Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی،اہلیہ ارشد شریف

    ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی،اہلیہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کیس نمٹانےپر ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا ردعمل سامنے آ گیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ "ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی اگر سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت انصاف نہیں دے سکی تو ایک ضلعی کچہری میں کیسے انصاف ہوگا جب آج تک ارشد شریف کے خلاف ہراسانی دھمکیوں سر میں گولی مارنے اور پھر قتل کرنے کی ایف آئی آر فیملی کی مدعیت میں درج نہیں ہوسکی۔ کوئی نظام موجود نہیں بس ایک بار آپ ساتھ ظلم ہوگیا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں یہاں پر یہ کہا جاتا ہے”.

    واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے۔
    ‎عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے بعد اس مرحلے پر عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں رہی۔‎فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانی عوام کے دکھ اور تشویش کو سمجھتی ہے۔ تاہم تحقیقات اور قانونی کارروائی متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت جاری ہے۔
    ‎عدالت نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ فورمز یا عدالتوں سے رجوع کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔‎فیصلے کے مطابق پاکستان اور کینیا کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک اپنے اپنے قوانین کے تحت ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

  • بشیر  بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    بشیر بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گرفتار کمانڈر درزاد بلوچ نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ بشیر زیب بلوچ خواتین کو اغوا کر کے نہ صرف جنسی استحصال کا نشانہ بناتا تھا بلکہ انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

    درزاد بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت منظم انداز میں دیہی اور پسماندہ علاقوں سے کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتی رہی، جہاں انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کر کے ذہنی و جسمانی استحصال، جبری مشقت اور عسکری تربیت دی گئی۔ وہ بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد خواتین کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتا تھا،اس نے 50 سے زائد لڑکیوں کو دیہی علاقوں سے اٹھایا، جہاں سے خبر نکلنے کا خطرہ کم تھا، اور انہیں برین واش کر کے میر آباد منتقل کیا جاتا۔ وہاں ان لڑکیوں پر کئی ماہ جنسی زیادتی کی جاتی، پھر گھریلو کام کروائے جاتے اور بالآخر خودکش حملوں کی تربیت دے کر گوریلا جنگ میں استعمال کیا جاتا۔ درزاد نے یہ بھی مانا کے یہ "دلالی” تھی اور بشیر زیب پر لعنت بھیج کر قوم سے معافی مانگی کی درخواست کی،

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کمانڈر نے بیان دیا کہ اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدت پسند نظریات کے زیرِ اثر لانے کے لیے شدید ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض خواتین کو زبردستی خودکش بمبار بنانے کی تربیت دی گئی۔ درزاد بلوچ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں تنظیمی قیادت کی ہدایات پر کی جاتیں اور مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ درزاد بلوچ کے اعترافی بیان نے بی ایل اے کے اندرونی ڈھانچے، فنڈنگ، تربیتی مراکز اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کے اغوا اور استحصال کا نیٹ ورک ایک منظم چین کے تحت کام کرتا تھا، جس میں مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز تک شامل تھے۔گرفتار کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کی نام نہاد جدوجہد دراصل معصوم لوگوں، خصوصاً خواتین، کے خون اور عزت سے کھیلی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ شدت پسند قیادت نے بلوچ عوام کے نام پر ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں کو فروغ دیا۔ درزاد بلوچ نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

    سکیورٹی اداروں کے مطابق اعترافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، ریاست دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے اغوا، جنسی استحصال اور خودکش کارروائیوں میں استعمال جیسے جرائم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعترافات شدت پسند تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ تشدد اور انتہا پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

  • بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی  کا انعقاد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا گیا

    ریلی میں ہزاروں افراد پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تھامے شریک ہوئے،ریلی کی قیادت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کررہے تھے ،اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ؛دور دراز سے لوگ افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے سبزہلالی پرچم تھامےاس ریلی میں شریک ہیں،میں فیلڈ مارشل کی بات کی تائید کرتا ہوں کہ دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، بلوچستان کے عوام اس کی محافظ ہے،اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ بلوچستان ہے،یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا، ریلی میں موجود لوگوں نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلگ شگاف نعرے بھی لگائے

  • بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف گزشتہ تین دن سے جاری بھرپور اور فیصلہ کن آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 197 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے متعدد علاقوں کو کلیئر کرا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیوں کو قوم کی سلامتی کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہریوں کو بھی شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے آبادیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیے گئے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے اور فتنہ الہندوستان سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ قوم اور سیکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    کوئٹہ: بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی ساختہ اسلحہ، جدید جنگی سازوسامان اور دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر دہشت گرد کو اوسطاً 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا، جو کسی منظم بیرونی نیٹ ورک اور مالی معاونت کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں جدید امریکی ساختہ M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزرز اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جو عام طور پر جدید عسکری فورسز کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد بیرونی ساختہ بلٹ پروف جیکٹس اور جدید وائرلیس کمیونیکیشن سیٹس سے بھی لیس تھے، جس سے ان کے درمیان رابطہ اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بے حسی پیدا کرنے والی نشہ آور ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر حملوں سے قبل استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دہشت گرد خوف اور درد کے احساس سے بے نیاز ہو کر کارروائیاں انجام دے سکیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ اور تعاقبی آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے تعاقبی آپریشنز میں مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ تین روز کے دوران مختلف کارروائیوں میں 197 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی آپریشنل صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشنز جاری رکھے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

  • قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ،حافظ مسعود اظہر

    قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ،حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اسلامک کونسل کے چیئرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی حالیہ کارروائیوں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے حملوں کو ناکام بنانا ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی عزم کا مظہر ہے۔ سیکورٹی فورسز نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت ، قربانی اور قومی جذبے سے ثابت کردیا ہے کہ قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب اور بہادرانہ کارروائیوں پر ہم پاک فوج کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اسلامک کونسل کے رضا کار ، دینی ادارے اور علماء اپنے محافظوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں بھارت کی مداخلت کے شواہد موجود ہیں، یہ کارروائیاں پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں۔ دشمن عناصر کی یہ سازشیں ، کاروا ئیاں سیکیورٹی اداروں کی بروقت اور مؤثر حکمتِ عملی کے باعث ناکام ہو رہی ہیں کہ جو قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس کا مقابلہ صرف اداروں ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے اتحاد اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں، ریاستی اداروں پر اعتماد رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ قومی یکجہتی ہی دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کی اصل قوت ہے۔ وطنِ عزیز کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی اہلکار ہمارے حقیقی ہیرو اور محسن ہیں۔ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی ان کی احسان مند ہیں ۔ بہادر جوانوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی ۔ ہم شہید جوانوں کے درجات کی بلندی اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں ۔حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط کیا جائے، سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور بیرونی مداخلت کے شواہد عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں رکھے جائیں۔

  • دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے قوم ریاست کے ساتھ کھڑی ہے،خالد مسعود سندھو

    دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے قوم ریاست کے ساتھ کھڑی ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ ہم قوم کو متحد کریں ،دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے قوم ریاست کے ساتھ کھڑی ہے، کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، امید کرتے ہیں صحافیوں‌کےحقوق کے لئے نومنتخب باڈی اپنی تمام تر ذمہ داریاں ادا کرے گی

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل میڈیا سیل میں کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کی منتخب باڈی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی ترجمان تابش قیوم، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہ منیب بھی موجود تھے،کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کا وفد نومنتخب صدرمحمد اشفاق کی قیادت میں مرکزی مسلم لیگ کے سنٹرل میڈیا سیل پہنچا تو پرتپاک خیر مقدم کیا گیا،وفد میں کورٹ رپورٹرایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل محمد ہارون،سینئر نائب صدر عمران احسان،نائب صدر شیخ زین العابدین،سیکرٹری فنانس رانا بلال،نائب صدر ڈسٹرکٹ کورٹس نعمان نور،جوائنٹ سیکرٹری افضل سیال، سیکرٹری اطلاعات سلمان اعوان،سیکرٹری ڈیجیٹل اسد شاہ،اراکین وقاص اعوان،طلحہ قریشی،طارق خان،ناطق ریحان و دیگر نے شرکت کی، تقریب کے اختتام پر شرکا میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے ،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کا انتخابات جیتنے پر تمام عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہیں،صحافی برادری نے آپ کو چنا، آپ پر اعتماد کیا ،یہ بہت بڑی کامیابی ہے،میڈیا کا کردار معاشرے کی بہتری،تربیت کے لئے انتہائی اہم ہے،موجودہ دور میں رپورٹنگ کا معیار پہلے سے بہتر ہوا ہے،

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ ملک میں خدمت کی سیاست کر رہی ہے، سیاسی جماعتوں کا کام صرف الیکشن لڑنا نہیں بلکہ الیکشن کے بعد اصل کام شروع ہوتا ہے ۔مرکزی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر قوم کو متحد کر رہی ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاست نہیں کرنی بلکہ ملک کے دفاع و مضبوطی کے لئے سب کو ایک ہونا چاہئے،

    اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ نے ملک بھر میں یونین کونسل کی سطح پر انٹرا پارٹی انتخابات کروائے ہیں ۔ملک بھر کی 1300 یونین کونسل میں دوران انٹرا پارٹی انتخابات10 لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے ۔انتخابات میں خواتین،یوتھ سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادنے حصہ لیا، مرکزی مسلم لیگ وطن عزیز پاکستان کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہے،بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اپنا کماؤ پروگرام کے تحت لاکھوں شہریوں کو تربیت دی،صحافیوں کے لئے بھی تربیتی کورسزکروائے ہیں اور مزید کروائیں گے،

    کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے اپنا کماؤ کے دفتر کا بھی دورہ کیا، اپنا کماؤ کے ڈائریکٹر ملک وقاص سعید نے وفد کا استقبال کیا،اس موقع پر ملک وقاص سعید نے وفد کے اپنا کماؤ کے تربیتی کورسز بارے بریفنگ دی، ملاقات میں طے پایا کہ جلد کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے لئے بھی تربیتی کورسز کا انعقاد کیا جائے گا.

  • ترقی ممبران کے حجروں میں ہوئی،باقی صوبے کا کیا، سہیل آفریدی سے طالبہ کا سوال

    ترقی ممبران کے حجروں میں ہوئی،باقی صوبے کا کیا، سہیل آفریدی سے طالبہ کا سوال

    پشاور میں ینگ لیڈر کنونشن میں ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو لاجواب کردیا۔

    طالبہ نے سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ دوسرے صوبوں میں جعلی حکومت ہے یہاں تو اصلی ہے، دوسرے صوبوں میں ترقی ہورہی ہے یہاں کیوں نہیں؟۔وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ ہماری ترقی یہ ہے کہ آپ وزیراعلیٰ سے سوال کررہی ہیں، صرف لاہور میں کام کرنے کو ترقی نہیں کہتے۔طالبہ نے کہا کہ یہاں بھی ترقی ممبران نے اپنے حجروں میں کر رکھی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے طالبہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق ضرور اے این پی یا کسی دوسری پارٹی سے ہو گا۔طالبہ نے کہا کہ جتنی بھی ترقی ہوئی ہے، ایم پی اے اور ایم این اے کے گھروں میں ہوئی، صوبے میں جو کرپشن ہوئی ہے، اس کا آپ نے کیا کیا؟ دوسرے صوبوں سے ہمارے صوبے کا موازنہ کیا جائے کہ ہم نے کتنی ترقی کی ہے۔وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے صوبے کے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا، یہ شعور دیا کہ ایک بہن مجھ سے میری پالیسی پر سوال کر رہی ہیں، اے این پی کے دور میں بم دھماکے ہوتے تھے، این کے دور میں نشتر ہال بند تھا، ہم نے کھول دیا،جنوبی پنجاب میں لوگ اسکولوں میں جانور باندھتے ہیں، سندھ میں آج بھی اسپتالوں میں کتے گھوم رہے ہیں، پشاور میں ترقی آرہی ہے، 200 ارب روپے کی اسکیمیں لے کر آرہے ہیں، قبائلی اضلاع میں ایک ہزار ارب روپے خرچ ہوں گے۔

  • مجھے نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہے،علیمہ خان

    مجھے نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے ہمیں عمران خان کی ٹریٹمنٹ نہیں رہائی چاہیے۔

    اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے پی ٹی آئی سینیٹر مشال یوسفزئی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا مشال یوسفزئی جن کی ہدایات پر جھوٹ بولتی ہیں وہ ان کی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہے،مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کو علیمہ خان کا ٹارگٹ ملا ہوا ہے، عمران خان نے جیل میں کہا تھا جاکر ان کو بتاؤ کہ استعمال کرنے کے بعد انہیں کرش کردیا جائےگا، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ سے متعلق گزشتہ منگل کو اڈیالہ آکر پتہ چلا، میں آج بھی پوچھ رہی ہوں یہ خبر کیسے لیک ہوئی اور کس نے کی؟ میں آج بھی کہتی ہوں یہ خبر توجہ ہٹانے کیلئے لیک کی گئی۔

    ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان نے کہا سہیل آفریدی نے جمعرات کو دھرنے کا فیصلہ کیا تھا، میں نے کسی کو کوئی ہدایات نہیں دی تھیں، انہوں نے 8 فروری کے پروگرام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے، ہم اگر ان پر دباؤ نہیں ڈالیں گے یہ ہمارے ساتھ یہی کریں گے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی ٹریٹمنٹ نہیں رہائی چاہیے، یہ خوفزدہ ہیں اسی لئے کہتے ہیں ملاقات نہیں ہو گی۔

  • قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرار داد میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سیاست سے بالاتر ہوکر قومی اتحاد ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہے، دہشت گردوں نے گھناؤنے اور غیر انسانی ذرائع اختیار کیے۔متن میں کہا گیا ہے کہ ریاست دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، بیرونی اور اندرونی سہولت کاروں کیخلاف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے، دشمن کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دنیا میں ہوتا ہے۔وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد 177 لاشیں چھوڑ کر بھاگے ہیں، ہم دہشتگردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دُنیا کو معلوم ہے بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے، کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دشمنوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دُنیا میں ہوتا ہے۔