Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سانحہ بھاٹی گیٹ،5 ملزمان گرفتار،خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے پر وضاحت

    سانحہ بھاٹی گیٹ،5 ملزمان گرفتار،خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے پر وضاحت

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نےداتا دربار کے علاقہ میں ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے جائے وقوعہ کا دورہ کیا،

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کا کہنا تھا کہ 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔لواحقین کو مکمل طور انصاف فراہم کیا جائے گا، وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی تیز اور میرٹ پر کرنے کا حکم ہے ۔

    بھاٹی گیٹ ماں بچی کے گٹر میں گرنے کا افسوسناک واقعہ ،ڈی آئی جی آپریشنز کی خاوند کو حراست میں لینے، تشدد کی اطلاعات پر ایس ایچ او، ڈی ایس پی کے خلاف کاروائی،ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس معطل، ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کانوٹس جاری کر دیا گیا تھا،ایس پی سٹی، متعلقہ پولیس کے رسپانس کا تعین کے لیے اعلی سطحی تحقیقات ہوں گی،ڈی آئی جی آپریشنز نے آئی اے بی کو آزادانہ انکوائری کے لیے خط لکھ دیا،انکوائری میں خاوند اور دیور کو حراست میں لینے کی محرکات کا تعین ہو گا،پولیس نے ریسکیو کال پر گرفتاری کیوں کی اس کی بھی جانچ ہو گی،وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق اے آئی بی کو جلد از جلد تحقیقات مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ریسیکو آپریشن کے دوران پولیس ایکشن کیوں ہوا اس کا بھی تعین ہو گا،تحقیقات کی روشنی میں افسوسناک رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن ہو گا

    بھاٹی گیٹ، متوفی خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے کا معاملہ،ترجمان لاہور پولیس، آپریشنز ونگ کا کہنا ہے کہ متوفی خاندان کے والد کا انگوٹھا کسی کو ریلیف دینے کے لئے نہیں لگوایا گیا،ڈیڈ ہاوس میں والد کا انگوٹھا درخواست مقدمہ میں تصحیح کے لیے لگوایا گیا،والد کی درخواست مقدمہ میں سیفٹی آفیسر محمد دانیال کا ذکر تھا،گرفتار کرنے پر پتہ چلا سیفٹی آفیسر کا نام محمد حنزلہ تھا،درخواست مقدمہ کی درستگی کے لیے انگوٹھا لگوا کر درخواست دوبارہ دی گئی،انگوٹھا لگاتے وقت تمام خاندان متوفی کی لاش کے ساتھ ڈیڈ ہاوس میں تھا،انوسٹی گیشن ونگ کی درخواست پر انگوٹھا لگوا کر تصیح کی کاروائی کی گئی،ڈیڈ ہاوس سے نکلتے ہوئے وقت کی قلت کے باعث انگوٹھے لگوا کر کاروائی کی گئی،درست کوائف کے ساتھ نئی درخواست کے مطابق مقدمہ درج کیا جا چکا ہے،ڈی ایس پی انوسٹی گیشن اس معاملے کی وضاحت دے چکے ہیں،پولیس دکھی خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے،واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،ایس ایچ او معطل، اعلی سطحی انکوائری جاری ہے

  • باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟

    باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟

    ستمبر 2025 میں تیراہ کے مقامی مشران نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے موجودہ وزیر اعلیٰ (جو اس وقت ایم پی اے تھے) کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تیراہ میں دہشتگردی اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہونے والی نشست میں یہ بھی طے کیا گیا کہ فتنہ الخوارج سے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں تیراہ سے چلےجانے کا کہا جائے گا۔ جرگہ قرآن لے کر خوارج کے پاس گیا لیکن خوارج نے قبائلی روایات کے برعکس جرگے کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور تیراہ سے نکلنےپر راضی نہ ہوئے۔ 28 اکتوبر 2025 کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے پی ڈی ایم اے (PDMA) کو پہلا خط لکھا جس میں متوقع نقل مکانی اور موجودہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں اس کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا کہا گیا۔ اسی دوران، 14 نومبر 2025 کو صوبائی کابینہ نے تیراہ کے بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے اصولی طور پر 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ تین ماہ کے وقفے کے بعد (11 دسمبر 2025 کو)، تیراہ کے مقامی مشران نے ضلع خیبر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور آگاہ کیا کہ دہشت گردوں کو علاقہ خالی کرنے پر قائل کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، لہٰذا وہ علاقہ خالی کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کے لیے تیار ہیں۔

    17 دسمبر 2025 کو علاقے کے 26 معززین پر مشتمل ایک جرگے نے ضلع انتظامیہ خیبر سے ملاقات کی اور نقل مکانی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کیے۔ جرگے کی اسی طرح کی ملاقاتیں 18 اور 19 دسمبر 2025 کو بھی جاری رہیں۔ 26 دسمبر 2025 کو چیف سیکرٹری نے تیراہ کے بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ 31 دسمبر 2025 کو جرگے نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں نقل مکانی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی اور جرگے کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔ رجسٹریشن کے عمل کے بعد نقل مکانی 14 جنوری 2026 تک مکمل ہونی تھی، جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی، بعد ازاں اس مدت میں 26 جنوری 2026 تک توسیع کر دی گئی۔

    جرگہ کے اصل حقائق یہ ہیں کہ، تیراہ میں آفریدی قبیلے کے 8 قبیلے موجود ہیں جن میں سے 6 قبیلوں میں سے ہر قبیلے نے 4 نمائدے منتخب کیے تھے – لہذا 24 رکنی جرگہ بنایا گیا جو تیراہ کے لوگوں کے اصل نمائیدگان تھے ، ہفتے کے دن باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ منعقد ہونا تھا، اسکو CM KP ، مینا خان جیسے لوگوں نے ڈسکریڈٹ کرنے کے لئے اتوار کے روز جمرود میں سیاسی جلسہ بھی رکھ لیا – حکومت نے 4 ارب روپے تیراہ کے لوگوں میں بانٹنے کی بجائے اور جرگے کو نظر انداز کر کے،اپنے نظر شفقت political workers میں بانٹے تاکہ political mileage حاصل کیا جا سکے – سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود اور ستمبر سے لے کر جنوری تک یہ تاخیر ان کی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ کس طرح تیراہ کے لوگوں کو سیاسی ڈھال بنایا گیا- 90 ہزار لوگوں کے لئے صرف 2 ریجسٹریشن پوائنٹس بنائے گئے تاکہ انسانی المیہ بنایا جائے – لہذا ان سب وجوہات کی بنا پر پی ٹی آئی اور جرگے کے عمائدین کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کی جانب سے تیراہ جرگہ کے ممبران کو "ٹاؤٹ” قرار دینا شرمناک ہے۔ یہ جرگہ صدیوں سے مقامی لوگوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پی ٹی آئی قیادت ان معتبر مقامی افراد کو خریدنے میں ناکام رہی، تو اب انہیں بدنام کرنے پر اتر آئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اقبال آفریدی، مینا خان، سہیل آفریدی کے بھائی اور غنی آفریدی نے متاثرین کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے میں خورد برد کی – جرگہ پی ٹی آئی کے اِن سیاستدانوں کی جانب سے کی جانے والی جعلی رجسٹریشنز کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، کیونکہ جرگہ نہیں چاہتا کہ حق داروں کا حق مار کر سیاسی من پسند افراد کو نوازا جائے۔ اسی مزاحمت کی وجہ سے اب ان سیاستدانوں نے جرگے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی تیراہ کے عوام کے لیے مختص 4 ارب روپے کو اپنے حامیوں میں بانٹ کر ان کو 8 فروری کے جلسے میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اصل جرگہ ہفتے کو منعقد ہوگا ، اتوار کو جمرود میں ہونے والا جلسہ سیاسی چال ہے ، تاکہ لوگوں کو ورغلایا جائے اور آٹھ فروری کے جلسے میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے ۔

