Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یورپ میں چاکلیٹ کی بڑی ڈکیتی،  12 ٹن چاکلیٹ سے بھرا ٹرک چرالیا گیا

    یورپ میں چاکلیٹ کی بڑی ڈکیتی، 12 ٹن چاکلیٹ سے بھرا ٹرک چرالیا گیا

    یورپ میں لوٹ مار میں اضافے اٹلی میں 12 ٹن چاکلیٹ سے بھرا ٹرک چرالیا گیا کٹ کیٹ سے بھرا ٹرک اٹلی سے پولینڈ جارہا تھا کہ 12 ٹن کٹ کیٹ چاکلیٹ چوری ہوگئی جن کی مقدار 4لاکھ 13ہزار سے زائد تھی۔ کارگو کی چوری ہر سائز کے کاروبار کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔

    یورپ میں ایک حیران کن واردات کے دوران چوروں نے مشہور چاکلیٹ برانڈ کٹ کیٹ کی 4 لاکھ سے زائد بارز چرا لیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً 12 ٹن بتایا جا رہا ہے۔کمپنی کے مطابق یہ چاکلیٹ ایک ٹرک کے ذریعے اٹلی کے وسطی علاقے سے پولینڈ منتقل کی جا رہی تھیں کہ راستے میں نامعلوم افراد نے پوری کھیپ غائب کر دی۔بیان کے مطابق چوری ہونے والی کل 413,793 کٹ کیٹ بارز تاحال لاپتہ ہیں اور نہ ہی ٹرک کا کوئی سراغ ملا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہر بار پر موجود بیچ نمبر کے ذریعے ان کی شناخت ممکن ہے، اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کو ایسی چاکلیٹس ملیں تو فوری اطلاع دی جائے۔کمپنی نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات مقامی حکام اور سپلائی چین پارٹنرز کے ساتھ مل کر جاری ہیں۔

    ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کارگو چوری اور فریٹ فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ جرائم مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔کمپنی کے ترجمان نے مزاحیہ انداز میں کہا “ہم ہمیشہ لوگوں کو کٹ کیٹ کے ساتھ بریک لینے کا کہتے ہیں، لیکن لگتا ہے چوروں نے اس بات کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے لیا اور 12 ٹن چاکلیٹ کے ساتھ ہی بریک لے لی۔”ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ چوروں کا ذوق قابلِ تعریف ہے، لیکن کارگو چوری کاروبار کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔

    اتوار کو انسٹاگرام پر جاری بیان میں کمپنی نے واضح کیا کہ اس واقعے سے صارفین کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔واضح رہے کہ یہ یورپ میں چاکلیٹ کی پہلی بڑی چوری نہیں۔ اس سے قبل 2023 میں برطانیہ میں ایک شخص نے مشہور Cadbury کے تقریباً 2 لاکھ کریم ایگز چرا لیے تھے، جس پر اسے 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

  • خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    باڑہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سیکورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک وہ مرکزی ملزم بھی شامل ہے جس نے گزشتہ روز ایک جوان کا سر کاٹ دیا تھا۔

    علاوہ ازیں باڑہ اکاخیل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک 10 دہشتگردوں میں سے 4 کمانڈروں سمیت 7 دہشتگردوں، اور زخمی کی بھی شناخت ہو گئی؛ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر طارق، مقامی کمانڈر راجد، کمانڈر جاوید عرف غزنی، مقامی کمانڈر عبدالبصیر خیبری، عثمان، حمزہ اور زخمی دہشت گرد ثاقب شامل ہیں

    دوسری جانب مردان، تھانہ شیخ ملتون کی پولیس چوکی بہرام خان کلے پر دہشت گردوں نے دستی بم حملہ کیا، ڈی پی او مردان مسعود بنگش کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

  • آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل بحران کا سامنا

    آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل بحران کا سامنا

    آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل بحران کا سامنا ہے، ایشیاء میں ایندھن کی شدید قلت سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہیں۔

    امریکی میڈیا نے تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ ظاہر کردیا، طلب کم کرنے کیلئے قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا ہے،امریکی اشاعتی و نشریاتی ادارے بلوم برگ نے ایران سے امریکا اور اسرائیل کی جنگ طویل ہونے کی صورت میں عالمی معیشت کو بڑا دھچکا لگنے کا انتباہ کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل سپلائی میں یومیہ تقریباً 11 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔ ایل این جی سپلائی متاثر ہونے سے گیس بحران بھی سر اٹھا چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں ڈیزل کی قلت کے خطرات بڑھ گئے ہیں، عالمی مہنگائی میں اضافہ اور معیشتوں پر دباؤ تیز ہورہا ہے، کئی ممالک نے ایندھن بچانے کے اقدامات اور راشننگ شروع کردی ہے۔بلومبرگ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای متبادل راستوں سے سپلائی بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں، بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی ذخائر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں لیکن یہ حل مستقل اور پائیدار حل نہیں۔

