Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، غیر ملکی جہاز کی آمد

    گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، غیر ملکی جہاز کی آمد

    مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی بحری راستوں میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں بحری جہازوں کا رخ پاکستان کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ اسی سلسلے میں گوادر پورٹ پر ایک اور غیر ملکی جہاز کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ایم وی ریوا گلوری نامی جہاز 14 ہزار 619 میٹرک ٹن کارگو لے کر گوادر پورٹ پہنچا، جو بندرگاہ پر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا واضح اشارہ ہے۔وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے بھی جہاز کی آمد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت خطے میں پاکستان کے اسٹریٹجک کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بندرگاہی نظام کو مزید فعال بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث متبادل بحری راستوں کی تلاش میں گوادر پورٹ ایک محفوظ اور مؤثر آپشن کے طور پر ابھر رہا ہے، جو مستقبل میں پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں تیز، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوگیا ،گوادر پورٹ خطے میں ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ تجارت کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، پاکستان گوادر بندرگاہ کو عالمی معیار کا میرین گیٹ وے بنانے کے لیے پرعزم ہے

  • اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

    اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

    عالمی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے "اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں دو مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی شامل ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک حتمی اور جامع معاہدہ طے پائے گا۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبرداری کی یقین دہانی شامل ہوگی، جبکہ اس کے بدلے میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کی پیشکش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس اہم سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے گزشتہ رات بھر امریکی نائب صدرجے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔

    تاہم دو پاکستانی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی گئی، حالانکہ سفارتی اور عسکری سطح پر رابطوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر "اسلام آباد معاہدہ” کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے جامع جنگ بندی کا فریم ورک امریکا اور ایران کے ساتھ شیئر کر دیا،جنگ بندی تجویز سے واقف ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے شیئر فریم ورک 2 مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ بعد میں جامع معاہدہ شامل ہے۔ امریکا اور ایران کو جارحیت کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا منصوبہ موصول ہو گیا،رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے متعلق تمام عناصر پر آج اتفاق ہونا ضروری ہے۔ ابتدائی مفاہمت کو ایک یادداشت مفاہمت کے طور پر تشکیل دیا جائے گا۔ ایران جنگ بندی منصوبہ آج سے نافذ العمل ہو سکتا ہے،

    خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان، چین اور امریکا کے وقتی جنگ بندی کی تجاویز پر ایران کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔،سینئر ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی تجویز موصول ہوئی ہے، جائزہ لیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ایران کسی فیصلے کے لیے کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر دھمکیوں اور گالیوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پرانی ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کی توسیع کردی، معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن کا وقت منگل رات 8 بجے ایسٹرن ٹائم جاری کردیا۔ جو ایران میں بدھ کی صبح 3:30 اور پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5 بجے ہے۔

  • امریکا و اسرائیل کے حملے، ایران کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی شہید

    امریکا و اسرائیل کے حملے، ایران کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی شہید

    امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے انٹیلی جنس چیف میجر جنرل مجید خادمی شہید ہوگئے ہیں، ایرانی میڈیا نے اس کی تصدیق کردی۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق مجید خادمی کو 2025ء میں ایران کا انٹیلی جنس چیف تعینات کیا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ میجر جنرل مجید خادمی آج صبح امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔

    ترجمان پاسداران انقلاب گارڈز کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ شام خارگ جزیرے کے قریب ایک امریکی لوکس ڈرون مار گرایا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ جاری جنگ کے دوران مار گرائے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 163 ہو گئی ہے۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران پر ہونے والے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 6 بچے بھی شہید ہوگئے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف

    پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف

    بااثر قیادت کی دور اندیشی اور مضبوط ویژن کے تحت پاکستان دنیا بھر میں معاشی، سفارتی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے

    بھارتی میڈیا پر پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیت، سفارتی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملی کے بھرپور چرچے دیکھنے کو مل رہے ہیں، بھارتی میڈیا پر موثر پاکستانی ڈپلومیسی کی ستائش عالمی محاذ پر پاکستان کی سفارتی برتری کا اعتراف ہے ،ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ مہینوں میں پاکستانی قیادت کی تعریف نے دوطرفہ تعلقات کے ذاتی پہلو کو مزید اجاگر کیا ،زیکری وٹکوف سے روابط نے واشنگٹن میں پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے، پاکستان کی اس سفارتی رسائی کے پیچھے بلال بن ثاقب کا کلیدی کردار رہا ہے جو 2025 میں تیزی سے پالیسی سازی کے نظام میں ابھرے ہیں،بلال بن ثاقب نے 2025 کے دوران عالمی کرپٹو شخصیات سے روابط استوار کیے جن میں بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ، کیتھی ووڈ اور مائیکل سیلر شامل ہیں،

