Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی  آصفہ بھٹو  سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی آصفہ بھٹو سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل، جج محمد عبدالسلام نے ابوظبی میں اپنے سرکاری مصروفیات کے دوران اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان انسانی اخوت، ہمدردی، باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور مکالمے کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جنہیں عالمی سطح پر مشترکہ انسانی اقدار قرار دیا گیا۔ جج محمد عبدالسلام نے خاتونِ اول کو زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے وژن، دائرۂ کار اور اس کی آزاد و غیر جانبدار حیثیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ دنیا بھر میں اُن افراد اور اداروں کو تسلیم کرتا ہے جو امن، رواداری، انسانی وقار اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانی اخوت کو عالمی انسانی و فلاحی مکالمے کا بنیادی ستون بنانا ایک دوراندیش قدم ہے۔ انہوں نے زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کو ایک معتبر اور مؤثر عالمی پلیٹ فارم قرار دیا جو اقدار پر مبنی اور شمولیتی طرزِ فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔خاتونِ اول نے اس موقع پر پاکستان کے سماجی انصاف، بین المذاہب ہم آہنگی اور شمولیتی ترقی کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے، کمیونٹی کی سطح پر فلاحی اقدامات اور عوام دوست سماجی تحفظ کے نظام پر زور دیا، جن کا مقصد کمزور اور محروم طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک آئندہ بھی ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے جو اقوام اور معاشروں کے درمیان باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور عالمی یکجہتی کو فروغ دیں۔

  • ایپسٹین فائلز  بارے سوال،  ڈونلڈ ٹرمپ کی سی این این کی خاتون رپورٹر پر شدید تنقید

    ایپسٹین فائلز بارے سوال، ڈونلڈ ٹرمپ کی سی این این کی خاتون رپورٹر پر شدید تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران سی این این کی نمائندہ صحافی کیٹلن کولنز پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’بدترین رپورٹر‘‘ قرار دے دیا اور سی این این کو ’’بے ایمان ادارہ‘‘ کہا۔

    پریس کانفرنس کے دوران کیٹلن کولنز نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز میں اہم معلومات کو کیوں چھپایا گیا، اور یہ کہ ایپسٹین کے متاثرین اس عمل پر شدید ناخوش ہیں۔ انہوں نے صدر سے پوچھا کہ وہ ان متاثرین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے جو خود کو انصاف سے محروم سمجھتے ہیں۔

    اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا،”میں تمہیں دس سال سے جانتا ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کبھی تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی ہو۔ تم جانتی ہو تم کیوں نہیں مسکراتیں؟ کیونکہ تم سچ نہیں بول رہیں۔ تم ایک انتہائی بے ایمان ادارے کی نمائندگی کرتی ہو، اور سی این این کو اس پر شرم آنی چاہیے۔”صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کسی اور معاملے پر توجہ دے کیونکہ "میرے خلاف کچھ بھی سامنے نہیں آیا”۔

    پریس کانفرنس کے اختتام پر جب صحافیوں کو اوول آفس سے باہر لے جایا جا رہا تھا، تب بھی صدر ٹرمپ کو کیٹلن کولنز کے بارے میں شکایت کرتے سنا گیا کہ وہ "کبھی مسکراتی نہیں”، جبکہ وہ اشاروں سے دیگر صحافیوں کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کیٹلن کولنز کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی انہیں نشانہ بناتے ہوئے لکھ چکے ہیں "فیک نیوز سی این این کی کیٹلن کولنز ہمیشہ بیوقوف اور بدتمیز رہتی ہے۔”صدر ٹرمپ ماضی میں بھی خواتین صحافیوں پر سخت اور توہین آمیز جملے کسنے پر تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے ایک صحافی کو سوال کرنے سے روکنے کے لیے کہا تھا، "خاموش! خاموش، اسی طرح نومبر میں فلوریڈا میں افغان پناہ گزینوں کی جانچ پڑتال سے متعلق سوال پر ایک رپورٹر کو ڈانٹتے ہوئے کہا، "کیا تم بیوقوف ہو؟ کیا تم واقعی بیوقوف انسان ہو؟”

    اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پر بھی غصے کا اظہار کیا تھا جس میں ان کی عمر اور تھکن کی علامات پر بات کی گئی تھی، اور رپورٹ کی خاتون مصنفہ کو "بدصورت” قرار دیا تھا۔

    کیٹلن کولنز ایک معروف امریکی صحافی اور اینکر ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز انٹرٹینمنٹ رپورٹنگ سے کیا، بعد ازاں 2016 میں دی ڈیلی کالر کے لیے وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹ بنیں۔ ایک سال بعد انہوں نے سی این این جوائن کیا اور بعد میں اینکرنگ کے فرائض بھی انجام دیتی رہیں۔

    سی این این نے اپنے ردعمل میں کیٹلن کولنز کو "ایک غیر معمولی صحافی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ "گہرائی، جرات اور مستقل مزاجی کے ساتھ رپورٹنگ کرتی ہیں”۔صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر دیگر صحافیوں کو بھی پیشہ ورانہ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھی صحافی کے دفاع میں آواز اٹھانی چاہیے۔

  • بچوں کو والد سے ملنے سے روکنا اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہے،قاسم خان

    بچوں کو والد سے ملنے سے روکنا اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہے،قاسم خان

    تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے کہا ہے کہ میں اور بھائی اپنے والد عمران خان سے ملنے پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ہماری ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی۔

    عمران خان کے بیٹے قاسم خان نےاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میرے والد بانی پی ٹی آئی 914 دن سے قید تنہائی میں ہیں، میرے والد کی صحت بگڑ رہی ہے، انہیں آزاد طبی سہولت تک رسائی نہیں دی جا رہی، میں اور میرا بھائی اپنے والد عمران خان سے ملنے پاکستان آنا چاہتے ہیں، اب حکومت جان بوجھ کر ہماری ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی،قیدی کو علاج سے محروم رکھنا ظلم ہے، بچوں کو والد سے ملنے سے روکنا اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہے، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ناقابل تلافی نقصان سے پہلےاس معاملے پرآواز اٹھائیں۔

  • گوجرخان، بلدیہ کی جانب سے 55 پلازوں کو نوٹسز جاری

    گوجرخان، بلدیہ کی جانب سے 55 پلازوں کو نوٹسز جاری

    تجاوزات اور فائر سیفٹی جب عمارتیں بن رہی تھیں تو متعلقہ حکام کہاں سو رہے تھے؟ عوامی حلقوں کا تیکھا سوال
    برسوں کی مجرمانہ خاموشی کے بعد اچانک نوٹسز کی بوچھاڑ سابقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کا عوامی مطالبہ

    گوجرخان(قمرشہزاد) نوتعینات چیف آفیسر بلدیہ نے تحصیل میونسپل کمیٹی کی حدود میں برسوں سے قائم کمرشل پلازوں اور عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات کی عدم دستیابی پر متعدد پلازوں کو نوٹسز جاری کر دئیے۔ اچانک شروع کی گئی کارروائی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ چیف آفیسر طارق ضیاء ملک کی ہدایت پر اب تک 55 کمرشل پلازوں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم اس مہم نے جہاں حفاظتی اقدامات کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے، وہاں انتظامیہ کی ماضی کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ چیف آفیسر طارق ضیاء ملک کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی آلات کی تنصیب قانونی تقاضا ہے اور انسانی جانوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں حفاظتی انتظامات مکمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ تاہم، عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صرف نوٹسز تک محدود رہنے کے بجائے ان کرپٹ یا غافل افسران کا بھی تعین کیا جائے جنہوں نے ان غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی پر عرصہ دراز تک آنکھیں بند کیے رکھیں۔

