Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ملزمان کی ملی بھگت سے متاثرہ شہری پر مقدمہ،عدالت کا اظہار برہمی

    ملزمان کی ملی بھگت سے متاثرہ شہری پر مقدمہ،عدالت کا اظہار برہمی

    سندھ ہائیکورٹ ،ملزمان کی ملی بھگت سے متاثرہ شہری اور بیٹوں کے خلاف مقدمے کا اندراج ،عدالت نےنیو ٹاؤن تھانے کی پولیس پر اظہار برہمی کیا

    جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے کہا کہ واقعے میں جو زخمی افراد ہیں انکے خلاف ہی مقدمہ درج کردیا ؟ جسٹس سلیم جیسر
    نے کہا کہ دو گھنٹے کی مہلت دے رہے ہیں واقعے میں زخمی شہریوں کا مقدمہ درج کیا جائے ،جن لوگوں نے تشدد کیا ہے وہ زخمی بھی نہیں ہوئے انکی مدعیت میں کیسے مقدمہ درج ہوگیا حیران ہوں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نسیم اختر ،معین اختر و دیگر کے خلاف اسٹیٹ ایجنٹ عرفان کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرلی ہے ،جس کی مدعیت میں ایف آئی آر ہوئی ہے اس کوئی زخم نہیں نہیں آئے نا میڈیکل رپورٹ ہے ،عدالت نے کہا کہ متاثرہ شہری زخمی ہوئے انکی میڈیکل رپورٹ کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا گیا،تفتیشی افسر نے کہا کہ جس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اسکی ناک سے خون بہے رہا تھا ،عدالت نے متاثرہ شہری کی مدعیت میں مقدمہ کرکے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،

  • عمران ،بشریٰ کے طبی معائنہ کے لئے عدالت میں درخواست دائر

    عمران ،بشریٰ کے طبی معائنہ کے لئے عدالت میں درخواست دائر

    بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے بانی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں دائر کر دی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے پراسیکیوشن کو کل کے لیے نوٹسز جاری کر دیے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو جیل میں رسائی دی جائے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر سمینہ نیازی کو بانی کے طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔ متعلقہ ڈاکٹرز بانی کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں.بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے درخواست میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ان کی فیملی کو تشویش ہے۔

  • بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ نافذ

    بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ نافذ

    بھارت میں نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہنگامی حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں اور زمینی سرحدوں پر اسکریننگ کے عمل کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جب کہ ہر آنے والے اور ٹرانزٹ مسافر کی 100 فیصد اسکریننگ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت صحت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری ہسٹری کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ نیپاہ وائرس سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے افراد پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ ہر مسافر کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کلیئرنس مکمل ہونے تک کسی بھی فرد کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے کم از کم پانچ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جس کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان میں احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    ادھر بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد محکمہ صحت سندھ نے بھی باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے، تاہم اطمینان بخش بات یہ ہے کہ پاکستان میں تاحال نیپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    ایڈوائزری کے مطابق نیپاہ وائرس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جب کہ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، جسم میں درد اور الٹی شامل ہیں۔ محکمہ صحت سندھ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتال الرٹ ہیں اور وفاقی وزارت صحت کی جاری کردہ گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر ہی اعتماد کریں۔

  • افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت  ردعمل

    افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت ردعمل

    افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت ردعمل سامنے آ گیا

    افغان طالبان رجیم نے مذموم عزائم کے لئے اظہارِرائے کی آزادی پر نئی پابندیاں عائد کر دیں،افغان طالبان رجیم نےذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے بعدمیڈیاسپورٹ تنظیموں کے پرمٹ بھی منسوخ کر دیے،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ؛یہ اقدا م افغانستان میں آزادی اظہار رائے کو دبانے اور میڈیا پر کنٹرول قائم کرنے کی مذموم کوشش کا حصہ ہیں ، طالبان رجیم میں میڈیا سپورٹ تنظیمیں پہلے ہی دھمکیوں، پابندیوں اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں ،افغان طالبان کے انتہا پسندانہ اقدامات میڈیا کو زیادہ موثر اور منظم بنانے کے دعوی ٰکے برخلاف ہیں ،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی آمرانہ سوچ اورغیر منصفانہ فیصلے سے آزاد میڈیا کو خطرہ اور صحافت مزید غیر محفوظ ہو گئی ہے،افغان طالبان جوابدہی ،شفافیت اورانسانی حقوق کی پامالیوں کو دبانے اوراپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے میڈیا پر شکنجے مزید مضبوط کررہےہیں ،افغانستان میں میڈیا پر پابندیاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سچ،اختلاف رائے اور عوامی شعور کے خاتمے کی مذموم کوشش ہے

  • طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی

    طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی

    طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی، متبادل سہولتوں کے بغیر ایک اور قدغن

    افغانستان میں طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر صوبہ نورستان میں خواتین کی مشقت اور مزدوری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مقامی اطلاعات کے مطابق نورستان میں خواتین برسوں سے پہاڑی علاقوں سے سر پر لکڑیاں لانے سمیت سخت جسمانی مشقت کے کام انجام دیتی رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ معاشی مجبوری، غربت اور حکومتی سہولیات کا فقدان ہے۔ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت پر پہلے ہی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور اب محنت مزدوری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

    اس فیصلے کے ساتھ کوئی متبادل روزگار، مالی مدد یا سماجی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ طالبان ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ نورستان کے بعد دیگر صوبوں میں بھی ایسے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔

  • سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں،عبدالعلیم خان

    سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں،عبدالعلیم خان

    این ایچ اے نے کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے کرتارپور کی موٹروے دیگر منسلک شہروں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگی، نارنگ منڈی اور بدو ملہی کے شہری بھی اس موٹروے سے مستفید ہو نگے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا اہم اقدام، کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ہدایت کی ہے کہ سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں، نئی موٹروے کو گرونانک ایکسپریس وے کے نام سے منسوب کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ کرتار پور ہائی وے کے گرد تھری، فور اور فائیو اسٹار ہوٹل بنائے جائیں گے، سکھ کمیونٹی کی سرمایہ کاری کیلئے لندن، کینیڈا اور امریکا میں اشتہارات دیں گے، سکھوں کے مقدس مقامات کیلئے این ایچ اے عالمی سطح پر مارکیٹنگ کرے گی۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے کے ننکانہ صاحب اور کرتارپور کے منصوبے گیم چینجر ثابت ہونگے، این ایچ اے ان منصوبوں کو عالمی روڈ شو میں شامل کرے، این ایچ اے بہترین ریسٹ ایریاز اور شاپنگ مال کی تعمیر یقینی بنائے گی۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے کرتارپور کی موٹروے دیگر منسلک شہروں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگی، نارنگ منڈی اور بدو ملہی کے شہری بھی اس موٹروے سے مستفید ہو نگے۔

  • ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا،عطا تارڑ

    ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیدیا۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ آنکھوں کے ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ انہیں پمز لے جانا ضروری ہے، ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا، جہاں مزید طبی معائنہ ہوا، ان کی رضا مندی کے بعد 20 منٹ کی طبی کارروائی ہوئی، جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ منتقل کردیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی بالکل ٹھیک ہیں، سوشل میڈیا پر آنے والی باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں، طبی معائنے کے دوران بھی وہ مکمل صحت مند تھے، تمام قیدیوں کو ڈاکٹرز تک رسائی دینا رولز کے مطابق ہے۔

  • بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے سے متعلق نئی اور تشویشناک تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    خاتون کی لاش ملنے کے بعد ابتدائی طور پر واقعے کو ’فیک‘ قرار دینے، ریسکیو ذرائع اور انتظامیہ کے متضاد بیانات، اور پولیس کی بدلتی ہوئی تفتیش نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ماں اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کی اطلاع خاتون کے شوہر نے دی تھی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں چند ہی منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، تاہم تلاش مکمل ہونے سے قبل ہی موقع پر موجود انتظامیہ نے میڈیا کو رپورٹ جاری کرتے ہوئے واقعے کو جعلی (فیک) قرار دے دیا تھا۔ریسکیو ذرائع نے اس دعوے کی توثیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ سیوریج ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مقام کی نشاندہی کی گئی، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ کے علاقے میں واقع ہے، جہاں سیوریج کا ڈھانچہ ایسا نہیں کہ کوئی شخص اس میں بہہ سکے۔

    دوسری جانب لاہور انتظامیہ نے بھی سیوریج لائن کا معائنہ کرنے کے بعد یہی دعویٰ کیا کہ وہاں کسی قسم کا حادثہ پیش نہیں آیا۔ انتظامیہ کے مطابق جائے وقوع پر کوئی شواہد نہیں ملے جو ماں بیٹی کے سیوریج میں گرنے کی تصدیق کر سکیں۔

    تاہم معاملہ اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد ہو گئی۔ خاتون کی لاش ملنے کے بعد انتظامیہ اور ریسکیو کے ابتدائی مؤقف پر سنگین سوالات اٹھنے لگے، جبکہ 9 ماہ کی بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہل خانہ نے پہلے مینارِ پاکستان کی سیر کی، اس کے بعد داتا دربار پہنچے۔ اسی دوران خاتون اپنی 9 ماہ کی بچی کے ہمراہ سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھی، جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں۔ واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا بھی تھا اور مبینہ طور پر انتظامیہ کی جانب سے وہاں کھدائی کی گئی تھی، جس کے باعث خطرہ مزید بڑھ گیا۔

    پولیس نے ابتدائی تفتیش میں شوہر اور بیوی کے درمیان تنازع اور دیگر سنگین الزامات کی رپورٹ جاری کی تھی۔ شبہے کی بنیاد پر خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم بعد ازاں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی کو باضابطہ طور پر حراست میں نہیں لیا گیا۔ادھر لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا، مگر بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا، جس سے تفتیشی عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹوں میں مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر غفلت اور کوتاہی کے الزامات کے تحت ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

    خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ جس سیوریج ہول میں گرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہاں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ تاہم لاش کی برآمدگی کے بعد اب تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور واقعے کے ہر پہلو کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق بچی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • خاتون اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا،3 افراد گرفتار

    خاتون اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا،3 افراد گرفتار

    لاہور میں بھاٹی دروازے کے قریب خاتون اور 9 ماہ بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا، دونوں کے گرنے کا دعویٰ خاتون کے شوہر نے کیا،عظمی بخاری کے مطابق داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے مبینہ ڈوبنے کا واقعہ، ریسکیو آپریشن کے دوران فیک نکلا

    ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع "فیک” نکلی،ریسکیو ٹیمیز فوری متحرک، انتظامیہ آن سپاٹ موجود ہے،ابتدائی تفتیش میں شوہر کا بیوی کے ساتھ شدید تنازعات اور سنگین الزامات سامنے آئے، خاتون کے والد نا پولیس سے رابطہ کیا اور کہا کہ”بیٹی کو قتل کیا گیا، سسرالیوں کو گرفتار کیا جائے”، لاہور پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا

    جان بچانے کے مقدس جذبے کے تحت ریسکیو کی سپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گے ،ریسکیو 1122 کی ٹیمیں نالے کے 4 مختلف پوائنٹس پر تلاشی میں مصروف، اب تک کوئی سراغ نہ مل سکا، ریسکیو 1122 پنجاب کا لاہور داتا دربار کے قریب بڑا سرچ آپریشن جاری ہے،ریسکیو ذرائع کے مطابق جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے،لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، لیکن کافی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا،پولیس اور انتظامیہ سیف سٹی کی فوٹیجز کی مدد سے واقعے کی کڑیاں ملانے میں مصروف ہے

    ذرائع کے مطابق جس مقام کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے۔

    لاہور انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا،ماں بیٹی اگر سیوریج لائن میں نہیں گرے تو آخر کہاں گئے؟ اس حوالے سے پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ خاتون کے شوہر سے تحقیقات جاری ہیں، مگر تسلی بخش جواب نہیں مل رہا، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    شورکوٹ کی رہائشی فیملی کا دعوی ہے کہ ان کی بہو سعدیہ اوراس کی نو ماہ کی بیٹی ردا سیوریج لائن میں اندھیرے کے باعث گریں،ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق اطلاع ملنے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاحال اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور جائے حادثہ ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی ڈوب یا بہہ جائے،پولیس نے سیوریج لائن کے چار مختلف مقامات پر سرچ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ کے اطراف میں جاری ترقیاتی کام کے دوران مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا.

  • عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    بدھ کے روز بلوچستان میں بی ایل اے کے مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ایک خاتون کو اغوا کر لیا۔ متاثرہ خاتون کی بازیابی کے لیے سکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تقریباً شام 04:30 سے 04:45 کے درمیان بلوچستان کے علاقے بلچہ میں ایک کرولا گاڑی ایک خاتون نرگس کے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون خود گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی، جس کے بعد گاڑی وہاں سے روانہ ہو گئی۔بعد ازاں خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد شہر کے قریب اسے روکنے میں کامیاب ہو گئے، ذرائع نے بتایا۔

    اس موقع پر ذرائع کے مطابق گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف اٹھائے باہر نکلا۔جب شوہر نے مزاحمت کی اور بتایا کہ خاتون اس کی بیوی ہے اور اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہے، تو پیچھے سے دو موٹر سائیکلیں آ گئیں اور انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ملزمان نے شوہر اور اس کے بھتیجے کے موبائل فون بھی چھین لیے اور بعد ازاں خاتون کو اپنے ساتھ ناصرآباد کے جنگلاتی علاقے کی طرف لے گئے۔ذرائع کے مطابق ضلعی پولیس واقعے پر سرگرم عمل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کی فوری طور پر تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق واقعے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مزید پیش رفت اور تفصیلات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔

    یہ واقعہ کسی عام اغوا یا ذاتی دشمنی کا معاملہ نہیں۔ دن کی روشنی میں اسلحے کے زور پر عورت کا اغوا، مدد کے لیے مسلح ساتھیوں کا پہنچنا، اور پھر جنگل کی طرف لے جانا ایک منظم دہشت گرد کارروائی کی واضح علامت ہے۔ یہ وہی طریقۂ کار ہے جو بی ایل اے دہشت گرد برسوں سے خوف پھیلانے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔

    تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔کیچ کا یہ واقعہ اسی خطرناک پیٹرن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خدشہ ہے کہ خاتون کو پہلے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، پھر بلیک میل کر کے اسے خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ صرف ایک عورت یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے کھلا خطرہ ہے۔عورتوں کا اغوا، ان پر تشدد اور انہیں اپنے گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی ہے۔ اگر ایسے جرائم کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ پھیلتا جائے گا۔ آج سچ کہنا اور آواز اٹھانا ہی کل کے بڑے سانحے کو روک سکتا ہے۔