہی ہے، اسی لیے وہ اس تہوار کو محفوظ انداز میں بحال کرنے کے حامی رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ لاہور میں 6 سے 8 فروری تک بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے، جس کے لیے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور شہریوں کی جانب سے بھرپور انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر بھر میں چھتوں، گلیوں اور کھلے مقامات پر بسنت کی رونقیں دیکھنے میں آ رہی ہیں جبکہ سیکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اور 5 فروری کو خیبرپختونخوا میں 2 الگ جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 خوارج مارے گئے،ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا، آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج ہلاک کر دیے گئے، ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا، ضلع خیبر میں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 خوارج ہلاک کردیے گئے،علاقے میں دیگر بھارتی سرپرست خوارج کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہیں، کلیئرنس آپریشنز کا مقصد باقی دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے، انسداد دہشت گردی مہم وژن عزمِ استحکام کے تحت جاری ہے، بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف فورسز کا فیصلہ کن کریک ڈاؤن جاری ہے۔