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق؛ بلال بن ثاقب ٹرمپ کے کرپٹو منصوبے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے مشیر بنے، جو ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی ،پاکستان نے اسی کرپٹو ڈپلومیسی کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دیا ہے،

    باصلاحیت افرادی قوت، ڈیجیٹل معیشت کی صلاحیت پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے

  • امریکا ایران جنگ ختم کرنے کا منصوبہ،پلان پر آج ہی رضامندی ضروری

    امریکا ایران جنگ ختم کرنے کا منصوبہ،پلان پر آج ہی رضامندی ضروری

    امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ مل گیا۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضا مندی ضروری ہے۔

    سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے، پاکستان کی جانب سے ملنے والے مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں، فیصلے کیلئے ایران کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران عارضی جنگ بندی کیلئے آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا، ہمیں لگتا ہے امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری شامل ہے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضامندی ضروری ہے، مجوزہ منصوبے میں پہلے جنگ بندی اور پھر حتمی معاہدہ شامل ہے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ منصوبے پر اتفاق ہوگیا تو 20 دن میں حتمی معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی، فوری طور پر جنگ بندی ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ منگل تک ایران نے کچھ نہ کیا تو ان کے پاس کوئی بجلی گھر اور کوئی پل نہیں رہے گا، کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو اور اے بی سی نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ معاہدہ نہ ہوا تو پورے ایران کو تباہ کرسکتے ہیں، مشرق وسطیٰ کا تنازع ہفتوں میں نہیں، دنوں میں ختم ہونا چاہئے، ایران میں زمینی کارروائی ضروری نہیں لیکن خارج از امکان بھی نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج فوجی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے، اہم اعلان متوقع ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ زمینی کارروائی ہوئی یا کوئی بھی جارحیت، ہم تیار ہیں، فیصلہ کن جواب دیں گے،ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان پر ردعمل دیدیا، ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی ریسکیو آپریشن کے دوران کئی طیاروں کو نشانہ بنایا، ٹرمپ کو احساس ہوگیا ہوگا کہ وہ جنگ کی دلدل میں دھنس چکے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے بیانات سے ٹرمپ اور ان کی فوج کے اسکینڈل ٹھیک نہیں ہوں گے، امریکا، اسرائیل کو جارحیت کا فیصلہ کن جواب ملے گا۔

    پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ٹرمپ کو پیغام دیا ہے کہ ٹھنڈے ہوجاؤ، تاریخ کا مطالعہ کرو، اپنا نقصان وقار کے ساتھ تسلیم کرو، بہانے مت بناؤ۔ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پر تباہ شدہ امریکی طیاروں کی تصویر شیئر کردی۔ لکھا کہ یہ تو بس شروعات ہے۔ایرانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے غیرمناسب رویے پر ان کا مواخذہ ہونا چاہیے، امریکی صدر کو اعلیٰ عہدے کیلئے نااہل قرار دینا چاہیے، تمام ذمہ داری کانگریس، کابینہ اور ٹرمپ کو منتخب کرنیوالوں پر عائد ہوتی ہے، 25 ویں آئینی ترمیم نافذ نہ کرنا کابینہ کی سنگین غلطی ہے۔

    علاوہ ازیں ٹرمپ کا پائلٹ بچاؤ مشن امریکا کو بہت مہنگا پڑا، امریکی صدر کا کامیابی کا دعویٰ مگر نقصان بہت زیادہ، ایک فوجی کو بچانے کیلئے 4 مروادیئے، ایک سی 130 طیارہ، دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور کئی ڈرونز تباہ ہوئے۔نیویارک ٹائمز تہلکہ خیز مشن کی تفصیلات سامنے لے آیا، ٹرمپ کا ایران کی فضاؤں پر مکمل غلبے کا بھی کھوکھلا دعویٰ، مسلسل بمباری کرکے ایرانی فوج کو دور رکھا گیا۔آپریشن میں سیکڑوں اہلکاروں، درجنوں طیاروں نے حصہ لیا، امریکی فوج نے واپسی سے پہلے ناکارہ طیاروں کو تباہ کیا، بڑے نقصانات کے باوجود ٹرمپ نے آپریشن کامیاب قرار دیا۔

  • بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    گرفتارافغان دہشتگرد نےٹی ٹی اےکیساتھ مل کر پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں پرحملوں کا اعتراف کیا ہے

    گرفتار دہشتگرد کا بھائی شیر افغان بھی ٹی ٹی پی سے وابستہ اورپکتیکا کا رہائشی ہے ،دہشتگرد گروپ کی قیادت “مسلم” نامی شخص کر رہا تھا،گرفتارافغان دہشتگرد نے پاک افغان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کو نشانہ بنایا ،گرفتار افغان دہشتگردحبیب اللہ پہلے بھی ایک ماہ قید میں رہا،کئی دہائیوں سے ایک سازش کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی گئی ،پاکستان اپنےشہریوں کے تحفظ کیلئےافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرحملہ کررہا ہے ،افغانستان کے عوام کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ،پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان نےمتعدد بارافغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےکے ٹھوس ثبوت فراہم کیے،

    حکومتِ پاکستان نے بارہا افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےسےروکنےکامطالبہ کیا ،حبیب اللہ اس سے قبل بھی گرفتار ہوا مگر جذبہ خیر سگالی کے تحت عام شہری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا مگرفتاردہشتگرد کوکُچلاک کےعلاقے سےدوبارہ گرفتارکیا گیاجس سےسرحدپاردہشتگردی کےروابط بے نقاب ہوئے ،ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے ہیں،اس گروپ کے دوسرے دہشتگردوں کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے

  • اپووا کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس،ایوارڈز تقسیم

    اپووا کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس،ایوارڈز تقسیم

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس کا انعقاد لاہور کے معروف ہوٹل پاک ہیریٹیج میں نہایت شاندار اور پروقار انداز میں کیا گیا۔ اس باوقار تقریب میں ملک بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جس سے یہ پروگرام ایک بھرپور، کامیاب اور یادگار اجتماع ثابت ہوا۔تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین میں ایوارڈز، میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جس نے شرکاء کے حوصلے کو مزید بلند کیا۔

    اپوواکی خواتین کانفرنس کے موقع پر باغی ٹی وی اور اپووا کے مشترکہ زیر اہتمام منعقد ہونے والے "شانِ پاکستان” تحریری مقابلے میں بہترین تحریریں پیش کرنے والے شرکاء میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ اپووا کے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لکھاریوں میں "شانِ پاکستان ایوارڈ” تقسیم کیے۔باغی ٹی وی کی جانب سے شان پاکستان ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی، رقیہ غزل،قرۃ العین خالد اور ماریہ خان شامل تھے، جن کی تحریروں کو معیار، موضوع اور قومی جذبے کے اعتبار سے بہترین قرار دیا گیا،

    خواتین کانفرنس میں وائس چیئرپرسن سوشل ڈویلپمنٹ جہاں آرا منظور وٹو، معروف سماجی کارکن عائشہ احد ملک، ڈپٹی سیکرٹری گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، اور اداکارہ، ماڈل و سوشل ورکر رابی پیرزادہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ اس کے علاوہ معروف ادیب و شاعر ناصر بشیر، ملک یعقوب اعوان اور دیگر علمی و ادبی شخصیات کی شرکت نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔تقریب کا آغاز حافظ محمد زاہد نے تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پڑھنے کی سعادت سکینہ خان نے حاصل کی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر فضیلت بانو نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض سمیرا شفق اور مدیحہ کنول نے احسن انداز میں سرانجام دیے۔ یہ شاندار تقریب بانی و صدر ایم ایم علی کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی۔اس موقع پر ہمدرد ادارہ کی جانب سے خواتین کے لیے خوبصورت تحائف اور تعریفی اسناد پیش کی گئیں، جس پر آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے سی ای او ہمدرد مس فاطمہ زہرہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ڈائریکٹر ہمدرد سید علی بخاری نے بھی تقریب میں شرکت کی اور نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں انعامات و تحائف تقسیم کیے۔

