Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق باغبانپورہ میں سکھ نہر کےقریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کےلیے بجلی کےکھمبے پر چڑھا، اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا،ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈورگردن پر پھرنے سے نوجوان رافع زخمی ہوگیا، اسی طرح گلشن راوی میں بھی پتنگ کی ڈور پھرنے سے 8 سالہ ارسا اور45سالہ شبیر زخمی ہوگئے، لوئر مال کے علاقے میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبد الواحد زخمی ہوا جبکہ گلشن راوی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتار رہا تھا کہ اس دوران زخمی ہوگیا۔

    لاہورمیں بسنت کا تہوار جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، جہاں عورتیں، بچے اور بزرگ سب ہی رنگا رنگ پتنگوں کے ساتھ خوشیوں میں ڈوبے نظر آ رہے ہیں۔ کئی برسوں کے طویل وقفے کے بعد لاہور میں ایک بار پھر بسنت کی بہار لوٹ آئی ہے اور شہر کی گلیاں، کوچے اور سڑکیں پتنگوں سے سجی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔لاہور کے مختلف علاقوں میں چھتوں پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو پتنگ بازی میں مصروف ہے، جبکہ بازاروں میں پتنگ اور ڈور کی خریداری کا رش بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگرچہ پتنگ اور ڈور کی قیمتیں ماضی کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہیں، اس کے باوجود شہر بھر میں یہ اشیاء نایاب ہوتی جا رہی ہیں، جس سے بسنت کے شوقین افراد کی دلچسپی اور جوش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    طویل عرصے بعد بسنت منانے کے موقع پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت فضا خوشگوار ہے اور کوئی کسی کو تنگ نہیں کر رہا، ہر شخص اپنی مستی اور خوشی میں مگن ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ خوشیاں تین دن تک برقرار رہیں اور کسی کی نظر نہ لگے۔واضح رہے کہ پنجاب بھر میں بسنت کے باعث آج اور کل عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو تہوار منانے کا بھرپور موقع میسر آیا ہے ،تاہم خوشیوں کے اس موقع پر بعض ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں بسنت کے دوران مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی قوانین پر عمل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔بسنت کی بحالی نے جہاں شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں، وہیں انتظامیہ کے لیے یہ ایک چیلنج بھی ہے کہ خوشیوں کے اس تہوار کو محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی قیمتی جان کا ضیاع نہ ہو اور عوام بلا خوف و خطر اس تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔

  • گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ، کمیٹی غائب

    گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ، کمیٹی غائب

    مارکیٹ کمیٹی کی مجرمانہ خاموشی یا آڑھتی مافیا سے حصہ داری؟ سی ایم کے ریلیف مشن کا جنازہ نکل گیا
    گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ کمیٹی غائب، پرائس مجسٹریٹس کا شکار صرف غریب ریڑھی بان، بڑے مگرمچھوں کو کھلی چھوٹ
    گوجرخان میں قانونِ جنگل نافذ نجی منڈی میں آڑھتیوں کی غنڈہ گردی، مارکیٹ کمیٹی پرائس مجسٹریٹس بھتہ خوری میں برابر کے شریک؟ شہریوں کی دہائی
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں ریاست نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی، رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی گوجرخان میں گراں فروشوں اور آڑھتیوں نے پنجے گاڑ لیے، گلیانہ موڑ سبزی منڈی مڈل مین آڑھتی مافیا کے ٹارچر سیل میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ہر صبح چھوٹے سبزی و پھل فروشوں کی جیبوں پر سرِ عام ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عوام کو سستی اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے گوجرخان کی سبزی منڈی میں دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلیانہ موڑ نیو سبزی و فروٹ منڈی میں بولی کے دوران مارکیٹ کمیٹی کا عملہ پراسرار طور پر غائب رہتا ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آڑھتیوں اور مڈل مینوں نے غریب عوام کو لوٹنے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ عوامی ریلیف کے دعوے گوجرخان کی گرد آلود گلیوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی پیرا فورس اور پرائس مجسٹریٹس نے عوامی ریلیف کے ویژن کو آڑھتیوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ متعلقہ حکام کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ نام نہاد پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس کے شیر صرف نہتے ریڑھی بانوں اور دیہاڑی دار دکانداروں پر گرجتے ہیں۔ چند روپوں کے فرق پر غریب کا چالان کرنے والے ان افسران کی زبانیں آڑھتیوں کے سامنے گنگ ہو جاتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جہاں سے مہنگائی کا طوفان اٹھتا ہے یعنی کہ نیو سبزی منڈی کے وہ آڑھتی جو من مانی بولی لگا کر ریٹ بڑھاتے ہیں انہیں قانون سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مجسٹریٹس کی قانون پسندی صرف کمزور ریڑھی و چھابہ فروشوں کے لیے ہے، جبکہ منڈی کے بڑے مگرمچھوں نے شاید ان کے ضمیروں کی قیمت لگا دی ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کا عملہ بولی کے وقت کسی پراسرار غار میں روپوش ہو جاتا ہے تاکہ آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے غریب کی کھال ادھیڑ سکیں۔گوجرخان کی سبزی منڈی پنجاب کا وہ کالا دھبہ ہے جو سرکاری اراضی کے بجائے نجی قبضے میں پل رہی ہے۔ یہاں قانون نہیں، کمیشن مافیا کا سکہ چلتا ہے۔