    شہری حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ یہ عمارتیں کوئی ایک دن میں تعمیر نہیں ہوئیں، برسوں سے انسانی جانیں خطرے میں ڈال کر ان پلازوں میں تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ شعبے کے انسپکٹرز اور افسران اتنے طویل عرصے تک خوابِ خرگوش کے مزے کیوں لوٹتے رہے؟ کیا ان افسران کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ان عمارتوں کو بغیر فائر سیفٹی آلات کے مکمل ہونے دیا؟ حالات کی سنگینی اس وقت مزید واضح ہو رہی ہے جب گزشتہ دنوں جی ٹی روڈ پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے متعدد کمرشل بلڈنگز کی مارکنگ کی گئی، جس میں انکشاف ہوا کہ ان عمارتوں کا کچھ حصہ تجاوزات کی زد میں ہے۔ شہریوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ نقشے پاس ہو رہے تھے اور بھاری سرمایہ کاری سے یہ بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جا رہی تھیں، تب این ایچ اے اور میونسپل کمیٹی کے متعلقہ محکمے کے افسران اور دیگر متعلقہ ادارے کہاں تھے؟

  • لندن سے اوسلو تک ،ایپسٹین فائلز نے  عالمی اشرافیہ  کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا !!!

    لندن سے اوسلو تک ،ایپسٹین فائلز نے عالمی اشرافیہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا !!!

    ٹرمپ ، مودی ، عمران ،کلنٹن ، بل گیٹس ،ممدانی ،ایلون مسک ، یورپی اور عرب شاہی خاندان
    سب ہی اس حمام میں ننگے ہیں!!

  • امبانی نے” جے شاہ” کے کان پکڑوا دیے

    امبانی نے” جے شاہ” کے کان پکڑوا دیے

    آئی سی سی بنی انڈین کرکٹ کونسل ،تمام بھرم ختم
    پاکستان کے دوٹوک موقف نےمودی کی چیخیں نکلوادیں

  • آبنائے ہرمز ، ایرانی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روک لیا

    آبنائے ہرمز ، ایرانی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روک لیا

    آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں نے ایک امریکی پرچم والے تجارتی جہاز کو روک لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بغیر اجازت ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوا تھا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب جہاز ایرانی حدود میں داخل ہوا تو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے وارننگ جاری کی گئی، جس کے بعد امریکی پرچم والا جہاز علاقے سے واپس نکل گیا۔ ایرانی موقف کے مطابق یہ اقدام ملکی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور اس کے عملے کو ہراساں کیا۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق ایرانی کشتیاں اور ایک ایرانی ڈرون جہاز کے قریب پہنچے اور اسے قبضے میں لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

    بحیرہ عرب میں تعینات امریکی ائیرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جانب ایک ایرانی ڈرون بڑھنے لگا۔ اس خطرے کے پیشِ نظر یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود امریکی ایف 35 سی لڑاکا طیارے نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی ’شاہد-139‘ ڈرون کو مار گرایا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ایف 35 طیارے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ائیرکرافٹ کیریئر کی طرف آنے والے ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی بحری جہاز اور اس پر موجود عملے کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی یا فوجی ساز و سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی فوج کے مطابق خطے میں امریکی افواج دفاعی پوزیشن میں ہیں اور کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

  • لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کاقتل

    لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کاقتل

    لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قتل کیے جانے کی اطلاع، ایک سے زائد مصدقہ ذرائع نے تصدیق کی ہے۔

    سیف الاسلام قذافی، جو اپنے والد معمر قذافی کے سب سے طاقتور بیٹوں میں شمار ہوتے تھے، مختلف ذرائع کے مطابق 53 سال کی عمر میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ان کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایک مسلح گروہ نے انہیں گولی مار کر ہلاک کیا۔بعض رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ان کے رہائش گاہ یا قریبی علاقے میں پیش آیا، لیکن حتمی حالات ابھی واضح نہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق سیف الاسلام قذافی کا قتل چار افراد نے کیا، انہیں باغ میں گولی ماری گئی جس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے

    سیف الاسلام قذافی، معمر قذافی کے سب سے زیادہ سیاسی سرگرم بیٹے سمجھے جاتے تھے۔وہ اپنے والد کے دور میں اہم پالیسی فیصلوں میں شریک رہے اور عالمی سطح پر بھی شناخت رکھتے تھے۔2011 میں لیبیا میں انقلاب کے بعد انہیں باغیوں نے گرفتار کیا اور بعد میں سن 2017 میں رہائی ملی۔2021 میں انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، مگر انہیں پارٹی کمیشن نے غیر اہل قرار دیا تھا۔

