Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خلیج ہرمز کے قریب ایرانی میزائل تنصیبات پر امریکی فضائی حملہ، ’بنکر بسٹر‘ بم استعمال

    خلیج ہرمز کے قریب ایرانی میزائل تنصیبات پر امریکی فضائی حملہ، ’بنکر بسٹر‘ بم استعمال

    خلیج ہرمز کے حساس علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جہاں امریکی فوج نے ایرانی میزائل تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے طاقتور فضائی حملہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں جدید اور انتہائی تباہ کن ’بنکر بسٹر‘ بم استعمال کیے گئے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں تقریباً 5000 پاؤنڈ (2,268 کلوگرام) وزنی گہرائی تک تباہی پھیلانے والے بم استعمال کیے گئے، جن کا ہدف ساحلی علاقوں میں قائم مضبوط ایرانی میزائل اڈے تھے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر نصب ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے تھے، جس کے باعث یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ذرائع کے مطابق یہ حملہ خلیج ہرمز میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنے کی جانب پہلی بڑی فوجی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

  • اسرائیل کا ایرانی انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل کا ایرانی انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل نے ایرانی انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کردیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایرانی انٹیل جنس منسٹر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، حکام کارروائی کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ایران سے ابھی تک اس پیشرفت پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    دوسری جانب امریکی نیوی نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کو میدان جنگ سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔حکام کے مطابق طیارہ بردار جہاز مرمت کیلئے یونانی بندرگاہ پر لنگر انداز رہے گا، 12 مارچ کو یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ایرانی پاسداران انقلاب نے جہاز پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ جہاز میں آگ خود بخود بھڑک اٹھی تھی۔نیویارک ٹائمز کے مطابق آگ پر قابو پانے میں 30 گھنٹے لگے تھے، 600 میرینز کے بستر جل گئے، جس کی وجہ سے وہ ایک ہفتے سے فرش پر سورہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کو جلد مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جائے گا۔

  • سیاسی مفاد کیلئے مودی کی دوغلی پالیسیاں، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار

    سیاسی مفاد کیلئے مودی کی دوغلی پالیسیاں، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار

    خلیجی جنگ کے دوران مودی کی بدترین سفارتکاری نے بھارت کے نام نہاد عالمی تعلقات کا پردہ چاک کر دیا

    عالمی جریدہ بلومبرگ کے مطابق مفاد پرست مودی کی عالمی دوستیاں محض دعوؤں تک محدود، دنیا بھر میں بھارت بطور ریاست اثر و رسوخ سے محروم ہو گیا ،خلیجی بحران میں روسی تیل کی خریداری کیلئے ٹرمپ کی اجازت اور ایران سے مدد کی التجا نے مودی کی سیاسی ساکھ کمزور کر دی،بھارتی عوام نے مودی کی من گھڑت طاقت کی کہانیوں کے برعکس بحران کے دوران کمزور مذاکرات پر سوال اٹھا دیے،خلیجی ممالک میں 9 ملین بھارتیوں میں سے 50 ہزار کی وطن واپسی سے زرمبادلہ اور فلاحی اخراجات متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ چکا ہے، گذشتہ تین سالوں میں بھارت کی اسرائیل کیساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد ایران کیلئے بھارت محض بُرا دوست یا نادان ثابت ہوا ہے،

    عالمی ماہرین کے مطابق مودی کا خطہ میں دھونس جمانے کیلئے عالمی اثرو رسوخ کا مضحکہ خیز بیانیہ سنگین بحران کے دوران دم توڑ چکا ہے،مودی کی دوغلی پالیسیاں، بلند و بانگ دعوؤں اور دکھاوے پر مبنی ناقص سفارتکاری کی عالمی بازگشت بھارت کی رسوائی کا سبب بن چکی ہے

  • خضدار میں خاتون خودکش حملہ آور کی مبینہ منصوبہ بندی ناکام، 19 سالہ لڑکی گرفتار

    خضدار میں خاتون خودکش حملہ آور کی مبینہ منصوبہ بندی ناکام، 19 سالہ لڑکی گرفتار

    بلوچستان کے ضلع خضدار میں سیکیورٹی اداروں نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر خودکش حملے کی تیاری میں ملوث 19 سالہ لڑکی کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی خضدار کے علاقے گزگی میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست لڑکی پر شبہ ہے کہ وہ ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کے طور پر استعمال کی جا سکتی تھی۔ انٹیلی جنس حکام کے مطابق اس کے روابط ایک ایسے شدت پسند کمانڈر سے تھے جو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ابتدائی تفتیش کے دوران حکام نے انکشاف کیا کہ ملزمہ مستقبل قریب میں خودکش حملہ کرنے کے لیے آمادہ تھی، تاہم بروقت کارروائی کے ذریعے ایک ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق لڑکی نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس کا تعارف اس کے ایک قریبی رشتہ دار (کزن) نے ایک مقامی شدت پسند کمانڈر سے کروایا، جس کے بعد اسے بتدریج شدت پسندی کی جانب مائل کیا گیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ نومبر 2025 کے تیسرے ہفتے میں اس نے ایک مبینہ تربیتی کیمپ کا دورہ کیا تھا۔پس منظر کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ ملزمہ ایف اے تک تعلیم یافتہ ہے۔ اس کے والد 2007 سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں جبکہ خاندان کے معاملات اس کا چچا سنبھالتا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کی شادی اپریل 2024 میں ایک عمر میں بڑے شخص سے بطور دوسری بیوی ہوئی تھی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ملزمہ نے خود کو "ممکنہ خودکش حملہ آور” قرار دیا ہے، تاہم اس نے دیگر شدت پسند سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے پر منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی حملہ کیا گیا، عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق سفارتخانے کو متعدد راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

    عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایک بار پھر قانون شکن گروہوں نے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنا کر مجرمانہ جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔” بیان میں اس حملے کو عراق کی خودمختاری اور ریاستی اختیار پر کھلا دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی۔فوج نے عزم ظاہر کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ انہیں ان کے جرائم کی مکمل سزا دی جا سکے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سفارتخانے کے کمپاؤنڈ پر کم از کم چار مختلف پروجیکٹائل داغے گئے، جن میں دو ڈرون بھی شامل تھے۔ ان میں سے ایک سفارتخانے کے قریب آ کر گرا۔ اس سے قبل منگل کی صبح بھی ایک اور حملے کی کوشش کی گئی تھی جسے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔دوسری جانب بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک امریکی سفارتی تنصیب کو بھی دو پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق اس موقع پر بھی فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، تاہم نقصانات یا دیگر تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

    ادھر “اسلامک ریزسٹنس ان عراق” نامی گروپ، جس میں ایران نواز ملیشیائیں شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کے روز عراق کے اندر اور باہر امریکی مفادات کے خلاف درجنوں ڈرونز اور راکٹوں کے ذریعے 47 حملے کیے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے نئے میزائل حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب اور یروشلم میں فضائی حملے کے سائرن گونج اٹھے، جبکہ آسمان پر روشنی کی چمک دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب کے اوپر کلسٹر میونیشن ( جیسا میزائل بھی دیکھا گیا، جس نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا۔اسرائیلی حکام کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تل ابیب کے مختلف علاقوں میں ممکنہ میزائل گرنے کی جگہوں کی جانب روانہ ہو گئی ہیں، جہاں نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • امریکی بحری جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب ، سنگاپور کے قریب آبنائے ملاکا تک پہنچ گیا

    امریکی بحری جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب ، سنگاپور کے قریب آبنائے ملاکا تک پہنچ گیا

    امریکی بحریہ کا ایک جدید جنگی جہاز، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ میرینز اور بحری اہلکاروں کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہا ہے، اس وقت سنگاپور کے قریب اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ملاکا کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔

    منگل کے روز سامنے آنے والے میری ٹائم ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی نیوی کا ایمفیبیئس اسالٹ شپ USS Tripoli جنوبی بحیرۂ چین کے جنوب مغربی کنارے پر واقع سنگاپور کے قریب دیکھی گئی۔ عام طور پر امریکی جنگی جہاز اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھتے ہیں، تاہم مصروف سمندری راستوں سے گزرتے وقت AIS ٹرانسپونڈر کو فعال رکھا جاتا ہے تاکہ دیگر جہازوں کے ساتھ تصادم سے بچا جا سکے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس جہاز کے ذریعے اضافی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ میرینز جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں تعینات 31st Marine Expeditionary Unit (MEU) سے تعلق رکھتے ہیں، جو تقریباً 2200 اہلکاروں پر مشتمل ایک تیز رفتار ردعمل دینے والی فورس ہے۔ ذرائع کے مطابق پینٹاگون نے اس یونٹ کو فوری تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی پہلے ہی موجود ہیں۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ نئے بھیجے جانے والے میرینز کو کہاں تعینات کیا جائے گا یا ان کا مخصوص مشن کیا ہوگا۔ماہرین کے مطابق ایک MEU چار بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، کمانڈ، زمینی جنگی یونٹ، فضائی جنگی یونٹ اور لاجسٹک سپورٹ۔ یہ یونٹس عموماً ہنگامی انخلاء، ساحلی حملوں اور خصوصی آپریشنز کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    تقریباً 850 فٹ طویل اور 45 ہزار ٹن وزنی USS Tripoli کو ایک چھوٹے طیارہ بردار جہاز کے برابر سمجھا جاتا ہے، جو جدید F-35 اسٹیلتھ طیارے، MV-22 Osprey ٹرانسپورٹ طیارے اور لینڈنگ کرافٹ اپنے ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ جہاز 11 مارچ کو اوکیناوا سے روانہ ہوا تھا اور اب جنوبی بحیرۂ چین سے ہوتا ہوا سنگاپور کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ عام طور پر اس کے ساتھ دیگر معاون جہاز بھی ہوتے ہیں، تاہم موجودہ ڈیٹا میں ان کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • دشمن کی  سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ دشمن کی پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، پاکستانی آپسی جھگڑوں،لسانیت، فرقہ واریت سے نکل کر ایک قوم بن جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتی،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی ترجمان تابش قیوم ،حافظ امیر حمزہ رافع نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آج دنیا اور پاکستان کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جس مقصد کے لئے پاکستان بنایا تھا ہمیں اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو گا،قائداعظم نے قیام پاکستان کے لئے تحریک چلائی لوگوں کو جمع کیا اور صرف ایک پیغام دیا کہ ہم ایک قوم ہیں،ہمیں ایک ایسا خطہ چاہئے جہاں ہم اپنی اکثریت کے مطابق اپنے قانون کے مطابق زندگی گزار سکیں، حقوق و فرائض کا تعین کر سکیں، آج مشرق وسطیٰ میں جنگ ہے،ا س خطے میں بھی جنگ ہے، مسلم ممالک سمجھتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے اگر طاقتور ہوا تو سب کا دفاع کرے گا کیونکہ ایٹمی طاقت ہے اور مخالف یہ سمججھتے ہیں کہ پاکستان طاقتور ہوا،آگے بڑھا تو خطرہ ہے اس لئے پاکستا ن کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کو کمزورصرف اور صرف فرقہ واریت،لسانیت،صوبائیت،دہشتگردی سے کیا جا سکتا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے لسانیت، علاقائیت سے باہر نکل کر ہمیں ایک قوم بننا ہو گا،ہم ایک قوم بن جائیں تو کوئی طاقت پاکستان کامقابلہ نہیں کر سکتی،ہمیں تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحدہونے کی ضرورت ہے، ہماری ایک شناخت پاکستانی ہے، بطور پاکستانی ملک کے ساتھ وفا کریں گے،

  • ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، خلیجی خطے میں امریکی اڈے نشانہ بن گئے

    ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، خلیجی خطے میں امریکی اڈے نشانہ بن گئے

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آج رات اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی 60ویں لہر کے دوران خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اس کارروائی کی نئی ویڈیوز بھی جاری کر دی گئی ہیں، جن میں مختلف بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی لانچنگ دکھائی گئی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکی فوجی تنصیبات ،اردن میں مووفق السلطی ایئر بیس،قطر میں العدید ایئر بیس،متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس،کویت میں علی السالم ایئر بیس،سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر کئے گئے اس آپریشن میں طویل اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے میزائل استعمال کیے گئے، جن میں عماد (Emad)، قیام (Qiam)، ذوالفقار (Zolfaghar) اور دزفول (Dezful) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کروز میزائل اور خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔

    ایرانی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کے شہر اشدود میں واقع فضائی معاونت اور ری فیولنگ مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ دفاعی کمپنی رافیل کے عسکری و اسلحہ جاتی مراکز پر بھی عماد اور قدر میزائل سسٹمز کے ذریعے حملے کیے گئے۔تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان یا جانی ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ امریکہ یا متعلقہ خلیجی ممالک کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

  • آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کی صورتحال اب کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حالات نے خطے کے اس اہم آبی گزرگاہ کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اب ایک نئی جغرافیائی اور تزویراتی حقیقت کا سامنا کر رہی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حساس علاقے میں سیکیورٹی کی بحالی میں کردار ادا کریں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اس حوالے سے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران ماضی میں بھی خبردار کرتا رہا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اس گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے بعد یہ خدشات حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دے رہے ہیں۔خلیج فارس سے خلیج عمان تک پھیلا یہ تنگ سمندری راستہ تقریباً 100 میل طویل ہے جبکہ اس کی کم سے کم چوڑائی صرف 24 میل ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز میں موجودہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں