Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان اور بنگلہ دیش،رشتے  مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اور بنگلہ دیش،رشتے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،حافظ مسعود اظہر

    بدلتے عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے ، محبت اور بھائی چارے کے رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف اسلامی ، تاریخی رشتوں کے حامل ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ دل اور جذبات کے اعتبار سے بھی گہرے رشتے رکھتے ہیں۔دونوں ملک ایک جسم کے دو بازو اور ایک جسم میں دھڑکنے والے دو دل کی مانند ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔انھوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کو باہم لڑانے کی بھارت کی تمام سازشیں ناکام ہوچکی ہیں ۔ بھارت صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کا ہی دشمن نہیں بلکہ اسلام ، قرآن اور رب رحمان کا بھی دشمن ہے ۔ اسلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک باہم تعلقات اور اپنا دفاع مضبوط کریں ۔ حالیہ دنوں میں بنگالی عوام، حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے پاکستان کے لیے محبت اور عقیدت کے اظہار نے ثابت کر دیا ہے کہ نظریہ پاکستان آج بھی زندہ ہے ۔ اس محبت اور عقیدت کی روشنی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات صرف سرکاری سطح تک محدود نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی ایک دوسرے کے لیے عزت اور محبت موجود ہے۔ یہ محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے رشتے دونوں ممالک کے مستقبل میں تعلیمی، دفاعی اور اقتصادی تعاون کے دروازے کھولنے کا سبب بن سکتے ہیں۔دونوں ممالک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ محبت اور بھائی چارے کے اس انمول رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرے اور عوام کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کے لیے پل باندھے۔ اس سلسلے میں تعلیم، دفاع ، کھیل اور اقتصادی شعبوں میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مزید برکت ڈالے، محبت اور بھائی چارے کے رشتے کو ہمیشہ قائم رکھے اور دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں محبت کی روشنی کو روشن رکھے۔ یہ رشتہ آنے والے ہر دور میں مضبوط اور پائیدار رہے۔

  • گوجرخان کے افسران سفید ہاتھی بن گئے، عوامی حلقوں کا وزیراعلیٰ  سےکاروائی کا مطالبہ

    گوجرخان کے افسران سفید ہاتھی بن گئے، عوامی حلقوں کا وزیراعلیٰ سےکاروائی کا مطالبہ

    گوجرخان (قمرشہزاد) جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے میں اصلاحات اور گڈ گورننس کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور تمام تر بنیادی سہولیات باہم دہلیز تک پہنچانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں، وہیں گوجرخان کے حلقہ پی پی 8 میں منتخب قیادت کی پراسرار خاموشی اور مسائل سے مسلسل چشم پوشی کی بنا پر متعلقہ اداروں کے افسران وزیر اعلیٰ کے اس ویژن کو زمین بوس کرنے اور ان کی ساکھ کو سبوتاژ کرنے کے مشن پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

    گوجرخان سٹی میں پانی کے بحران کی گھمبیر صورتحال کی بنا پر جماعت اسلامی گوجرخان کے جنرل سیکرٹری راجہ عمیر نے اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹینڈرز کے اجرا میں تاخیر اور پانی کے سنگین بحران نے بلدیہ گوجرخان اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے افسران جان بوجھ کر عوامی غیظ و غصب کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ حکومت کے خلاف نفرت پیدا کی جا سکے۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حلقہ پی پی 8 کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیں اور ترجیح بنیادوں پر درپیش مسائل کو حل کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور انکے ویژن کو زمین بوس کرنے والے اداروں کے افسران اور ملازمین کو فوری طور پر ضلع بدر کیا جائے۔ گوجرخان میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، گیس کا زیرو پریشر جبکہ ریونیو دفاتر میں جاری لوٹ مار اور ٹی ایچ کیو ہسپتال میں آئے روز کے اسکینڈلز درجہ چہارم کے ملازمین کی غنڈہ گردی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں قانون نہیں بلکہ افسر شاہی کا راج ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ سی ایم پنجاب تو اصلاحات لانا چاہتی ہیں، مگر بیوروکریسی کے ماتحت ادارے مبینہ طور پر اپنی جیبیں بھرنے اور حلقہ پی پی 8 کی قیادت عوامی مسائل سے چشم پوشی کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ افسران گڈ گورننس کے دشمن ہیں اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں۔ جبکہ عوامی حلقوں کا پانی کے بحران پر 10 فروری بروز منگل بلدیہ دفتر کے سامنے ہونے والے مظاہرے کے متعلق کہنا ہے کہ اب محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ان سفید ہاتھیوں کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگا جو عوام کا خون چوس رہے ہیں۔

  • مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی قیادت میں وفد کا لاہور پریس کلب کا دورہ

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی قیادت میں وفد کا لاہور پریس کلب کا دورہ

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی قیادت میں وفد نے لاہور پریس کلب کا دورہ کیا اور نومنتخب صدر ارشد انصاری، سیکرٹری جنرل افضال طالب سمیت دیگر نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی،

    مرکزی مسلم لیگ کے وفد میں مرکزی ترجمان تابش قیوم، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب،زمان سیف، عبدالحنان و دیگر شامل تھے، مرکزی مسلم لیگ کے وفد نے لاہور پریس کلب کے نومنتخب صدر ارشد انصاری سمیت دیگر سے ملاقات کی اور انتخابات 2026 میں کامیابی پر مبارکباد دی،اس موقع پر صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں،مرکزی مسلم لیگ صحافیوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے،تابش قیوم کا کہنا تھا کہ لاہور پریس کلب صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے احسن انداز میں کام کر رہا ہے،گزشتہ برس مرکزی مسلم لیگ نے صحافیوں کے لئے لاہورپریس کلب میں‌تربیتی کورس کروائے، رواں برس بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا،نومنتخب صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، سیکرٹری جنرل افضال طالب و دیگر نے مرکزی مسلم لیگ کے وفد کا لاہور پریس کلب آمد پر شکریہ ادا کیا.

  • بھارتی شہریوں کی  دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سیکیورٹی چیلنج

    بھارتی شہریوں کی دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سیکیورٹی چیلنج

    بھارتی شہریوں کی دیگر ممالک کے حساس اداروں میں موجودگی سنگین سیکیورٹی چیلنج بن گئی

    عالمی اداروں میں بھارتی شہریوں کی موجودگی اور رسائی سیکیورٹی خطرے کی شکل اختیار کر چکی ہے،بھارت حساس نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کے لئے عالمی اداروں میں موجود اپنے شہریوں سے فائدہ اٹھانے لگا،بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ؛امریکی سائبر دفاعی ادارے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا نے حساس سرکاری دستاویزت "اے آئی ایپلیکیشن” پر اپلوڈ کر دیں،اپلوڈ کی گئیں دستاویزات “ For Official Use Only ”کے زمرے میں آتی تھیں، اس حساس نوعیت کے واقعہ کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی میں شدید تشویش ہے اور تحقیقات جاری ہیں، مدھو گوتمکلا ٹرمپ انتظامیہ کے سائبر سیکیورٹی ادارے CISA کا عبوری سربراہ ہے جو بھارتی نژاد اور ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھتا ہے ،

    بیرون ملک بھارتی شہریوں کا حساس ڈیٹا لیک کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ،ماضی میں بھی بھارتی نژاد افراد سے منسلک بعض سیکیورٹی اور جاسوسی سے متعلق معاملات عالمی سطح پر توجہ حاصل کر چکے ہیں، اکتوبر 2025 میں بھی معروف بھارتی نژاد امریکی سٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ایشلی جے ٹیلس کے گھر سے ایک ہزار سے زائد خفیہ اور ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہوئیں تھیں، امریکی سیکیورٹی اداروں نے اسے ایک سنگین خطرہ قرار دیا تھا ، 2023 میں قطر میں جاسوسی کے الزامات میں بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو بھی گرفتار کیا گیا تھا

    دفاعی ماہرین کے مطابق یہ واقعات مغربی اور خلیجی ممالک میں بھارتی شہریوں کی حساس معلومات تک رسائی سے متعلق سوالات کو جنم دیتے ہیں،طویل عرصہ سے یہ پیٹرن ابھر کر سامنے آیا ہے جس میں حساس معلومات ، دفاعی منصوبوں اور سائبر نظام تک رسائی میں بھارتی نژاد شہری ملوث پائے گئے ہیں، بھارت ایک منظم حکمت عملی کے ذریعے حساس معلومات کی جاسوسی کے لئے بیرون ممالک کلیدی آسامیوں پر تعینات اپنے شہریوں کو استعمال کر رہا ہے، امریکہ سمیت مغربی اور خلیجی ممالک کو حساس عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، روابط اور ممکنہ مفادات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ،

  • بنوں: سیکیورٹی فورسز کا  آپریشن، تین عسکریت پسند ہلاک

    بنوں: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، تین عسکریت پسند ہلاک

    بنوں: ضلع بنوں کے مختلف علاقوں اکبر علی خان کلے، اسپرکہ اور ڈومیل میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف آج علی الصبح مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا، جو تاحال جاری ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کا مقصد علاقے میں موجود شدت پسند عناصر کا قلع قمع کرنا تھا۔آپریشن کے دوران فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک تین عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض زخمی عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان، ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی اور 116 بریگیڈ کے بریگیڈیئر عمیر نیازی آپریشن کے دوران خود فیلڈ میں موجود رہے اور تمام کارروائی کی براہ راست نگرانی کرتے رہے۔ اعلیٰ حکام کی موجودگی میں فورسز نے مختلف مقامات پر گھیراؤ کرتے ہوئے مشتبہ ٹھکانوں کی تلاشی لی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ علاقے کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی بھی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

  • ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب سخت برہم،تمام اداروں کی طلبی

    ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب سخت برہم،تمام اداروں کی طلبی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے کے دردناک واقعے پر ریسکیو آپریشن میں موجود تمام اداروں کے حکام کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس، ریسکیو 1122، واسا اور ضلعی انتظامیہ کو واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں پر مبنی غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کرنے کی ہدایت کردی۔مریم نواز نے بھکر کی مصروفیات کے دوران مسلسل ماں اور بچی کے کے مین ہول میں گرنے واقعے کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لی، آپریشن کی متضاد اور غیر مستند اطلاعات دینے والے تمام افسران اور اداروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

    دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی طاہر فاروق نے بھاٹی چوک میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے معاملے پر سخت ایکشن لے لیا،انہوں نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ابتداء میں ادارے واقعے کو جھوٹ قرار دے رہے تھے، خاتون کے شوہر کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، خاتون کی لاش ملنے کے بعد اسے رہا کیا گیا، بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد نالے سے برآمد کی گئی۔

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں خاتون اور بچی کے مین ہول میں گرنے کے واقعے پر متاثرین کے آبائی علاقے شورکوٹ میں بھی فضا سوگوار ہے،اہل خانہ کے مطابق واقعہ انتظامیہ کی نااہلی کے باعث پیش آیا، جاں بحق سعدیہ 3 بچوں کی ماں تھی،اہل خانہ نے دوران حراست پولیس کی جانب سے تشدد کئے جانے کا الزام بھی لگایا۔

  • لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کی  7کروڑ روپے کی رقم  واپسی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کی 7کروڑ روپے کی رقم واپسی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلی مریم نواز کی جانب سے چوہدری شوگر ملز کیس میں 7کروڑ روپے بطور گارنٹی جمع کروانے کا معاملہ،مریم نواز کی 7کروڑ روپے کی رقم کی واپسی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،وکیل نیب نے عدالت میں کہا کہ نیب نے کیس ختم کر دیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نیب وکیل سے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ ٹرائل کورٹ سے بھی کیس ختم ہو گیا ہے۔وکیل نیب نے جواب دیا کہ قانون کے تحت اسکی ضرورت نہیں ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ نیب نے کیس ختم کر دیا لیکن متعلقہ ٹرائل کورٹ نے بھی حتمی منظوری دینی ہے۔نیب چار فروری تک جواب جمع کرائے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3رکنی فل بینچ نے مریم نواز کی درخواست پر سماعت کی ،جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان فل بینچ میں شامل تھے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مریم نواز نے مؤقف اپنایا کہ نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس بے بنیاد قرار دیکر خارج کردیا ہے۔چوہدری شوگر ملز کیس ختم ہوچکا ہے ،گارنٹی کے طور پر رکھوائے گئے 7کروڑ روپے واپس کیے جائیں

  • بی ایل اے کے دہشتگردوں کی جانب سے بلوچ خاتون کی عزت تار تار

    بی ایل اے کے دہشتگردوں کی جانب سے بلوچ خاتون کی عزت تار تار

    بلوچستان میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں نےایک بلوچ خاتون کواغوا کرنے، چار روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں ویران علاقے میں چھوڑ دیا ہے

    ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون حنال بلوچ کو مبینہ طور پر بی ایل اے کے ایک کمانڈر دوگزین عرف سرابی اور اس کے ساتھیوں نے اغوا کیا۔ خاتون کو حراست کے دوران تشدد اور اجتماعی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اسے انتہائی کمزور حالت میں ایک ویرانے میں پھینک دیا گیا۔ مقامی افراد نے خاتون کو دیکھ کر فوری طور پر مدد فراہم کی اور قریبی طبی مرکز منتقل کیا۔

    متاثرہ خاتون نے بیان میں کہا ہے کہ اسے زبردستی اٹھایا گیا اور کئی دن تک غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ اسے انصاف مل سکے اور آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو مثال بناتے ہوئے سزا دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ، قانونی معاونت اور طبی و نفسیاتی سہولیات فراہم کی جائیں۔

  • بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد اسی مقام سے برآمد کر لی گئی جہاں اس سے قبل اس کی والدہ کی لاش ملی تھی۔ حکام کے مطابق بچی کی لاش جمعرات کے روز ریسکیو ٹیموں نے طویل سرچ آپریشن کے بعد نکالی،ریسکیو ذرائع کے مطابق لاہور کی آؤٹ فال روڈ سے 10ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش مل گئی ہے۔ بچی کی لاش واسا کے ڈسپوزل اسٹیشن سے ملی، بچی کی لاش بھی وہیں سے ملی جہاں سے والدہ کی لاش ملی تھی۔

    لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی تھی،متاثرہ فیملی شورکوٹ سے سیر کرنے لاہور آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون بچی سمیت سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھکر کے دورے سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر ہی ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،ماں اور بچی کے واقعہ کے ریسکیو آپریشن میں موجود تمام اداروں کے حکام کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ،پولیس، ریسکیو ، واسا اور انتظامیہ واقعے سے متعلق غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کریں گے ،وزیر اعلی ٰ پنجاب کی جانب سےفیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں فوری اور سخت ترین کارروائیوں کا عندیہ ہے،آپریشن کی متضاد اور غیر مستند اطلاعات دینے والے افسران اور اداروں کیخلاف کارروائی کی جائےگی،گھر جانے کے بجائے وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس ہوگا۔

  • گل پلازہ سانحہ،لاشوں کی شناخت،اداروں کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات

    گل پلازہ سانحہ،لاشوں کی شناخت،اداروں کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات

    کراچی گل پلازہ سانحے میں لاشوں کی شناخت میں پیشرفت نے اداروں کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے

    سندھ فارنزک ڈی این اے لیب نے پہلے 12 باقیات کے زرلٹ جاری کردیے،مجوعی طور پر شناخت ہونے والی میتوں کی تعداد 39 ہوگئی،لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے نہیں بلکہ پروف آف پریزنس سے کی گئی،12 مذید میتوں کو باقیات کی صورت میں ورثاء کے حوالے کیا جائے گا،ڈی این سے شناخت ختم ہونے کے بعد پروف آف پریزنس کا عمل شروع ہوگیا ہے،جس دکان یا مقام سے لاش ملی اس کی باقاعدہ انٹری کی گئی تھی،لاشوں کے مقام کا تعین موبائل فونز لوکیشن سے بھی کیا گیا ،مختلف شواہد کی بنا پر پتہ چلایا گیا کہ جہاں سے اعضاء اٹھارہے ہیں وہ کون تھا

    جاں بحق افراد میں عمر نبیل ولد شاہد علی، عائشہ ولد عمر نبیل اور علی بن عمر نبیل شامل ہیں،خضر علی ولد خالد علی ، حیدر علی ولد خالد علی عامر علی ولد نواز علی کی باقیات شامل ہیں، ابوبکر ولد اسماعیل اور یاسین ولد نازمین سرور کی بھی شناخت کی گئی،صداقت اللہ ولد سلامت اللہ اور یوسف خان ولد امیر محمد کی باقیات بھی شامل ہیں،نعمت اللہ ولد حاجی رئیس خان اور عبداللہ ولد حاجی رئیس خان کی باقیات بھی شناخت کر لی گئیں حکام کا کہنا ہے کہ کوشش کر رہے ہیں کہ ڈی این سے بھی شناخت کی جاسکیں، آخری آپشن پروف آف پریزنس کا تھا جس کا اب استعمال کیا جارہا ہے