    مزید برآں، بذریعہ قرعہ اندازی بھی خواتین کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ دیگر شرکاء کے لیے بھی دلکش تحائف کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں خواتین کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کے اعتراف اور معاشرے میں ان کے مثبت کردار کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔یہ کانفرنس نہ صرف ایک منظم، شاندار اور باوقار تقریب ثابت ہوئی بلکہ خواتین کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا، جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ایک دوسرے سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئے۔
    apwwa

    apwwa

    apwwa

    apwwa

  • آبنائے ہرمز ،اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایاایران، انسانی ہمدردی پر  بحری آمدورفت کی اجازت

    آبنائے ہرمز ،اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایاایران، انسانی ہمدردی پر بحری آمدورفت کی اجازت

    پاسداران انقلاب نےآبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل سے منسلک ایک تجارتی جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں پہلے ہی جنگی صورتحال کے باعث آمد و رفت شدید متاثر ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔تاحال اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ “ضروری اشیاء” لے جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ تجارتی امور کے نائب سربراہ ہومان فتحی کی جانب سے جاری ایک ہدایت نامے میں کیا گیا۔ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ خوراک، بنیادی اجناس اور مویشیوں کی خوراک جیسی اشیاء لے جانے والے جہازوں کو خصوصی اجازت دی جائے گی۔ یہ سہولت خاص طور پر ان جہازوں کے لیے ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں یا پہلے ہی اس خطے میں موجود ہیں۔
    ایرانی حکام نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ پروٹوکول کے مطابق ان جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ ساتھ ہی ان جہازوں کی فہرست بھی ہم آہنگی کے لیے متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے گی۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ایران کن اشیاء کو “ضروری” قرار دے گا اور آیا وہ ان ممالک کے جہازوں پر پابندی برقرار رکھے گا جنہیں وہ مخالف سمجھتا ہے۔

  • ایران میں امریکی پائلٹ کی تلاش، ماہرین نے صورتحال کو “بلی چوہے کا کھیل” قرار دے دیا

    ایران میں امریکی پائلٹ کی تلاش، ماہرین نے صورتحال کو “بلی چوہے کا کھیل” قرار دے دیا

    ایران میں امریکی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کے تباہ ہونے کے بعد لاپتہ پائلٹ کی تلاش کے لیے جاری آپریشن انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

    سابق برطانوی فضائیہ کے پائلٹ جان پیٹرز نے موجودہ صورتحال کو “بلی اور چوہے کا کھیل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ اور سیاسی طور پر نہایت اہم مرحلہ ہے۔اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ امریکی افواج اپنے ساتھی پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں، جس میں خصوصی یونٹس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ “امریکی فورسز اپنے ساتھی کو نکالنے کے لیے مکمل حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گی، جبکہ ایرانی فورسز بھی علاقے کو گھیرنے کی کوشش کریں گی کیونکہ یہ اب ایک سیاسی کھیل بن چکا ہے، جو انہیں بڑا فائدہ دے سکتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ریسکیو صلاحیتیں “غیر معمولی حد تک مضبوط” ہیں اور اس آپریشن کے لیے وسیع وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والے جنگی طیارے ایف 15 میں سوار دو رکنی عملے میں سے ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ “میری تمام تر ہمدردیاں اس وقت اس فضائی عملے کے ساتھ ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے محفوظ نکال لیے جائیں گے۔”

    بین الاقوامی تجزیہ کار ڈیانا منگنے کے مطابق یہ واقعہ فضائی جنگ کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی حکام نے مبینہ طور پر لاپتہ پائلٹ کی گرفتاری پر 60 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے،امریکی خصوصی فورسز کے علاقے میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں،ریسکیو آپریشن انتہائی خطرناک نوعیت اختیار کر چکا ہے

    ایرانی فضائی دفاع کے کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے کئی جدید جنگی طیارے تباہ کیے،درجنوں کروز میزائل مار گرائے،160 سے زائد ڈرونز تباہ کیے

    جان پیٹرز، 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران انکا طیارہ عراق میں مار گرایا گیا تھا، نے اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میزائل لگنے کے بعد طیارہ زمین کے قریب گھوم گیا،طیارے کے گرد شعلوں کا ایک بڑا دائرہ بن گیا،زمین پر اترتے ہی 20 کے قریب عراقی فوجیوں نے فائرنگ کی اور انہیں گرفتار کر لیا،ان کی گرفتاری کے بعد تشدد زدہ تصاویر عالمی میڈیا پر نشر ہوئیں، جو جنگی قیدیوں کے خطرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

    یہ واقعہ امریکی دعوؤں کے برعکس سامنے آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور امریکی افواج کو مکمل فضائی برتری حاصل ہے۔تاہم ایف-15 طیارے کا گرنا اس دعوے پر سوالیہ نشان بن گیا ہے

    ادھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مسلح ایرانی افراد امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کر رہے ہیں، جو لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہی ہے، جہاں ہر لمحہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

    ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کی تلاش پر 66 ہزار ڈالرز انعام کی پیشکش
    ان اطلاعات کے بعد کہ ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران میں مار گرایا گیا تھا، ایرانی آؤٹ لیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ عملے کے دو ارکان میں سے ایک نے اجیکٹ کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں اُترا ہو۔امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو بتایا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے، تاہم عملے کا ایک رُکن لاپتہ ہے۔ایرانی حکومت سے وابستہ ایرانی چینلز نے شہریوں کو انعامات کی پیشکش کرتے ہوئے پر زور دیا ہے کہ وہ ’پائلٹ کو زندہ پکڑ لیں۔‘ایرانی چینلز کے مطابق پائلٹ کو زندہ پکڑنے پر 66 ہزار امریکی ڈالرز انعام کی پیشکش کی گئی ہے۔بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جس میں دو جنوبی صوبوں میں مسلح شہری امریکی عملے کے رکن کو تلاش کر رہے ہیں۔جنوبی صوبہ خوزستان کی ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو میں، متعدد افراد کو آتشیں اسلحہ اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے پائلٹ کو تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے، ’ان شاء اللہ، ہم اسے تلاش کر لیں گے،

  • جدید جنگی جہاز ’پی این ایس خیبر‘ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل

    جدید جنگی جہاز ’پی این ایس خیبر‘ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل

    سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ دشمن کی اہم تنصیبات اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے جدید ترین پلیٹ فارمز اور مخصوص ٹیکنالوجیز سے لیس کیا جا رہا ہے۔

    پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایڈمرل نوید اشرف نے دوسرے پی این ملجم کلاس کارویٹ، ‘پی این ایس خیبر’ کی پاک بحریہ کے بیڑے میں شمولیت کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک مضبوط، متوازن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔نیول چیف نے اپنے خطاب میں تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ‘معرکہ حق’ کے دوران پاک بحریہ بھارتی طیارہ بردار جہاز کو غرق کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی، جس کے خوف نے بھارتی بحریہ کو اپنی محفوظ پناہ گاہوں تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ معرکہ حق کے دوران بحری آپریشنز کی مہارت اور طرزِ عمل دشمن کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے بحری مفادات کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور عبرت ناک جواب دیا جائے گا۔ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ اہم بحری تجارتی اور توانائی کی گزرگاہوں پر پاکستان کا محلِ وقوع تقاضا کرتا ہے کہ ہماری بحری قوت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ ‘پی این ایس خیبر’ جیسے جدید جنگی جہاز اور مستقبل میں شامل ہونے والی ‘ہنگور کلاس’ آبدوزیں پاک بحریہ کی آپریشنل استعداد اور تزویراتی رسائی کو مزید وسعت دیں گی۔

    دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک بحریہ کے بیڑے میں جدید جنگی جہاز پی این ایس خیبر کی شمولیت پر دلی مسرت اور فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اہم پیش رفت پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور بحری سرحدوں کے مؤثر تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل ہے،پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے بڑے بحری راستے گزرتے ہیں،ایک مضبوط، متوازن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ ناگزیر ہے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور سمندری مواصلاتی راستے محفوظ رہیں، "معرکۂ حق” کے دوران پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور حکمتِ عملی نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا، پاکستان اپنی خودمختاری اور بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا،جدید جنگی پلیٹ فارمز، بشمول پی این ایس خیبر اور آنے والی ہنگور کلاس آبدوزیں، پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیت، دفاعی طاقت اور اسٹریٹجک رسائی میں نمایاں اضافہ کریں گی،حکومت پاک بحریہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے،