Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے،وزیراعظم

    جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی صورتحال ابتر تھی، حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے، گورنر اسٹیٹ بینک دل بڑا کریں اور تگڑے فیصلے کریں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے ملک کا نام روشن کیا، ایکسپورٹرز پاکستان کے عظیم فرزند ہیں، کاروباری شخصیات نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا، کاروباری شخصیات نے ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا،ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت سنبھالی تو کچھ لوگوں نے کہا پاکستان ڈیفالٹ کرچکا ہے، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہمارے لیے چیلنج تھا، حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی صورتحال ابتر تھی، پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہوچکی ہے، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے، حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مل کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا، گورنر اسٹیٹ بینک دل بڑا کریں اور تگڑے فیصلے کریں، گورنر اسٹیٹ بینک کاروباری شخصیات کی بات سنیں، حکومتیں کاروبار نہیں کرتیں، کاروبار پرائیویٹ سیکٹر نے کرنا ہے۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے قرض لیے انہوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے، کوئی کسی سے مانگنے جاتا ہے تو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے، چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی مدد کی۔

  • بھاٹی گیٹ حادثہ، آنکھوں سے بیوی ،بیٹی کو گرتے دیکھا،پولیس نے تشدد کیا،شوہر

    بھاٹی گیٹ حادثہ، آنکھوں سے بیوی ،بیٹی کو گرتے دیکھا،پولیس نے تشدد کیا،شوہر

    لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور اس کی کمسن بچی کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

    جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی اطلاع دینے پر انہیں ہی حراست میں لے لیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بیوی و بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب وہ اپنی اہلیہ اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچے تو پولیس نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کے مطابق ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ وہ سچ نہیں بول رہے۔غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی یا تلخ کلامی نہیں ہوئی تھی، وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ سیر کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے بیوی اور بچی کو سیوریج لائن میں گرتے دیکھا، تاہم پولیس افسران ان کے بیان کو جھوٹ قرار دیتے رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کا موبائل فون بھی تحویل میں لے لیا، جبکہ واقعے کے وقت ان کا ایک بیٹا اپنی والدہ کے پاس موجود تھا۔

    متاثرہ شخص نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس افسران مسلسل یہ کہتے رہے کہ وہ یہ بیان دے کہ اس نے خود اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس زبردستی دونوں کے قتل کا اعتراف کروانا چاہتی تھی، جبکہ ان کے کزن تنویر کو بھی حراست میں رکھا گیا اور دونوں پر دباؤ ڈالا جاتا رہا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھاٹی گیٹ کے علاقے میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے اس واقعے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا۔ بعد ازاں تقریباً دس گھنٹے کی تاخیر کے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں جائے وقوعہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں .

  • وادیٔ لیپہ، شدید سردی ،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند

    وادیٔ لیپہ، شدید سردی ،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند

    وادیٔ لیپہ، آزادجموں و کشمیر میں شدید سردی اور سخت موسمی حالات کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلندہیں

    وادیٔ لیپہ میں شدید برف باری، منجمد درجۂ حرارت اور دشوار گزار زمینی حالات کے باوجود پاک فوج کے جوان پوری پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ خدمت کیساتھ عوام کی خدمت میں مصروف ہیں،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے دستے دن رات سڑکوں کی بحالی اور برف ہٹانے کے کام میں سرگرم ہیں،امدادی سرگرمیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ ناصرف موجود بلکہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرےگی

    وادیٔ لیپہ کے عوام نے پاک فوج کی بروقت کارروائی، انتھک محنت اور بے لوث خدمت کو دل کی گہرائیوں سے سراہا ،مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ سخت ترین موسم میں بھی عوامی خدمت کو یقینی بنانا پاک فوج کی پیشہ ورانہ پہچان اور قومی فخر ہے،ہمیں پاک فوج پر فخر ہے کیونکہ وہ ہر مشکل گھڑی میں قوم کے کام آتی ہے،شدید برف باری کے باعث سڑکیں بند ہو گئی تھیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو گئے تھے، مگر پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام سڑکیں اور لنک روڈز بحال کر دی، طبی ایمرجنسی کے دوران ایک خاتون کو بروقت ریسکیو کرنا بھی پاک فوج کی عوام دوست خدمات کا روشن ثبوت ہے، مقامی عوام نے پاک فوج کی ان خدمات پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا

  • افغان سرزمین دہشتگردوں کے ٹھکانے میں تبدیل ،خطے کیلئےسنگین خطرہ

    افغان سرزمین دہشتگردوں کے ٹھکانے میں تبدیل ،خطے کیلئےسنگین خطرہ

    افغان طالبان رجیم کےحمایت یافتہ دہشتگردوں نےخطےکوعدم استحکام کے دہانے پر لا کھڑا کیا

    افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی پرعالمی جریدہ یوریشیا نے بھی پاکستان کےموقف کی تائیدکر دی،امریکی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق ؛ افغان طالبان رجیم صرف داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک سیکیورٹی خطرہ بن چکا ہے ،اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی سمیت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں اگر افغانستان سے پنپنے والی دہشتگردی سے پاکستان متاثر ہوا تو خطے کےدیگر ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے،پاکستان صرف اپنے شہریوں کو نہیں بلکہ پورے خطے کو دہشتگردی سے محفوظ بنا رہا ہے،اہم یہ نہیں کہ پاکستان اس حوالے سے کیا کررہا بلکہ دیکھنا یہ ہے دنیا افغان طالبان کی دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کیا کررہی ہے ،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی دنیا بھر میں بے نقاب ہوچکی ہے،پاکستان متعدد بار دنیا کوافغان طالبان کی دہشتگردی سے متعلق مستند شواہد دے چکا ہے مگر افغان حکام کی ہٹ دھرمی اور انتہاپسندی برقرار ہے ،عالمی برادری ادرا ک کرچکی ہے کہ پاکستان سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے ، افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگردوں کی سرپرستی خطے میں عدم استحکام کاباعث اور امن کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے ،

  • بھارت میں ہندوتوا نظریہ پہ کاربند انتہاپسندوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی

    بھارت میں ہندوتوا نظریہ پہ کاربند انتہاپسندوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی

    بھارت میں ہندوتوا نظریہ پہ کاربند انتہاپسندوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی

    بھارت میں ہندوتوا بالادستی کیلئے سفاک مودی سرکار کی سرپرستی میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی مشکل بنادی گئی،مسلمان و مسیحی عبادت گاہوں پر حملے، ہندوتوا کے بڑھتے اثرات کے باعث اقلیتیں انتہا پسندوں کے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، بھارتی جریدہ دی وائر نے بھی انتہا پسندوں کی نئی اشتعال انگیزی کو بے نقاب کرکے مودی سرکار کو آئینہ دکھادیا، دی وائر کے مطابق؛اوڑیسہ میں انتہا پسند ہندو چرچ میں جا گھسے، مسیحی شہریوں کو ہراساں اور عبادت کرنے سے روک دیا گیا،بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے چرچ میں عبادت کی صورت میں تمام مسیحی گھرانوں کو گاؤں سے بیدخل کرنے کی دھمکی دی،واقعہ کے اگلے ہی روزہندوانتہا پسند گروپ نے حملہ کرکے مسیحی برادری کے 2 نوجوانوں کو بے دردی سےزخمی کردیا، چند ہفتے قبل بھی انتہا پسند ہندووں نے پادری پر تشدد کرکے انہیں جوتوں کا ہار پہنایا اور گوبرکھلایا تھا، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے قوانین کیخلاف احتجاج کو دی وائر نےنام نہاد ہندو مظلومیت کی سیاست قرار دیدیا

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق ؛متعصب وزیراعلیٰ آسام نے بھی نفرت آمیز بیان میں مسلمانوں کو اپنا ووٹ بنگلہ دیش میں ڈالنے کا کہا ہے

    ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں اور کمزور طبقات پر تشدد سماجی ہم آہنگی تباہ کر کے سنگین داخلی انتشار کاباعث بن رہا ہے،آر ایس ایس قانون، انصاف اورمساوات کی بالادستی کے بجائے انتہا پسند ہندو ریاست کا قیام چاہتی ہے،بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی داخلی انتشار کو جنم دےکر علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دے رہی ہے

  • اسٹیل مل سے لوہا، تانبا اور اسکریپ چوری میں ملوث  4 ملزمان گرفتار

    اسٹیل مل سے لوہا، تانبا اور اسکریپ چوری میں ملوث 4 ملزمان گرفتار

    کراچی،بن قاسم پولیس کی کاروائی، اسٹیل مل سے لوہا، تانبا اور اسکریپ چوری میں ملوث 4 ملزمان گرفتار کر لئے گئے

    گرفتار ملزمان میں اسٹیل مل کے دو سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جو اندرونی سہولت کاری کے ذریعے چوری کی وارداتوں میں ملوث نکلے۔دونوں گرفتار سیکیورٹی اہلکار اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث تھے۔کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 80 کلو گرام کاپر وائرز برآمد کیں۔ملزمان گاڑی کے ذریعے چوری شدہ سامان کو کارخانے میں منتقل کر رہے تھے۔پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چوری میں استعمال ہونے والی کرولا گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا ہے۔گرفتار ملزمان کی شناخت (اسٹیل مل سیکیورٹی اہلکار) عمیر ضیاء اور نعیم اختر جبکہ دیگر ملزمان رانوں اور عبدالقادر کے نام سے ہوئی ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزمان چوری شدہ سامان مختلف اسکریپ ڈیلرز اور کباڑیوں کو فروخت کرتے تھے۔

  • بھارت میں فضائی آلودگی ، کھلاڑی ماسک پہن کر کھیلنے پر مجبور

    بھارت میں فضائی آلودگی ، کھلاڑی ماسک پہن کر کھیلنے پر مجبور

    بھارت میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ پیشہ ور کھلاڑیوں کی صحت کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے

    بھارتی میڈیا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ملک میں فضائی آلودگی کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کرکٹ کھلاڑیوں کو میدان میں ماسک پہن کر کھیلنا پڑ رہا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رانجی ٹرافی کے ایک میچ کے دوران ممبئی اور دہلی کی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے شدید فضائی آلودگی کے باعث ماسک پہن کر کھیل میں حصہ لیا۔ یہ میچ ممبئی کے باندرا کُرلا کمپلیکس میں کھیلا گیا جہاں آلودہ فضا نے کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صحت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا،ذرائع کے مطابق گراؤنڈ کے اطراف جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث فضا میں دھول اور مضر ذرات کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ممبئی کے نمایاں بیٹرز سرفراز خان، مشیر خان اور ہمانشو سنگھ نے دورانِ میچ ماسک پہن کر کھیلنا ضروری سمجھا۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ممبئی میں فضائی معیار اس حد تک خراب ہو چکا ہے کہ شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 160 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ ’’غیر تسلی بخش‘‘ کی کیٹیگری میں آتا ہے اور انسانی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق اس سطح کی آلودگی میں طویل وقت تک کھیلنے سے کھلاڑیوں کو سانس، پھیپھڑوں اور دل کے مسائل لاحق ہو سکتے ہیں، جو مستقبل میں ان کی فٹنس اور کیریئر پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ممبئی میں آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچز، جن میں سیمی فائنل اور گروپ میچز بھی شامل ہیں، شیڈول ہیں۔ ایسے میں فضائی آلودگی کا یہ مسئلہ نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ عالمی کرکٹ ایونٹ کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ شائقین کرکٹ اور ماہرین کی جانب سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • اڈیالہ کا قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، گورنر خیبر پختونخوا

    اڈیالہ کا قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اڈیالہ کا قیدی اپنی سزا پوری کرکے ہی آزاد ہوگا۔

    میڈیا سے گفتگو میں فیصل کریم کنڈی بولے کہ صوبائی حکومت کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ قیدی کو کس طرح آزاد کرائیں، انہوں نے واضح کیا کہ قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، اگر قیدی کو اسپتال لایا گیا ہے توکسی مریض کا علاج کرنا غلط بات تو نہیں، گورنرخیبر پختونخوا نے وادی تیراہ میں آپریشن کے خبروں کی تردید کردی اور کہا کہ تیراہ میں لوگ ہرسال سردیوں میں نقل مکانی کرتے ہیں، اس وقت تیراہ کے حوالے سے صرف لفظی جنگ جاری ہے، اس سال صوبائی حکومت نےاس مد میں 4 ارب روپے رکھے اور آئی ڈی پیزکی رجسٹریشن شروع کی، 50 سے60 فیصد لوگ آپریشن کے خدشے کے پیش نظر نقل مکانی کرگئے، اس سے پہلے30 فیصد تک لوگ سردی میں بچوں کے ہمراہ نقل مکانی کرتے تھے، دہشتگردوں کیخلاف ہرجگہ آپریشن ہوتا ہے، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا، چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جہاں بھی دہشتگرد ہیں وہاں آپریشن ہوگا۔

  • میانوالی، سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد ہلاک

    میانوالی، سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد ہلاک

    میانوالی میں چاپڑی ڈیم کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دہشتگردوں میں فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشتگرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے چاپڑی ڈیم کے قریب چھاپہ مارا تھا کہ اسی دوران دہشتگردوں نے سی ٹی ڈی ٹیم پر فائرنگ کردی، 6 خطرناک دہشتگرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے جبکہ 8 دہشتگرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئی، دہشتگردوں سے ایک خودکش جیکٹ، 3 دستی بم، 3 ایس ایم جیز، 200 گولیاں اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • بسنت  کی واپسی سے شہر میں خوشیوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بہار

    بسنت کی واپسی سے شہر میں خوشیوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بہار

    لاہور میں بسنت فیسٹیول کی خوشیاں ایک بار پھر لوٹ آنے سے نہ صرف شہریوں میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے بلکہ اس سے وابستہ مختلف کاروبار بھی خوب چمک اُٹھے ہیں۔ شہر بھر میں رنگ برنگی پتنگوں، ڈور، روشنیوں اور دیگر سامان کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    بسنت کی راتوں کو مزید یادگار بنانے کے لیے شہری خصوصی طور پر سرچ لائٹس کی خریداری کر رہے ہیں۔ مختلف مارکیٹوں میں چھوٹی، بڑی، جدید اور منفرد ڈیزائنز والی سرچ لائٹس دستیاب ہیں جو چھتوں اور کھلے مقامات پر پتنگ بازی کے دوران استعمال کی جا رہی ہیں۔ دکانداروں کے مطابق ان سرچ لائٹس کی قیمتیں 2 ہزار روپے سے لے کر 30 ہزار روپے تک ہیں، تاہم بسنت کی آمد کے ساتھ ہی ان کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دکانداروں کا کہنا ہے کہ کئی سال بعد بسنت سے وابستہ کاروبار کو دوبارہ سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ پتنگ فروش، ڈور بنانے والے، لائٹس اور دیگر سجاوٹی سامان کے تاجر اس بار خاصی پرامید نظر آ رہے ہیں اور ان کے مطابق فروخت میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بار بسنت کو نئے، مختلف اور محفوظ انداز میں منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بسنت منانا نہ صرف خوشیوں کو دوبالا کرے گا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ آئندہ کبھی اس تہوار پر پابندی نہ لگےشہریوں اور تاجروں دونوں کا ماننا ہے کہ اگر بسنت کو ذمہ داری اور نظم و ضبط کے ساتھ منایا گیا تو یہ تہوار نہ صرف لاہور کی ثقافتی شناخت کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت اور خوش آئند ثابت ہوگا۔