Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    سنگھوری میں مسلح ڈاکوؤں کی گھر میں گھس کر غنڈہ گردی، اہلخانہ پر تشدد اور لاکھوں کی لوٹ مار ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا ملک تنویر اشرف
    چوروں اور ڈاکوؤں نے پولیس کا ناطقہ بند کر دیا، سنگین وارداتوں نے امن و امان کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دیں شہری حلقوں کا اصلاح و احوال کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان کے مختلف علاقوں میں لاقانونیت کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے، جہاں ڈاکوؤں اور چوروں نے پولیس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ تھانہ مندرہ کے علاقے سنگھوری سرور شہید میں ہاؤس رابری کی ایک لرزہ خیز واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے پولیس نے مقدمہ درج کرکے اپنی تفتیش کا آغاز کر دیا ایس ایچ او ملک تنویر اشرف نے کہا کہ ملزمان کو جلد ہی گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھانہ مندرہ کی حدود میں کرائم کا گراف پیک پر تھا جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور گشت کے موثر نظام سے کافی حد تک کرائم کے گراف میں کمی آئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جمعہ 30 جنوری کی رات پونے آٹھ بجے، جب لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے، 4 مسلح سفاک ڈاکو مظہر حسین کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان درندہ صفت ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر زین مظہر اور دیگر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر ایک کمرے میں بند کر دیا اور مزاحمت پر زین مظہر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو اطمینان کے ساتھ پورے گھر کو کھنگالتے رہے اور طلائی بالیاں، 35 ہزار نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔ دوسری جانب تھانہ جاتلی کی حدود بھی جرائم کا گڑھ بن چکی ہے۔ بھیر کلیال میں عمیر یوسف کے قیمتی مویشی چوری کر لیے گئے، جبکہ دولتالہ میں قیصر محمود کے گھر کے تالے توڑ کر طلائی زیورات اور موٹر سائیکل اڑا لی گئی۔ اسی علاقے میں محمد عثمان نامی شہری کو بھی موبائل فون سے محروم کر دیا گیا۔ ان پے در پے وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ترس رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام ڈاکوؤں کو فوری نکیل ڈالی جائے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    حالیہ برسوں کی سب سے منظم اور تباہ کن کارروائیوں میں سے ایک کے بعد، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک واضح اور بے لاگ پیغام دیا، صوبے کے مسائل کی جڑ سیاست میں نہیں بلکہ ان کے حل کے لیے مضبوط اور فیصلہ کن عسکری ردِعمل درکار ہے۔

    ان کا یہ بیان کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے مختلف شہروں میں بیک وقت کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پرتشدد لہر میں کم از کم 31 معصوم شہری اور 17 بہادر سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ تاہم، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے غیر معمولی عزم کے ساتھ جواب دیا اور صرف 40 گھنٹوں کی شدید کارروائیوں میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ برآمد ہونے والی لاشیں تحویل میں ہیں، جن میں سے بعض کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے، جو اس خطرے کی سرحد پار جہت کو نمایاں کرتی ہے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شدت پسندوں کی تعداد سے متعلق پھیلائی جانے والی مبالغہ آمیز خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ایک سے دو ہزار حملہ آوروں کی اطلاعات؟ سراسر غلط۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعداد 200 سے 250 سے زیادہ نہ تھی، اور ان میں سے اکثر کو یا تو پسپا کر دیا گیا یا ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بی ایل اے کی حکمتِ عملی کو بے نقاب کرتا ہے کہ اپنی طاقت کو پروپیگنڈے کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور شہری علاقوں میں عام لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا،ایک بزدلانہ طریقہ جو انہی لوگوں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ کی تشخیص بھی اتنی ہی دو ٹوک ہے، وہ منظم عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کو براہِ راست 2018 کے بعد اختیار کی گئی مصالحتی پالیسی سے جوڑتے ہیں۔ اس سے قبل شدت پسند مسلسل دفاعی پوزیشن میں تھے۔ فرنٹیئر کور کی چوکیاں شاہراہوں پر قائم تھیں، سیکیورٹی کی موجودگی نمایاں اور مؤثر تھی، اور عسکریت پسندوں کے لیے دوبارہ منظم ہونا مشکل تھا۔ 2018 کے بعد کی “نرم” پالیسی نے انہیں سانس لینے کا موقع دیا۔ 2021 تک وہ دوبارہ منظم ہو چکے تھے، اور 2023–2024 میں مزید دلیر اور منظم ہو گئے۔ 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بگٹی حکومت نے ایک دیانت دارانہ جائزہ لیا،“ہم کیا کر رہے تھے؟ ہم انہیں کھلی چھوٹ کیوں دے رہے تھے؟” اسی احتساب نے پالیسی میں فیصلہ کن اصلاح کی راہ ہموار کی، جس میں مفاہمت کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کو ترجیح دی گئی۔

    حالیہ حملوں کے بعد تیز رفتار، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں اس نئے عزم کے نتائج ظاہر کرتی ہیں۔ غیر ملکی مداخلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بگٹی نے بی ایل اے کے سینئر کمانڈر بشیر زیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب انٹیلی جنس کا 99.99 فیصد حصہ اسے افغانستان میں موجود قرار دیتا ہے۔ افغان سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور لانچ پیڈ بنی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق بی ایل اے جسے “فتنہ الہندوستان” قرار دیا گیا ہے،ملکی عدم استحکام کے لیے بیرونی سرپرستی حاصل کر رہی ہے۔ یہ الزامات بے بنیاد نہیں بلکہ متعدد انٹیلی جنس جائزوں اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت کے مشاہدہ شدہ نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بی ایل اے کوئی جائز سیاسی جماعت نہیں۔ “کیا بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ پارٹی ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں؟” انہوں نے معنی خیز سوال اٹھایا۔ یہ گروہ بیلٹ کے بجائے بندوق کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مذاکرات کی پیشکش تشدد کو انعام دینے اور قومی سالمیت سے دستبرداری کے مترادف ہوگی۔ بگٹی نے اعلان کیا، “پاکستان ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے والا نہیں۔ وہ عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں، مگر ہمارے ملک کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے۔”

    سب سے زیادہ اطمینان بخش ان کا عوامی رائے سے متعلق جائزہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کی بھاری اکثریت ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ باغیوں کے لیے ہمدردی محدود ہے،عموماً 1 سے 3 فیصد،جو دنیا بھر میں کسی بھی شورش میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وسیع عوامی حمایت کامیاب انسدادِ دہشت گردی کی بنیاد بنتی ہے۔ جب شہری دہشت گردی کو مسترد کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں تو شدت پسند اپنی سانس کھو دیتے ہیں۔

    حالیہ کارروائیاں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ قلیل عرصے میں 145 دہشت گردوں کا خاتمہ اس تنازعے کی دہائیوں میں لگنے والے شدید ترین ضربوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے، پاکستان کے پاس اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کی صلاحیت بھی ہے اور عزم بھی۔ وزیراعلیٰ بگٹی کے مؤقف کی تائید کا مطلب حقیقت کو رومانوی بیانیوں پر ترجیح دینا ہے۔ دہشت گردی کو خوشامد سے قابو نہیں کیا جا سکتا؛ اسے فیصلہ کن انداز میں للکارنا پڑتا ہے۔ جہاں حقیقی سیاسی شکایات ہوں، وہاں مکالمہ ضروری ہے،مگر اس قیمت پر نہیں کہ شہریوں، اسکولوں، بینکوں، اسپتالوں اور سیکیورٹی تنصیبات کے خلاف مسلح تشدد کو برداشت کیا جائے۔

    بلوچستان امن، ترقی اور وقار کا مستحق ہے۔ یہ مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑا جائے، غیر ملکی پراکسیوں کو بے نقاب کیا جائے، اور ریاست بلا چیلنج اپنی عملداری قائم کرے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی حقیقت پسند قیادت،جو ہتھیار ڈالنے سے انکار، سیکیورٹی کو ترجیح، اور عوام کو متحد کرتی ہے،قومی حمایت کی مستحق ہے۔ آگے کا راستہ مصالحت نہیں، عزم ہے۔ پاکستان متحد ہے، ہم اس جنگ کو اس وقت تک لڑیں گے جب تک ہماری سرزمین کا ہر انچ محفوظ نہ ہو جائے۔

  • بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی صحافی آدتیہ راج کول اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ نام نہاد “آپریشن ہیروف 2” کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 200 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جبکہ تنظیم کے 18 جنگجو مارے گئے، جن میں 11 مبینہ ’فدائین‘ خودکش بمبار شامل تھے۔

    حقیقت،یہ دعوے بے بنیاد، گمراہ کن اور منظم بھارتی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔ “آپریشن ہیروف 2” درحقیقت کالعدم بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کے متعدد اضلاع میں کیے گئے بزدلانہ دہشت گرد حملوں کی کوشش تھی، جس میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ معتبر اور تصدیق شدہ ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ملوث کم از کم 145 دہشت گرد (جن میں 3 خودکش عناصر بھی شامل تھے) کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیوں کے دوران ہلاک کیا، سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں کی شہادتوں کی تصدیق ہوئی، جو بھارتی ذرائع کی جانب سے پھیلائے گئے 200 ہلاکتوں کے من گھڑت دعوے سے کہیں کم ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے 18 جنگجوؤں (بشمول مبینہ ’فدائین‘) کی ہلاکت کا دعویٰ خودساختہ ہے، جس کی کوئی آزادانہ یا مستند تصدیق موجود نہیں۔

    بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز اور بیانیے سیاق و سباق سے ہٹ کر، ایڈیٹ شدہ یا پرانی فوٹیج پر مشتمل تھے، جنہیں بی ایل اے کی طاقت بڑھا چڑھا کر دکھانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے 40 گھنٹوں پر محیط تیز، مربوط اور پیشہ ورانہ ردِعمل کے نتیجے میں تمام ملوث دہشت گردوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا گیا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا گیا اور علاقے میں امن و امان بحال ہوا۔

    نتیجہ ،یہ فیکٹ چیک واضح کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی تشہیر اور پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینا ہے، جبکہ زمینی حقائق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں اور کامیابیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

  • پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ  بائیکاٹ کے فیصلہ پربھارتی میڈیا کا شدید ردعمل

    پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ بائیکاٹ کے فیصلہ پربھارتی میڈیا کا شدید ردعمل

    پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان نے عالمی کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی میڈیا اور نام نہاد گودی میڈیا میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بعض تجزیہ کاروں اور چینلز نے نہ صرف پاکستان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ پورا ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ منسوخ کرنے کے مطالبات بھی شروع کر دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، تاہم ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت برقرار رکھی جائے گی۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا جانبدارانہ اور غیر منصفانہ رویہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنا ہے، جس پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔پاکستان کے اچانک اور دوٹوک فیصلے نے آئی سی سی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔ عالمی کرکٹ ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے بین الاقوامی کرکٹ اور ٹورنامنٹ کے مجموعی انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔ آئی سی سی حکام کی جانب سے پی سی بی سے اپیل کی گئی ہے کہ قابلِ قبول اور باہمی حل تلاش کیا جائے

    دوسری جانب پاکستان کے فیصلے پر بھارتی میڈیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ گودی میڈیا کے اینکرز اور تجزیہ کاروں نے سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور یہاں تک مطالبہ کر دیا کہ اگر پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتا تو پورا ورلڈکپ ہی منسوخ کر دیا جائے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت نواز حلقوں کو اس فیصلے کی توقع نہیں تھی، جسے انہوں نے آئی سی سی کے لیے “بڑا سرپرائز” قرار دیا ہے۔کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے آئی سی سی پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں اور غیر جانبدارانہ سلوک کرے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے، جبکہ عالمی کرکٹ شائقین کی نظریں اب آئی سی سی اور متعلقہ بورڈز کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔

  • سانحہ بھاٹی گیٹ: جاں بحق خاتون اور بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل

    سانحہ بھاٹی گیٹ: جاں بحق خاتون اور بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل

    بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے دلخراش سانحے میں جاں بحق ہونے والی خاتون اور کمسن بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے، جس میں موت کی وجوہات اور جسمانی زخموں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جاں بحق خاتون سعدیہ اور اس کی بیٹی ردا فاطمہ کے سروں پر شدید زخموں کے نشانات پائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خاتون سعدیہ کے دائیں کندھے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جب کہ کمر پر بھی زخموں کے واضح نشانات موجود تھے۔ اسی طرح ننھی ردا فاطمہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی، جو جان لیوا ثابت ہوئی۔طبی ماہرین کے مطابق ماں اور بیٹی کی اموات سر اور گردن کی ہڈیاں ٹوٹنے کے باعث ہوئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ دونوں کو لگنے والے زخم شدید نوعیت کے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت دونوں کو انتہائی خطرناک چوٹیں آئیں۔

    یاد رہے کہ بھاٹی گیٹ کے علاقے میں مین ہول میں گرنے کے افسوسناک واقعے نے شہر بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ واقعے کے بعد شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے متعلقہ اداروں کی غفلت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

  • یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے جماعت اسلامی کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے، شہر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کیخلاف سختی کریں گے۔

    میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا حیرت ہوتی ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تشہیر کی جا رہی ہے، اعتراض ان پر ہے جو اس سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں، حکومت سانحہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے،سانحے کے بعد حکومت سندھ نے متاثرہ افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا تھا، ہم نے 26 گھروں میں جاکر لوگوں چیک دیے لیکن میڈیا کو ساتھ لیکر نہیں گئے۔

    جماعت اسلامی کے گزشتہ روز کے دھرنے اور حافظ نعیم الرحمان کی سندھ حکومت پر تنقید سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے، عوام نے پیپیلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے, حافظ نعیم سے کہتا ہوں کہ صوبائی اسمبلی میں آئیں یا اپنی سیٹ خالی کریں،کل تین چار گھنٹے شارع فیصل بلاک رہا جو نہیں ہونا چاہیے، سڑکیں بلاک ہونے سے عوام کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب ہم بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کریں گے،ا میں نے بھی حافظ نعیم الرحمان کا دھرنا دینے کا بیان سنا ہے، حافظ نعیم الرحمان کو سندھ اسمبلی کی سیٹ ملی ہے، وہ اپنے حلقے کی عوام کا خیال کریں، یا پھر سیٹ چھوڑ دیں تاکہ حلقے کے عوام نمائندگی سے محروم نہ رہیں

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا  آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کیے گئے مؤثر اور مربوط تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد گزشتہ تین روز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 177 تک جا پہنچی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی اور فرار کے تمام ممکنہ راستوں کو بند کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، جبکہ مشتبہ افراد کی نگرانی اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رکھیں گی۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی ملک ہوتا ہے،سہیل آفریدی

    دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی ملک ہوتا ہے،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات سے متعلق کسی قسم کی بات نہیں ہوئی۔

    وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے 2600 ارب روپے رکے ہوئے ہیں، وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کے رکے ہوئے 26 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے،ان کا کہنا تھا تیراہ، کرم اور باجوڑ کے جو لوگ قربانی دے رہے ہیں ان کے لیے 4 ارب روپےکی رقم کچھ بھی نہیں ہے، اگر آپ 4 ارب روپے کو ان علاقوں کے عوام کی قربانی سے جوڑیں گے تو پھر آپ عوام کی قربانیوں سے انحراف کریں گے،سہیل آفریدی کا کہنا تھا وزیراعظم سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی یا بہنوں سے ملاقات کے حوالے سے کسی قسم کی بات نہیں ہوئی، ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں ہوئی۔دہشتگردی کے واقعات سے متعلق سوال پر کہنا تھا دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی ملک ہوتا ہے، عید کے بعد وزیراعظم سے پھر ملاقات ہوگی اور دہشتگردی پر بات ہو گی، ہم پہلے سے کھل کر بات کررہے ہیں اور اپنا مؤقف دے رہے ہیں۔

  • وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات ختم ہو گئی۔

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی شہباز شریف سے ملاقات وزیراعظم آفس میں ہوئی،ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات میں مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امیر مقام اور رانا ثنااللہ بھی ملاقات میں موجود تھے،ذرائع پی ٹی آئی کا بتانا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے ملاقات میں وادی تیراہ، امن جرگہ اور انسداد دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے این ایف سی معاملات پر بھی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا۔

    وفاقی و صوبائی حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی.وزیراعظم
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا وزیراعظم ہاؤس نے اعلامیہ جاری کر دیا ،جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا.وزیرِ اعظم نے صوبے میں امن و امان کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن وامان کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے.صوبائی حکومت انسداد دھشتگردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے. وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی. خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئیے. صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے اقدامات کئے جائیں.وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے. خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی. قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے،

  • سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    باڑہ / ضلع خیبر:سیاسی اتحاد باڑہ نے تیراہ میدان سے نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کے آپریشنز، شیلنگ، ڈرون کارروائیوں اور بدامنی کے باعث بے گھر ہونے والے متاثرین کو فوری طور پر باعزت طریقے سے بحال کیا جائے۔

    سیاسی اتحاد باڑہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ متاثرینِ تیراہ گزشتہ کئی برسوں سے بے سرو سامانی، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے ہر دور میں ریاست کے ساتھ تعاون، صبر اور قربانی کی مثالیں قائم کیں، مگر اس کے باوجود آج بھی انہیں بنیادی انسانی، آئینی اور قبائلی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
    اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔

    خیبر قومی جرگہ میں باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان، جنرل سیکرٹری عطاء اللہ، شیریں آفریدی،سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی، اے این پی عبدالرزاق،فاٹا لویہ جرگہ صدر ملک بسم اللہ، جماعت اسلامی کے شاہ فیصل،پی ٹی آئی عابد آفریدی،جماعت اسلامی خان ولی آفریدی،مسلم لیگ ن اصغر آفریدی،ملک محمد حسین سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،سیاسی اتحاد باڑہ کے اہم مطالبات میں کہا گیا ہے کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے۔تیراہ میں فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر گولے برسائے جانے اور ہیلی کاپٹر کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے، کیونکہ ان اقدامات سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔متاثرینِ تیراہ کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور ان سے کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری و عملی طور پر نافذ کیا جائے۔متاثرین کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔تیراہ کے بلند ایریاز میں گھروں کے درست پتے نہ رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز کا اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائے اور امدادی پیکیجز میں شامل کیا جائے۔پولیٹیکل انتظامیہ یا نادرا کی من پسند اور خود ساختہ رجسٹریشن کو سیاسی اتحاد باڑہ کسی صورت قبول نہیں کرتا کیونکہ اس عمل سے حقیقی متاثرین محروم ہو رہے ہیں۔وادی تیراہ کے بعد اپر باڑہ اور بازو پین ایریا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کنٹرول کا مطالبہ کیا گیا۔

    قیامِ امن کے لیے سیاسی اتحاد باڑہ نے آج سے باڑہ میں امن تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔باڑہ میں اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور شہریوں میں خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے متاثرینِ تیراہ کے حوالے سے غیر سنجیدہ بیانات قابل افسوس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر مستقل حل نکالیں۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر سیاسی اتحاد باڑہ کے آئینی، قانونی اور اخلاقی مطالبات پر فوری اور عملی عمل درآمد نہ ہوا تو متاثرینِ تیراہ اور ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔سیاسی اتحاد باڑہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔اعلامیے کے آخر میں کہا گیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سیاسی اتحاد باڑہ مرکزی حکومت، وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے متاثرین کی 13,744 گاڑیوں کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرے گا۔