Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر ،شدید بارشوں سے تباہی، گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، 3 افراد جاں بحق

    خیبر ،شدید بارشوں سے تباہی، گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، 3 افراد جاں بحق

    خیبر: صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں موسلادھار بارشوں کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں پاک افغان شاہراہ پر نیکی خیل کے مقام پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق گاڑی میں سوار افراد کو بچانے کے لیے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں، تاہم تیز بہاؤ کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔ اب تک 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ چوتھے لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیموں کا آپریشن جاری ہے۔ امدادی اہلکاروں نے اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ لاپتہ شخص بھی جاں بحق ہو چکا ہو سکتا ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والی موسلادھار بارشوں کے باعث برساتی نالوں میں اچانک طغیانی آئی، جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی شدید بارش نے نقصان پہنچایا۔ یوسف اڈہ کے علاقے میں بارش کے باعث ایک شو روم کی چھت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں اندر کھڑی متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ عمارت پر نصب سولر پینل بھی ٹوٹ گئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، تاہم مالی نقصان کافی زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور متاثرہ مقام کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے۔

    ماہرین موسمیات نے آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • ایران پر حملے، اہم تعلیمی و فلاحی تنصیبات نشانہ، اعلیٰ عسکری شخصیات کی تدفین

    ایران پر حملے، اہم تعلیمی و فلاحی تنصیبات نشانہ، اعلیٰ عسکری شخصیات کی تدفین

    تہران: دفاعی محاذ پر ایران کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے ایرانی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ تازہ حملوں میں تعلیمی، فلاحی اور طبی مراکز کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران کی معروف جامعات میں شمار ہونے والی شہید بہشتی یونیورسٹی پر بمباری کی گئی، جس سے عمارت کے مختلف حصوں کو شدید نقصان پہنچا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔دوسری جانب جنوبی ایرانی شہر بوشہر میں ہلال احمر کے ایک گودام کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں امدادی سامان کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق حالیہ حملوں میں اب تک کم از کم 20 طبی مراکز تباہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے نظام پر یہ حملے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔گزشتہ روز امریکی افواج نے دارالحکومت تہران اور صنعتی شہر کراج کو ملانے والے خطے کے سب سے بڑے پل کو بھی تباہ کر دیا، جس سے نقل و حمل کا نظام شدید متاثر ہوا اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    دریں اثنا ایران کے مذہبی شہر قم میں سابق چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شہریوں اور حکومتی شخصیات نے شرکت کی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔اسی طرح ایرانی نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے مرحومین کی خدمات کو سراہتے ہوئے قومی یکجہتی کا اظہار کیا۔

    علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ جب امریکی عوام سے مخاطب تھا تب ہمارے رہنماؤں پر حملے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا، ان کی اہلیہ بھی شہید ہوگئیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا فیصلہ کرے کہ کون مذاکرات کا حامی اور کون دہشت گردی میں ملوث ہے؟۔

    دوسری جانب ایران کی اسرائیل پر یلغار، صیہونی ریاست پر میزائلوں کی بوچھاڑ کردی، 7 شہروں میں 17 مقامات پر میزائل داغ دیے۔رپورٹ کے مطابق تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں سائرن بج اٹھے، ہر طرف تباہی کے مناظر، آگ بھڑک اٹھی، بنی براک میں متعدد اسرائیلی شہری زخمی ہوگئے۔

  • طیارے کی تباہی سے مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا،ٹرمپ

    طیارے کی تباہی سے مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایف 16 طیارےکی تباہی سے ایران سے مذاکرات پر اثر نہیں پڑےگا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا یہ جنگ ہے اور ہم حالت جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نہیں کہہ سکتاکہ لاپتا عملے کے رکن کو نقصان پہنچایاگیا تو امریکاکیا اقدام کرےگا۔

    واضح رہے کہ ایران نے ایک ہی روز میں امریکا کے تین طیارے مار گرائے ہیں۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہےکہ ایرانی فوج نے امریکا کا ایف تھرٹی فائیو طیارہ وسطی ایران میں مار گرایا ہے۔امریکا کے ایک تباہ طیارے کا پائلٹ ایران میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کی متضاد اطلاعات ہیں۔پاسداران نے امریکا کے اے 10 لڑاکا طیارے کو جنوبی ایران میں خلیجی فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب مار گرایا ہے تاہم برطانوی میڈیا کے مطابق پائلٹ بچ نکلا،ایران نے امریکا کے ایف 15 طیارے کو بھی نشانہ بنایا، جسے ریسکیو کرنے کے لیے آئے دو ہیلی کاپٹروں پربھی حملے کیے گئے،یہ ہیلی کاپٹر پائلٹ کو ریسکیو کر کے لے جارہے تھے۔ فائرنگ سے ان ہیلی کاپٹروں کا عملہ زخمی ہوا۔مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ہیلی کاپٹر لینڈ کر گئے مگر ایرانی میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہےکہ ایک ہیلی کاپٹر نشانہ بنائے جانے سے آگ لگ گئی اور وہ نیچے جاگرا۔ایرانی میڈیا کے مطابق جمعہ امریکی فضائیہ کے لیےایران میں سیاہ ترین دن رہا۔ ایرانی فوج نے امریکا کا ایک لڑاکا طیارہ اور پانچ دیگر ایئرکرافٹ تباہ کردیے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں داخل ہونے والا ہر طیارہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے کیمرے سے دیکھ لیا تھا اور اسے باآسانی ہدف بنایا گیا۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔سبیل اکرام

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔سبیل اکرام

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ظالمانہ اضافہ عوام پر کھلا خودکش حملہ ہے۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے ۔ ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 211 روپے صرف ٹیکس، لیوی اور مختلف چارجز کے نام پر وصول کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ تصور ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ انھوں نے کہا وہ ممالک جو جنگ سے براہ راست متاثر ہیں ان میں پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایک طرف عوام کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے باآسانی گزررہے ہیں اور دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کردیا گیا ہے کہ جو لوگوں کو کچل دے گا اور معیشت کو تباہ کردے گا ۔فی لیٹر پٹرول پر عائد لیوی اور مختلف ٹیکسز یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ عوام کی خالی ہوتی جیب، مزدور کے بجھتے چولہے اور سفید پوش طبقے کی ٹوٹتی امیدوں کی کہانی ہے جس نے ہر فرد کی مشکلات کو ناقابلِ برداشت حد تک پہنچا دیا ہے۔اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ درحقیقت مہنگائی کے ایک نہ ختم ہونے والے طوفان کو جنم دے گا ۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، بجلی اور گیس کے بل عوام کے لیے ڈراؤنا خواب بن جاتے ہیں۔ ایک عام آدمی جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، اب مکمل بے بسی کی تصویر بن چکا ہے۔ انھوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے حکمران اپنے شاہانہ اخراجات کم کریں ۔ وزراء اور سرکاری افسران کو ملنے والی مفت پٹرول کی سہولت فوری طور پر ختم کی جائے، کیونکہ اب عوام کیلئے یہ شاہ خرچیاں برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔ عوام کیلئے مہنگا پٹرول وزراء اور حکمرانوں کیلئے شاہانہ مراعات یہ حکمرانوں کا کھلا تضاد بھی ہے اور عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ عوام دشمن رویہ ترک کیا جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔

  • ایران کا تل ابیب میں موساد ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا تل ابیب میں موساد ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کی سیکیورٹی فورس پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے اہم شہر تل ابیب میں واقع خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈکوارٹر کو میزائل حملے میں تباہ کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے دوران ایک بلند و بالا عمارت کے قریب زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جبکہ فضا میں آگ کا بڑا گولہ بلند ہوتا بھی دیکھا گیا۔ تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کی تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔عینی شاہدین کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے دوران شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی افراد نے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی کوشش کی۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کچھ شہری ایک اسرائیلی وزیر کے گھر میں قائم شیلٹر تک پہنچے، تاہم مبینہ طور پر وزیر کی جانب سے دروازہ نہیں کھولا گیا، جس پر عوامی سطح پر غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں آج کے دن کو امریکا کے لیے “سیاہ دن” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جدید ترین فضائی دفاعی نظام کے ذریعے 2 طیارے، 5 ڈرونز اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں۔

  • پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    نامور برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا ہیں۔

    فنانشل ٹائمز میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار سوشانت سنگھ کی جانب سے لکھے گئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا جبکہ بھارت مشرق وسطیٰ مذاکرات سے خارج اور امریکا میں اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان، ترکیے، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل بلاک علاقا ئی اثر و رسوخ میں تبدیلی کا اشارہ ہے جو بھارت کواپنی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبورکر رہا ہے۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں کہا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہیں اور صدرٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل کو ثالث کے طور پر ترجیح دیتے ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سفارتی ہزیمت کا سامنا ہے۔

  • ایران کے حملوں سے خلیجی خطے میں ڈیجیٹل بحران ،ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز شدید متاثر

    ایران کے حملوں سے خلیجی خطے میں ڈیجیٹل بحران ،ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز شدید متاثر

    خلیجی خطے میں جاری کشیدگی نے اب عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں ایران کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایمازون کی کلاؤڈ سروس، ایمازون ویب سروس، کے بحرین اور دبئی میں موجود اہم ڈیٹا سینٹرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان حملوں کے باعث دونوں مقامات پر موجودا یمازون ویب سروس کے “ایویلیبیلٹی زونز” (Availability Zones) میں سے کچھ مکمل طور پر بند ("ہارڈ ڈاؤن”) ہو چکے ہیں جبکہ دیگر جزوی طور پر متاثر ہونے کے باوجود محدود پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔ اندرونی کمپنی مراسلے کے مطابق ان سروسز کی بحالی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ایمازون ویب سروس کے اندرونی پیغام میں ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ بحرین اور دبئی کے متاثرہ ریجنز کو فی الحال کم ترجیح دی جائے۔ مراسلے میں کہا گیا "یہ دونوں ریجنز اب بھی متاثر ہیں، اور سروسز سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ معمول کی کارکردگی اور استحکام کے ساتھ چلیں گی۔”مزید بتایا گیا کہ کمپنی متاثرہ صارفین کو دیگر محفوظ ریجنز میں منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، اور سسٹمز کو کم سے کم وسائل پر چلانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ صارفین کی منتقلی میں آسانی ہو۔

    اطلاعات کے مطابق بحرین میں ایمازون ویب سروس کے ڈیٹا سینٹرز پر متعدد بار حملے کیے گئے، جن میں ایک حملہ بدھ کے روز ہوا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی میں بھی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ایمازون ویب سروس کے ہر ریجن میں عام طور پر تین ایویلیبیلٹی زونز ہوتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں بعض مکمل طور پر بند جبکہ دیگر جزوی طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے مزید امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں، جن میں گوگل،مائیکروسافٹ اور ایپل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ایمازن کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی متاثرہ صارفین کو دیگر ایمازون ویب سروس ریجنز میں منتقل کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے، اور بڑی تعداد میں صارفین پہلے ہی کامیابی سے اپنی ایپلی کیشنز کو منتقل کر چکے ہیں۔”ہم مسلسل متاثرہ صارفین کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں متبادل ریجنز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔”

    یہ واضح نہیں کہ بحرین اور دبئی کے ڈیٹا سینٹرز کب مکمل طور پر بحال ہو سکیں گے، جس سے خطے میں ڈیجیٹل سروسز اور آن لائن کاروباروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  • ایران جنگ، امریکی  طیارے گرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں

    ایران جنگ، امریکی طیارے گرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں

    28 فروری سے 3 اپریل 2026 تک جاری رہنے والے مبینہ فوجی آپریشن کے دوران امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مختلف اوپن سورس انٹیلیجنس رپورٹس، کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متعدد جدید طیارے اور فوجی اثاثے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ F-35 Lightning II ایرانی فضائی دفاعی نظام کی زد میں آ کر نقصان کا شکار ہوا۔ اس طیارے کی فی یونٹ لاگت تقریباً 110 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔اسی طرح F-15E Strike Eagle کے چار طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین کویت کے اوپر جبکہ ایک ایران کے اندر مار گرایا گیا۔ اس طیارے کی ابتدائی لاگت 1998 میں 270 ملین ڈالر تھی جو اب اندازاً 700 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔مزید برآں، قریبی فضائی مدد فراہم کرنے والا A-10 Thunderbolt II بھی ایرانی میزائل سسٹم کا نشانہ بنا، جس کی مالیت تقریباً 18.8 ملین ڈالر ہے۔اہم فضائی نگرانی طیارہ E-3 Sentry AWACS کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر تباہ کر دیا گیا، جس کی لاگت تقریباً 40 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

    ہیلی کاپٹروں کے حوالے سے بھی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک HH-60M Black Hawk عراق میں تباہ جبکہ دو HH-60W Jolly Green II ایران کے اوپر پرواز کے دوران نقصان کا شکار ہوئے۔ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے KC-135 Stratotanker طیاروں میں سے کم از کم دو مکمل طور پر تباہ جبکہ پانچ کو شدید نقصان پہنچا۔

    ڈرونز کے محاذ پر بھی امریکی فوج کو بڑا دھچکا لگا، جہاں 17 MQ-9 Reaper یو سی اے ویز تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک MQ-9 ریپر کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

  • ایران کے افزودہ یورینیئم پر قبضے کی ٹرمپ کی تجویز، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا

    ایران کے افزودہ یورینیئم پر قبضے کی ٹرمپ کی تجویز، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیئم اپنے قبضے میں لینے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین نے اس نوعیت کے کسی بھی فوجی مشن کو انتہائی خطرناک اور پیچیدہ قرار دے دیا ہے۔

    امریکی صدر کے بیان کے مطابق ایران کا تقریباً 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم گہرائی میں زیرِ زمین محفوظ ہے، جس تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی عملی صورت حال چیلنجز سے بھرپور ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس اور تحقیق کاروں کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم 60 فیصد تک افزودہ حالت میں موجود تھا، جسے باآسانی 90 فیصد تک بڑھا کر ہتھیاروں کے معیار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس تقریباً 1000 کلوگرام یورینیئم 20 فیصد جبکہ 8500 کلوگرام 3.6 فیصد تک افزودہ شکل میں موجود ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم ممکنہ طور پر اصفہان میں محفوظ ہے، جو ایران کی اہم زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں شامل ہے۔ اس مقام کو گزشتہ برس امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو مزید مضبوط اور محفوظ بنا لیا ہے۔ خاص طور پر اصفہان میں سرنگوں کے داخلی راستے مٹی سے بند کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث کسی بھی بیرونی فوجی کارروائی کو عملی جامہ پہنانا نہایت دشوار ہو گیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اس طرح کا کوئی آپریشن شروع کرتا ہے تو اسے نہ صرف بھاری مشینری کے استعمال کی ضرورت پڑے گی بلکہ ممکنہ ایرانی جوابی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • امریکا اور ایران کے مابین ثالثی بارے جھوٹی خبریں،ترجمان دفتر خارجہ کی تردید

    امریکا اور ایران کے مابین ثالثی بارے جھوٹی خبریں،ترجمان دفتر خارجہ کی تردید

    ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کردی۔

    ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نےکہاکہ خطے میں کشیدگی اورپاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے متعلق رپورٹس کو نوٹ کیا، ان رپورٹس میں نام نہاد سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا گیا،انہوں نے بتایاکہ وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیاگیا، ایسے مواد کا حوالہ دیا گیا جو نہ زیربحث آئے اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیاگیا،ترجمان دفترخارجہ نے سوشل میڈیا پرزیرگردش جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ یہ الزامات بےبنیاد اور محض تصور کی پیداوارہیں،انہیں سرکاری ذرائع سےمنسوب کرناغلط ہے،انہوں نے علاقائی حساسیت اور نازک وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی کہاکہ میڈیاپلیٹ فارم مکمل تحقیق سےکام لیں اور قیاس آرائی سےگریز کریں اور درست اوربروقت معلومات کےلیےصرف سرکاری بیانات پرانحصارکریں۔