    سیف الاسلام پر جنگی جرائم کے مقدمات بھی چل رہے تھے،ان پر سن 2015 میں ایک لیبیا عدالت نے غیابی طور پر موت کی سزا بھی سنائی تھی۔اس کے علاوہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بھی ان پر جرائمِ انسانیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ان کی سیاسی واپسی، مقدمات اور ان کے قتل نے لیبیا کی ابھرتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ایک بڑا واقعہ ثابت کیا ہے، کیونکہ وہ ایک متنازع شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سٹی ہسپتال نہیں مردہ خانہ بن گیا

    ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سٹی ہسپتال نہیں مردہ خانہ بن گیا

    گوجر خان (قمرشہزاد) لاکھوں کی آبادی، کروڑوں کا ٹیکس مگر صلہ صفر تحصیل گوجرخان کا سرکاری ہسپتال سیاسی لاوارثی اور شعبہ صحت کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر بلال کی راولپنڈی روانگی نے ہسپتال کے شعبہ اطفال کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ڈاکٹر کنزہ پہلے ہی جا چکی ہیں، ڈاکٹر زاہد چھٹیوں پر ہیں جبکہ ایک اکیلی لیڈی ڈاکٹر فائزہ لاکھوں بچوں کی مسیحائی کا بوجھ اٹھائے کھڑی ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر بلال صرف ایک نام نہیں بلکہ گوجرخان کے غریب والدین کے لیے امید کی آخری کرن تھے۔ ان کی موجودگی میں نومولود بچوں سے لے کر کم سن بچوں تک کو گھر کی دہلیز پر علاج میسر تھا، مگر اب ہسپتال کی راہداریوں میں صرف ماؤں کی آہیں اور بچوں کے رونے کی صدائیں گونجیں گی۔

    کیا محکمہ صحت نے گوجرخان کو صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا اکھاڑہ بنا رکھا ہے؟ حلقہ پی پی 8 کے سیاسی ٹھیکیداروں کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے جو ووٹوں کے وقت تو مسیحا بن کر آتے ہیں مگر اب گوجرخان کے بچے سسکیں گے اور ان کی زبانوں پر تالے ہوں گے۔ غریب عوام سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنے لختِ جگر کو لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر خوار ہوں یا پرائیویٹ ہسپتالوں کے قصابوں کے آگے ڈال دیں؟ اس مہنگائی میں جہاں دو وقت کا آٹا میسر نہیں وہاں ہزاروں روپے کی فیسیں کون بھرے گا؟ اہلیانِ گوجرخان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرِ صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر فوری طور پر ڈاکٹر بلال کی واپسی یا ان کے متبادل دو قابل چائلڈ اسپیشلسٹ تعینات نہ کیے گئے تو مقامی باسی پرائیویٹ ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہوں گے۔ یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ان ہزاروں ماؤں کی پکار ہے جن کے بچے آج سرکاری بے حسی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔

  • بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کریگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، کیپٹن (ر)صفدر

    بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کریگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، کیپٹن (ر)صفدر

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما و وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر)صفدر نے کہا ہے کہ مریم نوازکی پالیسیوں سے ریلیف عام آدمی تک پہنچ رہا ہے، ترقی کا عمل لاہور سے نکل کر اب گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔

    شیخوپورہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر)صفدر کا کہناتھاکہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیے بغیر حقیقی تبدیلی کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا، وزیراعلیٰ کےپی صوبے پر توجہ دینے کے بجائےکراچی جاکرعوام کوبھاشن دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک ہفتہ لاہورآئیں انہیں معلوم ہوجائےگا ترقی کا عمل ہرگلی اور محلہ تک پہنچ چکا ہے، پاکستان دفاعی اور معاشی طورپرایشیاکی مضبوط ترین قوت بننے جا رہا ہے، بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کردےگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، مریم نوازکی پالیسیوں سے ریلیف عام آدمی تک پہنچ رہا ہے، ترقی کا عمل لاہور سے نکل کر اب گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے