Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شاہین آفریدی،سکندر رضا کی جانب سے سیکورٹی حصار توڑنے پر مراسلہ

    شاہین آفریدی،سکندر رضا کی جانب سے سیکورٹی حصار توڑنے پر مراسلہ

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کےمیچوں کے دوران لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی اور کھلاڑی سکندر رضا پر مبینہ طور پر سکیورٹی حصار توڑنےکا الزام لگایا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے نام مراسلے میں لکھا کہ 28 مارچ کی رات 10:35پر لاہور قلندرز کے لائزن آفیسر نےمنیجر سکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن پی سی بی لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ اختر حسین سے کھلاڑی سکندر رضا کے 4 رشتے داروں کو ان کے کمرے میں جانے کی اجازت دینے کی درخواست کی جو سکیورٹی پروٹوکولز کے مطابق مسترد کر دی گئی ،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اُسی وقت لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر سےرابطہ کیا، سلمان نصیر نےبھی انکار کر دیا جس کے بعد رات 11 بج کر 5 منٹ پرلاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور کھلاڑی سکندر رضا نے سکیورٹی اہلکاروں سے مزاحمت کی اور چاروں افراد کو ہوٹل کی 8 ویں منزل پر سکندر رضا کے کمرہ نمبر 865 میں لے گئے۔

    مراسلے کے مطابق مہمانوں میں شاہ زیب مجاہد، عادل ندیم، عثمان احمد ڈار اور بلال احمد شامل تھے، یہ لوگ رات ایک بج کر 25 منٹ تک کمرے میں رہے،ڈی آئی جی آپریشنز نے پی سی بی اور پی ایس ایل کی انتظامیہ سےکہاہےکہ معاملہ سنگین ہے،مناسب فورم پر جائزہ لیا جائے اور ایسی خلاف ورزیوں کی روک تھام کیلئے ضروری کارروائی کی جائے۔

  • مسقط،بھارتی شہریوں کو بارشی پانی سے ریسکیو کرنے پرپاکستانی شہری کو اعزاز سے نوازا گیا

    مسقط،بھارتی شہریوں کو بارشی پانی سے ریسکیو کرنے پرپاکستانی شہری کو اعزاز سے نوازا گیا

    مسقط میں پاکستانی نوجوان کی بہادری، دو بھارتی شہریوں کی جان بچالی،مسقط میں پاکستانی سفارتخانے نے مسقط میں پاکستانی نوجوان کی شجاعت کو سراہتے ہوئے اسے اعزاز سے نواز دیا۔

    25 سالہ پاکستانی شہری شہزاد خان نے بارشوں کے دوران ایک کار میں پھنسے دو بھارتی شہریوں کو بروقت ریسکیو کرکے ان کی جان بچائی۔ شدید بارش کے باعث صورتحال خطرناک ہو چکی تھی اور گاڑی میں موجود افراد مدد کے منتظر تھے۔ شہزاد خان نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر فوری طور پر کارروائی کی اور دونوں افراد کو بحفاظت باہر نکالا، جس کے بعدپاکستانی سفارتخانے نے شہزاد خان کو اعزاز سے نوازا،

    بھارتی شہریوں کو بارشی پانی سے ریسکیو کرنا شہزاد خان کا یہ عمل انسانیت کی اعلیٰ مثال ہے اور اس نے بیرون ملک رہ کر پاکستان کا نام روشن کیا ،یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم ہر جگہ انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتی ہے۔

  • تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    عبدالمالک مجاہد کانام کسی تعارف کامحتاج نہیں ۔ وہ بلاشبہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے ’’ دارالسلام ‘‘ کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیادرکھی جوآج پوری دنیامیں پاکستان کی نیک نامی کا سبب بن رہاہے ۔ عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ آج میں جس مقام پرہوں یہ میرے والدین کی دعائوں کانتیجہ ہے ۔عبدالمالک مجاہد کی پیش نظرکتاب’’ دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات ‘‘ بھی دعائوں کی قبولیت اور فضائل پرلکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے موضوع کے اعتبار اس سے کہیں زیادہ مفید ، دیدہ زیب ، لوں کو موہ لینے والی اور سبق آموز ہے ۔ 150موضوعات و واقعات پر مشتمل اس میں بتایا گیاہے کہ دعا۔۔۔در اصل وہ التجا ہے جو بندہ اپنے رب سے کرتا ہے ۔ بندہ جس وقت بھی رب سے مانگے اس کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا ۔ یوں تو دعا کیلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔مگر پھر بھی کچھ اوقات ایسے ہیں جن میں اللہ تعالی کی رحمتیں زیادہ وسیع ہوجاتی ہیں ۔ اس کی مہربانیوں کے دروازے مزید کھول دیے جاتے ہیں۔ان اوقات میں دعائوں کی قبولیت کے امکانات یقینی ہو جاتے ہیں ۔کتاب میں ان اوقات کاذکر تفصیل سے کیاگیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں روزمرہ کی دعائیں بھی مذکورہیںاور دعائوں کی قبولیت کے نہایت ہی سبق آموز واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کریقین کامل ہوجاتاہے کہ سب سے بڑاہتھیاردعا ہی ہے ۔ کتاب میں دعاکی قبولیت کاایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ ’’ اے اللہ اس کاخاتمہ بالخیر ہو ‘‘ کے عنوان سے بیان کیاگیا ہے ۔ اس واقعہ میں بتایاگیاہے کہ سعودی عرب کے ایک شخص نے کئی دن تک ایک خواب دیکھا۔ خواب میں اسے کہاجارہاتھاکہ فلاں بستی کے فلاں شخص کو عمرہ کرائو ۔ خواب دیکھنے والے شخص نے مذکورہ شخص سے رابطہ کیااوراسے بتایا کہ مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ یہ سن کروہ شخص زورسے ہنسااور کہنے لگاتم کون سے عمرے کی بات کرتے ہومیں نے توکبھی زندگی میں نماز بھی نہیں پڑھی اور تم مجھے عمرہ کرواناچاہتے ہو۔ جس شخص نے خواب دیکھاتھاوہ کہنے لگابس مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ میں تمہاری منت سماجت کرتاہوں کہ تم عمرے کے لئے تیارہوجائوسارے اخراجات میرے ذمہ ہوں گے ۔ آخر وہ خواب دیکھنے والے کے بے حداصرار پر راضی ہوگیا ۔ غسل کیا، احرام باندھااور حرم شریف کی جانب دونوں روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچ کر بیت اللہ کاطواف کیا، مقام ابراہیم پردورکعت نماز اداکی، سعی کی ، سروں کومنڈوایااور اس طرح سے عمرہ مکمل ہوگیا ۔ واپسی کے لئے رخت سفرباندھا ۔ حرم سے نکلنے لگے تووہ شخص جسے بہت کوشش سے عمرے پرآمادہ کیاگیاتھاکہنے لگا: دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دورکعت نفل اداکرناچاہتاہوں ۔ سواس نے نفل اداکرناشروع کئے سجدے میں گیاتواس کاسجدہ لمباہوتاچلاگیا جب کافی دیر گزرگئی تواس کے دوست نے اسے بلایا۔ جب کوئی حرکت اس کے جسم میں نہ ہوئی تواس نے اسے ٹٹولا۔ اچانک اس پرانکشاف ہواکہ اس کے ساتھی کی روح حالت سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی ۔اسے آب زم زم سے غسل دیاگیا ، احرام پہناکر حرم میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ لاکھوں فرزندان اسلام نے حرم کعبہ میں اس کاجنازہ پڑھا اوراس کی مغفرت کے لئے دعاکی گئی ۔ ادھر عمرہ کروانے والے کواپنے ساتھی کی ایسی موت پر بڑارشک آیا وہ روپڑاکہ کاش ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی ۔خواب دیکھنے والے شخص نے فوت شدہ کی میت کواس کے گائوں پہنچادیا جہاں اسے دفن کردیاگیا ۔ چند ایام گزرنے کے بعد جس شخص کوخواب میں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیاتھا اس نے فوت ہونے والے کی بیوہ کوفون کیا۔تعزیت کے بعداس نے کہامیں جانناچاہتاہوں کہ تمہارے خاوند کی کون سی ایسی نیکی تھی کہ اس کاانجام اس قدرعمدہ ہوا۔ بیوہ نے کہابھائی تم درست کہتے ہومیراخاوندکوئی اچھاآدمی نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی مدت سے نمازروزہ چھوڑرکھاتھا ۔ میں اس کی کوئی خاص خوبی بیان نہیں کرسکتی ۔ ہاں ایک خوبی اس میں یہ تھی کہ ہمارے ہمسایہ میں ایک نہایت فقیربیوہ رہتی ہے ۔جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ میراخاوندجب بھی بازارکوجاتاتو جہاں وہ اپنے بچوں کے لئے روزہ مرہ کی اشیا راشن وغیرہ خریدتاتووہاں وہ بیوہ اوراس کے یتیم بچوں کے لئے بھی راشن خریدلاتااوراس کے دروازے پر سامان رکھ کرآوازدیتاکہ سامان اٹھالو۔ بیوہ عورت جب سامان اٹھاتی توساتھ ہی میرے خاوند کے لئے دعاکرتی ’’اللہ تمہاراخاتمہ بخیر کرے ۔‘‘ اللہ تعالی ہم سب کو صرف اپنے ہی در پر جھکنے اور اسی سے مانگنی کی توفیق عطا فرمائے ۔ میرے علم میں خاوندکی یہی ایک نیکی ہے جس وجہ سے اس کاخاتمہ خیر پرہواہے ۔ کتاب میں دعائوں کی قبولیت کے اس طرح کے بیشمار واقعات لکھے ہیں ۔ جنہیں پڑھنی سے ہماری زندگیاں بدل سکتی ہیں ۔ اس طرح کے سب آموز واقعات کے لئے یہ کتاب ہرگھر اور ہرفرد کی ضرورت ہے ۔آرٹ پیپر ، چہار رنگ اور خوبصورت طباعت سے آراستہ کتاب کی قیمت 3750 روپے ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ پردستیاب ہے یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر042-37324034پر رابطہ کیاجاسکتاہے ۔

  • ٹرمپ کی سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی اپیل

    ٹرمپ کی سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی اپیل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کرے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور اقتصادی مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔

    بلومبرگ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے کہا کہ "مشرقِ وسطیٰ تبدیلی کے دہانے پر ہے” اور موجودہ حالات میں خطے کی حفاظت اور ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ خطے کو ایٹمی خطرے سے آزاد کر سکتی ہے اور اس کے بعد خطے میں نئی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی تجزیہ کار مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ کئی ممالک پہلے اس معاہدے میں شامل ہو چکے ہیں، امریکہ کی سعودی عرب کو معاہدے میں شامل کرنے کی کوشش کافی عرصے سے جاری ہے

  • یونان کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ، 2 تارکین وطن ہلاک، 26 کو بچا لیا گیا

    یونان کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ، 2 تارکین وطن ہلاک، 26 کو بچا لیا گیا

    یونان کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک کشتی حادثے میں کم از کم 2 تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ 26 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔

    یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ واقعہ جزیرہ کریٹ کے قریب پیش آیا، جہاں یورپی سرحدی ایجنسی کے ایک جہاز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کشتی میں سوار 26 افراد کو بچا لیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی ربڑ کی بنی ہوئی تھی، جس میں سوار افراد کئی روز سے سمندر میں مشکلات کا شکار تھے۔ بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ وہ تقریباً 6 دن تک کھلے سمندر میں محصور رہے، جہاں انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا۔ریسکیو کیے گئے افراد نے مزید انکشاف کیا کہ کشتی میں موجود 2 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن کی لاشیں بعد ازاں سمندر میں پھینک دی گئیں۔

    یونانی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے حوالے سے بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو اکثر خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث ایسے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ تارکین وطن کے تحفظ اور محفوظ راستوں کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات میں آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد 65 فیصد کمی آئی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال آپریشن سے پہلے صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ آپریشن کے بعد اب تک یہ تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے،سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات رواں سال کے نویں ہفتے میں 48 درج ہوئے، جو آپریشن کے بعد بارہویں ہفتے میں کم ہوکر 12 رہ گئے،وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے، آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں میں دہشت گردی حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوئے جنہوں نے پاکستان پر حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کی۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال ، پاکستان کے ثالثی کے کردار بارے پوسٹ کی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان، ترکی اور مصر ممکنہ عالمی جنگ کو روکنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک مشکل حالات کے باوجود امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، جن میں پاکستان کی کاوشیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان حالات میں بھارت باز نہیں آیا اور مثبت اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، افغانستان اور بھارت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے میں مصروف ہیں،مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ آنے والے وقت میں دنیا کے نقشے میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ کچھ ممالک کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے اور بھارت کو بھی اس حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے فوجی اڈوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور آنے والے برسوں میں کچھ اڈے بند کیے جا سکتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کو اپنی شناخت کے حوالے سے سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ دو ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی تقریباً یقینی دکھائی دیتی ہے، آنے والا وقت ہی ان پیشگوئیوں کی حقیقت کو واضح کرے گا۔

  • بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے حملے، بھارتی وزارتِ خارجہ کے منہ پر طمانچہ

    بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے حملے، بھارتی وزارتِ خارجہ کے منہ پر طمانچہ

    بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستان پر “منظم طور پر ظلم” کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد خود بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر خاموشی شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سخت بیانات دینے کے باوجود اندرونِ ملک بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق بھارت میں عیسائی برادری کے خلاف حملوں میں گزشتہ دہائی کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں جہاں ایسے واقعات کی تعداد تقریباً 127 سے 139 کے درمیان تھی، وہیں 2024 میں یہ بڑھ کر 834 تک پہنچ گئی۔ ان واقعات میں گرجا گھروں پر حملے، تشدد، اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات کے تحت مقدمات شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق کئی کیسز میں مقامی انتہا پسند گروہوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

    بھارت میں مسلم کمیونٹی بھی مسلسل دباؤ اور تشدد کا شکار رہی ہے۔ مختلف رپورٹس میں “گاؤ رکھشا” کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں تشدد ، مذہبی بنیادوں پر قتل، اور نفرت انگیز تقاریر کے سینکڑوں واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے 1100 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں درجنوں اموات بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور سیاسی بیانات میں بڑھتی ہوئی نفرت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

    بھارت میں دلت (شیڈولڈ کاسٹس) کے خلاف جرائم بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں دلتوں کے خلاف 57 ہزار سے زائد جرائم درج کیے گئے، جن میں قتل، زیادتی، تشدد اور زمینوں پر قبضے جیسے سنگین واقعات شامل ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق اوسطاً ہر 18 منٹ میں ایک جرم رپورٹ ہوتا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت ایک طرف عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے بیانات دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ ناقدین کے مطابق یہ “دوہرا معیار” نہ صرف داخلی سطح پر عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیموں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے، نفرت انگیز جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

  • وسیم اکرم سمیت 11 افراد کے ساتھ”ڈیٹ”تاہم 50 سالہ اداکارہ اب بھی "کنواری”

    وسیم اکرم سمیت 11 افراد کے ساتھ”ڈیٹ”تاہم 50 سالہ اداکارہ اب بھی "کنواری”

    ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ سشمیتا سین کی زندگی میں متعدد رشتے آئے، تاہم 50 سال کی عمر کے قریب پہنچنے کے باوجود وہ اب تک شادی نہیں کر سکیں۔

    رپورٹس کے مطابق سشمیتا سین نے اپنے کیریئر کے دوران کئی معروف شخصیات کو ڈیٹ کیا، جن میں بزنس مین، ماڈلز اور شوبز سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ ان کے مبینہ طور پر 11 افیئرز کا ذکر بھی سامنے آتا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اکثر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔اداکارہ نے 1994 میں مس یونیورس کا اعزاز حاصل کر کے عالمی شہرت حاصل کی اور بعد ازاں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے بیوی نمبر 1، میں ہوں نا، آنکھیں اور میں نے پیار کیوں کیا جیسی کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ذاتی زندگی کے حوالے سے خبروں میں رہنے کے باوجود سشمیتا سین نے ایک مضبوط اور خودمختار خاتون کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے کم عمری میں ایک بچی کو گود لے کر ماں بننے کا فیصلہ کیا، جسے ان کے مداحوں نے خوب سراہا۔

    ان کے ماضی کے تعلقات میں پاکستانی کھلاڑی وسیم اکرم سمیت کئی نامور شخصیات کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم اداکارہ نے ہمیشہ اپنی ذاتی زندگی کو اپنی شرائط پر جینے کو ترجیح دی،اداکارہ کے مبینہ طور پر امتیاز کھتری، بنٹی سجدیہہ، رتک بھسین، مدثر عزیز اور للت مودی کے ساتھ بھی تعلقات کی باز گشت سنائی دیتی رہی ہے،ماہرین کے مطابق سشمیتا سین کی غیر شادی شدہ زندگی کو ان کی ذاتی پسند اور خودمختاری سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، اور وہ آج بھی شوبز انڈسٹری میں متحرک اور بااعتماد شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،اسلام آباداہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،اسلام آباداہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اہم سفارتی سرگرمیاں ہونے جا رہی ہیں، جس کے تحت سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد پہنچیں گے۔

    جیونیوز سے خصوصی گفتگو میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نہ صرف باہمی مشاورت کریں گے بلکہ اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف سے بھی اہم ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات دراصل ترکیے میں طے پائی تھی، تاہم مصروفیات کے باعث انہوں نے برادر ممالک کے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد مدعو کیا۔نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے، جبکہ دوست ممالک بھی اس سلسلے میں بھرپور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔اسحاق ڈار کے مطابق ایران کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا عمل جاری ہے، تاہم جاری مذاکرات کے پیش نظر میڈیا پر تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکا نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی فارمولا پیش کیا تھا، جس کی ایران نے تصدیق کی۔ بعد ازاں ایران نے بھی اپنا جواب پاکستان کے توسط سے امریکا تک پہنچایا۔