    تیراہ کے لیے مختص 4 ارب روپے میں مبینہ خردبرد اور ناانصافی کے خلاف باڑہ سیاسی اتحاد نے 31 جنوری 2026 کو ایک خالص عوامی قبائلی جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، اس جرگے میں قبائلی مشران، ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے شریک ہوں گے تاکہ فنڈز کے شفاف استعمال، ذمہ داروں کے تعین اور تیراہ کے مسائل کا سیاست سے بالاتر حل یقینی بنایا جا سکے۔

  • عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

    عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

    عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے حکم نامہ جاری کردیا۔

    ثالثی عدالت کا کہنا ہے کہ بھارت 9 فروری 2026 تک بگلیہار اور کشن گنگا کے آپریشنل لاگ بکس جمع کرائے، ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں بھارت کو باضابطہ طور پر وجہ بتانا ہوگی،پاکستان 2 فروری 2026 تک یہ واضح کرے وہ کون سی دستاویزات چاہتا ہے۔ کیس کے میرٹس کے دوسرے مرحلے کی سماعت 2 اور 3 فروری کو دی ہیگ میں ہوگی،عبوری ریلیف دینے کا اختیار صرف ثالثی عدالت کو ہے، نیوٹرل ایکسپرٹ کو عبوری اقدامات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل کی قیادت میں اعلیٰ سطح پاکستانی وفد ہفتے کے روز دی ہیگ روانہ ہوگا، وفد میں پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ شامل ہوں گے۔ نیدرلینڈ میں پاکستان کے سفیر اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ٹیم بھی وفد کا حصہ ہوگی، پاکستان کا مؤقف ہے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی پن بجلی شقوں کا غلط استعمال کیا ہے، پونڈیج لاگ بکس کیس کے لیے براہِ راست متعلق اور اہم ہیں، یہ ریکارڈ زیادہ سے زیادہ قابلِ اجازت پونڈیج کے تعین میں مدد دیتے ہیں۔

  • تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ،فتنوں کا صفایا کر رہے،سکیورٹی ذرائع

    تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ،فتنوں کا صفایا کر رہے،سکیورٹی ذرائع

    سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہااور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنوں کا صفایا کررہے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں سکیورٹی حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی، سکیورٹی ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا، وادی تیراہ میں دہشت گردوں، فتنہ ہندوستان اور فتنہ خوارج کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے اور انٹیلی جنس بیسڈآپریشن میں تمام فتنوں کا صفایا کررہے ہیں، ڈرون ٹیکنالوجی میں خودانحصاری حاصل کرچکے ہیں، جاری جنگوں کے تناظرمیں جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی کام کررہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے، احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔

  • سہیل آفریدی نے دھرنا دینا تھا تو کے پی اراکین اسمبلی کو ساتھ لاتا،شیخ وقاص کی آڈیو لیک

    سہیل آفریدی نے دھرنا دینا تھا تو کے پی اراکین اسمبلی کو ساتھ لاتا،شیخ وقاص کی آڈیو لیک

    تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا مبینہ آڈیو میسج لیک ہوگیا ہے

    مبینہ آڈیو میسج میں گزشتہ روزکے دھرنے میں ممبران پارلیمنٹ کی عدم شرکت کا ملبہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پرڈال دیا اور مبینہ آڈیو میسج میں کہا کہ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جاتےہی کہا کہ ورکرزنہیں بلکہ ممبران قومی،صوبائی اسمبلی کوکال دی،شیخ وقاص نے مبینہ آڈیو میسج میں کہا کہ منگل کے روزپنجاب سے ارکان اسمبلی آئے اور پھر واپس اپنےحلقوں میں چلےگئے، سہیل آفریدی نےخیبرپختونخوا ہاؤس میں ایک رات قبل میٹنگ کی، آپ رات میٹنگ میں ہی بتادیتے کہ اڈیالہ دھرنا دینا ہے، کسی ممبراسمبلی کے پاس ہیلی کاپٹریا جہازنہیں کہ وہ فوری پہنچ جائے جو ارکان قریب تھے وہ پہنچ گئے، آج سپریم کورٹ کے باہر رش تھا، زیادہ ارکان پہنچ گئےتھے، اس میں ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کا قصور نہیں جنہوں نے پلان بنایا ان کا قصور ہے، بندہ 10 گھنٹےکےسفرپرہے، آپ رات کوکہتے ہیں فوری پہنچو، کسی کےپاس جہازنہیں ہے،ایسا بالکل نہیں ہوتا۔

