Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    گرفتارافغان دہشتگرد نےٹی ٹی اےکیساتھ مل کر پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں پرحملوں کا اعتراف کیا ہے

    گرفتار دہشتگرد کا بھائی شیر افغان بھی ٹی ٹی پی سے وابستہ اورپکتیکا کا رہائشی ہے ،دہشتگرد گروپ کی قیادت “مسلم” نامی شخص کر رہا تھا،گرفتارافغان دہشتگرد نے پاک افغان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کو نشانہ بنایا ،گرفتار افغان دہشتگردحبیب اللہ پہلے بھی ایک ماہ قید میں رہا،کئی دہائیوں سے ایک سازش کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی گئی ،پاکستان اپنےشہریوں کے تحفظ کیلئےافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرحملہ کررہا ہے ،افغانستان کے عوام کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ،پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان نےمتعدد بارافغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےکے ٹھوس ثبوت فراہم کیے،

    حکومتِ پاکستان نے بارہا افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےسےروکنےکامطالبہ کیا ،حبیب اللہ اس سے قبل بھی گرفتار ہوا مگر جذبہ خیر سگالی کے تحت عام شہری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا مگرفتاردہشتگرد کوکُچلاک کےعلاقے سےدوبارہ گرفتارکیا گیاجس سےسرحدپاردہشتگردی کےروابط بے نقاب ہوئے ،ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے ہیں،اس گروپ کے دوسرے دہشتگردوں کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے

  • اپووا کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس،ایوارڈز تقسیم

    اپووا کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس،ایوارڈز تقسیم

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس کا انعقاد لاہور کے معروف ہوٹل پاک ہیریٹیج میں نہایت شاندار اور پروقار انداز میں کیا گیا۔ اس باوقار تقریب میں ملک بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جس سے یہ پروگرام ایک بھرپور، کامیاب اور یادگار اجتماع ثابت ہوا۔تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین میں ایوارڈز، میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جس نے شرکاء کے حوصلے کو مزید بلند کیا۔

    اپوواکی خواتین کانفرنس کے موقع پر باغی ٹی وی اور اپووا کے مشترکہ زیر اہتمام منعقد ہونے والے "شانِ پاکستان” تحریری مقابلے میں بہترین تحریریں پیش کرنے والے شرکاء میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ اپووا کے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لکھاریوں میں "شانِ پاکستان ایوارڈ” تقسیم کیے۔باغی ٹی وی کی جانب سے شان پاکستان ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی، رقیہ غزل،قرۃ العین خالد اور ماریہ خان شامل تھے، جن کی تحریروں کو معیار، موضوع اور قومی جذبے کے اعتبار سے بہترین قرار دیا گیا،

    خواتین کانفرنس میں وائس چیئرپرسن سوشل ڈویلپمنٹ جہاں آرا منظور وٹو، معروف سماجی کارکن عائشہ احد ملک، ڈپٹی سیکرٹری گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، اور اداکارہ، ماڈل و سوشل ورکر رابی پیرزادہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ اس کے علاوہ معروف ادیب و شاعر ناصر بشیر، ملک یعقوب اعوان اور دیگر علمی و ادبی شخصیات کی شرکت نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔تقریب کا آغاز حافظ محمد زاہد نے تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پڑھنے کی سعادت سکینہ خان نے حاصل کی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر فضیلت بانو نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض سمیرا شفق اور مدیحہ کنول نے احسن انداز میں سرانجام دیے۔ یہ شاندار تقریب بانی و صدر ایم ایم علی کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی۔اس موقع پر ہمدرد ادارہ کی جانب سے خواتین کے لیے خوبصورت تحائف اور تعریفی اسناد پیش کی گئیں، جس پر آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے سی ای او ہمدرد مس فاطمہ زہرہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ڈائریکٹر ہمدرد سید علی بخاری نے بھی تقریب میں شرکت کی اور نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں انعامات و تحائف تقسیم کیے۔

    مزید برآں، بذریعہ قرعہ اندازی بھی خواتین کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ دیگر شرکاء کے لیے بھی دلکش تحائف کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں خواتین کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کے اعتراف اور معاشرے میں ان کے مثبت کردار کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔یہ کانفرنس نہ صرف ایک منظم، شاندار اور باوقار تقریب ثابت ہوئی بلکہ خواتین کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا، جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ایک دوسرے سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئے۔
    apwwa

    apwwa

    apwwa

    apwwa

  • آبنائے ہرمز ،اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایاایران، انسانی ہمدردی پر  بحری آمدورفت کی اجازت

    آبنائے ہرمز ،اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایاایران، انسانی ہمدردی پر بحری آمدورفت کی اجازت

    پاسداران انقلاب نےآبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل سے منسلک ایک تجارتی جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں پہلے ہی جنگی صورتحال کے باعث آمد و رفت شدید متاثر ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔تاحال اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ “ضروری اشیاء” لے جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ تجارتی امور کے نائب سربراہ ہومان فتحی کی جانب سے جاری ایک ہدایت نامے میں کیا گیا۔ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ خوراک، بنیادی اجناس اور مویشیوں کی خوراک جیسی اشیاء لے جانے والے جہازوں کو خصوصی اجازت دی جائے گی۔ یہ سہولت خاص طور پر ان جہازوں کے لیے ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں یا پہلے ہی اس خطے میں موجود ہیں۔
    ایرانی حکام نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ پروٹوکول کے مطابق ان جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ ساتھ ہی ان جہازوں کی فہرست بھی ہم آہنگی کے لیے متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے گی۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ایران کن اشیاء کو “ضروری” قرار دے گا اور آیا وہ ان ممالک کے جہازوں پر پابندی برقرار رکھے گا جنہیں وہ مخالف سمجھتا ہے۔

  • ایران میں امریکی پائلٹ کی تلاش، ماہرین نے صورتحال کو “بلی چوہے کا کھیل” قرار دے دیا

    ایران میں امریکی پائلٹ کی تلاش، ماہرین نے صورتحال کو “بلی چوہے کا کھیل” قرار دے دیا

    ایران میں امریکی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کے تباہ ہونے کے بعد لاپتہ پائلٹ کی تلاش کے لیے جاری آپریشن انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

    سابق برطانوی فضائیہ کے پائلٹ جان پیٹرز نے موجودہ صورتحال کو “بلی اور چوہے کا کھیل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ اور سیاسی طور پر نہایت اہم مرحلہ ہے۔اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ امریکی افواج اپنے ساتھی پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں، جس میں خصوصی یونٹس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ “امریکی فورسز اپنے ساتھی کو نکالنے کے لیے مکمل حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گی، جبکہ ایرانی فورسز بھی علاقے کو گھیرنے کی کوشش کریں گی کیونکہ یہ اب ایک سیاسی کھیل بن چکا ہے، جو انہیں بڑا فائدہ دے سکتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ریسکیو صلاحیتیں “غیر معمولی حد تک مضبوط” ہیں اور اس آپریشن کے لیے وسیع وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والے جنگی طیارے ایف 15 میں سوار دو رکنی عملے میں سے ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ “میری تمام تر ہمدردیاں اس وقت اس فضائی عملے کے ساتھ ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے محفوظ نکال لیے جائیں گے۔”

    بین الاقوامی تجزیہ کار ڈیانا منگنے کے مطابق یہ واقعہ فضائی جنگ کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی حکام نے مبینہ طور پر لاپتہ پائلٹ کی گرفتاری پر 60 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے،امریکی خصوصی فورسز کے علاقے میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں،ریسکیو آپریشن انتہائی خطرناک نوعیت اختیار کر چکا ہے

    ایرانی فضائی دفاع کے کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے کئی جدید جنگی طیارے تباہ کیے،درجنوں کروز میزائل مار گرائے،160 سے زائد ڈرونز تباہ کیے

    جان پیٹرز، 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران انکا طیارہ عراق میں مار گرایا گیا تھا، نے اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میزائل لگنے کے بعد طیارہ زمین کے قریب گھوم گیا،طیارے کے گرد شعلوں کا ایک بڑا دائرہ بن گیا،زمین پر اترتے ہی 20 کے قریب عراقی فوجیوں نے فائرنگ کی اور انہیں گرفتار کر لیا،ان کی گرفتاری کے بعد تشدد زدہ تصاویر عالمی میڈیا پر نشر ہوئیں، جو جنگی قیدیوں کے خطرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

    یہ واقعہ امریکی دعوؤں کے برعکس سامنے آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور امریکی افواج کو مکمل فضائی برتری حاصل ہے۔تاہم ایف-15 طیارے کا گرنا اس دعوے پر سوالیہ نشان بن گیا ہے

    ادھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مسلح ایرانی افراد امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کر رہے ہیں، جو لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہی ہے، جہاں ہر لمحہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

    ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کی تلاش پر 66 ہزار ڈالرز انعام کی پیشکش
    ان اطلاعات کے بعد کہ ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران میں مار گرایا گیا تھا، ایرانی آؤٹ لیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ عملے کے دو ارکان میں سے ایک نے اجیکٹ کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں اُترا ہو۔امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو بتایا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے، تاہم عملے کا ایک رُکن لاپتہ ہے۔ایرانی حکومت سے وابستہ ایرانی چینلز نے شہریوں کو انعامات کی پیشکش کرتے ہوئے پر زور دیا ہے کہ وہ ’پائلٹ کو زندہ پکڑ لیں۔‘ایرانی چینلز کے مطابق پائلٹ کو زندہ پکڑنے پر 66 ہزار امریکی ڈالرز انعام کی پیشکش کی گئی ہے۔بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جس میں دو جنوبی صوبوں میں مسلح شہری امریکی عملے کے رکن کو تلاش کر رہے ہیں۔جنوبی صوبہ خوزستان کی ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو میں، متعدد افراد کو آتشیں اسلحہ اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے پائلٹ کو تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے، ’ان شاء اللہ، ہم اسے تلاش کر لیں گے،

  • جدید جنگی جہاز ’پی این ایس خیبر‘ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل

    جدید جنگی جہاز ’پی این ایس خیبر‘ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل

    سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ دشمن کی اہم تنصیبات اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے جدید ترین پلیٹ فارمز اور مخصوص ٹیکنالوجیز سے لیس کیا جا رہا ہے۔

    پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایڈمرل نوید اشرف نے دوسرے پی این ملجم کلاس کارویٹ، ‘پی این ایس خیبر’ کی پاک بحریہ کے بیڑے میں شمولیت کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک مضبوط، متوازن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔نیول چیف نے اپنے خطاب میں تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ‘معرکہ حق’ کے دوران پاک بحریہ بھارتی طیارہ بردار جہاز کو غرق کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی، جس کے خوف نے بھارتی بحریہ کو اپنی محفوظ پناہ گاہوں تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ معرکہ حق کے دوران بحری آپریشنز کی مہارت اور طرزِ عمل دشمن کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے بحری مفادات کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور عبرت ناک جواب دیا جائے گا۔ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ اہم بحری تجارتی اور توانائی کی گزرگاہوں پر پاکستان کا محلِ وقوع تقاضا کرتا ہے کہ ہماری بحری قوت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ ‘پی این ایس خیبر’ جیسے جدید جنگی جہاز اور مستقبل میں شامل ہونے والی ‘ہنگور کلاس’ آبدوزیں پاک بحریہ کی آپریشنل استعداد اور تزویراتی رسائی کو مزید وسعت دیں گی۔

    دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک بحریہ کے بیڑے میں جدید جنگی جہاز پی این ایس خیبر کی شمولیت پر دلی مسرت اور فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اہم پیش رفت پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور بحری سرحدوں کے مؤثر تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل ہے،پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے بڑے بحری راستے گزرتے ہیں،ایک مضبوط، متوازن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ ناگزیر ہے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور سمندری مواصلاتی راستے محفوظ رہیں، "معرکۂ حق” کے دوران پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور حکمتِ عملی نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا، پاکستان اپنی خودمختاری اور بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا،جدید جنگی پلیٹ فارمز، بشمول پی این ایس خیبر اور آنے والی ہنگور کلاس آبدوزیں، پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیت، دفاعی طاقت اور اسٹریٹجک رسائی میں نمایاں اضافہ کریں گی،حکومت پاک بحریہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے،

  • اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

    اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ اپنے "بھائی” عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان سے متعلق وضاحت کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سفارتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس پر شکریہ بھی ادا کیا۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ جامع اور مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے، جس سے حقائق مسخ ہو رہے ہیں۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا اجلاس،مزمل اقبال ہاشمی مرکزی ترجمان مقرر

    مرکزی مسلم لیگ کا اجلاس،مزمل اقبال ہاشمی مرکزی ترجمان مقرر

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی زیر صدارت اجلاس میں تقررو تبادلوں‌کا اعلان کر دیا گیا، مزمل اقبال ہاشمی مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان جبکہ تابش قیوم مسلم یوتھ لیگ کے صدر مقرر کر دیئے گئے

    مرکزی مسلم لیگ کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدور حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر سمیت دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال،مشرق وسطیٰ جنگ بارے غورو خوض کیا گیا، اجلاس میں پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا گیا، اجلاس میں پارٹی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان مزمل اقبال ہاشمی ہوں گے جبکہ تابش قیوم مسلم یوتھ لیگ کے صدر ہوں‌گے،عقیل لغاری کو صدر مرکزی مسلم لیگ بلوچستان، اجمل چانڈیہ کو صدر مرکزی مسلم لیگ جنوبی پنجاب، عمران بھٹی کو صدر مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب مقرر کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا دوسرا مرحلہ الیکشن کمیشن مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ہی مکمل کیا جائے گا.

  • عباس عراقچی کا ٹویٹ، مخالفین کے جھوٹے پروپیگنڈے کی بھرپور تردید

    عباس عراقچی کا ٹویٹ، مخالفین کے جھوٹے پروپیگنڈے کی بھرپور تردید

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایکس (ٹویٹر) ہینڈل پر جاری کردہ بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بننے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ انہوں نے ایرانی انکار کے حوالے سے مغربی میڈیا کی من گھڑت کہانیوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    ان کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف اور شکریہ، عالمی امن اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ بیان مغربی اور بھارتی میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود ان کے آلہ کاروں کی جانب سے چلائی جانے والی ڈس انفارمیشن مہم کا خاتمہ کرتا ہے۔ الحمدللہ، ایک مخلص امن ثالث کے طور پر پاکستان کا قد برقرار ہے اور مخالفین کا مذموم پروپیگنڈا ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ پاکستان تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری روابط کے ذریعے علاقائی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ مایوس اور دشمن ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کو ناکام بنایا جا سکے۔

  • مذاکرات کیلیے پاکستان جانے سے انکار نہیں کیا،ایرانی وزیرخارجہ

    مذاکرات کیلیے پاکستان جانے سے انکار نہیں کیا،ایرانی وزیرخارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے ہم نے مذاکرات کیلئے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔

    گزشتہ روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے یہ خبر نشر کی تھی کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملنے سے انکار کر دیا ہے، ثالثوں کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں اور یہ کہ امریکا کے مطالبات ناقابل قبول ہیں،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیے اور مصر اب بھی اس حوالے پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے نئے مقامات جن میں قطر کا دارالحکومت دوحہ یا ترکیے کا شہر استنبول شامل ہیں پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ تعطل ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔

    تاہم اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا پر ایرانی عوام کی پاکستان سے والہانہ محبت کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم ن مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا،ہم جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، امریکی میڈیا جنگ بندی کی خبروں کو غلط طریقے سے پیش کر رہا ہے، ایران ان شرائط پر زور دیتا ہے کہ جنگ کا جامع اور دائمی خاتمہ ہونا چاہیے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کی پوسٹ پر پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ردعمل دیا ہے،وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں عباس عراقچی کی وضاحت کو سراہتے ہوئے لکھا،”میرے پیارے بھائی، آپ کی وضاحت کی دل سے قدر کرتا ہوں۔”

    سفارتی حلقوں کے مطابق اس بیان کو پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان مثبت اور دوستانہ پیغامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اس طرح کے عوامی بیانات نہ صرف سفارتی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی کو دور کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں مختلف امور پر قریبی رابطہ دیکھنے میں آیا ہے، جسے خطے کے استحکام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • چکن سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

    چکن سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

    پاکستان کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے عام شہریوں کی زندگی مزید مشکل کر دی ہے۔ مارکیٹوں میں دکانداروں کی جانب سے قیمتیں از خود بڑھانے کے رجحان نے مہنگائی کو غیر معمولی سطح تک پہنچا دیا ہے۔لاہور میں چکن کی قیمتیں سرکاری نرخ 595 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 630 روپے تک فروخت ہو رہی ہیں۔ انڈوں کی قیمتیں بھی بڑھ کر 232 روپے درجن تک پہنچ گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، مختلف پھلوں کے نرخوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے عام صارفین کی خریداریاں محدود ہو گئی ہیں۔

    راولپنڈی میں بھی مہنگائی کی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔ زندہ مرغی کی قیمت بڑھ کر 470 روپے فی کلو اور گوشت کی قیمت 650 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ شہری اب روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔پشاور میں ایک دن کے اندر مرغی کی قیمت میں 35 روپے فی کلو اضافہ ہوا، جس کے بعد زندہ مرغی کے نرخ 455 سے بڑھ کر 490 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ گوشت کی قیمت بھی 780 روپے فی کلو ہو گئی، جس نے عوام کی خریداری کی طاقت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مارکیٹ میں سپلائی چین کے مسائل، بڑھتی ہوئی پیداوار کی لاگت اور دکانداروں کی منافع خورانہ رویے کی وجہ سے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور مارکیٹ میں ریگولیشن سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس وقت عام آدمی کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے، اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اشیاء کی قیمتوں میں اس رفتار سے اضافہ جاری رہا تو ملک میں معاشی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