    آڑھتیوں، مڈل مینوں نے مل کر ایسا جال بنا رکھا ہے کہ کسان کو صلہ ملتا ہے نہ عوام کو ریلیف۔ مارکیٹ کمیٹی کی خاموشی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ متعلقہ حکام ان آڑھتیوں سے ماہانہ نذرانہ وصول کر کے عوامی چیخوں پر کان نہیں دھر رہے؟ عوامی سماجی حلقوں نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ اس پرائیویٹ ٹارچر سیل نیو سبزی منڈی کو فوری طور پر سرکاری جگہ حیلیاں منتقل کیا جائے اور بولی کا کنٹرول اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خود اپنے پاس رکھیں۔ اگر اس لوٹ مار کو روکا نہ گیا تو رمضان المبارک میں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی بھی خواب بن جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان سفید پوش ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کار افسران کے خلاف فوری ایکشن نہ لیا گیا، تو رمضان المبارک میں غریب طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور سوئی ہوئی مارکیٹ کمیٹی پر ہوگی۔

  • یوم یکجہتی کشمیر،مرکزی مسلم لیگ کے لاہور،پشاور،کراچی سمیت تمام شہروں میں پروگرام

    یوم یکجہتی کشمیر،مرکزی مسلم لیگ کے لاہور،پشاور،کراچی سمیت تمام شہروں میں پروگرام

    مرکزی مسلم لیگ کے زیرانتظام 5فروری کو لاہور ،کراچی،اسلام آباد، پشاور کی طرح ملک بھر میں یکجہتی کشمیر کنونشن،کانفرنسوں، جلسوں اور ریلیوں کا انعقادکیا گیا ،ملک بھر میں ہونے والی کشمیر کانفرنسوں،جلسوں، ریلیوں میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کراچی سے پشاور تک بڑے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا ،تقریبات میں انٹراپارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے یونین کونسل امیدواروں سے حلف بھی لیا گیا.

    لاہور میں مرکزی مسلم لیگ کا سب سے بڑاپروگرام ایوان اقبال میں ہوا،ہوا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو ،انجینئر حارث ڈار،مزمل اقبال ہاشمی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہے اور کشمیری ہم سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کی قیمت ظلم و جبر کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔مسلم یوتھ لیگ کی جانب سے مال روڈ لاہور پر یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی، ملی رکشہ یونین کے زیر اہتمام مال روڈ پرریلی سےمرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری و دیگر نے خطاب کیا،مرکزی ترجمان تابش قیوم نے مقامی ہوٹل میں اپووا کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کیا، یکجہتی کشمیر جلسوں اور کانفرنسوں کے دوران کشمیر ہمارا ہے ‘ سارے کا سارا ہے۔ کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ، کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے جاتے رہے۔شرکا نے بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے،

    اسلام آباد میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام زیروپوائنٹ سے پریس کلب تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، فیصل آباد میں کشمیر ریلی سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما حمید الحسن و دیگر نے خطاب کیا،ملتان میں پریس کلب نواں چوک شہر میں ہونیوالی یکجہتی کشمیر ریلی سے ضلعی سیکرٹری جنرل رانا عبدالرحمان و دیگر نے خطاب کیا،راولپنڈی میں پریس کلب کے سامنے یکجہتی کشمیر پروگرام کا انعقاد کیا گیا، مرکزی مسلم لیگ ہاؤس کراچی میں یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ اس موقع پر انٹرا پارٹی الیکشن میں نو منتخب ہونے والے یوسی صدور سے عہدے کاحلف بھی لیاگیا۔ کانفرنس میں مرکزی مسلم لیگ کے قائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس سے صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ فیصل ندیم ،کل جماعتی حریت رہنما شاہین اقبال ،صدر مرکزی مسلم لیگ کراچی احمد ندیم اعوان و دیگر نے خطاب کرتےہوئے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہے اور کشمیری ہم سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کی قیمت ظلم و جبر کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے سامنے مرکزی مسلم لیگ کی ذیلی تنظیمات کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں عوام نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرے کے بعد مقررین، معزز مہمانوں اور شرکاء نے یکجہتی کشمیر کے اظہار کے لیے سگنیچر وال پر دستخط کیے،مسلم ویمن لیگ حیدرآباد کی جانب سے اقصیٰ آڈیٹوریم میں کشمیری عوام سے اظہار ہمدردی و محبت کے لئے یکجہتی کشمیر کانفرنس کی گئی جس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی،ننکانہ صاحب میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر خواتین ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین، اساتذہ اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مسلم ویمن لیگ لودھراں کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار کا انعقاد کیا گیا،

    مرکزی مسلم لیگ چنیوٹ کے زیر انتظام یکجہتی کشمیر ریلی میں تعلیمی اداروں کے طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی،مرکزی مسلم لیگ لودھراں کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جم خانہ کلب میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں مذہبی و سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی،مسلم سٹوڈنٹس لیک چونیاں قصور کی جانب سے چونیاں شہر میں کشمیر کی پکار کے موضوع پر یکجہتی کشمیر کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقے بھر سے نوجوانوں نے شرکت کی، ہارون آباد،بہاولنگر ، وہاڑی، خوشاب،رحیم یار خان ،منڈی بہاؤالدین،ساہیوال، خانپور،ٹنڈوالہیار ،پنڈی بھٹیاں، ایبٹ آباد،بہاولپور،چکوال،شیخوپورہ،پاکپتن،میاں چنوں، قمبر شہداد کوٹ،گوجرانوالہ ،نارووال ،چیچہ وطنی،سرگودھا ،حیدر آباد،قصور،گجرات ،میانوالی،ڈی جی خان ،جہلم ،لاڑکانہ،میر پور خاص، تلہ گنگ ،ڈسکہ،کامونکی،وزیرآباد،کھڈیاں خاص، گوجرخان، ہری پور، مانسہرہ، مردان ،سوات و دیگر شہروں میں بھی مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنسوں، جلسوں اورریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر مرکزی مسلم لیگ کا اعلامیہ
    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں ہونے والی کشمیر کانفرنسوں، جلسوں اور سیمینارز کے دوران جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا یہ شہہ رگ بھارت کے پنجہ میں قید ہے،شہہ رگ پاکستان کو بھارت سے چھڑوانے کے اقدامات کئے جائیں.پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کی وجہ کشمیر ہے لیکن پانچ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کیا ہے جبکہ ریاست پاکستان کا کردار اس پر خاموش تماشائی کا رہا ہے،کشمیر کا مقدمہ پاکستان عالمی سطح پر اٹھائے، پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی وکالت کی ہے، یہ پاکستان کے پانیوں کا مسئلہ ہے اور پانی زندگی ہے،آزادی کشمیر کے بنا پاکستان کی تکمیل نہیں ہوتی،پاکستان سفارتی سطح پر متحرک ہو،دوست ممالک، عالمی اداروں،طاقتوں کے ساتھ ملکر کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑا جائے،کشمیر کمیٹی کو بھرپور فعال کیا جائے ،بھارت اپنے تمام تر جنگی وسائل اور قوت کشمیر میں جھونک دینے کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے جذبہ حریت کو کم نہیں کرسکا، کشمیری تحریک آزادی کے لیے آج بھی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں،بھارت کی مسلح افواج اور ریاستی دہشت گردی نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے، بھارتی افواج کشمیر میں سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہیں، اجتماعی قبریں اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ اقوام عالم اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔بھارت پاکستان کو کشمیر سے دست بردار کرنے لیے پاکستان میں ہر طرح کی دہشت گردی کروا رہا ہے،پاکستان نے کشمیر سے منہ موڑا تو آج بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں، بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بھارت ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی میں ملوث ہےکینیڈین حکومت اور امریکی اخبارات اس پر شاہد ہیں لہذا اقوام متحدہ بھارت کی اس غنڈہ گردی پر واضح اقدام اٹھائے اور بھارت کو دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کیا جائے۔بھارت اس تمام تر دہشت گردی کے باجود کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا ہے، تمام تر مظالم کے باوجود کوئی کشمیری پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوا، کسی ایک بھی حریت لیڈر کو بھارت کی ظالم افواج نہیں توڑ سکیں ، کشمیری آج بھی پاکستانی جھنڈے میں دفن ہونا فخر سمجھتے ہیں بھارت اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔عالمی دباؤکے تحت ہندوستان نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دیا جس کے بعد کشمیر کی تحریک آزادی میں حصہ لینے والے کئی افراد کو دہشتگردقرار دیا گیا، ایک طرف بھارت نے کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم ڈھائے اور ان کو جیلوں اور اذیتوں میں بند کیا اور عمر قید کی سزائیں سنائیں تو دوسری طرف پاکستان میں کشمیریوں کے پشتیبانوں کو پابند سلاسل کرکے تحریک آزادی کشمیر کا گلا گھونٹا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے والے قائدین کو بیرونی دباؤ پر پابندسلاسل کرنے کی بجائے رہا کیا جائے،دنیا کے حالات بدل رہے ہیں، کشمیریوں کی آزادی ان شاءاللہ قریب ہے،بھارت بنگلہ دیش کا انجام یاد رکھے، جس طرح بنگلہ دیش میں بھارتی اثرورسوخ ،ہتھکنڈے ناکام ہوئے اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں‌بھی بھارتی مظالم، ہتھکنڈے ناکام ہوں‌گے . ریاست پاکستان زبانی جمع خرچ کی بجائے اپنی کشمیر پالیسی کو واضح کرے ، کشمیر پالیسی کا ون پوائنٹ ایجنڈا رکھا جائے جوکہ فقط آزادی کشمیر ہو. ریاست کی تمام تر توانائیاں آزادی کشمیر کے لیے صرف ہونی چاہیں۔ ریاست پاکستان اپنے خارجہ و داخلہ دفاتر اور سفارت خانوں میں باقاعدہ کشمیر ڈیسک قائم کرے اور کشمیر پر انٹرنیشنل کانفرنسز منعقد کروائے، میڈیا اور شوبز انڈسٹری میں باقاعدہ تحریک آزادی کشمیر کے لیے لوگ اور وقت مختص کیا جائے۔ دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے باخبر مندوب مقرر کیے جائیں۔کشمیر ہاؤسز کا قیام کیا جائے،تعلیمی اداروں میں کشمیر کے مسئلہ پر بھر پور تحریک چلا کو قوم کو متحد کیا جائے.ریاست پاکستان کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کشمیر پر سینسر شپ ختم کروائے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل فورس بھارتی عزائم کو خاک میں ملا سکے اور ہندو توا کے بھارتی ایجنڈے کی ہولناکیوں کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جاسکے۔ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا الزام ماضی کی طرح پاکستان پر عائد کیا اور پاکستان میں مساجد و مدارس پر حملے کئے، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز تحریک آزادی کشمیر سے توجہ ہٹانے اور اپنی ریاستی باوردی دہشتگردی پر پردے ڈالنے کے لئے ہیں، بھارت نے اب اگر کوئی مذموم سازش کی تو قوم معرکہ حق کی طرح متحد ہو کر جواب دے گی. کشمیر کے رہنما سید علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت عالم بھٹ، یسین ملک، برہان وانی اور ڈاکٹر منان وانی سمیت تمام ہیروز جو نہتے تکمیل پاکستان کی جنگ میں شریک تھے اور ہیں، ریاست پاکستان ان کی خدمات کا اعتراف کرے اور ان کو پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوارڈز سے نوازے اور تعلیمی نصاب میں ان کی کہانیوں کو جگہ دے۔ دختران ملت کی چیئرمین سیدہ آسیہ اندرابی ،یاسین ملک سمیت دیگر حریت قائدین جو بھارتی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور بھارتی عدالتیں انہیں تحریک آزادی کے جرم میں سزاسنا سکتی ہے، پاکستان حریت قائدین کی رہائی کے لئے کردار ادا کرے، امریکی صدر کی جانب سے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کشمیر کا مقدمہ بھی اٹھائے، مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد بھارت ایکسپوز ہوا، مودی سرکار نے جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام ہوا، جنگ کے بعد عالمی دنیا کے سامنے بھارت رسوا ہو چکا،اور پاکستان فاتح ٹھہرا، پاکستان کی عسکری برتری دنیا کے سامنے ہے،دفاع وطن کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ مسلح افواج کے ساتھ ہے. اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کا حق حاصل ہے، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ،مرکزی مسلم لیگ کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت اور مدد جاری رکھے گی، ان شاءاللہ

  • اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا بھی محض ایک رسم بن چکا ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا بھی محض ایک رسم بن چکا ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    78سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے مظلوم کشمیری بھائی بھارت کی غلامی سے اسلئے آزاد نہیں ہورہے کہ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ہیں ۔ 5فروری اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا بھی محض ایک رسم بن چکا ہے ۔دوسری طرف بھارت مقبوضہ جموں کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کیلئے مسلسل عملی اقدامات کر رہا ہے یہاں تک کہ مقبوضہ وادی جیل بن چکی ہے اور کشمیریوں کیلئے سانس لینا بھی مشکل ہوچکا ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فورسز مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ۔ خواتین کی عصمت دری ، جبری گمشدگیاں، اجتماعی گرفتاریاں، طویل کرفیو اور شہری آزادیوں پر پابندیاں کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ان حالات میں 5فروری کو یومِ اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا اگر چہ کشمیری عوام سے یکجہتی کے عزم کی علامت ہے، تاہم مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے صرف ایک دن اظہار یکجہتی کشمیر منا لینا کافی نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عملی اور مؤثر سفارتی و سیاسی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کے لیے محض ایک خارجی یا سفارتی معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد، جغرافیائی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا بنیادی مسئلہ ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، جو کشمیر کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ پاکستان کو اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مستقل بنیادوں پر اٹھانا چاہیے۔اسلئے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ سال میں صرف ایک بار اظہار یکجہتی کشمیر منا لینا کافی نہیں بلکہ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی کیلئے عملی اقدامات کریں، سفارت کاری اور پالیسی میں کشمیر کو ترجیح دیں ۔

  • معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی لہٰذا بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں حاضر ہوا ہوں،قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور کشمیری ہر روز نعرہ لگاتے ہیں کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہوگا، کشمیری دنیا کو ہر روز سچائی کا آئینہ دکھا رہے ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، آزاد کشمیر میں کوئی بھی حکومت ہو ، میرا فرض ہے آگے بڑھ کر تعاون کروں اور ہمارے تعاون میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی،کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، میں تحریک آزادی کے شہید کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری اپنے بچوں کو قربان کرسکتے ہیں لیکن اپنی آزادی قربان کرنےکو تیار نہیں،بھارت کی جانب سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے مگر بھارت جو فرنٹ کھولے گا اسی محاذ پر کبھی نہ بھولنے والا جواب دیں گے، معرکہ حق میں بھارتی گھمنڈ خاک میں ملا دیا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی تیز کررہا ہے مگر سفارتی محاذ پر بھی بھارتی بیانیہ دفن ہوگیا ہے، بھارت کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی، بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے، معرکہ حق میں پاکستان کی فتح اصل میں کشمیریوں کی بھی فتح ہے، معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، ہمیں اتحاد اور اتفاق سے دشمن کے عزائم ناکارہ بنانے ہیں، بھارت کے جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم اور ناپاک سازشیں ترک کرنے تک خطے میں امن ممکن نہیں، ہم امن چاہتےہیں لیکن امن برابری اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے۔

  • کراچی، ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز ہیک، فحش ویڈیو چل گئی

    کراچی، ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز ہیک، فحش ویڈیو چل گئی

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں واقع خیابانِ اتحاد عبدالستار ایونیو پر نصب ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کو نامعلوم ہیکرز نے ہیک کرکے چند لمحوں کے لیے غیر اخلاقی مواد نشر کر دیا،

    ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مصروف شاہراہ پر نصب بڑی ڈیجیٹل اسکرینز پر اچانک غیر اخلاقی ویڈیوز چلنا شروع ہو گئیں۔ واقعے کی ویڈیو راہگیروں کی جانب سے ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متنازعہ ڈیجیٹل اسکرینز کو بند کر دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے پیش نظر صرف خیابانِ اتحاد ہی نہیں بلکہ ڈی ایچ اے کی دیگر اہم شاہراہوں کے علاوہ شاہراہِ فیصل اور کارساز روڈ پر نصب متعدد ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، تاکہ کسی ممکنہ سائبر حملے یا مزید غیر قانونی مواد کی نشریات کو روکا جا سکے۔

    واقعے کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور سائبر کرائم یونٹ نے مشترکہ طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اسکرینز کو ہیک کرنے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تکنیکی شواہد، سرور لاگز، آئی پی ایڈریسز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں سائبر سیکیورٹی کی کمزوریوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ نیٹ ورک سے منسلک کمپنیوں کو سیکیورٹی نظام مزید مضبوط بنانے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    شہریوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مقامات پر نصب ڈیجیٹل اسکرینز کی سائبر سیکیورٹی کو مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے شرمناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ قیدی کی موت

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ قیدی کی موت

    اڈیالا جیل میں قید منشیات کیس میں سزا یافتہ قیدی بابر سلیم دورانِ علاج انتقال کرگیا۔ جیل ذرائع کے مطابق قیدی کی طبیعت بگڑنے پر اسے فوری طور پر راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی) منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔

    جیل حکام کے مطابق بابر سلیم کو چند روز سے صحت کے مسائل لاحق تھے، جس کے باعث اس کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ طبی معائنہ کے بعد ڈاکٹروں نے اسے خصوصی علاج کے لیے آر آئی سی منتقل کیا، تاہم دورانِ علاج وہ دم توڑ گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی قیدی بابر سلیم کا تعلق ضلع چکوال سے تھا اور وہ تھانہ ڈوڈیال میں درج منشیات کے ایک مقدمے میں گرفتار ہو کر اڈیالا جیل میں سزا کاٹ رہا تھا۔جیل انتظامیہ کے مطابق قیدی کی موت کی اطلاع متعلقہ حکام اور لواحقین کو دے دی گئی ہے، جبکہ قانونی تقاضوں کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر موت کی وجہ طبعی بتائی جارہی ہے، تاہم حتمی تصدیق میڈیکل رپورٹ کے بعد کی جائے گی۔

  • مارگلہ انکلیو پروجیکٹ میں صوبیدار غلام علی کی یادگار  بارے سوشل میڈیا پر جھوٹا بیانیہ

    مارگلہ انکلیو پروجیکٹ میں صوبیدار غلام علی کی یادگار بارے سوشل میڈیا پر جھوٹا بیانیہ

    مارگلہ انکلیو میں پہلی جنگ عظیم میں شمالی افریکہ کمپین کے ہیرو صوبیدار غلام علی سے منصوب ایک یادگار کے توڑے جانے کے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حقائق کے منافی ہے۔ڈی ایچ اے نے سی ڈی اے کے ساتھ مل کر سب سے پہلے اس یادگار آثار قدیمہ کے محکمے کے چارج پر دلوایا۔اس کے بعد صوبیدار غلام علی کے وارث سے زلفقار علی سے ایفیڈیوٹ پر این او سی لی۔اس یادگار کو اپنی جگہ سے دو سو میٹر دور نادرن بائی پاس چوک میں خوبصورت انداز میں دوبارہ نصب کیا جائے گا

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پہلی جنگِ عظیم کی یاد میں قائم صوبیدارغلام علی کی یادگار کو غیر قانونی طور پر مسمار کر دیا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ تمام دعوے جھوٹے، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہیں۔

    سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر یہ خبر پھیلائی گئی کہ سی ڈی اے نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد ریجن کے ساتھ مل کر مارگلہ انکلیو ہاؤسنگ پروجیکٹ کے لیے اس تاریخی یادگار کو تباہ کر دیا۔ تاہم سی ڈی اے اور ڈی ایچ اے اعلیٰ حکام نے واضح طور پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یادگار کی منتقلی کا مارگلہ انکلیو ہاؤسنگ پروجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں۔تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سی ڈی اے نے یادگار کو نہ تو مسمار کیا اور نہ ہی ختم کیا، بلکہ اسے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈز اور متعلقہ اداروں کی تصدیق کے مطابق یہ اقدام یادگار کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا، جس میں تمام قانونی مراحل، متعلقہ اداروں کی منظوری اور خاندان کی رضامندی شامل تھی۔

    صوبیدار غلام علی نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران مشرقی افریقہ میں خدمات انجام دیں اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جرات مندی کے اعتراف میں انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔ بعد ازاں برطانوی حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ یادگار تعمیر کروائی۔سی ڈی اے حکام کے مطابق، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد ریجن نے سی ڈی اے کے اشتراک سے یادگار کی قانونی منتقلی کا باقاعدہ عمل شروع کیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں محکمہ آثارِ قدیمہ سے رہنمائی حاصل کی گئی،سی ڈی اے کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد ہوئے،محکمہ آثارِ قدیمہ نے واضح کیا کہ یہ یادگار اس کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں، اس لیے
    100 سے 200 میٹر کے اندر منتقلی کے لیے این او سی درکار نہیں،اس کے باوجود، ڈی ایچ اے نے صوبیدار غلام علی کے پوتے کے پوتے ذوالفقار (جو اس وقت آئیسکو میں سپرنٹنڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں) سے رابطہ کیا۔ ذوالفقار نے یادگار کی منتقلی پر تحریری حلف نامے کے ذریعے رضامندی ظاہر کی۔ خاندان کے دیگر افراد بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

    یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ سی ڈی اے نے تاریخی یادگار کو نقصان پہنچانے کے بجائے قانون کے مطابق محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ ایسی خبروں پر یقین کرنے سے قبل مصدقہ ذرائع اور فیکٹ چیک کو ضرور مدنظر رکھیں۔

  • زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی  آصفہ بھٹو  سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی آصفہ بھٹو سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل، جج محمد عبدالسلام نے ابوظبی میں اپنے سرکاری مصروفیات کے دوران اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان انسانی اخوت، ہمدردی، باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور مکالمے کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جنہیں عالمی سطح پر مشترکہ انسانی اقدار قرار دیا گیا۔ جج محمد عبدالسلام نے خاتونِ اول کو زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے وژن، دائرۂ کار اور اس کی آزاد و غیر جانبدار حیثیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ دنیا بھر میں اُن افراد اور اداروں کو تسلیم کرتا ہے جو امن، رواداری، انسانی وقار اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانی اخوت کو عالمی انسانی و فلاحی مکالمے کا بنیادی ستون بنانا ایک دوراندیش قدم ہے۔ انہوں نے زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کو ایک معتبر اور مؤثر عالمی پلیٹ فارم قرار دیا جو اقدار پر مبنی اور شمولیتی طرزِ فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔خاتونِ اول نے اس موقع پر پاکستان کے سماجی انصاف، بین المذاہب ہم آہنگی اور شمولیتی ترقی کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے، کمیونٹی کی سطح پر فلاحی اقدامات اور عوام دوست سماجی تحفظ کے نظام پر زور دیا، جن کا مقصد کمزور اور محروم طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک آئندہ بھی ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے جو اقوام اور معاشروں کے درمیان باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور عالمی یکجہتی کو فروغ دیں۔

  • ایپسٹین فائلز  بارے سوال،  ڈونلڈ ٹرمپ کی سی این این کی خاتون رپورٹر پر شدید تنقید

    ایپسٹین فائلز بارے سوال، ڈونلڈ ٹرمپ کی سی این این کی خاتون رپورٹر پر شدید تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران سی این این کی نمائندہ صحافی کیٹلن کولنز پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’بدترین رپورٹر‘‘ قرار دے دیا اور سی این این کو ’’بے ایمان ادارہ‘‘ کہا۔

    پریس کانفرنس کے دوران کیٹلن کولنز نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز میں اہم معلومات کو کیوں چھپایا گیا، اور یہ کہ ایپسٹین کے متاثرین اس عمل پر شدید ناخوش ہیں۔ انہوں نے صدر سے پوچھا کہ وہ ان متاثرین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے جو خود کو انصاف سے محروم سمجھتے ہیں۔

    اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا،”میں تمہیں دس سال سے جانتا ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کبھی تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی ہو۔ تم جانتی ہو تم کیوں نہیں مسکراتیں؟ کیونکہ تم سچ نہیں بول رہیں۔ تم ایک انتہائی بے ایمان ادارے کی نمائندگی کرتی ہو، اور سی این این کو اس پر شرم آنی چاہیے۔”صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کسی اور معاملے پر توجہ دے کیونکہ "میرے خلاف کچھ بھی سامنے نہیں آیا”۔

    پریس کانفرنس کے اختتام پر جب صحافیوں کو اوول آفس سے باہر لے جایا جا رہا تھا، تب بھی صدر ٹرمپ کو کیٹلن کولنز کے بارے میں شکایت کرتے سنا گیا کہ وہ "کبھی مسکراتی نہیں”، جبکہ وہ اشاروں سے دیگر صحافیوں کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کیٹلن کولنز کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی انہیں نشانہ بناتے ہوئے لکھ چکے ہیں "فیک نیوز سی این این کی کیٹلن کولنز ہمیشہ بیوقوف اور بدتمیز رہتی ہے۔”صدر ٹرمپ ماضی میں بھی خواتین صحافیوں پر سخت اور توہین آمیز جملے کسنے پر تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے ایک صحافی کو سوال کرنے سے روکنے کے لیے کہا تھا، "خاموش! خاموش، اسی طرح نومبر میں فلوریڈا میں افغان پناہ گزینوں کی جانچ پڑتال سے متعلق سوال پر ایک رپورٹر کو ڈانٹتے ہوئے کہا، "کیا تم بیوقوف ہو؟ کیا تم واقعی بیوقوف انسان ہو؟”

    اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پر بھی غصے کا اظہار کیا تھا جس میں ان کی عمر اور تھکن کی علامات پر بات کی گئی تھی، اور رپورٹ کی خاتون مصنفہ کو "بدصورت” قرار دیا تھا۔

    کیٹلن کولنز ایک معروف امریکی صحافی اور اینکر ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز انٹرٹینمنٹ رپورٹنگ سے کیا، بعد ازاں 2016 میں دی ڈیلی کالر کے لیے وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹ بنیں۔ ایک سال بعد انہوں نے سی این این جوائن کیا اور بعد میں اینکرنگ کے فرائض بھی انجام دیتی رہیں۔

    سی این این نے اپنے ردعمل میں کیٹلن کولنز کو "ایک غیر معمولی صحافی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ "گہرائی، جرات اور مستقل مزاجی کے ساتھ رپورٹنگ کرتی ہیں”۔صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر دیگر صحافیوں کو بھی پیشہ ورانہ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھی صحافی کے دفاع میں آواز اٹھانی چاہیے۔