Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر آمد پر اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور طلباء کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مفصل گفتگو کی ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا کے حوالے سے طلباء کو مکمل آگاہی فراہم کی،اس موقع پر یونیورسٹی آف گوادر کے طلباء کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ہمیشہ ریاست، آئین اور قومی وقار کا دفاع کیا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے ذہنوں میں موجود ابہام کو دور کیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے شواہد کے ساتھ مس انفارمیشن کا تدارک کیا ہے ، ہماری ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ یہ ملاقات کافی معلوماتی رہی، طلباء نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کیساتھ کھڑے رہنے پر پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا

  • صدرمملکت،وزیراعظم  کا فتنہ الہندوستان کیخلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    صدرمملکت،وزیراعظم کا فتنہ الہندوستان کیخلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب سیکیورٹی آپریشنز پر افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کو سراہتے ہوئے دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر ارضِ وطن کے محافظوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کی بروقت حکمتِ عملی، جدید آپریشنل مہارت اور بے مثال قربانیوں کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کامیاب آپریشنز کے ذریعے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا گیا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔شہباز شریف نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے اہلکاروں کے بلند درجات کے لیے دعا کی اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی بدولت آج ملک میں امن و استحکام کی فضا قائم ہو رہی ہے۔

    وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی اور ریاست دشمن عناصر کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء پر فخر ہے اور قوم ہر محاذ پر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سیکیورٹی فورسز کو تمام ضروری وسائل فراہم کرتی رہے گی تاکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا سکیں اور پاکستان میں پائیدار امن قائم ہو۔

    صدرِ مملکت آصف زرداری نے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔صدر مملکت نے شہداء کی بلندی درجات اور لواحقین کیلئے صبر کی دعا کی۔آصف زرداری نے کہا کہ بلوچستان کے امن اور قومی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، ریاست بیرونی سرپرستی میں سرگرم دشمن عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، دہشت گردوں کیخلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کا دورہ کیا سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں سے ملاقات بھی کی۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، دہشتگرد عناصر کیخلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ بلوچستان کو آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے دہشت گردی کے واقعات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، سرفراز بگٹی نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مؤثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دی۔

  • سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی۔بلاول

    سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی۔بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

    سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق چیئرمین پی پی پی بلاول زرداری نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے،بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہماری سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی۔بلاول نے دہشت گرد حملے ناکام بنانے پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو سراہا ،بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 10 پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

  • بلوچستان، 12 مقامات پر حملے ناکام،58 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان، 12 مقامات پر حملے ناکام،58 دہشتگرد جہنم واصل

    گذشتہ رات فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے۔

    سیکورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیئے گئے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ان دہشت گردانہ کارروائیوں میں اب تک۔ فتنہ الہندوستان کے 58 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ اس دوران سیکورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان اس دھرتی اور عوام کی حفاظت کیلئے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔سیکورٹی فورسز کا مختلف لوکیشنز پر دہشتگردوں کا تعاقب اور engagement کا سلسلہ تا حال جاری ہے،ان کاروائیوں کے نتیجے میں مزید دہشتگردوں کی ہلاکتیں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔ سیکورٹی ذرائع

    یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 41 دہشت گرد پہلے ہی جہنم واصل کر چکے ہیں۔

    سیکورٹی فورسز اور پولیس کے 10 شہداء کے علاوہ فتنہ الہندوستان کے ان انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد کو بھی شہید کر دیا ہے جنمیں ایک خاتون کے علاوہ تین بچے بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی طرف سے مزید تعاقبی آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔ ان دہشت گردانہ کاروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔

  • بلوچستان، بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگرد حملے ناکام

    بلوچستان، بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگرد حملے ناکام

    کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے کیے جانے والے منظم اور مربوط دہشتگرد حملوں کی کوششوں کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بروقت، پیشہ ورانہ اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نام نہاد آپریشن “ہیروف 2.0” کے تحت بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگردوں نے صوبے کے مختلف اہم علاقوں میں بیک وقت حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان علاقوں میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، قلات، پسنی، گوادر، تمپ، مستونگ اور خاران شامل ہیں۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی پیشگی انٹیلی جنس معلومات اور فوری ردعمل کے باعث تمام حملے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر ہونے والی جوابی کارروائیوں میں چار دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ دو سے تین سیکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ حملوں کے باوجود کسی بھی اسٹریٹجک یا حساس تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا اور پورے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ حملے دراصل حالیہ انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں میں 50 سے زائد دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد شدت پسند تنظیموں کی بوکھلاہٹ اور ناکام انتقامی کوشش تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشتگرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد وہ دباؤ میں آ کر بے ترتیب اور غیر مؤثر حملوں پر اتر آئے ہیں۔انٹیلی جنس جائزوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ گروہ اب سیکیورٹی فورسز کے بجائے شہری آبادی، مزدوروں کی کالونیوں اور نرم اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کی مجرمانہ سوچ، ناکام حکمتِ عملی اور تنظیمی زوال کی واضح علامت ہے۔

    بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان میں پہلے ہی کالعدم قرار دی جا چکی ہیں، جبکہ بی ایل اے کو امریکا بھی فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن قرار دے چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان تنظیموں کی قیادت بیرونِ ملک محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھی ہے، جبکہ مقامی نوجوانوں کو گمراہ کر کے بے مقصد تشدد اور موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

    حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ، صوبے میں امن کے قیام اور غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ کسی بھی قسم کی دہشتگرد سرگرمی کو آہنی ہاتھوں سے کچلا جائے گا۔پاکستان دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور قوم، ریاستی ادارے اور عوام مل کر اس ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

  • آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی منسوخ

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی منسوخ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم کی نئی کٹ کی متوقع رونمائی منسوخ کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کی ورلڈ کپ کٹ آج آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کے ٹاس کے فوراً بعد پیش کی جانی تھی، تاہم آخری لمحات میں اس تقریب کو منسوخ کر دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کٹ کی رونمائی ناگزیر وجوہات کی بنا پر منسوخ کی گئی ہے، تاہم ان وجوہات کی باضابطہ طور پر وضاحت نہیں کی گئی۔ پی سی بی کی جانب سے بھی اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا،

    کرکٹ حلقوں میں یہ بات زیرِ گردش ہے کہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت یا ممکنہ بائیکاٹ سے متعلق حتمی فیصلہ نہ ہونا بھی کٹ کی رونمائی منسوخی کی ایک بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب تک اس اہم معاملے پر واضح فیصلہ سامنے نہیں آتا، تب تک ورلڈ کپ سے متعلق کسی بھی تشہیری سرگرمی کو مؤخر رکھا جا رہا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جیسے ہی پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے صورتحال واضح ہوگی، نئی تاریخ کے ساتھ کٹ کی رونمائی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ آسٹریلیا کے خلاف جاری ٹی ٹوئنٹی سیریز اور آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہے۔

  • ہر شہری کو بہتر ٹرانسپورٹ سہولت دینا حکومت سندھ کی ترجیح ہے،شرجیل میمن

    ہر شہری کو بہتر ٹرانسپورٹ سہولت دینا حکومت سندھ کی ترجیح ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہےکہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ میں موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے اور بغیر کمپیوٹرائز فٹنس کے اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی،محکمہ صحت نے ایمبولینسز کو واضح ہدایات دی ہیں کہ کن حالات میں سائرن اور لائٹس استعمال کرنی ہیں، مریض کو اٹھانے اور اسپتال پہنچانے کے دوران ہی سائرن بجایا جاتا ہے،محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مزید نئی بسوں کی خریداری کا عمل جاری ہے، کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں جب کہ حکومت سندھ نے مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے، ہر شہری کو بہتر ٹرانسپورٹ سہولت دینا حکومت سندھ کی ترجیح ہے،

  • سانحہ بھاٹی گیٹ،وزیرِ اطلاعات پنجاب، ڈپٹی سپیکر،افسروں کیخلاف کاروائی کی درخواست

    سانحہ بھاٹی گیٹ،وزیرِ اطلاعات پنجاب، ڈپٹی سپیکر،افسروں کیخلاف کاروائی کی درخواست

    سانحہ بھاٹی گیٹ میں خاتون اور بچی کی مین ہول میں ہلاکت کا معاملہ,واقعے کو جعلی قرار دینےپروزیرِ اطلاعات پنجاب، ڈپٹی سپیکراور افسروں کےخلاف کاروائی کی درخواست دائرکر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ میں یہ درخواست شہری آمنہ ملک نے وکیل کےتوسط سے دائر کی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیرِ اطلاعات اورڈپٹی سپیکرنے ماں بیٹی کے سانحے کو فیک نیوز قرار دیا۔وزیرِ اطلاعات اورڈپٹی سپیکرکا بیان شواہد سے متصادم ہے۔سرکاری بیانات نے ریسکیوکاروائی متاثر کیں۔شواہد کے باوجود متاثرہ شوہرکو غیر قانونی حراست میں رکھ کرہراساں کیا گیا۔جھوٹے سرکاری بیانات پر سائبر کرائم انکوائری کا حکم دیا جائے۔وزیرِ اطلاعات سمیت ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے،ڈی سی لاہور، ماتحت افسران اور ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیا جائے۔ملک میں مین ہولز کو موت کا کنواں بننے سے روکنے کے لیے نیشنل سیفٹی آرڈیننس نافذ کرنے کا حکم دیا جائے

  • سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی

    سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی

    سونے اور چاندی کی قیمت کو عالمی اور مقامی منڈیوں میں ریورس گیئر لگ گیا۔

    عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی دیکھی گئی۔رپورٹ کے مطابق فی تولہ سونے کے دام 25 ہزار 500 روپے کم ہو کر 5 لاکھ 11 ہزار 862 روپے پر آگئے۔عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا ایک دن میں 255 ڈالر گرکر 4895 ڈالر پر آگیا۔گزشتہ روز بھی مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 35 ہزار 500 روپے اور عالمی مارکیٹ میں فی اونس 355 ڈالر کم ہوئی تھی۔رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 2063 روپےکم ہوکر 9006 روپے پر آگئی۔

  • سانحہ بھاٹی گیٹ،ملزمان عدالت پیش،4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    سانحہ بھاٹی گیٹ،ملزمان عدالت پیش،4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    لاہور کی ضلع کچہری میں بھاٹی گیٹ کے قریب مین ہول میں گر کر ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے پولیس کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے نامزد ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    واقعے کے مقدمے میں نامزد پروجیکٹ منیجر اصغر سندھو، احمد نواز، دانیال سمیت مجموعی طور پر پانچ ملزمان کو سخت سکیورٹی میں، ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے تاکہ واقعے کی ذمہ داری، غفلت کے پہلو اور ممکنہ مجرمانہ کوتاہیوں کا تعین کیا جا سکے۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق مین ہول کی حفاظت اور دیکھ بھال میں سنگین غفلت برتی گئی، جس کے نتیجے میں یہ دلخراش حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے مزید کہا کہ ملزمان سے ریکارڈ کی برآمدگی، متعلقہ محکموں کے درمیان رابطوں، اور حفاظتی اقدامات سے متعلق حقائق جاننے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

    دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ملزمان کو بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہے اور تفتیش کے لیے جوڈیشل ریمانڈ کافی ہے۔ وکیل نے کہا کہ واقعہ ایک حادثہ ہے، جسے دانستہ جرم کے طور پر پیش کرنا ناانصافی ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور تفتیش میں پیش رفت رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی۔