    دوسری جانب ایران کا جوابی وار، صیہونی ریاست پر میزائل داغ دیے، شارجہ میں بھی ڈرون حملہ، ٹیلی کام کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔دبئی میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہوگئے، دبئی ساحل کے قریب کویتی آئل ٹینکر پر پروجیکٹائل حملے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، یو کے میری ٹائم ایجنسی کے مطابق جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ ہے۔سعودی عرب نے بھی 8 بیلسٹک میزائل گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

  • بیت المقدس میں عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیاں، وزرائے خارجہ کی شدید مذمت

    بیت المقدس میں عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیاں، وزرائے خارجہ کی شدید مذمت

    اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف تک رسائی سے روکنا اور مسیحی رہنماؤں کو چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں پام سنڈے کی عبادات سے منع کرنا قابل مذمت ہے،اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی قانونی و تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے،وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین، بشمول بین الاقوامی انسانی قوانین، کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عبادت گاہوں تک بلا رکاوٹ رسائی کے بنیادی حق کی نفی کرتے ہیں۔

    انہوں نے بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف اسرائیلی پابندیوں کو غیر قانونی اور مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہر کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بطور قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں،وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف کے دروازے مسلسل 30 روز تک بند رکھنے، حتیٰ کہ ماہ رمضان کے دوران بھی، اور عبادت کی آزادی کو محدود کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    مشترکہ اعلامیے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے، جبکہ اس کے انتظام و انصرام کا مکمل اختیار اردن کی وزارت اوقاف کے تحت بیت المقدس اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کے ادارے کے پاس ہے،وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولے، بیت المقدس کے قدیم شہر میں عائد پابندیاں ختم کرے اور عبادت گزاروں کی رسائی میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقدس اسلامی و مسیحی مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیاں اور غیر قانونی اقدامات روکنے پر مجبور کرے۔

  • اسرائیل میں میزائل حملوں کے بعد ورکشاپ میں آگ، درجنوں افراد زخمی

    اسرائیل میں میزائل حملوں کے بعد ورکشاپ میں آگ، درجنوں افراد زخمی

    اسرائیل کے وسطی علاقے میں میزائل حملوں کے بعد ایک ورکشاپ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس پر فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قابو پانے کی کوشش کی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ تل ابیب سے تقریباً 6 میل مشرق میں واقع شہر پیتاح تکوا میں پیش آیا، جہاں دھماکوں کے بعد آگ کے شعلے دور دور تک دیکھے گئے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ مرکزی اسرائیل میں مختلف مقامات پر میزائل گرنے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔دوسری جانب اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں میزائل حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 123 افراد زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی زخمیوں کی تعداد 6,131 تک پہنچ گئی ہے۔ اس وقت 118 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے 18 کی حالت تشویشناک یا نازک بتائی جا رہی ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران اس کے مزید 4 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد جنگ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

  • ٹرمپ کو رجیم چینج ملے گا لیکن ایران میں نہیں امریکا میں،ٹرمپ کی بھتیجی کا دعویٰ

    ٹرمپ کو رجیم چینج ملے گا لیکن ایران میں نہیں امریکا میں،ٹرمپ کی بھتیجی کا دعویٰ

    ایران جنگ کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی بھتیجی میری ایل ٹرمپ میدان میں آ گئیں۔

    ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خلاف امریکی صدر کو اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، ہفتے کو نو کنگز ریلیاں و احتجاج دوران ملک بھر میں 80 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے، انہیں امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے قرار دیا جا رہا ہے،مظاہرین نے احتجاج کے دوران ایران میں جاری فوجی مہم اور ملک میں بڑھتی مہنگائی کے خلاف آواز اٹھائی، اس صورتِ حال کے دوران صدر ٹرمپ کی بھتیجی میری ایل ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق حکومتی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر میری ایل ٹرمپ نے اپنے پروگرام کا کلپ شیئر کیا جس میں انہوں نے رواں سال فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے لیے دی جانے والی حکومتی وجوہات کو مسترد کر دیا،انہوں نے کہا کہ انتظامیہ مسلسل اپنے مؤقف تبدیل کر رہی ہے، صدر ٹرمپ کو ایرانی عوام سے کوئی حقیقی دلچسپی نہیں،ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی نے کہا کہ ٹرمپ جو ایران پر بم باری کر رہے ہیں، انہیں ایرانی عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی ان کے پاس ایسا کوئی منصوبہ ہے جس کے ذریعے ایرانی عوام کو آزادی حاصل ہو سکے،میری ٹرمپ نے اس جنگ کی حکمتِ عملی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر دنیا میں ایسا کہاں ہوتا ہے کہ کسی فوری خطرے کے بغیر ایک ایسے ملک کے خلاف جنگ شروع کی جائے جو براہِ راست خطرہ نہیں تھا، آخر یہ امریکی عوام کے مفاد میں کیسے ہو سکتا ہے،انہوں نے ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ کو رجیم چینج ملے گا لیکن ایران میں نہیں امریکا میں، نو کنگز،

  • کھلاڑیوں‌ پر  پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پوسٹ پر پابندی

    کھلاڑیوں‌ پر پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پوسٹ پر پابندی

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر کھلاڑیوں کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کرکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میڈیا ڈپارٹمنٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر کوئی بھی پوسٹ شیئر نہیں کریں گے۔ پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ تمام کھلاڑی سینٹرل کنٹریکٹ کے قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے مینیجرز کو بھی نئی گائیڈ لائنز سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔ بورڈ نے خاص طور پر ہدایت دی ہے کہ سیاسی نوعیت کی پوسٹس ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی۔پی سی بی کے مطابق سوشل میڈیا پر متنازع یا قواعد کے خلاف مواد شیئر کرنے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں کم از کم ایک کروڑ روپے تک جرمانہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

    قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے متنازع ٹوئٹ پر فاسٹ بولر نسیم شاہ پر 2 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کردیا ہے،پی سی بی کے مطابق نسیم شاہ پر پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے،پی سی بی نے 27 مارچ 2026 کو ایک شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس میں خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نسیم شاہ سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔

  • پشاور میں جائیداد کے تنازع پرگولیاں چل گئیں، 4 افراد جاں بحق

    پشاور میں جائیداد کے تنازع پرگولیاں چل گئیں، 4 افراد جاں بحق

    پشاور میں جائیداد کے تنازع نے خونی رخ اختیار کر لیا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ عزیز مارکیٹ کے قریب پیش آیا، جہاں دو فریقین کے درمیان جاری جائیداد کے تنازع پر تلخ کلامی کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جائیداد کے تنازعات اکثر ایسے افسوسناک واقعات کا سبب بنتے ہیں، اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اپنے مسائل کو قانونی طریقے سے حل کریں۔

  • تصاویر : ایرانی حملے میں امریکی طیارے کی تباہی کے مناظر

    تصاویر : ایرانی حملے میں امریکی طیارے کی تباہی کے مناظر

    سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کا جدید جاسوس طیارہ تباہ ہو گیا، جس کے بعد سامنے آنے والی تصاویر نے اس واقعے کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ہونے والے حملے میں امریکی فضائیہ کا E-3 Sentry طیارہ نشانہ بنا۔ اوپن سورس انٹیلیجنس ٹیموں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کی تصدیق کی ہے، جن میں طیارے کے پچھلے حصے کا ملبہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ابتدائی طور پر امریکی حکام نے صرف طیارے کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی تھی، تاہم اب سامنے آنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس حملے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

    ماہرین کے مطابق E-3 Sentry طیارہ جدید ریڈار سسٹم سے لیس ہوتا ہے جو دور سے دشمن کی نقل و حرکت کا پتا لگانے اور جنگی طیاروں کو رہنمائی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے پاس ایسے طیاروں کی تعداد محدود ہے، جس کی وجہ سے اس کا نقصان ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔سابق امریکی پائلٹ اور دفاعی تجزیہ کار ہیدر پینی کا کہنا ہے کہ اس طیارے کا نقصان “انتہائی تشویشناک” ہے کیونکہ یہ فضائی جنگی آپریشنز میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔جس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا وہ پرنس سلطان ایئر بیس ہے، جو خطے میں امریکی افواج کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔

  • اسپین نے ایران جنگ سے منسلک طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی

    اسپین نے ایران جنگ سے منسلک طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی

    اسپین نے ایران جنگ میں شامل طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد امریکی اور دیگر متعلقہ پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا ہوں گے۔

    رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے تحت اسپین میں موجود اہم فوجی اڈوں روٹا نیول بیس اور مورون ایئر بیس کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔یورپی میڈیا اور اخبار نے فوجی ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ یہ پابندی ان تمام طیاروں پر لاگو ہوگی جو ایران کے خلاف جاری جنگ سے کسی بھی طرح منسلک ہیں۔ اس میں وہ امریکی فوجی پروازیں بھی شامل ہو سکتی ہیں جو برطانیہ یا فرانس سے اڑان بھر کر مشرقِ وسطیٰ جاتی ہیں۔

    اس فیصلے کے باعث امریکی فوجی طیاروں کو اب مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کے لیے اسپین کی فضائی حدود سے گریز کرنا ہوگا، جس سے ان کے راستے طویل اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔اسپین کے وزیرِ معیشت کارلوس کیورپو نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ یہ فیصلہ اس حکومتی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت اسپین کسی ایسی جنگ میں حصہ نہیں لے گا جو یکطرفہ طور پر شروع کی گئی ہو اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہو۔

    دوسری جانب اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سخت ناقد رہے ہیں اور انہیں “غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی” قرار دے چکے ہیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسپین نے امریکی فوج کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو واشنگٹن میڈرڈ کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کر سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ اقدام عالمی سطح پر ایران جنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تقسیم اور اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس سے نیٹو اتحادیوں کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