Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کوئٹہ سے اندورنِ ملک ٹرین سروس معطل

    کوئٹہ سے اندورنِ ملک ٹرین سروس معطل

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ملک کے دیگر حصوں کے لیے چلنے والی ٹرین سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث سینکڑوں مسافر شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ کوئٹہ سے چمن کے درمیان چلنے والی چمن ٹرین بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، تاہم وجوہات کی مکمل تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی گئیں۔ریلوے انتظامیہ نے مزید بتایا کہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد پہنچنے پر روک لیا جائے گا اور وہاں سے واپس روانہ کر دیا جائے گا، جس کے باعث کوئٹہ آنے والے مسافروں کو بھی سفر ادھورا چھوڑنا پڑے گا۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی ٹرین سروس بحال کر دی جائے گی، جبکہ مسافروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل متعلقہ ریلوے دفاتر یا ہیلپ لائن سے تازہ صورتحال معلوم کر لیں۔دوسری جانب شہریوں اور مسافروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرین سروس کی معطلی کی وجوہات واضح طور پر عوام کے سامنے رکھی جائیں اور متبادل سفری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عوام کو غیر ضروری پریشانی سے بچایا جا سکے۔

  • دو روز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں‌70 سے زائد دہشتگردجہنم واصل

    دو روز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں‌70 سے زائد دہشتگردجہنم واصل

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ دو روز کے دوران سیکیورٹی فورسز کی بھرپور اور فیصلہ کن کارروائیوں کے نتیجے میں 70 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    یہ بات معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے ایک اہم بیان میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں، تاہم سیکیورٹی اداروں نے بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا دیے۔شاہد رند کے مطابق دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد انہوں نے صوبے کے چند حساس مقامات پر حملے کی ناکام کوششیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تمام حملوں کو ناکام بنایا اور کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران متعدد دہشت گرد زخمی بھی ہوئے جبکہ کچھ عناصر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز کو مکمل الرٹ رکھا گیا ہے۔ صوبے بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر سرچ اور کلیئرنس آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔

    شاہد رند کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کے دشمنوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

  • پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ناکام، خاتون سمیت 8 دہشتگرد ہلاک

    پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ناکام، خاتون سمیت 8 دہشتگرد ہلاک

    گوادر کے ساحلی علاقے پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی ایک چوکی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے سکیورٹی دستوں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔

    ذرائع کے مطابق حملے میں شامل خاتون سمیت 8 دہشتگرد ہلاک ہو گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے رات گئے پاکستان کوسٹ گارڈ کی چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم چوکی پر تعینات اہلکاروں نے مشکوک سرگرمی کو بروقت بھانپتے ہوئے فوری جوابی کارروائی شروع کر دی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشتگردوں کو پسپا ہونا پڑا اور کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت آٹھ دہشتگرد مارے گئے۔سکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی مکمل کر کے علاقے کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا۔ ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مشتبہ مواد بھی برآمد ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق حملے کا مقصد ساحلی تنصیبات اور سکیورٹی چوکی کو نقصان پہنچانا تھا، تاہم اہلکاروں کی مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ واقعے کے بعد قریبی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رکھی جائیں گی اور کسی کو بھی پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • کوئٹہ، سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی،   4  دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ، سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ کے علاقے سریاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی ایک ایسے کمپاؤنڈ میں کی گئی جو مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر کے زیرِ استعمال تھا، جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، دستی بم اور کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والا لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران جیسے ہی سیکیورٹی اہلکاروں نے کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لیا تو اندر موجود مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں چار مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کیا گیا اور کمپاؤنڈ کو کلیئر کر لیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے خودکار اسلحہ، دستی بم اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جب کہ جائے وقوعہ سے ملنے والا لٹریچر ایک کالعدم تنظیم سے وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ مواد کو فرانزک جانچ کے لیے متعلقہ لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ قریبی علاقوں میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا ساتھی کو گرفتار کیا جا سکے۔ہلاک ہونے والے دہشت گرد شہر میں بڑی تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا

    حکام نے بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد شہر میں دہشت گردی کے کسی بھی ممکنہ منصوبے کو ناکام بنانا تھا۔ سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان بھر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی،ڈور پھرنے سے دو افراد زخمی

    بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی،ڈور پھرنے سے دو افراد زخمی

    لاہور میں بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی شروع،لاہور میں گزشتہ روز موٹرسائیکل سواروں پر ڈور پھرنے کے 2 واقعات سامنے آئے،ویلنشیا ٹاؤن میں 10 سالہ بچے کے گلے پر ڈور پھرگئی،فیروزپور روڈ پر گجومتہ کے قریب گلے پر ڈور پھرنے سے نوجوان زخمی ہو گیا ،20سالہ فیصل منظور موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا،متاثرہ نوجوان طبی امداد کیلئے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا جسے طبی امداد دی گئی ۔خوش قسمتی سے نوجوان کی حالت خطرے سے ہے۔

    ویلنشیاء ٹاؤن،10 سالہ بچے کے گلے پر ڈور پھرنے کا معاملہ،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نےسخت نوٹس لے لیا،مصطفی آفندی کو ویلنشیاء ٹاؤن میں پتنگ ڈور سے کٹ لگا،ڈور پھرنے کا واقعہ گزشہ شام 5 بجے کے قریب پیش آیا، زخمی نوجوان کو فوری ہسپتال منتقل کیا گیا،حالت خطرے سے باہر، طبی امداد کے بعد شام کو ہی ڈسچارج کر دیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز نےسیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتنگ بازوں کی نشاندہی کا حکم دے دیا،ڈی آئی جی آپریشنز نےذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا حکم دے دیا، شہر بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مقررہ تاریخوں کے علاوہ پتنگ بازی مکمل ممنوع ہے. صرف مقررہ تواریخ میں ہی پتنگ بازی کی اجازت ہو گی.پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی جان لیوا جرم، زیروٹالرنس پالیسی ہے، پابندی پر عملدرآمد نہ کروانے والے افسران بھی جوابدہ ہوں گے،

  • جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق مزید ہوشربا دستاویزات جاری

    جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق مزید ہوشربا دستاویزات جاری

    بدنام زمانہ امریکی شہری جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق مزید ہوشربا دستاویزات جاری کردی گئیں۔

    امریکی محکمہ انصاف نے35 لاکھ سے زائد صفحات عوام کے لیے جاری کردیے،نئی ریلیز میں 2 ہزار سے زائد ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر شامل ہیں، متاثرہ افراد کی شناخت چھپانے کیلئے کچھ حصے ایڈیٹ کیے گئے ہیں جبکہ اہم شخصیات اور سیاست دانوں کےنام نہیں چھپائےگئے، نائب اٹارنی جنرل ٹڈ بلانش کے مطابق ایپسٹین فائلز کا مکمل جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے اور اب یہ مواد قانون کے مطابق جاری کیا جا رہا ہے۔ٹڈ بلانش نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ وائٹ ہاؤس کا ان دستاویزات کے جائزے پر کوئی اختیار یا نگرانی نہیں تھی اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا “ہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفظ نہیں دیا۔”انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کے کسی بھی رکن کو بغیر ترمیم شدہ (Unredacted) فائلیں دیکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ محکمۂ انصاف سے باضابطہ طور پر رابطہ کریں۔

    ایلون مسک اور ایپسٹین کے درمیان 2013 کی ای میلز منظرِ عام پر
    جاری ہونے والی دستاویزات میں ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے 2013 میں جیفری ایپسٹین کو ای میل کر کے اس کے نجی کیریبین جزیرے پر جانے کے لیے وقت پوچھا تھا۔ای میل کے متن کے مطابق ایلون مسک نے لکھا “ہم تعطیلات میں برٹش ورجن آئی لینڈز اور سینٹ بارٹس کے قریب ہوں گے، کیا ملنے کا کوئی مناسب وقت ہے؟”بعد ازاں مسک نے ایک اور ای میل میں سوال کیا “ہم 2 تاریخ کو آپ کے جزیرے کی طرف کب روانہ ہوں؟”یہ انکشاف اس دعوے کے برعکس ہے جو ایلون مسک نے ماضی میں کیا تھا کہ انہوں نے ایپسٹین کی جانب سے جزیرے پر آنے کی دعوت مسترد کر دی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا مسک واقعی جزیرے پر گئے یا نہیں۔

    متاثرین کی شناخت افشا ہونے پر شدید ردعمل
    ایپسٹین کیس کی متعدد متاثرہ خواتین اور ان کے وکلا نے انکشاف کیا ہے کہ جاری کی گئی فائلوں میں کئی متاثرین کے نام بغیر حذف کیے (Unredacted) شامل ہیں، جسے متاثرین نے اپنی پرائیویسی اور تحفظ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ایپسٹین متاثرین کی نمائندگی کرنے والے معروف وکیل بریڈلی ایڈورڈز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا “محکمۂ انصاف نے متاثرین کے اعتماد، پرائیویسی اور بنیادی حقوق کو بری طرح پامال کیا ہے۔ یہ عمل شرمناک اور ناقابلِ قبول ہے۔”

    ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ، جنہوں نے وہ قانون تیار کیا تھا جس کے تحت ایپسٹین سے متعلق تمام ریکارڈز جاری کرنا لازم تھا، نے سوال اٹھایا کہ 60 لاکھ ممکنہ صفحات میں سے صرف ساڑھے 35 لاکھ صفحات ہی کیوں جاری کیے گئے؟ان کا کہنا تھا “فائلوں کو روکنا طاقتور افراد کو بچانے کے مترادف ہے اور اس سے عوام کا اداروں پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔”

    جاری شدہ فائلوں میں ایف بی آئی کی جانب سے 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف موصول ہونے والی غیر مصدقہ شکایات کی فہرست بھی شامل تھی، جسے بعد میں ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو بے بنیاد، جھوٹا اور سنسنی خیز قرار دیا ہے۔اسی طرح سابق صدر بل کلنٹن سے متعلق سوالات پر ایپسٹین نے 2016 میں ہر سوال کے جواب میں پانچویں ترمیم (خاموش رہنے کا حق) کا استعمال کیا تھا۔

    نئی فائلوں میں ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل کی گرفتاری کی تصاویر، اس کے گھروں کی تصاویر، بینک اکاؤنٹس، ٹیکس ریکارڈ اور 10 لاکھ ڈالر کی وائر ٹرانزیکشن کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔محکمۂ انصاف کے مطابق جاری کی گئی فائلوں میں 2 ہزار ویڈیوز اور 1 لاکھ 80 ہزار تصاویر شامل ہیں، جن میں بڑی مقدار میں فحش مواد بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے DOJ کی ویب سائٹ پر فائلیں کھولنے سے پہلے 18 سال سے زائد عمر کی تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ ایپسٹین پرکم عمرلڑکیوں کےجنسی استحصال اور عالمی اشرافیہ سے تعلقات رکھنےکے سنگین الزامات تھے،ایپسٹین2019 میں امریکی جیل میں مردہ پایا گیا تھاجس کی موت آج تک معمہ بنی ہوئی ہے۔

  • امریکا نے سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائلز کی فروخت کی منظوری دے دی

    امریکا نے سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائلز کی فروخت کی منظوری دے دی

    امریکا نے سعودی عرب کو جدید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں سیکیورٹی تعاون اور دفاعی شراکت داری کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری بیان میں سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جدید دفاعی صلاحیتوں سے لیس میزائلز، لانچرز، ریڈار سسٹمز، سپیئر پارٹس، تکنیکی معاونت اور دیگر متعلقہ آلات فراہم کیے جائیں گے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ دفاعی سازوسامان سعودی عرب کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس فروخت کا مقصد سعودی عرب کو بیرونی خطرات، خصوصاً بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف مؤثر دفاع فراہم کرنا ہے، جبکہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے سے نہ صرف سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی دفاعی تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا نے اسرائیل کو بھی 6.5 ارب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دی تھی۔ اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے دفاعی پیکج میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹرز اور 1.98 ارب ڈالر مالیت کی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔بیان کے مطابق اس کے علاوہ اسرائیل کو نیمر آرمڈ پرسنل کیریئرز کے پاور پیکس، لاجسٹک سپورٹ، اسپیئر پارٹس، ٹریننگ اور تکنیکی معاونت سمیت دیگر فوجی سازوسامان بھی فراہم کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فروخت کا مقصد اسرائیل کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنا اور خطے میں اس کی سیکیورٹی صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے سعودی عرب اور اسرائیل کو بڑے پیمانے پر فوجی سازوسامان کی فروخت مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتِ حال اور اسٹریٹجک توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاہدے خطے میں اسلحے کی دوڑ کو تیز کر سکتے ہیں، جبکہ امریکی حکام ان فیصلوں کو اپنے اتحادی ممالک کے دفاع اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔

  • عمران خان کی دائیں آنکھ کے معائنے کی تصدیق،ڈاکٹر کا بیان آ گیا

    عمران خان کی دائیں آنکھ کے معائنے کی تصدیق،ڈاکٹر کا بیان آ گیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دائیں آنکھ کے معائنے کی تصدیق ہوگئی، پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر نے علاج کی تفصیلات بتادیں۔

    ڈاکٹر عمران سکندر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نےکچھ روز قبل دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت تھی جس کے بعد پمز اسپتال کے سینئر ڈاکٹر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ کیا، دائیں آنکھ کے ضروری ٹیسٹ اور فنڈواسکوپی کی گئی،عمران خان کی آنکھ کے اندر دباؤ کی پیمائش اور ریٹینا کی او سی ٹی کی گئی۔ بانی پی آئی کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کے مزید علاج کےلیے سینئر ڈاکٹرنے انہیں اسپتال بھیجنےکی سفارش کی،ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بانی پی ٹی آئی کو تجویزکردہ علاج کےلیے پمز لایاگیا، بانی کو مرض اور علاج کےبارےمیں تفصیل سےسمجھایاگیا، علاج سے پہلے باقاعدہ تحریری رضا مندی بھی حاصل کی گئی،بانی پی ٹی آئی کا علاج آپریشن تھیٹر میں جراثیم سے پاک ماحول اور نگرانی میں کیاگیا، بانی پی ٹی آئی کا علاج تقریبا 20 منٹ میں بخیروخوبی مکمل ہوا۔

    ڈاکٹر کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی رگوں میں دباؤ کی وجہ سے بینائی پر اثر ہوا ،علاج کے دوران مریض کی وائٹل علامات مستحکم رہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو ہدایات، فالو اپ مشورے اور دستاویز کے ساتھ ڈسچارج کیاگیا۔

    یاد رہے عمران خان کو آنکھ کے طبی ماہرین کی تجویز پر پمز اسپتال لے جایا گیا تھا اور 20 منٹ کے طبی معائنے کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کیاگیا جس کے بعد وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تصدیق کی کہ عمران خان بالکل ٹھیک اورصحت مند ہیں،دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان کی اسپتال منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا۔

  • انکم ٹیکس کے چھاپے،کنفیڈنٹ گروپ کے چیئرمین سی جے رائے کی خودکشی

    انکم ٹیکس کے چھاپے،کنفیڈنٹ گروپ کے چیئرمین سی جے رائے کی خودکشی

    بنگلورو میں معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی کنفیڈنٹ گروپ کے چیئرمین اور بانی سی جے رائے نے جمعے کے روز اپنے بنگلورو دفتر میں خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ان کی کمپنیوں پر چھاپے جاری تھے۔ سی جے رائے کی عمر 57 برس تھی۔

    بنگلورو پولیس کمشنر سیمت کمار سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ اشوکا نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں سہ پہر 3 بجے سے 3:30 بجے کے درمیان پیش آیا۔ ان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کنفیڈنٹ گروپ کے چیئرمین نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ سی جے رائے کی لاش کو ایچ ایس آر لے آؤٹ کے نارائنہ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔پولیس کمشنر نے مزید کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین دن سے انکم ٹیکس کی تلاشی کارروائیاں جاری تھیں اور جمعے کے روز بھی انکم ٹیکس حکام سی جے رائے سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اصل حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

    جب میڈیا نے سوال کیا کہ آیا اس واقعے کو خودکشی پر اکسانے کے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے، تو پولیس کمشنر نے کہا کہ تحقیقات شکایت کی بنیاد پر آگے بڑھیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چھاپوں کی قیادت کیرالا سے آئی انکم ٹیکس ٹیم کر رہی تھی، تاہم تاحال پولیس کی ان افسران سے بات نہیں ہو سکی ہے۔

    ادھر سی جے رائے کے بھائی نے ایک ملیالم نیوز چینل سے گفتگو میں بتایا کہ کیرالہ سے تعلق رکھنے والی انکم ٹیکس ٹیم پہلی مرتبہ 3 دسمبر گزشتہ سال بنگلورو آئی تھی اور چند دن قیام کیا۔ ان کے مطابق بعد ازاں 28 جنوری کو ٹیم نے دوبارہ چھاپہ مارا اور سی جے رائے کو دبئی سے واپس بلا کر پوچھ گچھ کی گئی۔انکم ٹیکس حکام کے مطابق چھاپوں کے دوران مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ سی جے رائے کے پاس ایسے اثاثے موجود تھے جو ان کی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل چھاپوں اور پوچھ گچھ کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔

    کنفیڈنٹ گروپ نے اپنے فیس بک پیج پر جاری بیان میں چیئرمین کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنا “محبوب قائد” قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ وہ ہم سے جدا ہو گئے ہیں، لیکن ان کی دی ہوئی راہ اور اقدار ہمیشہ کمپنی کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ کمپنی نے اس سانحے کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔واضح رہے کہ کنفیڈنٹ گروپ جنوبی بھارت کی ایک نمایاں رئیل اسٹیٹ کمپنی ہے جس کی سرگرمیاں بالخصوص کیرالا اور کرناٹک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سی جے رائے کا تعلق کیرالہ کے شہر کوچی سے تھا اور وہ مہنگی اور لگژری گاڑیوں کے شوقین سمجھے جاتے تھے۔ وہ فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے اور انہوں نے ملیالم فلمیں بھی پروڈیوس کیں، جن میں موہن لال کی بڑی بجٹ کی فلم کاسانووا (2012) شامل ہے۔ اس کے علاوہ کنفیڈنٹ گروپ کچھ سیزنز تک بگ باس ملیالم کا ٹائٹل اسپانسر بھی رہا، جس کی میزبانی موہن لال نے کی۔سی جے رائے کی اچانک موت نے رئیل اسٹیٹ انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے جبکہ کنفیڈنٹ گروپ کے ہزاروں صارفین اور ملازمین بھی اس خبر سے شدید صدمے میں مبتلا ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔

  • ایس ایچ او عوام کا خادم ،عوام اس کےنوکر نہیں،بخدمت جناب نہ لکھا جائے،سپریم کورٹ

    ایس ایچ او عوام کا خادم ،عوام اس کےنوکر نہیں،بخدمت جناب نہ لکھا جائے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ کایہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔ پولیس اسٹیشن ٹنڈوغلام علی میں وقوعہ کےایک دن کی تاخیرسےایف آئی آردرج کی گئی تھی،سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او لکھنے پر پابندی، نوآبادیاتی سوچ مسترد کی جاتی ہے، ایس ایچ او عوام کا خادم ہے،عوام اس کےنوکر نہیں، اب ایس ایچ اوکوصرف جناب ایس ایچ او لکھاجائےگا، پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے،ایف آئی آر درج کرانے والا شہری اطلاع دہندہ ہوگا، شکایت کنندہ نہیں، کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہے،سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں فریادی کا لفظ بھی ممنوع قرار دے دیا اور کہا کہ فریادی رحم مانگنے کا تاثردیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔

    سپریم کورٹ نے ایف آئی آرکے اندراج میں تاخیرناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کوسخت وارننگ دی اور فیصلے میں کہا کہ ایف آئی آرمیں تاخیر پر پی پی سی 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے، ایف آئی آرمیں تاخیرسے شواہد ضائع ہونےکاخطرہ ہوتا ہے، پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویےمیں بڑی تبدیلی ضروری ہے، ایف آئی آر کےاندراج میں تاخیرکا رجحان سندھ میں نسبتاً زیادہ پایاجاتاہے، پراسیکیوٹرجنرل سندھ گزشتہ2سال سنگین جرائم میں ایف آئی آراندراج کی اوسط تاخیربارے رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرائیں، رپورٹ عدالت کے جائزہ کیلئے کراچی برانچ رجسٹری کے انچارج افسرکوجمع کرائی جائے،سندھ کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججزیقینی بنائیں کہ ماتحت عدالتوں میں مقدمہ پکارتے وقت فریادی کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے، رجسٹرارآفس فیصلے کو رہنمائی اور عملدرآمد کیلئے پاکستان کی تمام ہائیکورٹس اورضلعی عدالتوں میں سرکولیٹ کرے۔