Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرار داد میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سیاست سے بالاتر ہوکر قومی اتحاد ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہے، دہشت گردوں نے گھناؤنے اور غیر انسانی ذرائع اختیار کیے۔متن میں کہا گیا ہے کہ ریاست دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، بیرونی اور اندرونی سہولت کاروں کیخلاف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے، دشمن کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دنیا میں ہوتا ہے۔وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد 177 لاشیں چھوڑ کر بھاگے ہیں، ہم دہشتگردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دُنیا کو معلوم ہے بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے، کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دشمنوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دُنیا میں ہوتا ہے۔

  • پیپلزپارٹی نے حکومت کو زرعی شعبے کیلئے 3 مطالبات پیش کردیئے

    پیپلزپارٹی نے حکومت کو زرعی شعبے کیلئے 3 مطالبات پیش کردیئے

    پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کو زرعی شعبے کیلئے 3 مطالبات پیش کردیئے۔ فوری ریلیف پیکیج، سود کی معافی اور نئے قرضے دیئے جائیں۔

    اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں چوہدری منظور اور ندیم افضل چن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسانوں کیلئے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔پیپلزپارٹی نے زرعی شعبے کیلئے 3 مطالبات میں کہا کہ کسانوں کو فوری طور پر ریلیف پیکیج دیا جائے، پچھلا سود معاف کیا جائے اور نئے قرضے فراہم کیے جائیں۔چوہدری منظور نے کہا کہ حکومت کسانوں سے آلو کی فصل خریدے، کمرشل بینک زرعی شعبے کو قرضے نہیں دیتے، کسانوں کو ابھی تک سیلاب والی امداد نہیں ملی۔ندیم افضل چن نے کہا کہ زرعی بحران کے باعث انڈسٹری بھی سنگین مشکلات کا شکار ہے، پیپلزپارٹی سڑکوں پر بعد میں پہلے اسمبلی میں معاملہ اٹھائے گی، زرعی شعبے کا کرائسز سب سے زیادہ پنجاب میں ہے، آپ کسان کیلئے بجلی کا ریٹ بھی کم نہیں کررہے، سڑکوں پر جانے کا آپشن آخری ہے۔ملک بھر میں کسان مہنگائی، بیجوں کی قلت، پانی کی کمی اور زرعی لاگت میں اضافے جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں، مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کسانوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کسانوں کو ریلیف، مناسب قیمت اور سہولیات کی فراہمی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ عوام اور کسان کی آواز بن کر، پیپلز پارٹی ہر مشکل میں ساتھ کھڑی ہے۔

  • پی ٹی آئی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹرولنگ والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لاتعلقی

    پی ٹی آئی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹرولنگ والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لاتعلقی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹرولنگ اور توہین آمیز مہم میں ملوث افراد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے واضح اور دوٹوک انداز میں لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

    دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پارٹی میں کوئی ابہام نہیں اور دہشتگردی سے متعلق واقعات میں سکیورٹی فورسز کے شہدا پر تنقید کرنے والوں سے واضح طور پر لاتعلقی اختیار کی گئی ہے۔شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی پالیسی کے مطابق فوج ان کی اپنی ہے اور پاکستان اور اس کے وجود کیلئے بے حد اہم ہے، سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کا مذاق اُڑانے یا کمزور کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔تاہم پارٹی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ اس باضابطہ مؤقف کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے ہی سوشل میڈیا ٹرولز سے بڑھتا ہوا خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔پارٹی کا سوشل میڈیا بیرون ملک سے چلایا جاتا ہے اور یہ پارٹی کے چیئرمین، سیکرٹری اطلاعات حتیٰ کہ سیاسی کمیٹی کے کنٹرول میں بھی نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ 3 روز قبل بھارتی سرپرستی میں کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے 8 اضلاع میں حملے کیے جنہیں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے ناکام بنایا اور 3 روز کے دوران 177 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

    گزشتہ روز خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے حملوں میں 17 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری بھی شہید ہوئے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو گی، ریاست کی جانب سے دہشتگردوں کو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

  • بلوچستان میں دہشتگرد حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے منظم کیا گیا، گرپتونت سنگھ پنوں

    بلوچستان میں دہشتگرد حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے منظم کیا گیا، گرپتونت سنگھ پنوں

    بلوچستان میں بی ایل اے کا دہشت گرد حملہ، جو مودی کی بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، امریکی مفادات اور ٹرمپ انتظامیہ پر براہِ راست حملہ ہے

    سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گر پتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کا حل، خالصتان لبریشن آرمی کو مسلح کیا جائے ،بلوچستان میں شہریوں پر کیا گیا حملہ کی سازش بھارت میں تیار کی گئی، یہ حملہ اجیت دوول کی قیادت میں را نے منظم کیا،بلوچستان حملہ نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان میں امریکی مفادات اور براہِ راست ٹرمپ انتظامیہ پر بھی حملہ ہے۔بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، جو امریکا کی جانب سے نامزد دہشت گرد تنظیم ہے کا یہ حملہ مودی کے بھارت کی جانب سے تیار اور استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے دو واضح مقاصد ہیں اول، پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا؛ دوم پاکستان سے امریکی سرمایہ کاری کو دور بھگانا۔اسی لیے دہشت گرد حملے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر بھارتی میڈیا اور بھارت کی سرپرستی میں پالیسی ساز آوازوں نے اسے ایک “ویک اپ کال” قرار دینا شروع کر دیا ،یہ ایک مربوط اور پہلے سے تیار کردہ بیانیہ تھا جس کا مقصد سرمایہ کاری کے ماحول کو زہر آلود کرنا اور امریکی شمولیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

    سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گر پتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوموں کے خون بہنے کو دیکھ کر میرا خون کھول رہا ہے۔پاکستان کے عوام! کیا تمہارا خون بھی کھول رہا ہے؟” ،پاکستان آرمی نے سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، تاہم اس سے بھارت کی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی ختم نہیں ہوگی “مودی کے بھارت کو ختم کرو”؛ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اب کیا ہدایت دینی چاہیے۔ “بلوچستان میں بی ایل اے بلوچستان لبریشن آرمی کے مسئلے کا پاکستان کے پاس حل یہ ہے کے ایل اے (خالصتان لبریشن آرمی) کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ بھارتی قبضے والے پنجاب کی آزادی کے لیے جدوجہد کی جا سکے،”

    بلوچستان میں شہریوں کا قتلِ عام مودی حکومت کی پراکسی جنگ ہے، جس کا ہدف نہ صرف پاکستان بلکہ براہِ راست امریکا بھی ہے، کیونکہ یہ امریکی معاشی حکمتِ عملی کو کمزور بنانے اور ٹرمپ انتظامیہ کی علاقائی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

  • علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد،دوبارہ وارنٹ جاری

    علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد،دوبارہ وارنٹ جاری

    انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علیمہ خانم کے خلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ احکامات تھانہ صادق آباد کے نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے دوران جاری کیے گئے۔

    عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خانم کی جانب سے دائر کی گئی حاضری سے استثنیٰ (معافی) کی درخواست مسترد کر دی۔ سماعت کے دوران علیمہ خانم کے وکیل فیصل ملک نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ملزمہ کی عدم حاضری کی درخواست کی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو تسلیم نہیں کیا۔پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خانم دانستہ طور پر مقدمے کے ٹرائل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سماعت پر تفتیشی افسران، گواہان اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوتے ہیں، مگر ملزمہ کی جانب سے مسلسل عدم حاضری عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ علیمہ خانم کی جانب سے عدالتی احکامات کی مسلسل عدم تعمیل کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

    عدالت نے پراسیکوشن کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے علیمہ خانم کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی اور ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔اسی کے ساتھ عدالت نے علیمہ خانم کے دو ضامنوں کے بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ایس ایچ او تھانہ صادق آباد کو حکم دیا کہ دونوں ضامنوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔مزید برآں، عدالت نے علیمہ خانم کے وارنٹِ گرفتاری پر عملدرآمد نہ کرانے پر ایس پی راول کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں وارنٹس کی فوری تعمیل کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق تھانہ صادق آباد کے نومبر احتجاج کیس کی اب تک 42 سماعتیں ہو چکی ہیں، جن میں سے علیمہ خانم صرف 14 سماعتوں پر حاضر ہوئیں، جبکہ 28 سماعتوں پر غیر حاضر رہیں۔ کیس کی سماعت گزشتہ 120 دنوں سے جاری ہے، تاہم ملزمہ کی بار بار غیر حاضری کے باعث ٹرائل متاثر ہو رہا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیس کی آئندہ سماعت وارنٹِ گرفتاری کی تعمیل اور ضامنوں کی پیشی کے بعد مقرر کی جائے گی۔

  • گمراہ کن مواد پھیلانے پر اداکار راشد محمود یوٹیوبر پر پھٹ پڑے

    گمراہ کن مواد پھیلانے پر اداکار راشد محمود یوٹیوبر پر پھٹ پڑے

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر اور معروف اداکار راشد محمود نے ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز اور یوٹیوبرز کے خلاف شدید ردِعمل دیتے ہوئے گمراہ کن مواد پھیلانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس عمل کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دے دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں راشد محمود کا کہنا تھا کہ بعض ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز محض ویوز اور شہرت کے حصول کے لیے ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، جس سے ان کی برسوں پر محیط محنت، عزت اور وقار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔راشد محمود نے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ “صرف ویوز کے لیے میری پوری زندگی کی کمائی ہوئی عزت پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ براہِ مہربانی کوئی مجھ سے رابطہ نہ کرے، میں صحت یاب ہو رہا ہوں۔”