    شیخ وقاص اکرم نے مبینہ آڈیو میسج مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے دھرنا دینا ہی تھا تو اپنے 90 ممبران صوبائی اسمبلی توساتھ لاتے، وزیراعلیٰ کےصوبےکےممبران اسمبلی قریب تھےوہ پہنچ سکتےتھے، رات جب کےپی ہاؤس میں میٹنگ ہوئی اس میں اسد قیصر،جنید اکبربھی موجود تھے، آپ کو رات اطلاع دینی چاہیےتھی کہ دھرنا دیں گے، یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے،رات کو ہی اطلاع کردینی چاہیے تھی

  • واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف  پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    عالمی سیاست میں توجہ حاصل کرنا اکثر طاقت کے مظاہرے یا جارحانہ سفارت کاری کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، مگر بعض اوقات مستقل مزاجی، ادارہ جاتی ضبط اور حقیقت پسندانہ مؤقف بھی عالمی طاقتوں کو متوجہ کر لیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں واشنگٹن میں پاکستان ایک بار پھر سنجیدہ غور و فکر کا موضوع بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی خارجہ پالیسی میں روایتی سفارتی آداب کے بجائے براہِ راست مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی توجہ حاصل کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دوبارہ امریکی پالیسی ڈسکورس میں جگہ بنانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے بیانیے کو محض دفاعی دائرے سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم میں پیش کیا ہے۔

    یہ پیش رفت آسان نہیں تھی۔ پاکستان کو ایک طویل عرصے سے کئی محاذوں پر سوالات اور دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں اکثر عالمی بیانیے میں پس منظر میں چلی گئیں، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے کردار کو مسلسل جانچ کے عمل میں رکھا، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی فعال سفارت کاری نے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے بھی پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔
    ان حالات میں جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی نمایاں طور پر محتاط مگر مؤثر رہی۔ پاکستان نے خود کو کسی بحران کے ذمہ دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست، علاقائی استحکام کے شراکت دار اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر فریق کے طور پر پیش کیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جس نے واشنگٹن میں دوبارہ سنجیدہ مکالمے کی گنجائش پیدا کی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا پاکستان کی جانب مبذول ہونا محض علامتی واقعہ نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالمی طاقتیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں—خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ جنوبی و وسطی ایشیا ایک بار پھر عالمی اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بن رہا ہے۔

    تاہم یہ لمحہ پاکستان کے لیے صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔ عالمی توجہ عارضی ہوتی ہے، اگر اسے واضح پالیسی اہداف، معاشی اصلاحات اور علاقائی استحکام کی عملی کوششوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب اس اسٹریٹجک موقع کو دیرپا شراکت داری میں ڈھالنا ہے، نہ کہ اسے محض ایک وقتی سفارتی کامیابی تک محدود رکھا جائے۔
    اگر پاکستان اس موقع سے دانشمندی سے فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ نہ صرف واشنگٹن بلکہ دیگر عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ اور یہی کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کی اصل کامیابی ہوتی ہے—خاموش، مستحکم اور دیرپا۔

  • گوجر خان جی ٹی روڈ کے خستہ حال پل پر گہرے شگاف،کارکردگی پر سوالیہ نشان

    گوجر خان جی ٹی روڈ کے خستہ حال پل پر گہرے شگاف،کارکردگی پر سوالیہ نشان

    گوجر خان(قمرشہزاد)جی ٹی روڈ گوجرخان سرور شہید کالج کے مقام پر واقع پل کا جہلم سائیڈ والا حصہ اس وقت کسی خوفناک حادثے کے لیے ڈیتھ ٹریپ بن چکا ہے۔ پل کے درمیانی ستونوں کے عین اوپر پڑنے والے گہرے اور چوڑے شگاف دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف سڑک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں بلکہ تیز رفتار ٹریفک کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ شگاف گٹر کے کھلے ڈھکنوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں جہاں سے جھانکتا ہوا سریہ کسی بھی گاڑی کا ٹائر پھاڑ کر اسے نیچے ریلوے لائن یا گہری کھائی میں گرانے کے لیے کافی ہے۔

    حیرت انگیز اور لمحہ فکریہ بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹروے پٹرولنگ پولیس، جن کی گاڑیاں روزانہ درجنوں بار اس پل سے گزرتی ہیں، اس سنگین خطرے کو دیکھ کر بھی انجان بنی ہوئی ہیں۔ کیا ان افسران کی نظریں ان بڑے شگافوں پر نہیں پڑتیں یا پھر کسی بڑے سانحے کے بعد فوٹو سیشن کے لیے اس مقام کو چھوڑ دیا گیا ہے؟ ان شگافوں میں تیز رفتار گاڑیوں کے ٹائر دھنسنے یا سریہ لگنے سے پبلک ٹرانسپورٹ کی الٹ جانے کا خدشہ موجود ہے، جس کی صورت میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری براہ راست ان غافل افسران پر عائد ہوگی۔

    علاقہ مکینوں اور مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے سوال کیا ہے کہ کیا انتظامیہ کسی خونی حادثے کے بعد ہی حرکت میں آئے گی؟ اگر فوری طور پر ان شگافوں کی مرمت نہ کی گئی اور پل کی مضبوطی کا ازسرنو جائزہ نہ لیا گیا، تو یہ غفلت ایک ایسے سانحے کو جنم دے سکتی ہے جس کا تدارک ناممکن ہوگا۔

  • بسنت پر سیاسی شخصیات کی تصاویر،نک دا کوکا گانے پر پابندی،نوٹس جاری

    بسنت پر سیاسی شخصیات کی تصاویر،نک دا کوکا گانے پر پابندی،نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،بسنت کے موقع پر سیاسی شخصیات کی تصاویر اور نک دا کوکا گانے پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے دو فروری کو جواب طلب کر کیا،جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے کہا کہ کیا درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ درخواست گزار بھی گائے گا، یہ گانا میں بھی گنگاؤں گا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی آواز تو ویسے بھی بہت سریلی ہے،پابندی تو فحش گانوں پر لگائی گئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نک دا کوکا گانے میں فحاشی کا کوئی عنصر موجود نہیں،

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے سیاسی شخصیات کی تصویر والی پتنگ اڑانے پر پابندی عائد کی،حکومت نے فحش گانوں کی فہرست میں نک دا کوکا کو بلاجواز شامل کیا،عدالت حکومت کے ان اقدامات کو کلعدم قرار دے،

  • سیوریج لائن حادثہ، لاہور ہائیکورٹ کا انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

    سیوریج لائن حادثہ، لاہور ہائیکورٹ کا انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

    لاہور کے علاقے میں سیوریج لائن میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ کے علاقوں میں جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں اس سانحے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبے کے دوران حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ڈال دی گئی ہیں، جس کا نتیجہ ماں بیٹی کی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران حفاظتی اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی منصوبے کی وجہ سے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کو پیر کے روز ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ واقعے سے متعلق صوبائی حکومت کا واضح مؤقف اور ذمہ داران کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پیش کریں۔

    اس کے ساتھ ہی عدالت نے ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے تاکہ منصوبے کی منظوری، نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مکمل ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھا جا سکے۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ منصوبے کے دوران غفلت یا لاپرواہی برتی گئی تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے واقعے سے متعلق مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔

  • سپریم کورٹ،جہیز،حق مہر سے متعلق درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ،جہیز،حق مہر سے متعلق درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق مختلف درخواستیں خارج کر دیں۔

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی،اس دوران چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ حقِ مہر میں لکھی چیزوں کو شوہر ادا کرنے کا پابند ہے، عورت کے ساتھ جب شادی کرتے ہیں تو نکاح نامے کے تحت ادائیگی لازم ہے،اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حقِ مہر میں 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے، 20 تولہ ادا کرنے کو تیار ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 20 تولہ سے اور بڑھائیں تو شاید خاتون تصفیے پر آمادہ ہو جائے، عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی