Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں  گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں بطور گارنٹی جمع کروائے گئے 7 کروڑ روپے کی واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس کیس کو بے بنیاد قرار دے کر پہلے ہی خارج کر چکا ہے، اس لیے کیس کے خاتمے کے بعد بطور گارنٹی جمع کرائی گئی رقم واپس کی جائے۔درخواست کی سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل ہیں۔

    درخواست گزار مریم نواز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب نے مکمل تحقیقات کے بعد کسی بھی قسم کے الزامات ثابت نہ ہونے پر کیس کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے باوجود دورانِ سماعت بطور گارنٹی جمع کرائی گئی خطیر رقم تاحال واپس نہیں کی گئی، جو آئینی اور قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔
    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کسی مقدمے کو متعلقہ ادارہ خود ہی بے بنیاد قرار دے کر ختم کر دے تو ایسی صورت میں ضمانت کے طور پر جمع کرائی گئی رقم کو روکے رکھنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت عالیہ اس رقم کی فوری واپسی کا حکم صادر کرے۔

  • پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو کموڈورز کو ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

    ریئر ایڈمرل جاوید ضیاء نے 1994 میں پاکستان نیوی کی ویپن انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹر آف سائنس کے اہل ہیں۔ اپنے شاندار نیول کیریئر کے دوران افسر نے مختلف اہم تقرریوں پر خدمات انجام دیں۔ اس وقت ایڈمرل نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (مٹیریل) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    ریئر ایڈمرل ارمغان احمد نے 1994 میں پاکستان نیوی کی میرین انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے NUST سے مینوفیکچرنگ سسٹم انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ میں ماسٹر آف سائنس کیا۔ ان کے پاس ایک شاندار سروس کیریئر ہے جس میں اہم تقرریوں پر خدمات انجام دینے کا وسیع تجربہ ہے۔ اس وقت وہ مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکیارڈ (کراچی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔فلیگ آفیسرز کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔

  • سابق بیورو کریٹ محمد سعید  مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    لاہور کے مقامی ہوٹل میں سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی تقریبِ رونمائی ہوئی، تقریب سے محمد سعید مہدی،ولید اقبال،پیپلز پارٹی کے رہنما ،سینئر سیاستدان،ممتاز وکیل اعتزاز احسن،سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی،سینئر صحافی سہیل وڑائچ ،اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب و دیگر نے خطاب کیا،

    محمد سعید مہدی کی کتاب دی آئی وٹنس کی تقریبِ رونمائی میں سیاست دانوں، بیورو کریٹس ، صحافیوں ، صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی ،تقریب کے دوران لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے افتتاحی کلمات میں شرکاء کو خوش آمدید کہا، محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس کتاب میں میں نے اپنے الفاظ میں زندہ تاریخ ریکارڈ کی ہے، جو حکومت کی اعلیٰ ترین سطحوں پر کئی دہائیوں کی خدمات سے تشکیل پائی ہے۔ میری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ بات جو ہر کوئی کہنے سے ڈرتا ہے آپ اسے لکھیں۔بحیثیت سول سرونٹ میں نے اکثر عظیم اور یہاں تک کہ خوفناک واقعات کا بھی مشاہدہ کیا ،میں نے اپنی بساط کے مطابق حقائق کو ویسے ہی بیان کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے جیسا میں نے دیکھا ،یہ یادداشت تحقیقاتی کے بجائے بیانیہ ہے، جو ذاتی تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تشریح تاریخ دانوں پر چھوڑتی ہے۔ ان کے کیریئر نے انہیں پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم لمحات میں جگہ دی۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے طور پرانہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے آخری مرحلے کا مشاہدہ کیا اور پھانسی سے قبل ان سے ملنے والے آخری اہلکار تھے۔ لاہور کے کمشنر کے طور پرانہوں نے 1986 میں جلاوطنی سے واپسی پر بے نظیر بھٹو کا استقبال کیا، بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پرانہوں نے 1999 کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا اور اس کے بعد دو سال قید میں گزارے۔

    محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں اپنی زندگی کے واقعات سنائے اور کہا کہ ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں اڈیالہ جیل کی تعمیر عمل میں آئی۔ اس وقت کمشنر راولپنڈی تھا ایک روز جنرل ضیاء الحق نے مجھے طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اس جیل میں کون کون سی کلاسز تعمیر کی گئی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ بی اور سی کلاس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے مزاق میں کہا کہ اس میں اے کلاس بھی بنا دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی کبھی اس جیل میں جانا پڑ جائے۔ اڈیالہ جیل میں پندرہ کمروں پر مشتمل اے کلاس بھی تعمیر کر دی گئی۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ کئی برس بعد، جنرل پرویز مشرف کے دور میں مجھے گرفتار کیا گیا اور اسی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ اس موقع پر وہاں ان کے نام کی وہ تختی موجود تھی جو سنگِ بنیاد کے حوالے سے نصب کی گئی تھی۔ میں نے جیلر سے کہا کہ کم از کم اس تختی کی کچھ لاج رکھ لی جائے۔ دو دن بعد جب عدالت پیش کرنے کے لئے جیل سے باہر لایا گیا تو تختی سے میرا نام غائب تھا،

    اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے سعید مہدی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج کے دور میں لکھنا مشکل ہو چکا ہے، سعید مہدی کی کتاب ایک تاریخ ہے، اگر ہم کچھ لکھیں تو کئی بار سوچنا پڑتا ہے کبھی توہین عدالت، کبھی توہین مذہب کے الزام، کچھ بھی ہو سکتا ہے،اب تو عمران خان کا نام نہیں لکھا جاتا بلکہ بانی پی ٹی آئی کہا اور لکھا جاتا ہے،یہ کیا ہے، میں تو عمران خان ہی کہتا ہوں کیونکہ وہ میرا دوست ہے،

    ولید اقبال نے بھی مصنف محمد سعید مہدی کو خراج تحسین پیش کیا اور کتاب میں بعض غلطیوں کی بھی نشاندہی کی،جن کو انتظامیہ کی جانب سے اگلے ایڈیشن میں درست کرنے کی نشاندہی کی گئی.

    سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سعید مہدی سلطانی گواہ نہیں بنے عوامی گواہ بنے اور سرخرو ہوئے ۔ اہل صحافت کو بھی انکی کتاب پڑھنی چاہئے لکھنے والے نے کہیں بھی جھوٹ نہیں بولا ۔ انکے جذبات احساسات ہیں۔ بھٹو کی محبت انکے دل میں ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہے جو انکی زبانی ہم تک پہنچا۔ دائرے کا سفر پاکستان میں کب تک جاری رہے گا اس کا جواب سب کو تلاش کرنا ہے ماضی کو دوہرانے کا وقت نہیں۔ کاش نئے سرے سے آغاز سفر اور ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں تا کہ پاکستان آگے بڑھے

    سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کو ہوتے دیکھا لیکن کچھ بدلتے بھی نہیں دیکھا، وہی کھیل تماشا اب بھی جاری ہے ۔ اب تو شاید سعید مہدی جیسا گواہ بھی نہ یو۔ ایک دھاندلی ہوئی تو اگلی نہ ہو ۔ کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان کے آئین پر تو ساری قوم متفق ہو اور جو اس سے پھرے تو اسکو سمجھایا جائے خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔ سعید مہدی کی گواہی معتبر ہے ، ہم واقعات سنتے تھے آج وہی کتاب میں تاریخ کا حصہ بن گئے ۔سعید مہدی خوش قسمت ہیں انکو تھانیداری چھوڑے 20 برس ہو گئے لیکن آج لوگ ان کے لیے گواہ بن کر آئے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ عینی گواہ بننے کے لیے آنکھ کافی نہیں۔ ضمیر بھی درکار ہوتا ہے۔

  • لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے مین گیٹ کے سامنے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ہمراہ کھلے مین ہول (گٹر) میں گر گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق انہیں واقعے کی اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اور اس کی بیٹی گٹر میں گر گئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گٹر گہرا ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ماں اور بیٹی کی تلاش کے لیے خصوصی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں،عینی شاہدین کے مطابق مین ہول کا ڈھکن موجود نہیں تھا اور اندھیرے یا رش کے باعث خاتون اور بچی کو گٹر کا اندازہ نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ شہریوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی غفلت کو ذمہ دار قرار دیا۔

  • برٹش ایئرویز کی پرواز کا پہیہ ٹیک آف کے دوران گر گیا

    برٹش ایئرویز کی پرواز کا پہیہ ٹیک آف کے دوران گر گیا

    برٹش ایئرویز کے ایک مسافر بردار طیارے کو پیر کے روز اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ٹیک آف کے دوران اس کا ایک پہیہ نیچے جا گرا۔ واقعے کے باوجود طیارے نے پرواز جاری رکھی اور بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے بعد بحفاظت لندن پہنچ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق برٹش ایئرویز کی پرواز، جو جدید ایئر بس A350-1000 طیارے کے ذریعے آپریٹ کی جا رہی تھی، پیر کی شب امریکی ریاست نیوایڈا کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوئی۔ طیارے نے رات 9 بجکر 10 منٹ پر اڑان بھری، تاہم ٹیک آف کے فوری بعد طیارے کا پچھلا پہیہ نیچے جا گرا۔ذرائع کے مطابق پہیہ گرنے کے واقعے کے باوجود طیارے کے عملے نے صورتحال کا بغور جائزہ لیا اور تمام حفاظتی پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے پرواز کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ طیارہ بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا مقررہ وقت سے 27 منٹ قبل لندن کے ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کر گیا، جہاں ایوی ایشن حکام اور انجینئرنگ ٹیمیں پہلے سے موجود تھیں۔

    ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ رہے اور کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ لینڈنگ کے بعد طیارے کا تکنیکی معائنہ کیا گیا جبکہ ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اور ایمرجنسی سروسز بھی الرٹ رہیں۔برٹش ایئرویز کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور سلامتی ایئرلائن کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق طیارے کا پہیہ گرنے کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

  • فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    ضلع کیچ کے علاقے بلاچا کے پاس کرولا گاڑی میں سوار چند لوگ آئے اور ایک مقامی عورت نرگس کو زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر بھاگے۔

    عورت کے شوہر نے جب دیکھا تو اپنے بھتیجے کے ساتھ گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد سٹی میں گاڑی روکنے پر کامیاب ہوا۔گاڑی سے ایک شخص کلاشنکوف سے مسلح نیچے اترا اور پیچھے سے دو موٹر سائیکل سوار فتنہ الہندستان کا پرچم اوڑے بھی نمودار ہوئے۔ انہوں نے عورت کے شوہر اور بھتیجے کو خوب مارا اور عورت کو لے کر جنگل کی طرف بھاگ گئے۔ماہرین کے مطابق فتنہ الہندستان کے یہ درندے اسی طرح معصوم خواتین کو اغوا کر کے ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہیں اور وڈیو بنا کر ان کو شاری بلوچ کی طرح بناتے ہیں۔فتنہ الہندستان معاشرے کا وہ ناسور بن چکے ہیں جن سے عام عوام کی زندگی اور عزت دونوں خطرے میں ہے

    واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات علاقے میں خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں دہشت گردی کے خدشات کے پیشِ نظر انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی۔ سی ٹی ڈی پنجاب نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر عارف والا روڈ پر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار دہشت گرد کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے، جو انتہائی مطلوب اور حساس نوعیت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد، ڈیٹونیٹرز اور اسلحہ برآمد کیا گیا، جسے ممکنہ طور پر کسی بڑی تخریبی کارروائی میں استعمال کیا جانا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گردی کے واقعے کو ناکام بنا دیا گیا۔ گرفتار دہشت گرد کو فوری طور پر نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران اس کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ دہشت گرد عناصر سے متعلق اہم انکشافات کی توقع ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزم کے خلاف دہشت گردی، اسلحہ رکھنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سی ٹی ڈی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

  • تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع تربت میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جسک کراس کے قریب کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے مشکوک سرگرمیوں پر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ گاڑی نے چیک پوسٹ سے بچنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت سلیم کے نام سے ہوئی ہے، جو طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور مختلف تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ دوسرے ہلاک دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جس کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    کارروائی کے بعد دہشت گردوں کی گاڑی کی تلاشی لی گئی، جس سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ مواد برآمد ہوا۔ برآمد ہونے والے اسلحے کو قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا مزید دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا  ٹیکسٹائل ملز غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے کا اعلان

    بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا ٹیکسٹائل ملز غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے کا اعلان

    ڈھاکا: بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (بی ٹی ایم اے) نے حکومت کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر وزارتِ تجارت کی سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو ملک بھر کی تمام اسپننگ ملز یکم فروری 2026 سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائیں گی۔

    یہ انتباہ جمعرات کو ڈھاکا کے علاقے کاروان بازار میں واقع بی ٹی ایم اے کے دفتر میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا، جس کی صدارت بی ٹی ایم اے کے صدر شوکت عزیز رسل نے کی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ سات دن کے اندر درآمدی دھاگے (یارن) پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس نہ لی گئی تو بنیادی ٹیکسٹائل شعبہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور ملز کی سرگرمیاں جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ملز کی بندش کے نتیجے میں اگر مزدوروں میں بے چینی یا احتجاج پیدا ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ “اگر اس صورتحال کے باعث بینکاری اور مالیاتی نظام میں عدم استحکام پیدا ہوا تو اس کی بھی پوری ذمہ داری حکومت کو قبول کرنا ہو گی۔”

    ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ 30 دنوں کے دوران ملک کی بیشتر اسپننگ ملز صرف 50 فیصد پیداواری استعداد پر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کو 12 ہزار سے 15 ہزار کروڑ ٹکہ تک کا نقصان ہو چکا ہے۔بی ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید مالی دباؤ کے باعث مل مالکان کے لیے بینک قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی ممکن نہیں رہی، جس سے پورے مالیاتی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شوکت عزیز رسل نے صورتحال کو ٹیکسٹائل صنعت کے لیے “ہنگامی حالت” قرار دیتے ہوئے کہا “ٹیکسٹائل شعبہ ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے، مگر عبوری حکومت ہمارے مسائل سننے کے لیے 13 منٹ بھی نہیں نکالتی۔”انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت مسئلہ حل کرنے کے بجائے ذمہ داری ایک وزارت سے دوسری وزارت کو منتقل کر رہی ہے۔

    بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ اس معاملے پر بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی ایم ای اے) سے بھی بات چیت کی گئی ہے، جس میں گارمنٹس سیکٹر نے اسپننگ انڈسٹری کے بحران کی سنگینی اور اس کے ملبوسات کی پوری ویلیو چین پر منفی اثرات کو تسلیم کیا ہے۔بی ٹی ایم اے کے مطابق بی جی ایم ای اے نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت کے تحت سستے درآمدی دھاگے پر انحصار ملکی اسپنرز کو کمزور کر رہا ہے، بیک ورڈ لنکیج انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہا ہے اور طویل المدت بنیادوں پر خود گارمنٹ ایکسپورٹرز کے لیے سپلائی رسک بڑھا رہا ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملکی اسپننگ ملز ملک کی 50 سے 70 فیصد یارن کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اگر یہ صلاحیت ختم ہوئی تو گارمنٹ صنعت کو درآمدات پر مزید انحصار، طویل ڈیلیوری ٹائم اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔بی ٹی ایم اے نے واضح کیا کہ اسپنرز اور گارمنٹ ایکسپورٹرز کے درمیان یہ کوئی تنازع نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے مربوط ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے نظام کے تحفظ کا اسٹریٹجک معاملہ ہے۔

    بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ وزارتِ تجارت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد 10، 20 اور 30 کاؤنٹ یارن کی درآمد پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس لینے کی سفارش کی تھی، جو HS کوڈز 52.05، 52.06 اور 52.07 کے تحت آتی ہے، اور اس پر عملدرآمد کے لیے 30 ورکنگ ڈیز کی مدت تجویز کی گئی تھی۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ پالیسی میں مزید تاخیر کے نتیجے میں ملز کی بندش، روزگار کے مواقع کا خاتمہ، قرضوں کی عدم ادائیگی اور مالی دباؤ میں تیزی آئے گی۔بی ٹی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزارتِ تجارت کی سفارشات پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ ملکی ویلیو ایڈیشن، صنعتی استحکام، روزگار کے تحفظ اور معیشت کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ کا گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اہم فیصلہ سامنے آگیا، لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کا 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

    عدالت نے اداکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،میشا شفیع نے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان نہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہتک عزت کے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکنے کا فیصلہ درست ہے، اظہار رائے کے معاملے پر عدالت بڑا احتیاط برتتی ہیں،میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ہتک عزت کے معاملے پر حکم امتناعی نہیں دیا جاسکتا، عدالت کے پاس اختیار ہے وہ حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روک سکتی ہے۔

    ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو 24 جنوری 2019 کو ہتک عزت کے کیس پر بیان دینے سے روکا تھا ا،داکارہ میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ،عدالت نے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت دعویٰ پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے۔

    عدالتی فیصلے کے بعد علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی وہ رِٹ پٹیشن خارج کر دی ہے، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناع کو چیلنج کیا تھا۔ معزز عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھا ہے اور واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ میشا شفیع کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر آپ کے خلاف عوامی بیانات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔عدالت عالیہ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار ایک مطلق حق نہیں ہے اور اس کا دائرہ اختیار اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکتا کہ اس کے تحت لاپرواہ، بار بار دہرائے جانے والے یا غیر ثابت شدہ الزامات لگائے جائیں جو کسی دوسرے شخص کی عزت، وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں، بالخصوص اس صورت میں جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو۔

    فیصلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے مطابق انسانی وقار ناقابلِ تنسیخ ہے۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ ایسے الزامات کی مسلسل تشہیر ایک متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہوگی، جو کہ ناقابلِ قبول ہے، اور یہ کہ ساکھ کا تحفظ ایک بنیادی آئینی قدر ہے۔مزید برآں، عدالت نے اس امر کی بھی توثیق کی ہے کہ ہتکِ عزت کے معاملات میں عبوری پابندی غیر معمولی حالات میں جائز ہے، جیسا کہ موجودہ معاملہ، جہاں ساکھ کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان محض مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے معزز ٹرائل کورٹ کو یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ میشا شفیع کے خلاف آپ کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے اصل مقدمے کو تیزی سے نمٹایا جائے اور ترجیحاً تیس (30) دن کے اندر فیصلہ سنایا جائے، کیونکہ معاملہ اس وقت حتمی دلائل کے مرحلے میں ہے۔