    اپنے تازہ ویڈیو پیغام میں سینئر اداکار نے واضح کیا کہ وہ گزشتہ 21 دن سے بستر پر ہیں اور اس دوران بعض یوٹیوبرز نے ان کی صحت سے متعلق معاملات کو سنسنی خیز سرخیوں کے ذریعے پیش کیا، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی قسم کی مالی مدد کے محتاج ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔انہوں نے کہا کہ “میں نے نہ کسی سے ایک پیسہ مانگا ہے اور نہ ہی مجھے کسی قسم کی مالی مدد درکار ہے۔ میرے انٹرویوز سادہ اور عام نوعیت کے ہوتے ہیں، مگر ان پر لگائی جانے والی سرخیاں حقیقت کے بالکل برعکس ہوتی ہیں۔”راشد محمود کے مطابق انہیں ایک بے بس اور لاچار شخص کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو ان کی عزتِ نفس کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ان کی زندگی بھر کی محنت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

    سینئر اداکار نے تمام یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کری ایٹرز سے پرزور اپیل کی کہ کوئی بھی ان کے پاس نہ آئے اور نہ ہی ان کے نام پر سنسنی پھیلائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “مجھے کسی کی ہمدردی یا شہرت کی بنیاد پر بنائے گئے مواد کی ضرورت نہیں، میں صرف سکون اور صحت چاہتا ہوں۔”

    ویڈیو پیغام کے اختتام پر راشد محمود نے کہا کہ وہ اب پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں اور جلد مکمل صحت یاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ سے صحت کی دعا کرتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ان کے نام پر گمراہ کن مواد کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    سائبر کرائم سمیت دیگر متعدد مقدمات میں نامزد معروف ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنے نام سفری پابندی کی فہرست (ای سی ایل) سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں باقاعدہ درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے نام غیر قانونی طور پر سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث انہیں بیرون ملک سفر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور کسی بھی تفتیش سے فرار کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔

    رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور ایڈووکیٹ احد کھوکھر کے توسط سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواستوں میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا ایک غیر معمولی اقدام ہے، جو صرف انتہائی نوعیت کے معاملات میں کیا جانا چاہیے، جبکہ موجودہ حالات میں اس کی کوئی معقول قانونی وجہ موجود نہیں۔

  • وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد،وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    جسٹس روزی خان نے کہا کوئٹہ 10کلومیٹرکاشہرہے ،اتنا بڑا آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹرکے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کرسکتا،حلقہ بندیاں تودوہفتوں میں ہوسکتی،جسٹس عامرفاروق نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ وفا نہیں کیا میں ہائیکورٹ سے سپریم کا جج بنااورپھرآئینی عدالت لیکن الیکشن نہ ہوئے،جسٹس روزی خان نے کہا کہ کیس کو 5 سال تک تو التوا میں نہیں رکھ سکتے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ ابھی تو اسلام آباد اور پنجاب میں کام کر رہے ہیں،نمائندہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں،

  • آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    پسند کی شادی سے متعلق کیس ،وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی ماریہ کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    عدالت نے لڑکی کے والدین کو مبینہ جعلی نکاح پر متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت کر دی، لڑکی ماریہ نے کہا کہ مجھے اغواء نہیں کیا گیا مرضی سے شہریار سے شادی کی۔وکیل والدین نے کہا کہ بچی کی عمر بارہ سال ہے،کم سن بچی کا نکاح نہیں ہو سکتا ،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم 10 سال کی تاخیر سے لیا گیا،
    لڑکی 12 سال کی کسی طرح سے نہیں لگتی۔لڑکی نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان دیا۔لڑکی کہہ رہی ہے وہ اغواء نہیں ہوئی۔لڑکی خود کو بالغ بتا رہی ہے،لڑکی کی شادی کو چھ ماہ ہو چکے ہے۔آئینی عدالت نے پسند کی شادی کا کیس نمٹا دیا

  • خیبر: باڑہ قمبرخیل شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    خیبر: باڑہ قمبرخیل شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے قمبرخیل شنکو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشوں پر گولیوں کے واضح نشانات موجود ہیں، جس سے ابتدائی طور پر یہ واقعہ فائرنگ کا معلوم ہوتا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مزید تفتیش جاری ہے۔